وحشت-قسط گیارہ

Don’t copy paste without permission

ناول وحشت

قسط گیارہ

روتے روتے جانے کب اسکی آنکھ لگی تھی ابھی سوئے ہوئے کچھ دیر ہی ہوئی تھی وہ گہری نیند میں تھی جب کسی گہرے احساس کے زیر اثر اسکی آنکھ کھلی منظر زرا واضح ہواتو وہ کرنٹ کھا کر اٹھی

وہ اسکے عین سامنے بیٹھا تھا وہ آج پھر سے اسکے کمرے میں آگیا تھا لیکن اسے اچھی طرح یاد تھا کہ وہ دروازہ لاک کرکے سوئی تھی پھر وہ کیسے آیا تھا وہ بدحواسی میں پیچھے کھسکی

” آپ ۔۔۔ آپ کیوں آئے ہیں ” وہ اسکی پہنچ سے دور ہونے کی کوشش میں تھی جب اسنے گرفت میں جکڑ لیا

“تم رو رہی تھی نا ۔۔۔ بہت رو رہی تھی مجھے لگا تمہیں میری ضرورت ہوگی ” وہ اسکے گال سہلاتا بے حد نرمی سے مخاطب تھا

“تم چاہتی ہو میں مرجاؤں ہے نا ؟” اسکا اگلا سوال حیران کن تھا وہ اسکی گرفت میں تھر تھر کانپنے لگی تھی اسکی اتنی محبت کی عادت نہیں تھی تبھی خوف آنے لگا تھا

دانیہ بوکھلاہٹ میں سر نفی میں ہلارہی تھی اور وہ عجیب نظروں سے اسکا چہرہ دیکھتا گال سہلارہا تھا اسکے لب خاموش تھے

وہ ذہنی اذیت کی جانے کس حد پر تھی کہ پھوٹ پھوٹ کررودی

“نہ نہ میری جان رو مت ۔۔۔ خود کو ہلکان مت کرو ایک موقع دو مجھے۔۔۔ تمہاری ساری اذیت چن لوں گا جتنے غم دئیے ہیں اس سے زیادہ خوشیاں دوں گا بس ایک موقع دے دو ۔۔۔ مجھ سے بھاگ کر میرے زخموں کو مت کریدو ۔۔۔ اب تک تو تمہیں یہ سمجھ جانا چاہیے کہ تم مجھ سے چھٹکارا نہیں پاسکتی ۔۔۔ “اسکی سرگوشی میں بے حد نرمی اور اپنائیت تھی وہ نرمی سے آنسو صاف کررہا تھا پھر اک دم جھکا اور اپنے لب اسکے لبوں پر رکھ دئیے وہ سن ہوگئی چند لمحے یونہی بیت گئے پھر وہ ہولے سے الگ ہوتا اٹھ کھڑا ہوا

“میں تمہارا طلبگار ہوں ہماری خوشیاں تمہاری راہ دیکھ رہی ہیں ہمارا بیٹا تمہارا منتظر ہے زیادہ انتظار مت کروانا جانم ”

وہ جتنی خاموشی سے آیا تھا ویسے ہی نکل گیا اور وہ ٹرانس کی کیفیت میں بیٹھی رہ گئی
⚫⚫⚫⚫⚫⚫

“رات کو شرجیل پھر سے آیا تھا “صبح صبح اس نے یہ اطلاع جنید کو دی تو وہ بھڑک اٹھا

“کیسے آیا وہ؟ تمہاری اجازت کے بغیر وہ یہاں کیسے آسکتا ہے باہر گارڈز ہیں دروازہ لاک ہوتا ہے کیسے آسکتا ہے” وہ اس پر برس رہا تھا دانیہ کو بری طرح تاؤ آگیا

“آپ مجھ پر شک کررہے ہیں ؟ مجھ پر ؟ ”

“تو کس پر شک کروں ؟ بولو۔۔ میں نے تمہیں ہزار بار کہا ہے کہ اس سے تم رشتہ نہیں رکھو گی تمہاری شادی جبران سے ہوگی سنا تم نے ” وہ باقاعدہ اسے وارن کررہا تھا حق جما رہا تھا رعب دکھا رہا تھا اسکے نئے نئے روپ سامنے آنے لگے تھے

“اور میں ایسا صرف اس صورت میں کروں گی جب آپ مجھے میرا بیٹا لا کر دیں گے ” وہ بھی دوبدو چلا کر بولی

“ورنہ ۔۔۔ ورنک تم کیا کروگی ” وہ خطرناک نظروں سے اسے دیکھتا پوچھ رہا تھا گویا کہہ رہا تھا تم کر ہی کیا سکتی ہو

“میں شرجیل کی بات مان لوں گی اور واپس اسکے پاس چلی جاؤں گی ” وہ اٹل لہجے میں بوتی واپس پلٹ گئی تھی یہ دیکھے بغیر ک شرجیل کے چہرے پر کیسے سائے منڈلائے تھے

⚫⚫⚫⚫⚫⚫

دوپہر سے رات ہونے کو آئی تھی جنید کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا تھا وہ اٹھ کر جنید کے کمرے کی طرف چلی آئی وہ دروازے کے قریب تھی جب اندر سے آتی آواز پر رک گئی

” اب آپ کیا کریں گے ” ثمینہ پوچھ رہی تھی

“کچھ بھی نہیں”

“مطلب آپ انس کو واپس نہیں لائیں گے”

“نہیں ” جنید کے جواب نے باہر کھڑے وجود کے اندر آگ دہکائی تھی

“کیوں ” ثمینہ نے کریدا

“کیوں کہ جبران انس کو نہیں رکھنا چاہتا اس لیے بہتر ہے وہ شرجیل کے پاس ہی رہے ”

“اوہ لیکن ۔۔۔۔ “ثمینہ کچھ اور بھی کہہ رہی تھی اس سے سنا نہیں گیا وہ لڑکھڑاتے قدموں سے واپس پلٹ آئی

⚫⚫⚫⚫⚫⚫

“کیسی ہو مائی ڈئیروائف ” اس نے فون ملایا تو دوسری طرف سے پہلی ہی بیل پر اٹھا لیا گیا کوئی شدت سے منتظر تھا

“انس کیسا ہے” دانیہ نے اسکا سوال نظرانداز کیا تھا

“اچھا نہیں ہے ”

“کیا مطلب ” وہ بے چین ہوئی تھی

“تمہیں مس کررہا ہے ۔۔۔۔ میری طرح ” دوسری جانب سے گہرا سانس بھر کر کہا گیاتھا

“میں ۔۔ میں آنا چاہتی ہوں ” وہ جیسے کسی نتیجے پر پہنچ کر بولی تھی

“کہاں ” عجلت میں پوچھا گیا

“واپس ”

“ایک بار پھر سے کہو ” وہ جیسے یقین کرنا چاہ رہا تھا

“میں واپس آنا چاہتی ہوں ” اس نے زچ ہوکر دوبارہ سے کہا

“میرے پاس؟ ”

“نہیں انس کے ”

“دیٹس گریٹ کب آؤ گی ابھی آجاؤ نا” وہ بہکےہوئےلہجےمیں کہہ رہا تھا اسنے بھی بدحواسی میں ہامی بھر لی

“میں ابھی آجاتی ہوں ”

“سنو کسی کو بھی مت بتانا اپنے اس خرانٹ کزن کو بتانے کی ضروت نہیں بس خاموشی سے نکلو میں باہر ویٹ کررہا ہوں تمہارا”دوسری جانب سے حکم دے کر کال بند کردی گئی تھی

⚫⚫⚫⚫⚫⚫

وہ اسے لیے لیےاپنی وسیع رہائشگاہ میں آگیا تھا سارا رستہ خاموشی سے کٹا تھا رات گہری ہورہی تھی ہر طرف بارودی گارڈز مستعدی سے اپنی ڈیوٹی کررہے تھے اسے اس وقت بس انس سے ملنے کی بے تابی تھی

وہ اسکی بے تابی نوٹ کرتااسے لیے انس کے روم کی طرف آگیا

انس کاروم اسکے کمرے سے ملحقہ تھا میڈ انس کو سلا چکی تھی وہ بے تابی اسے اسکی طرف بڑھی اور بانہوں میں بھر کر چٹا چٹ چومنے لگی

“بس کرو اسکی نیند ڈسٹرب مت کرو ۔۔۔ چلوآؤ شاباش” وہ اسے بمشکل انس سے الگ کرتا بولا

“نہیں میں اپنےبیٹے کے پاس ۔۔۔” اسکی بات ادھوری رہ گئی تھی وہ اسے بازو سے گھسیٹتا کمرے میں لے آیا

“تمہاری حرکتیں مجھے بدتمیزی اور زبردستی پرخود اکساتی ہیں”وہ جارحابہ انداز میں اسے کمرے میں لاکر چھوڑتا ہوا بولا

“نہیں میں یہاں انس کے لیے آئی ہوں اوراسی کے پاس رہوں گی” وہ سخت لہجے میں بولتی جانے لگی تھی جب اس نےپھر سے گرفت میں لے لیا

“بیگم صاحبہ اتنے مہینوں کا فراق ہے ہم ترس رہے ہیں اور آپکو خیال ہی نہیں” وہ مدہوش ہوتا اسکے وجود کو بانہوں میں بھر کر بولا اور نرمی سے اسکے چہرے کو دیوانہ وار چومنے لگا پھر ایک دم جھک کر اسکے ہونٹوں کو چومنے لگا

“چھوڑو مجھے چھوڑو ”

وہ اسکی گرفت میں مچلنے لگی شرجیل نے ایک دم رک کر اسے دیکھا اور اگلے ہی لمحے اسکا زوردار تھپڑ گال لال کرگیا

“پیار کی بات سمجھ نہیں آتی تمہیں” وہ اسکے بال مٹھی میں جکر کر غرایا

“بس بہت بھاگ لیاتم نے بہت تڑپا لیا مجھے اب اگر تم نے مجھے جھٹکنے کی یا مجھ سے بھاگنے کی کوشش کی تو وحشت کی وہ مثال بنوں گا کہ موت کو ترس جاؤ گی ” اسکے تیور خطرناک ہوگئے تھے

“بہت مظلوم ہو میں ظلم کرتا ہوں تم پہ ۔۔۔ نفرت کرتی ہو نا مجھ سے اسی لیے رونے لگتی ہو ہے نا ”

وہ اسکے آنسوؤں کو اور ہی رنگ دیتا مزید بپھر گیا بے دریغ کئی تھپڑ اسے دے مارے وہ سسکیاں دبانے لگی

اسکی مزاحمت پھر بڑھ رہی تھی شرجیل کا غصہ آسمان کو چھونے لگا وہ بار بار ہاتھ اٹھانے لگا غصے طعنے تششدد گالیاں یہ اسکے لیے بہت اذیت بھری رات ثابت ہونے والی تھی

جاری ہے

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *