میری محرم – 3

میری محرم
مصنفہ۔مومنہ عدن
قسط نمبر 03

اذلان آسراء کو تالاب سے باہر نکال کر لایا کیا اور کمرے میں لے جا کر لیٹا دیا ۔اتنے میں میں اسراء کی امی وہاں پہنچ گئیں۔
اذلان بیٹا آپ جاؤ او میں اسے سنبھال لوں گی آپ کا بہت شکریہ اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے ۔
جی اچھا آنٹی میں جاتا ہوں شکریہ کی کوئی بات نہیں۔۔
______—–_____
چند لمحے بعد اسراء کو ہوش آیا تو وہ اٹھ بیٹھی اپنی ماں کو دیکھ کر بولی امی جان مجھے یہاں کون لے کر آیا تھا تھا اس کی امی نے جواب دیا یا بیٹا تمہیں یہاں اذلان لے کر آیا تھا۔
کیا؟
اسرا تقریبا چیختے ہوئے بولی امی جان ایسا کیسے ممکن ہے مجھے ایک نامحرم نے چھوا ا مجھے مرنے دیا ہوتالیکن اس شخص کو میرے پاس نہ بھیجا ہوتا۔
بیٹی اس کے بغیر کوئی چارہ بھی تو نہیں تھا ہم مجبور تھے تمہارا باپ بوڑھا ہے وہ کیسے تمہارے پیچھے جاتا۔
امی جان میرے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہوئی ہے ہے مجھے روز قیامت عذاب سہنے کی سکت نہیں ہے ۔
وہ رو دی۔
اس کی ماں بے بسی سے دیکھنے لگی۔
_____——______
مہندی کا فنکشن ختم ہونے کے بعد وہ جیسے ہی اپنے کمرے میں جا رہا تھا رات دو بجے کا وقت تھا تھا اچانک اسے سے ساتھ والے کمرے سے کسی کے رونے کی آواز آئی وہ لمحہ بھر کو رک گیا۔
کمرے کا دروازہ کھلا تھا اس نے اندر دیکھا۔
وہ چاہے نماز پر بیٹھی دونوں ہاتھوں کو پھیلائے زاروقطار رو رہی تھیں یا اللہ تو مجھے معاف فرما دے یا اللہ میں بے بس تھی یا اللہ مجھے ہوش نہیں تھا میں بہت مجبور تھی یا اللہ مجھ میں عذاب سہنے کی سکت نہیں ہے یا اللہ تو مجھے معاف فرما دے یا اللہ تو مجھے روز قیامت اس بات پر سزا نہ دینا اے میرے پروردگار میں تیرے سامنے التجا کرتی ہوں ۔
یا اللہ اس شخص نے جہاں سے مجھے چھوا تو میری اس جگہ کو پاک فرما دے دے یا اللہ تو مجھ سے درگزر فرما ۔
اتنا کہہ کر وہ سجدے میں گر گئی ابھی اور رونے لگی۔
اذلان کو بہت غصہ آیا اس نے سوچا نیکی کا کوئی زمانہ نہیں ہے ہے بجائے شکریہ ادا کرنے کے محترمہ پارسا ہونے کا ڈرامہ کر رہی ہیں۔
______+——-_______
اگلے دن بارات کا فنکشن ایک بڑے میرج ہال میں رکھا کیا رامین دلہن کے روپ میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی دانیہ نے آج بھی انتہائی عریاں لباس پہن رکھا تھا جبکہ کہ اسرا گلابی رنگ کی میکسی میں حجاب سر پے کیے نقاب اوڑھ کر چادر کندھے پر پھیلائے انتہائی خوب رو دکھ رہی تھی
سر آج بھی ابھی اسرا آج بھی ایک الگ ٹیبل پر بیٹھ گئی ابھی اک پیچھے سے کسی نے اسے اسے آواز دی دی بات سنئے محترمہ ۔۔
اسراء نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ اور فوراً رخ موڑ لیا

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *