وحشت – دوم

ناول وحشت

قسط دوم

از قلم : نویدہ شاہد

مجھے ہوش آیا تو میں بیڈ پر تھی ۔۔۔ سر بری طرح دکھ رہا تھا جس برریت کا میں نشانہ بنی تھی اس نے مجھے ہلا کر رکھ دیا تھا اس نے شدت سے دعاکی تھی کہ اسے موت آجاۓ پر یہ ممکن نہ تھا جانے اسے مزید کتنی اذیت سہنا تھی وہ نیم جان سی پڑی تھی کچھ دیر بعد ہاتھ پر شرجیل کا لمس محسوس ہوا جس میں نرمی بھی تھی وہ ہاتھ ہٹانا چاہتی تھی پر متوقع رد عمل نے باز رکھا

” کیسی طبعیت ہے اب ”
وہ اس پر جھکا ہوا نرمی سے پوچھ رہا تھا وہ خاموش رہی

“کچھ کھا لو پھر دوا لینی ہے تمہیں”
وہ اپنے ہاتھ سے بوائل انڈا اور سلائس کھلا رہا تھا پھر چاۓ پلائی اور دوا دی

“تمہیں ٹھیک ہونا ہے کہ ابھی مجھے تمہاری ضرورت ہے۔۔ “وہ چہرہ تھپتھاتا اٹھ گیا تھا اور اسکی آنکھیں بے بسی کے احساس سے چھلک پڑیں تھیں ۔۔ جانے کب تک مزید اذیت میں رہنا تھا ایسی زندگی کا تصور کب کیا تھا بھلا

پھر ہجر و فراق کی گھڑی ہے
عمرِ غمِ آرزو بڑی ہے

پلکوں پہ مچل رہے ہیں انجم
کس چاند سے آنکھ جا لڑی ہے

آ جاؤ کہ ایک بار ہنس لیں
“رونے کو تو زندگی پڑی ہے”

یہ ظُلمتِ شب، یہ جوشِ گریہ
برسات کی رات کی جھڑی ہے

جنگل پہ لپک رہے ہیں شُعلے
طاؤس کو رقص کی پڑی ہے

نیّر کو سلامِ غم مُبارک
منزل مگر عشق کی کڑی ہے
⚫⚫⚫⚫⚫⚫
اگلے دو دن شرجیل کا رویہ بے حد نارمل تھا وہ یوں خیال رکھتا جیسے ہمارے درمیان کبھی کوئی بدمزگی نہ ہوئی ہو اور ایسا تو شروع سے ہوتا آیا تھا وہ زخم دیتا تھا تو مرہم بھی کود ہی رکھتا تھا پر میرا دل ہر شے سے اچاٹ ہوتا جارہا تھا پہلے پہل جو میں محبت کی طلبگار تھی اب وہ بھی نہ رہی تھی دم گھٹنے لگا تھا اب تو بس اک شے کی خواہش تھی آزادی ۔۔ مجھے اس رشتے سے آزادی چاہیے تھی اس قید سے رہائی ۔۔۔ میرا دماغ یکدم ہی دوسری سمت دوڑنے لگا تھا اور میں آنے والے وقت کی پلاننگ کرنے لگی اور پھر یہ موقع مجھے جلد مل ہی گیا تھا میں وہ جگہ ڈھونڈ چکی تھی جہاں سونے سے پہلے شرجیل دروازے کی چابی چھپاتا تھا میرا دل ایکدم ہی خوشی سے لبریز ہوگیا اب مجھے بس رات ہونے کا انتظار تھا

⚫⚫⚫⚫⚫⚫

اگلا دن میرے لیے نیا دن تھا میں پوری طرح پلاننگ کرچکی تھی میں جلد از جلد ناشتہ بنا کر کمرے میں لے آئی تاکہ شرجیل کو کسی بات کا شک نہ ہو میں نے ناشتے کی ٹرے ٹیبل پر رکھتے شرجیل کو آگاہ کیا اور خود بیڈ پر آبیٹھی

“آو تم بھی ناشتہ کرو میرے ساتھ ” شرجیل نے مجھے بلایا تھا

“نہیں مجھے بھوک نہیں ہے بعد میں کرلوں گی ” میں نے مسکرا کر جواب دیا تھا شرجیل نے ایکدم رک کر مجھے دیکھا اور پھر مگن ہوگیا البتہ اب کی بار آسکے ماتھے پر بل تھے میں نے بھی زیادہ زور نہ دیا چونکی تو تب جب وہ میرے سامنے آ کھڑا ہوا “کیا سوچ رہی ہو ”

“کچ کچھ بھی نہیں “میں ہکلا گئی اسکی جانچتی نظریں اندر تک گڑھ رہ تھیں کچھ لمحے مجھے خاموشی سے دیکھنے کے بعد وہ میری جانب جھک آۓ

“سوچنا بھی مت جو بھی خرافاتی منصوبہ بنا رہی ہو اسے دماغ سے نکال دو اگر بھاگنے کی کوشش کی تو ٹانگیں توڑ دوں گا تمہاری سمجھی” وہ میرے اندر تک جھانک کر دیکھ چکا تھا میرے چہرے کو سختی سے دبوچے وہ سرخ آنکھوں سے غراتا مجھے ساکن کرگیا میں کتنی ہی دیر اپنی جگہ سے ہل نہ سکی

⚫⚫⚫⚫⚫
اور کوئی دَم کی ہے مہماں گزر جائے گی رات
ڈھلتے ڈھلتے آپ اپنی موت مرجائے گی رات

زندگی میں اور بھی کچھ زہر بھرجائے گی رات
اب اگر ٹھہری، رگ و پے میں اترجائے گی رات

ہے اُفق سے ایک سنگِ آفتاب آنے کی دیر
ٹوٹ کر مانندِ آئینہ بکھر جائے گی رات

ہم تو جانے کب سے ہیں آوارۂِ ظُلمت مگر
تم ٹھہرجاؤ تو پل بھر میں گزر جائے گی رات

رات کا انجام بھی معلُوم ہے مُجھ کو سُرُور
لاکھ اپنی حد سے گزرے تاسحر، جائے گی رات

رات ہو چکی تھی شرجیل کے سونے کے بعد میں دبے قدموں اس خفیہ دراز کی طرف آگئی بے حد احتیاط سے وہ چابی نکالی مزید انتظار نہ کرسکتی تھی کہ اگر شرجیل اٹھ جاتا تو قیامت آجاتی مجھے یہ ہمت کرنا ہی تھی اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا

میں رازداری سے چلتی دروازہ کھول کر لاؤنج میں آگئی بیرونی دروازے پر باہر بڑا سا تالا پڑا تھا اور چابی میرے ہاتھ میں تھی اس سے زیادہ خوشی مجھے پچھلے ڈیڑھ سال میں نہ ہوئی تھی اسی مسرت میں میں نے وہ چابی تالے میں گھسائی ۔۔۔ لیکن یہ کیا ۔۔ بہت کوششوں کے باوجود بھی تالا کھل کر نہ دے رہا تھا مجھے رونا آنے لگا میں نے شدت سے دعا کی کوئی معجزہ ہوجاۓ پر اوپر والے کو کچھ اور ہی منظور تھا میں تھک ہار کر وہیں دروازے سے سر ٹکا کر رو پڑی

“رومت جان من ۔۔۔ لو اس چابی سے ٹرائی کرو ” پشت سے ابھرتی آواز پر میں اچھل پڑی وہ دیوار سے ٹیک لگاۓ فرصت سے کھڑا تھا ہاتھ میں چابی تھی ہونٹوں پر محظوظ سی مسکراہٹ ۔۔۔۔ اور آنکھیں ۔۔۔ وہ سرخ انگارہ بنی ہوئی تھیں میرا دل اچھل کر حلق میں آگیا ۔۔۔ یہ میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی مجھے پچھتاوا ہوا پر اب کیا فائدہ ۔۔۔وہ قدم قدم چلتا میرے بلکل سامنے اگیا ۔۔” بھاگنا چاہتی ہو ؟؟”

میں یوں کھڑی تھی جیسے منہ میں زبان اور جسم میں جان نہ ہو” اتنی نفرت ــــ” وہ ایک دم ہی خطرناک انداز کرگیا تھا میرے بالوں کو مٹھی میں جکڑے مجھے گھسیٹ کر اندر لے آیا
جاری ہے

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *