کلامِ عشق – 6

Ep:6

کلامِ عشق……… 🌙❤
رائٹر:سیدہ حمنہٰ شاہ

“رکیں… غوث… غوث…. “علیحا بھاگتی ہوئ غوث کے پاس آئ.ًغوث رکا تھا علیحا اسکے سامنے آکھڑی تھی… وہ اک گڑیا کی مانند لگ رہی یقیناً یہاں اگر کوئ اور یہاں ہوتا تو اپنا دل علیحا کے قدموں میں رکھ دیتا. مگر یہاں تو بات غوث کی تھی غوث اپنا دل کیسے رکھ دیتا..
“ہاں بولو. ..”باہر جاتے قدم روکتے غوث بولا تھا.
“مجھے آپسے اک ضروری بات کرنی ہیں… ”
“ہاں کرو… ” آنکھوں سے شیڈز اٹھاتے وہ اسکی طرف دیکھتے ہوۓ بولا تھا. علیحا اسکی نیلی آنکھوں میں کہی ڈوب گئ تھی .
“آپ… آپ… میرے ساتھ چلے” علیحا غوث کا بازو پکڑتے اسے اپنے ساتھ لے جانے لگی تھی.
“لڑکی کیا کررہی ہو”غوث علیحا پر چلایا تھا. جب علیحا اسے اک روم میں لے کر آئ تھی. روم میں چاروں طرف ٹیبلز پر کمپیوٹر رکھے گۓ تھے. دیکھنے سے یہ اک کمپیوٹر لیب لگ رہی تھی.
“کیوں لائ ہو مجھے یہاں”غوث اسکے قریب آتا اس پر چلایا تھا.
“وہ… مجھے آپسے محبت ہے… “علیحا آنکھیں بند کیے اک سانس میں ہی غوث سے کہہ گئ تھی.
“کیا… ہاہاہاہاہاہا”غوث کو یہ بات کافی عجیب لگی تھی. اور اب اسکے قہقہے لیب میں گونج رہے تھے.
“میں عشق کرتی ہو آپسے بے انتہا…. میں نے آپکو آپنے خوابوں کی مدد سے ڈھونڈا ہے”علیحا اسکے نزدیک آتے بلکل اک جنونیت کی کیفیت میں اسے بتا رہی تھی. غوث کو یہ لڑکی کچھ عجیب لگی تھی. اگر وہ اسے پاگل کہتا تو غلط نہ تھا کیونکہ اسنے دی غوث کے راستے کو روکا تھا.
“غوث میری طرف دیکھو میرا عشق ہو تم میں نے بولایا ہے تمہیں یہاں”علیحا اسکے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لیتی اسکے نزدیک آرہی تھی. غوث اسکی سانسیں آپنے چہرے پر محسوس کرسکتا تھا. غوث اسکی انکھوں میں بسی جنونیت کو بھانپ رہا تھا. جب اس رات کا منظر اسکے سامنے لہرایا تھا. اور علیحا کی جگہ حبان نے لی تھی اور آب علیحا کی آنکھوں کے آگے حبان کی ڈری ہوئ آنکھیں تھی.
“حبا… “غوث یہ کہتا علیحا کے چہرے پر جھکا تھا.
“تم تڑپو گے غوث تمہیں وہ کبھی نہیں مل سکے گا جس کی تمنا تمہیں سب سے زیادہ ہوگی.. “غوث کے کانوں میں وہی آواز گونجی تھی جو خوابوں میں اسے پریشان کرتی تھی. غوث ہوش کی دنیا میں لوٹا تھا اور علیحا کو پرے دھکیلتا لیب سے باہر نکل گیا تھا. علیحا بے یقینی سے غوث کو باہر جاتا دیکھتی رہی. آخر وہ ایسا کیسے کرسکتا تھا. اسکا عشق اس سے منہ موڑ جاۓ یہ کیسے ہوسکتا تھا. علیحا ٹیبل کے ساتھ پڑی چیئر پر بیٹھی سب کو سوچنے لگی تھی. اسکا مطلب اسے غوث کو ابھی مزید تلاش کرنا تھا. غوث کے دل تک رسائ حاصل کرنی تھی. ابھی اسکا سفر ختم نہیں ہوا تھا منزل پر پہنچ کر بھی ابھی منزل کو پانا باقی تھا
❤🌙❤🌙❤🌙❤🌙❤🌙❤🌙

“یار آجا تیری باری ہے نیکسٹ”داؤد اسے سٹیج کی طرف دھیکیلتا ہوا بولا تھا.
“نہیں بس اب دل نہیں اب نہیں ہوگا “زمل چیئر پر بیٹھتا ہوا داؤد سے بولا تھا.
“اوکے برو ایز یو وش”داؤد اسے پانی کی بوتل تھماتا ساتھ والی. کرسی پر بیٹھ گیا تھا.
“ہاں بھئ ہوگئ پرفامنس؟”سعود داؤد کے ساتھ بائیں چیئر پر بیٹھتا بولا تھا
“نہیں بس یار اتنی ہی کافی ہے”پانی کی بوتل لبوں کو لگاتے وہ بولا تھا. اسکی آنکھوں میں اس لڑکی کی آنکھوں کا منظر محفوظ ہوگیا تھا. پانی پیتے اسکے چہرے پر مسکراہٹ پھیلی تھی. جسے داؤد اور سعود نے فوراً نوٹ کیا تھا.
“یہ کیا تھا؟”سعود اور داؤد اک ساتھ بولے تھے.
“کیا… کیا کیا تھا”زمل گڑبڑایا تھا.
“بس اب بتا”سعود اسکے کندھے کو تھپتھپاتا ہوا بولا تھا.
“کیا بتاؤں”زمل چیئر سے اٹھتا اپنا گٹار اٹھاتے اسی راستے کی طرف بڑھا تھا جہاں اسے دیکھا تھا. وہ بس کسی بھی طرح دوبارہ اسے دیکھنا چاہتا تھا مگر کیوں یہ وہ بھی نہیں جانتا تھا.
“اوۓ رک جا… کدھر” داؤد اسکے ساتھ قدم سے قدم ملاتے اسکے ساتھ چلنے لگا
“کیا ہوا ہے کچھ بتاۓ گا؟”سعود اسکی طرف دیکھتے ہوۓ پوچھ رہا تھا
“کیا بتا ؤں.. “زمل الجھا تھا. وہ خود نہیں جانتا تھا کہ کیا کررہا ہے تو انھیں کیا بتاتا. زمل کو وہی گاڑی نظر آئ تھی جس میں وہ بیٹھی تھی. اسکے قدم خودبخود کار کی طرف اٹھے تھے.
“یار کدھر جارہا ہے”داؤد اسے جاتا دیکھ اس سے بولا تھا.
“تم لوگ رکو میں آتا ہو… ” زمل یہی کہتا آگے بڑھ گیا تھا.
وہ کار کی ونڈو کے پاس کھڑا تھا. وہ ایسا لڑکا نہیں تھا جو لڑکیوں کو فولو کرتا لیکن لڑکیاں خود اسکی فولوورز تھی. وہ ونڈو سے اندر جھانکنے لگا تھا. وہ اسے نظر آگئ تھی. بیک سیٹ پر خود کو سمیٹے ہوۓ وہ آنکھیں موندے لیٹی تھی. اسکی پلکوں پہ آئ باڑ نے اسکی آنکھوں کو محفوظ کر رکھا تھا. جن کی کششش اسے یہاں تک لائ تھی. وہ آنکھیں نیند کی وادیوں میں گم تھی. زمل اسے دیکھتا اپنے آپکو سکون دے رہا تھا.
“یار کیا حرکتیں کررہا ہے”وہ اس ذات میں مگن تھا. جب سعود کی آواز اسکے کانوں سے ٹکرائ تھی.
“کچھ نہیں… “وہ تیزی سے ونڈو کے سامنے آتا اس زات کو سب سے چھپانے لگا.
“اچھا…. تو یہ سین یے “فرنٹ سکرین سے داؤد نے حبان کو دیکھتے ہوۓ بولا تھا.
“یار قسم سے میری کوئ بری نیت نہیں”زمل شرمندہ ہوتے ہوۓ بولا تھا.
“ہاہاہاہا…” داؤد اور سعود دونوں کے قہقہے فضا میں گونجے تھے.
“اچھا تو جناب لڑکی کو کون دیکھتا ہے ایسے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کے”داؤد زمل کے کندھے پر ہاتھ رکھے اسے کار سے دور لے جانے لگا.
“یار مجھے نہیں پتہ میں یہاں کیوں آیا”زمل سامنے لگاۓ گۓ پتھر کے بینچ پر بیٹھا تھا
“کہوں نہ پیار ہے…. “سعود اب گانا گنگنانے لگا تھا
“نہیں ایسا کچھ نہیں ہے “سعود کانوں پر ہاتھ رکھے اک دم چیخا تھا
وہ گاڑی سے دور کینٹین کی طرف جانے لگا تھا. جب اسے گاڑی کے ٹآئرز کی آواز آئ. وہی کار جس میں وہ سلیپنگ بیوٹی سو رہی تھی. کوئ تیزی سے کار ڈرائیو کرتا اس حسینہ کو بھی اپنے ساتھ لے گیا تھا. زمل بس کار کے چھوڑے گۓ نشانات کو بے بسی سے تکتا رہ گیا تھا.
🌙❤🌙❤🌙❤🌙❤🌙❤🌙❤🌙

غوث تیزی سے قدم اٹھاتا لوبی سے گزرتا بزنس ڈیپارٹمنٹ سے باہر جارہا تھا. سر جاواد کے کہنے پر بھی وہ رکا نہ تھا. وہ انہیں اگنور کرتا آگے بڑھ گیا تھا.
وہ کار کے پاس آیا تھا. اور پاگلوں کی طرح سرفراز کو پکارنے لگا تھا.
“سرفراز سرفراز….”
“جی… سر… “سرفراز جو کہ تھوڑی دور اک شخص کے ساتھ گفتگو میں محو تھا. غوث کے اسطرح بلانے پر ڈر کے مارے تیزی سے اسکی طرف آیا تھا.
“کیز دو مجھے… ”
“پر سر وہ… “سرفراز نے ڈرتے ہوۓ اسے حبان کے بارے میں بتانا چاہا تھا.
“I said give me the godam keys… “غوث غصے سے چلایا تھا.
“جی سر… ” سرفراز نے کانپتے ہاتھوں کے ساتھ چابیاں اسکے حوالے کی تھی.
غوث کار ڈرائیو کرتا اسے وہاں سے پل بھر میں اڑا لے گیا تھا. وہ حبان کی موجودگی کو مکمل فراموش کرچکا تھا. جبکہ حبان دنیا جہان سے بے خبر بیک سیٹ پر دراز نیند کی وادی میں گم تھی. علیحا حبان کی گاڑی کو جاتے ہوۓ دیکھتی رہ گئ تھی. جس شخص کو اسنے اپنے دل کی سلطنت سونپی تھی وہ بری طرح اسکا تحفہ میں دیا ہوا دل پیروں تلے بری طرح روند چکا تھا.
غوث نے گاڑی میں روڈ پر ڈال دی تھی. اک ہاتھ سے سٹیرنگ سنبھالے وہ دوسرے ہاتھ سے اپنے کان کو سہلا رہا تھا. گاڑی اب شانتا بائ کے کوٹھے کی طرف رواں تھی. غوث اس رات کے منظر سے فرار ہونا چاہتا تھا جو اب بس گل کی زلفوں کے تلے ہی ممکن تھا.
گاڑی شانتا بائ کے بنگلے سامنے روکتے ہوۓ اسنے گارڈ کو اشارہ کیا تھا. گارڈ نے بھی اسے پہنچانتے ہوۓ بنگلے کے دروازے کھول دیۓ تھے. کار کو پورچ میں کھڑی کرتا وہ اندر کی طرف بڑھ گیا تھا.
“زہ نصیب… “شانتا بائ نے اپنے مخصوص انداز میں غوث کا استقبال کیا تھا.
“گل…. “غوث نے آتے ہی گل کا مطالبہ کردیا تھا.
“جناب آپ کی حالت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی… ” شانتا بائ صوفے پر دراز ہوتی اک ادا سے بولی تھی. بہت زیادہ میک اپ اور ہیوی گولڈ جیولیری کے نیچے ہیوی امبرائڈری ڈریس پہنے وہ کسی فلمی اداکارہ کا روپ لگ رہی تھی
“گل.. کہاں ہے.. ؟”غوث پرسکون ہوتے ہوۓ اک رعب دار لہجے میں بولا تھا.
“گل…. گل. …”شانتا بائ منہ میں پان رکھتی گل کو آوازیں دینے لگی تھی.
“جاؤ مینا گل کو بلا کر لاؤ”مینا جو شانتا بائ کے پاؤں دبا رہی تھی گل کو بلانے گئ تھی.
“آپ کی پچھلی رقم پوری ہونے والی ہے… اور گل کے اور بھی پرستار ہے جو… ”
“یہ لو… “شانتا بائ بالوں کی لٹ ہاتھوں میں لپیٹتی کہہ رہی تھی ابھی اسکی بات مکمل بھی نہ ہوئ تھی کہ غوث نے اک سائن کیا ہوا چیک اسکی طرف اچھالا تھا.
“ہاہاہاہاہاہاہ…. ارے آپ تو برا ہی مان گۓ”شانتا بائ پان چباتے بولی تھی
“سائن کر دیے ہے رقم ڈال کر چیک وڈڈرا کروا لینا…. “غوث اسکی بات انسنی کرتا بولا تھا.
“گل بی بی آپکا انرظار کرہی ہے “مینا گل کا پیغام لے کر اس طرف آئ تھی.
“اچھا ٹھیک ہے… “وہ اتنا کہتا سڑھیاں چڑھتے ہوۓ گل کے کمرے کی طرف جانے لگا تھا..
🌙❤🌙❤🌙❤🌙❤🌙❤🌙❤🌙

“محبت کو تم اک پیمانے میں نہیں تول سکتے یہ بہت وسیع ہے جیسے سمندر میں کئ سیپیاں موجود ہے مگر دل کو صرف اک کا رنگ اور اک کی خوبصورتی ہی بھاتی ہے” حبان دریا کنارے بیٹھی تھی اک خوبصورت نیلی سیپی کو ہاتھ میں لیتی وہ پاس بیٹھے شخص کو دکھا رہی تھی.
“اگر میں بات کروں عشق کی” حبان یہ آواز سنتے ہی بجلی کی سی تیزی کے ساتھ اس الگ ہوئ تھی.
“غوث… ” وہ یہ کہتی ہوش کی دنیا میں واپس آئ تھی.
“یااللہ یہ کیا تھا… “پسینے کی بوندوں سے اسکا ماتھا بھیگا ہوا تھا.
“افففف ابھی تک گھر نہیں گۓ کیا ہم… ” وہ یہ کہتی گاڑی سے باہر نکلی تھی. حبان کو باہر کا منظر دیکھ کر دھچکا لگا تھا.
“یہ کونسی جگہ ہے ” وہ نقاب ٹھیک کرتی اس سامنے کھڑی عالیشان بلڈنگ کو دیکھنے لگی تھی. جس کے اندر سے میوزک کی آوازیں آرہی تھی.وہ ڈر کے مارے گاڑی کے ساتھ جالگی تھی.
سامنے سے اک لڑکا شراب کے نشے میں دھت جومتا ہوا اس تک آرہا تھا. اسنے دور سے ہی حبان کو دیکھ لیا تھا. وہ جھومتا گانا گاتا ہوا اس تک آیا تھا.
“ارے آپ یہاں کیا کررہی ہے “وہ اسے سر سے پاؤں تک دیکھتا ہوا کہہ رہا تھا.
“مطلب کیا ہے… “حبان بوکھلاتی ہوئ بولی تھی.
“مطلب کے میری جان یہ پردہ کیسا وہ بھی ہم جیسے پروانوں سے جو شمع کے گرد مر جانے کو بھی تیار ہے” وہ یہ کہتا حبان کا نقاب اتارنے لگا تھا.
“یہ کیا کررہے ہے آپ چھوڑے مجھے… “وہ ڈری سہمی سی اس سے التجا کرنے لگی تھی.
“نہیں ادھر تو آؤ”وہ نشے میں چور اسے اپنے قریب لانے لگا تھا.
“چھوڑو مجھے”حبان کا وجود کسی نرم و نازک گلاب کی طرح اسکی گرفت میں تڑپنے لگا تھا. حبان کے وجود پر لرزا طاری ہوگیا تھا. وہ اب رونے لگی تھی.
“ارے چھوڑ لڑکی کو چھوڑ….. ” گیٹ کے پاس کھڑا گارڈ اس کو حبان سے دور کرنے لگا تھا.
“چل چل… “گارڈ اسے دھکے دیتا گیٹ سے باہر کر چکا تھا.
“بی بی آپ ٹھیک تو ہے… ” گارڈ اسکے پاس واپس آتا اا سے پوچھنے لگا تھا.
“ہمم.. مجھے گھر جانا ہے” وہ حجاب کو سر پر ٹکاتی روتے ہوۓ کہہ رہی تھی
“اندر چلیے میں آپکو میم سے ملواتا ہو وہ آپکو گھر بھجوا دے گی. “گارڈ اسے ہاتھ سے اشارہ کرتا اندر جانے کا کہنا لگا تھا.حبان اس سب سے بے خبر کہ کیا ہورہا ہے اندر کی طرف چلنے لگی.
“چلیے.. ” وہ اسے اندر لاتا شانتا بائ کے سامنے کھڑا کر چکا تھا. شانتا بائ کی آنکھیں کھلی تھی.
“یہ کون ہے؟” شانتا بائاپنی جگہ سے اٹھتی گارڈ سے پوچھنے لگی تھی.
“یہ باہر تھی. ” گارڈ اتنا ہی کہہ پایا تھا کیونکہ حبان خوفزدہ تھی وہ اسے مزید خوفزدی نہیں کرنا چاہتا تھا.
“اچھا تم جاؤ.”شانتا بائ نے گارڈ کو باہر جانے کا کہا تھا.
“واہ بھئ اتنا پردہ کوئ پری ہے یا کوہ نور جس کو اتنا چھپا رکھا ہے”شانتا منہ میں پان کا رس پیتی حبان کی طرف آئ تھی.
“آنٹی مجھے گھر جانا ہے مجھے نہیں پتہ یہ کون لوگ ہے آپ مجھے میرے گھر بھجوا دے”حبان دھیمی آواز میں روتے ہوۓ بولی تھی.
“ارے روتی کیوں ہے میں بھجوادوں گی نہ اپنی بچی کو… پہلے یہ چہرہ تو دکھا مجھے”شانتا بائ یہ کہتے حبان کے چہرے سے نقاب سرکانے لگی تھی.
“ماشاءاللہ… چشم بدور….. نازنی حسینہ.. پری ہے یا کوئ حور… “شانتا اسے دیکھتے کہتے چلی گئ تھی. حبان کی گرے آنکھیں پانی سے بھری تھی جبکہ اسکے براؤن لمبے بال پونی کی قید سے آزاد ہوکر کمر پر پھیل چکے تھے. بے بی پف اسکی آنکھوں کے سامنے کسی پردے کی طرح پھیلے تھے. چہرے کے گورے رنگ میں رونے اور ڈر کی وجہ سے سرخی اور پیلاپٹ در آئ تھی. چھوٹی ناک رونے کی وجہ سے سرخ ہوچکی تھی.
“میری بیٹی ڈرتی کیوں ہے تجھے بھجوا دوگی نہ میں.. “شانتا بائ اسکے بال سہلاتے اس سے جھوٹا دلاسہ دینے لگی تھی.
“میں نے کہا نہ گل چاہیے مجھے” اک شخص کالی شلورا قمیض میں ملبوس غصے سے گل. کا نام پکار رہا تھا.
“ارے انجم صاحب کیا کرتے ہے آپ بھی زرا ٹھہریے تو” شانتا بائ اس شخص کے چہرے پر ہاتھ رکھے اسے پرسکون کرنے لگی تھی.
“مجھے گل سے ملنا ہے”وہ غصے سے شانتا بائ پر چلایا تھا.
“ارے بیٹھیے ہم آپکو سب بتاتے ہے”شانتا اسے صوفے کی طرف لے جانے لگی تھی.
“یہ حسینہ. کون ہے”وہ صوفے کی طرف جانے. لگا تھا کہ اسکی نظر حبان کی طرف پڑی تھی جو کونے میں دیوار کے ساتھ لگی سسکیاں بھر رہی تھی.
“ارے چشم بدعر ہم گل کے پیچھے بھاگ رہے ہیں جبکہ اصلی ہیرا تو یہاں ہے”وہ یہ کہتا حبان کے روبرو کھڑا تھا.
تمہارا نام کیا ہے؟”وہ نہائیت شائستہ لہجے میں اس سے پوچھ رہا تھا. حبان کو یہ سب منظر بہت عجیب لگ رہا تھا. وہ کچھ دیر پہلے غوث سے اپنی نفرت کا اظہار کررہی تھی. جبکہ اب اسے اپنے وجود سے گھن آنے لگی تھی. کبھی وہ کسی غیر مرد کے سامنے نہیں گئ تھی مگر آج وہ بغیر حجاب کے اس عجیب سے سراپے کے سامنے کھڑی تھی.
“بتاؤ نہ… بچے.. “شانتا بائ اسکے چہرے پر ہاتھی پھیرتی اسے کہہ رہی تھی.
“حبا… حبان.. “وہ بکھلائ سی بولی تھی آنکھیں ضبط کے مارے لال ہورہی تھی. اسکا دل چاہ رہا تھا کہ وہ اپنے آپ کو مار ڈالے. یہ پھر کوئ مٹی کا گڑھا ہو اور وہ اس میں دفن ہوجاۓ
“ماشاءاللہ…” وہ حبان کے نزدیک آتا اسکے گالوں کو چھونے لگا تھا کہ وہ تیزی سے پیچھے ہوئ.
“شانتا بائ مجھے گل نہیں مجھے حبان چاہیے میری ملکہ… ” وہ حبان کی اشارہ کرتا شانتا بائ کی طرف آیا تھا. حبان کے تو پیروں تلے زمین ہی نکل گئ تھی.
“نہیں یہ کیا کہہ رہے ہے… مجھے گھر جانا ہے” وہ بجلی کی سی تیزی سے شانتا بائ کے پاس آئ تھی.
” اففف یہ معصومیت…. ” انجم سینے پہ ہاتھ رکھے کہہ رہا تھا.
“حسن دیکھا ہے مانگ بھی اتنی ہی ہوگی… “شانتا بائ حبان سے دور جاتی صوفے پر جابیٹھی تھی.
“میں تیار ہو… ”
“اچھا ٹھیک ہے…. ماہی ارے ماہی جا شہزادی کو لے جا اور تیار کر ….”شانتا بائ پان کو پان دان میں تھکتے کسی کو بلا رہی تھی.
“میں گھر جارہی ہو… ” حبان خوش ہوتے بولی تھی.
“نہیں میرے ساتھ میری جان… ” انجم حبان کو کہتا اسکے بالوں کو چھونے لگا تھا.
“نہیں… میں نہیں جاؤ گی… “وہ روتے ہوۓ باہر کی طرف بھاگنے. لگی تھی کہ کچھ لڑکیوں نے اسے پکڑلیا اور اندر کمرے میں لے جانے لگی…
“چھوڑو… مجھے… چھوڑو…… مجھے. نہیں جانا وہ چیختی ہوئ کہہ رہی تھی”لڑکیاں اسے گھسیٹتے ہوۓ اندر لے جانے لگی تھی.
“غوث…. غوث……. آہ…. غوث…. ” وہ اک دم چلائ تھی…
🌙❤🌙❤🌙❤🌙❤🌙❤🌙❤🌙❤

“کیسی بے بسی ہے یہ کے تمھارے پاس سید غوث شاہ سکون لینے لے لیے آتا ہے”غوث گل کی گود میں سر رکھے آنکھیں موندے کہہ رہا تھا
“ہاہاہاہاہاہا……. “گل اک ادا سے ہنسی تھی.
وائٹ میکسی میں ملبوس ہاتھوں کو مہندی سے بھرے. ہاتھوں میں ہیوی کنگن پہنے بالوں کو کھلا چھوڑے سفید پاؤں کو پائیل میں قید کیے وہ کوئ پری لگ رہی تھی. کالی آنکھوں میں کالا کاجل بھرے وہ کسی سنگ تراش کی مہارت لگ رہی تھی. جو بھی تھا خدا نے بڑی فرصت سے بنایا لگتا تھا اسے.
“تم میری محبت ہو اس لیے” وہ اسکے بال سہلا تے ہوۓ بولی تھی.
“مگر تم میری محبت نہیں ” وہ اسکے ہاتھ پکڑتے ہوۓ بولا تھا.
“مگر کیوں نہیں… آپ آتے تو میرے پاس ہی ہے سکون کے لیے”وہ اک دم جھنجلا کر بولی تھی.
“ہنہ… مگر سکون ملتا نہہں بس دھیان بٹ جاتا ہے” وہ اسکی گود میں کروٹ لیتے اسکی زلفوں میں اپنا چہرہ چھپا چکا تھا
“غوث….. ” وہ آنکھیں موندے اک جہاں سے بے خبر تھا کہ اسکے کانوں میں اک مانوس آواز گونجی تھی. وہ اک دم اٹھا تھا.
“کیا ہوا” گل فکر مند ہوتی اسکے پیچھے آئ تھی.
“غوث…… ” اک بار پھر وہ آواز آئ تھی. وہ اس آواز کے تعاقب میں سیڑھیوں سے تیزی سے نیچے اترا تھا.
غوث سامنے کا منظر دیکھ کر حیران رہ گیا تھا. حبان بغیر حجاب کے اک غیر مرد کے سامنے تھی. غوث بے یقینی سے اسے دیکھ رہا تھا.
“غوث… “حبان نے بے بسی سے غوث کو دیکھا تھا. وہ یہ یقین نہیں کر پارہی تھی کہ جسکو اسنے پکارا تھا وہ اسکے سامنے تھا.
“چھوڑو اسے “غوث حبان کے قریب آتا اسے لڑکیوں کی گرفت سے آزاد کرواچکا تھا. حبان اسکے پیچھے چھپ گئ تھی وہ اک مسیحا بن کر اسکے سامنے آیا تھا. وہ اسکے پیچھے چھپی زور سے غوث کی شرٹ کو اپنی گرفت میں لے چکی تھی.
“یہ کیا ہو رہا ہے یہاں”وپ اک دم چلایا تھا.
“کچھ نہیں ہورہا بھائ یہ میری ملکیت ہے… “انجم اسے کہتا حبان کو چھونے لگا تھا. کہ غوث نے اک جھٹکے سے اسے پیچھے کیا تھا.
“کیا ہوگیا یے اسے میرے حوالے کروں” وہ یہ کہتا غوث کی طرف بڑھا تھا.
“شانتا اسے پیچھے لے جاؤ یہ میری عزت میرا خاندان ہے”وہ سب پر کسی بھپرے ہوۓ شیر کی طرح دھاڑا تھا.
تم یہاں کیا کرہی ہو حبا…. ” وہ پیچھے دیکھتا ہوا بولا تھا.
“مجھے نہیں پتہ میں کیسے آئ یہاں میں گھر جانا تھا یہاں کیسے آگئ… ” وہ بوکھلائ ہوئ بولی تھی. حبان کو کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا کہہ رہی ہے.
“چلو حبان…. “غوث یہ کہتا حبان کا ہاتھ تھام کر باہر جانے لگا تھا کہ انجم نے اسے روکا تھا.
“ابے اوو.. اسے میرے حوالے کر.. ” انجم اسکے سامنے کھڑا ہوا تھا.
“تو لے کر جاۓ گا…. اسے تو لے کر جاۓ گا… میری… عزت کو میری حبا….. کو تو لے کر جاۓ گا میری حبان کو…. ” وہ اسے زمین پر لیٹاتا بری طرح پیٹ رہا تھا.غوث اک کے بعد اک مکا اسکے چہرے پر مار رہا تھا. جس سے اسکا چہرہ بری طرح زخمی ہوگیا تھا. اسکا چہرہ بری طرح سے زخمی ہوچکا تھا. اسکی ناک ناک اور چہرے سے نکلنے والے خون نے غوث کے ہاتھ کو بھی سرخ کردیا تھا.
“چھوڑو گا نہیں تجھے مار ڈالو گا میں…. “شانتا بائ کے ملازم غوث کو اسکے اوپر سے کھینجتے دور کر چکے تھے.
“چھوڑو مجھے… آئندہ کے بعد کسی نے اسے چھوا بھی تو آگ لگا دو گا یہاں… “غوث یہ کہتا حبان کا ہاتھ پکڑے باہر جانے لگا تھا.
“بیٹھو اندر ” وہ حبان کا ہاتھ کھینچتے اسے کار کے اندر دھکا دیا تھا. حبان خود کو سنبھالتی بیک سیٹ پر بیٹھی تھی.
وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتا تیزی سے کار کو روڈ پر ڈال چکا تھا.
“چپ کر جاؤ…. ” وہ سٹیئرنگ ویل گھماتا غصے سے اس پر چلایا تھا.
“مجھے گھر جانا ہے….. ” حبان ہچکیاں لیتی اسے کہہ رپی تھی.
“نہیں جاسکتے گھر اس حالت میں جاؤ گی گھر… سو طرح کے سوال پوچھے گے سب اور ابھی میں کسی کے سوال کا جواب نہیں دینا چاہتا” وہ سٹیئرنگ پر اپنی گرفت مضبوط کرتا اس پر چلایا تھا. غوث کے ہاتھ سے بہنے والا خون سٹیئرنگ کو لال کر چکا تھا. انجم کو مارنے کی وجہ سے اسکا ہاتھ بھی زخمی ہوچکا تھا. مگر اسے اپنے زخم کا کوئ احساس نہیں تھا.
🌙❤🌙❤🌙🌙❤❤🌙❤❤🌙❤🌙

“حسن دروازہ کھول… “”غوث فون پر حسن کو کہہ رہا تھا. چاروں طرف شاک کے سائے پھیل رہے تھے. چاروں طرف مغرب کی اذانوں کی آوازیں بلند ہورہی تھی.
“مجھے…گھر…. ”
“چپ کرو… ” حبان کے بولنے پر غوث نے اسے آنکھیں دکھاتے ہوۓ کہا تھا.
حبان اپنا سر نیچے کیے اک بار پھر رونے لگی تھی.
“کیا ہوا یار… تو ٹھیک تو ہے نہ… ” حسن اسکے ہاتھ سے بہتا خون دیکھتے ہوۓ بولا تھا…
“ہاں میں ٹھیک تیرے گھر دوپٹہ ہوگا… ” غوث کے اس سوال پر حسن کو دھچکا لگا تھا.
“کیا… ”
“تجھ سے جو پوچھا وہ بتا… ” غوث اکتاۓ ہوۓ لہجے میں اس سے پوچھ رہا تھا.
“رک…. “حسن یہ کہتا اندر بھا گا تھا…
“یار دوپٹہ نہیں بیڈ شیٹ ملی ہے.. “سفید بیڈ شیٹ غوث کو تھماتے حسن بولا تھا.
“اچھا.. ” وہ اسکے پاتھ سے بیڈ شیٹ لیتا کار کی طرف بڑھا تھا.
“باہر نکلو.. ”
“میرا حجاب.. “وہ روتی ہوئ سرخ آنکھیں لیے اسکی طرف دیکھتے ہوۓ بولی تھی.
“کہا نہ باہر آؤ”وہ یہ کہتا حسن کو گھور رہا تھا. جب حسن نے اپنا منہ دوسری طرف پھیرا تھا.

جاری ھے

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *