Black Love -1

ناول :- black love

از قلم :- نویدہ شاہد

قسط اول

“نہیں پلیز میرے بیٹے کو چھوڑ دو وہ معصوم ہے سب میرا قصور ہے پلیز اسے چھوڑ دو ” اک آدمی بری طرح روتا ہوا رحم کی بھیک مانگ رہا تھا لیکن سامنے والے کی آنکھوں میں سواۓ سردمہری اور وحشت کے کچھ نہ تھا وہ جرائم کی دنیا کا بے تاج بادشاہ الائم کنگ تھا معاف کرنا تو اس نے سیکھا ہی نہ تھا

“مجھے دھوکا دینے سے پہلے ذرا سا بھی نہ سوچا تم نے کہ میں تمہارے ساتھ کیا کرسکتا ہوں ؟؟” وہ کرخت لہجے میں بولا تو سامنے کھڑے ادھیڑ عمر شخص کی آنکھوں میں خوف اتر آیا

“میرے بیٹے کو چھوڑ دو تم جو کہو گے میں وہ کروں گا “وہ اسکے قدموں میں آبیٹھا تھا کنگ نے ارد گرد کھڑے اپنے گارڈز کو دیکھا اور پھر اس ڈرے سہمے چودہ سالہ لڑکے کو تبھی اسکی نظر دروازے میں لہراتے نیلے آنچل پر پڑی وہ ایک دم ٹھٹھکا
“وہاں کون ہے” بوڑھے آدمی سے سوال کیا تو وہ گڑبڑا گیا
“میری بیٹی ہے ”

“بلاؤ اسے ”

باپ کے بلانے پر وہ اندر چلی آئی تھی بے حد شفاف رنگت سرخ ہونٹ یاقوتی آنکھیں وہ حسن کا مکمل مجسمہ تھی
کنگ الائم کی آنکھیں شیطانی انداز میں مسکرائیں

“اگر تم چاہتے ہو تمہارے بیٹے کو چھوڑ دوں تو مجھے اپنی بیٹی دے دو”

⚫⚫⚫⚫⚫⚫

کچھ منٹ بعد اس پری کی چیخیں پورے گھر میں گونج رہی تھیں

” نہیں بابا پلیزبابا نہیں میرے ساتھ یہ مت کریں میں بھی آپکی بیٹی ہوں پلیز بابا “وہ باپ کے قدموں سے لپٹی منتیں کررہی تھی کنگ نے اکتاہٹ سے چند منٹ یہ منظر دیکھا اور پھر گارڈز کو اسے لانے کا اشارہ کرتا باہر نکل گیا

⚫⚫⚫⚫⚫⚫

کنگ الائم مافیا ورڈ کا بڑا نام ۔۔۔ جس کے خوف سے لوگ تھر تھر کانپتےتھے اسکی آنکھوں میں ہمہ وقت چھائی سرخی اسے مزید خوفناک بناتی تھی وہ بات کم کرتا تھا اور عمل زیادہ ۔۔۔ اسکی خاموشی پراسرار تھی اسکے ایک اشارے پر ہر کام ہوجاتا تھا شکل و صورت میں شہزادوں کومات دیتا وہ خوبصورتی میں بے مثال تھا لڑکیاں اس کے لیے محض کھلونا تھیں جن سے کھیل کر دل بھرتا تو پھینک دیتا آج اسے نیا کھلونا مل گیا تھا وہ ایک بے حد خوبصورت اور نازک لڑکی تھی عمر بمشکل سترہ سال تھی اسکی مزاحمت نے عجیب سا سکون دیا تھا اس نے گارڈ کو انٹر کام کے ذریعے اندر بلایا۔۔۔ جو کہ اب سر جھکاۓ حکم کا منتظر تھا

“اس لڑکی کو کمرے میں بھیجو اور دوبارہ کسی کو آنے کی اجازت نہیں ہے” اسکی سرد آواز گونجی وہ مودب سا باہر نکل گیا اور کچھ ہی منٹ بعد وہ اسکے سامنے تھی ڈری سمہی چڑیا کی مانند اسکی آنکھوں کی چمک بڑھ گئ

“ادھر آؤ” کنگ کی بھاری آواز گونجی تو وہ اچھل گئی ڈر اسکے چہرے پر واضح تھا وہ وہیں جمی رہی

“مجھے گھر جانا ہے ” اسکی التجائیہ آواز کمرے میں گونجی کنگ کی مسکراہٹ سمٹی وہ کنگ کی بات کو اگنور کررہی تھی یہ کیسے ممکن تھا وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر اسکے سامنے آگیا وہ بمشکل اسکے سینے تک آتی تھی

“کہاں جانا ہے “وہ اسکی جانب جھک کر پوچھنے لگا

“گھر” اسکی آنکھوں کا رنگ بدلتا دیکھ کر وہ ایک قدم پیچھے کو ہٹی لیکن اگلے ہی لمحے اسکے بال کنگ کی گرفت میں تھے اک دردناک چیخ اسکے منہ سے برآمد ہوئی

“پلیز چھوڑدو مجھے جانے دومیں نے تمہارا کیا بگاڑا تھا “وہ بری طرح رورہی تھی کنگ کو اسکی حالت مزہ دے رہی تھی اس نے دو تین جھٹکے اسکے بالوں کو دئیے

” اگر تم میری بات مانو گی تو میں تمہیں جلد یہاں سے جانے دوں گا”وہ اسکے چہرے کے قریب جھکتا کہنے لگا نظر اسکے سرخ گلابی ہونٹوں پر تھی جو پھڑپھڑا رہے تھے

⚫⚫⚫⚫⚫⚫

رات اندھیری تھی جنگل کے اندر اک سرسراہٹ ہوئی اک سایہ اندر کی جانب بڑھ رہا تھاجس نے کچھ کندھے پر اٹھایا ہواتھا وہ جگہ تلاش کرتا درختوں کے جھنڈ میں بیٹھ گیا اسکا شکار سامنے تھا اسکی آنکھیں چمکنے لگیں وہ ایک خوبصورت لڑکی تھی جواب آہستہ آہستہ آنکھیں کھول رہی تھی ہوش میں آتے ہی وہ جھٹکے سے اٹھی “میں کہاں ہوں ” خوف لڑکی کے چہرے پر واضح تھا سامنے بیٹھا انسان نما شخص اصل میں درندہ تھا جو بہت جلد اسے نوچنے والا تھا

” میری جان میں ہوں تمہارا پیار۔۔۔ مجھے پہچانا نہیں؟” اس نے چہرے سے ماسک ہٹایا تو وہ لمحوں میں اسے پہچان گئی” بوران تم ۔۔۔ “لڑکی نے حیرت سے اسکے چہرے کو دیکھا

“مجھے کیوں لائے ہو بوران مجھے یہاں ڈر لگ رہا ہے ”

“ابھی تمہارا سب ڈر ختم ہوجاۓ گا تمہارا یہ پیار سب ڈر چوس لیے گا اور تمہیں آزاد کردے گا “وہ اسکی گردن پر ہاتھ پھیرنے لگا

“کیا کیا کرو گے “لڑکی اسکے تیور دیکھ کر پیچھے کو کھسکی

“تمہیں پیار “اس نے جھٹکے سے اسے گرفت میں لیتے اس کے لبوں کو اپنے ہونٹوں سے سی دیا

وہ اسکی گرفت میں مچلنے لگی وہ اب اسکی گردن پر کاٹ رہا تھا وہ بری طرح سسکنے لگی

“چھوڑ دو بوران پلیز مجھے جانے دو” لڑکی بری طرح کانپ رہی تھی

اس نے جیب سے رسی نکالی اور لڑکی کے ہاتھ پشت پر باندھ دئیے

“جانتی ہو آج میں کیا کروں گا ؟؟ پہلے تمہارے جسم کونوچوں گا پھر اپنی پیاس بجھاؤں گا”وہ اپنی شرٹ اتارتا ہواکہہ رہا تھا لڑکی بری طرح مچلنے لگی

“اور پھر تمہیں اپنی خوراک بناؤں گا ۔۔۔ ویمپائر کی خوراک جانتی ہو نا ”

وہ اب اسکے اوپر آگیا تھا کچھ ہی دیر میں پورا جنگل لڑکی کی چیخوں سے گونج اٹھا

جاری ہے

Next epi on Sat

You may also like...

1 Response

  1. Noor ul ain says:

    Ya navol start nahi huwA Kiya hi lagraha nahi hai

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *