وحشت-قسط چھ

ناول : وحشت

از قلم : ناویدہ شاہد

قسط چھ

وہ پاگلوں کی طرح کمرے کی ہر شے تہس نہس کررہا تھا سرخی چھلکاتا چہرہ اسکے غضب کی گواہی دے رہا تھا وہ قہر کا سامان بنا ہوا تھا وہ ایک بار پھر اسکے ہاتھ سے نکل گئی تھی چند منٹوں کی دیری نے اس سے اسکی جیت چھین لی تھی ۔۔۔ وہ پاگل ہوتا جنونی ہوگیا تھا آنکھیں ضبط سے لال ہوگئی تھیں

“ڈھونڈو اسے پیچھا کرو اسکا ۔۔۔ مجھے وہ چاہیے ہر حال میں ۔۔۔ سنا تم نے ” گارڈ کو گردن سے دبوچتے اسنے حکم صادر کیا تھا

⚫⚫⚫⚫⚫

“آپ مجھے اپنے گھر کیوں لے آئے ہیں بھیا ” جنید دانیہ کو اپنے گھر لے آیا تھا اسے اس سے محفوظ جگہ نہیں ملی تھی

“بے فکر رہو۔۔۔تم یہاں محفوظ رہو گی ” جنید نے اسے پرسکون کرنا چاہا تھا اور اسے اندر لے آیا

“ثمینہ یہ دانیہ ہے میری کزن اور دانیہ یہ ثمینہ ہے میری بیوی” جنید نے مسکرا کر تعارف کروایا تو دانیہ نے خوشدلی سے سلام کیا لیکن ثمینہ کی نظروں نے اسے ڈسٹرب کیا تھا وہ اسے عجیب نظروں سے دیکھ رہی تھی

“اسے کیوں لے کر آئے ہو تم” اسکے لفظ بھی عجیب تر تھے

“کیا کہہ رہی ہو ثمینہ “جنید ہونق ہوا تھا

“تم جانتے ہو نا اسکا شوہر پاگل کتوں کی طرح اسے تلاش کررہا ہے تمہارے آفس آکر تمہیں دھمکا چکا ہے تم اسے اٹھا کر گھر لے آئے “ثمینہ کی باتوں نے اسے گنگ کیا تھا

“آپ نے مجھے یہ کیوں نہیں بتایا” اسکی حیرانی بھری نظریں جنید پر جمی تھیں “ثمینہ میں دانی کو کمرے میں چھوڑنے جارہا ہوں اور یہ یہیں رہے گی کہیں نہیں جائے گی سنا تم نے ”

جنید اسے وارننگ دیتا دانی کا ہات تھامے اوپر چلا آیا تھا

“یہ یہاں سے ضرور جائے گی” ثمینہ نے تنفر سے انکی پشت دیکھتے سوچا

⚫⚫⚫⚫⚫

اگلا دن مصروف دن تھا جنید اسے اپنے ہمراہ لیے انس کی شاپنگ کے لیے چلا آیا تھا وہ کافی عرصے بعد آج گھر سے نکلی تھی اردگرد بے فکر چہرے دیکھ کر دل خوشی سے جھوم گیا تھا وہ اک دکان کے آگے سے گزر رہی تھی جب اک نیلے شاندار کامدار فراک کے سامنے آکر رک گئی کتنا وقت ہوگیا تھا ایسے رنگ پہنے کو

جنید انس کو لیے آگے نکل گیا تھا اور وہ اسی ڈریس میں کھو گئی تھی تبھی کسی کی گرم گرم سانسوں کی تپش گردن کی پشت پر ابھری اور اسے جلا کر راکھ کر گئ وہ اس لمس کو پہچانتی تھی تبھی جھٹکے سے دور ہوئی اور وہ چہرہ سامنے آگیا

“تم ” وہ شاک میں گھری کھڑی تھی

“کیسی ہو جان من” وہ اسے نظروں میں سموتا ہوا بولا ۔۔ تو وہ ہوش میں آتی بغیر جواب دیے آگے بڑھ گئی اس نے ییچھے سے اپنی گرفت میں لے لیا

“کدھر جارہی ہو ” وہ اسکی گرفت میں مچل رہی تھی

“چھوڑو چھوڑو مجھے ” وہ تڑپ کر نکلی تھی آس پاس لوگ جمع ہونے لگے تھے

“جان من بچوں جیسی باتیں مت کرو ۔۔۔ تمہیں کیا لگتا ہے کہ تم مجھ سے بھاگ کر جنید کی بانہوں میں پناہ لےلوگی تو یہ تمہاری غط فہمی ہے تمہیں شاید میری طاقت کا اندازہ نہیں ہے تمہارے اس جنید نامی کزن کے اتنے ٹکڑے کروں گا کہ تم سے گنے نہیں جائیں گے ” وہ قہقہ لگاتا بے ہودگی سے کہہ رہا تھا دانیہ کو نفرت تھی اسکے انداز سے اسکی بات سے اور اس سے بھی ۔۔۔۔ بے حد نفرت

“تم بھی مت بھولو میں اب وہ بزدل دانی نہیں رہی میں تمہارے دباؤ میں نہیں آؤں گی۔۔۔ تم ہر قسم کی غلط فہمی سے نکل آؤ میں تم پر تھوکنا بھی پسند نہیں کرتی ” اس نے بنا ڈرے شرجیل کو دوبدو جواب دیا تھا تنفر سے سر جھٹکتے سائیڈ سے نکلنے کو تھی جب اس نے دانی کا بازو سختی سے جکڑ لیا اسکا چہرہ اتنے قریب تھا کہ اسکی سانسیں دانی کو چہرے پر محسوس ہورہی تھیں

“چلو جان گھر چلیں “آنکھوں کی نسبت لہجہ بہت ہی دھیمہ اور نرم تھا دانیہ نے پھر سے مچل کر گرفت سے نکلنا چاہا

“اپنی یہ واہیات باتیں بند کرو اور چ۔۔۔ چھوڑو مجھے” جوں جوں اسکی جدوجہد نے زور پکڑا شرجیل کی گرفت سخت ہوگئی مارے تکلیف کے وہ رو پڑی

“تم آج بھی ویسے ہی جانور ہو۔۔۔جنگلی انسان میں تمہارےساتھ نہیں جاؤں گی چھوڑو ”
دانیہ بے بسی کے سبب چیخی تو یکدم اسکی گرفت ڈھیلی پڑگئی ایکدم اسکےچہرے کا رنگ پھیکا پڑا تھا وہ تیزی سے بغیر اسے دیکھے پلٹ کر بھاگ گئی یہ جانے بنا کہ وہ کب تک وہیں کھڑا رہا تھا

جاری ہے

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *