Black love -2

ناول black love

از قلم نویدہ شاہد

قسط دو

وہ اسکی گرفت میں بری طرح مچلی تھی

“چ چھوڑیں مجھے”

وہ اک دم پیچھے ہوا اس وقت لڑکی کے چہرہ آنسؤؤں سے تر تھا آنکھیں رو رو کر سوج چکی تھیں وہ کم عمر کی بے انتہا خوبصورت لڑکی تھی معصومیت ایسی کہ نظر پلٹنا بھول جائے اوروہ بھی تو سب بھول گیا تھا وہ یک ٹک بس اسے دیکھے جارہا تھا اردگرد بس دھواں تھا وہ جس ارادے سے اسے یہاں لایا تھا وہ کہیں دور جا سویا تھا اسے یاد تھا تو بس یہ کہ وہ لڑکی اسکے دل کی آواز ہے وہ اسکی دھڑکن تھی وہ اسکا سب کچھ تھی

وہ اسے دیکھنے میں اتنا مگن تھا کہ اسکی لڑکھڑاہٹ پر بھی غور نہ کرسکا تسلسل تو تب ٹوٹا جب وہ بے ہوش ہوگئی

⚫⚫⚫⚫⚫⚫

گھپ اندھیرے میں تنآور اور مضبوط پیپل کے درخت پر
کافی دیر سے سڑک پر نظریں جمائے شکار کی راہ تک رہا تھا ۔۔۔

اچانک اسے جانی پہچانی سی خوشبو آئی۔۔وہ سمجھ گیا کہ کون ہوگا۔۔۔۔۔

اسی وقت لال گھنگرالے بال اور آگ رنگ آنکھوں والا ہیری وہاں نمودار ہوا۔۔

“ہئی جیک ہمارے قبیلے کے دو ساتھی بھوک سے مر گئے
ہیں۔۔۔”

ہیری نے افسوس سے سر ہلاتے۔ ہوئے اسے دردناک خبر سنائی۔۔

“ہیری ہمیں کچھ کرنا ہوگا یارر۔۔۔۔اگر ایسے ہی حالات رہے تو سب مارے جائیں گے۔۔۔۔”

جیک نے افسوس سے کہا۔۔۔

“ہاں ہاں مگر وہ تو صرف تو کرسکتا ہے میں نہیں۔۔۔۔”

ہیری نے اسے یاد دلاتے ہوئے کہا۔۔۔

“اوہ ہاں میں تو بھول گیا تھا۔۔۔”

جیک کی آواز پورے جنگل میں گونجی۔۔

⚫⚫⚫⚫⚫⚫⚫

اسے ہوش آیا تو وہ شاندار کمرے کے بیڈ پر تھی
منظر واضح ہوا تو وہ اٹھ بیٹھی کنگ نے اسے ہوش میں آتے دیکھا تو اک نظر اس کے ڈرے چہرے پر ڈالتا باہر نکل گیا کنگ کے ساتھ اک بے حد خوبصورت عورت کھڑی تھی سرخ سلک کی ساڑھی پہنے بالوں کا جوڑا بنائے وہ اتنی خوبصورت تھی کہ وہ بس دیکھتی رہ گئی
وہ اسے اٹھتے دیکھ کر مسکرائیں تھیں انکی مسکراہٹ جادو بھری تھی دل موہ لینے والی وہ یقیننا کنگ کی بہن تھی یا کوئی رشتہ دار ۔۔۔۔

“کیسی طبعیت ہے “آواز انکی آواز میں ایسی اپنائیت اور مٹھاس تھی کہ وہ بے اختیار انکا ہاتھ تھام کر رونے لگی

“الائم کی وجہ سے جو تمہیں تکلیف پہنچی میں اسکے لیے بہت شرمندہ ہوں تم رونا بند کرو اور کپڑے چینج کرکے نیچے آو کھانا کھاتے ہیں تم کل رات سے بے ہوش ہو یقیننا بھوک لگی ہوگی نا چلو شاباش ” وہ بے حد نرمی سے اسکا سر تھپتھپا کر باہر نکل گئیں

⚫⚫⚫⚫⚫⚫

“تم کہاں جارہے ہو ” وہ الائم کے کمرے میں آتیں اسے پوچھنے لگیں

“ہیری نے پھر سے گڑ بڑ کی ہے مجھے جانا ہوگا اسے روکنا بہت ضروری ہے ورنہ انسانوں کو ہمارے بارے میں علم ہوجائے گا “وہ اپنی ضروری چیزیں سیٹتا جلدی کے عالم میں تھا

“ہوسکے تو اسے منا کر گھر لے آؤ شاید ہم اسے مل کر سمجھا سکیں ” وہ افسردہ ہوگئی تھیں

“کوشش کروں گا” وہ جانے کے لیے تیار انکے سامنے آ کھڑا ہوا

“کتنے دن کے لیے جارہے ہو ”

“دس یا اس سے زیادہ ”

“یہی وجہ ہے کیا ؟؟؟” وہ کچھ کھٹکی تھیں

” کہیں یہ لڑکی تو وجہ نہیں ہے نا ” وہ کچھ کچھ سمجھ گئی تھیں آلائم کو ماننا پڑا تھا وہ ان سے کبھی کچھ چھپا نہیں پائے گا

آپ بس اس لڑکی کا دھیان رکھیے گا ” وہ اسکی ذمہداری ان پر ڈال گیا تھا وہ اسکی پشت دیکھتی پر اسرار سا مسکرائیں

⚫⚫⚫⚫⚫⚫

وہ ڈرتے ڈرتے نیچے آئی تھی ہر پل لگ رہاتھا کہ ابھی وہ سردمہر انسان کہیں سے نکل کر آجائے گااور ایسا ہوبھی گیا تھا وہ دائیں جانب بنی سیڑھیاں اترتا نیچے آرہا تھا ساتھ میں وہی شاندار عورت تھی وہ دونوں ساتھ میں کتنے اچھے لگ رہے تھے اپنی سوچ کوجھٹک کراسنے فورا سر جھکا لیا وہ اسکے پاس سے ہوکر آگے بڑھ گیا تھا بغیر اسے دیکھے سخت تاثرات اور جامد چپ لیے ۔۔۔

“میرا بیٹا اتنا بھی برا نہیں ہے ” وہ اسکا ڈر بھانپ کر ہنستے ہوئے کہہ رہی تھیں اوراسے جھٹکا لگا تھا

جاری ہے

You may also like...

1 Response

  1. Saher says:

    Itni choti epi

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *