وحشت – قسط چار

Don’t copy paste without permission

ناول وحشت

قسط چار

ٹارچ کی مدھم روشنی میں وہ ساۓ گھنے درختوں میں آگے بڑھ رہے تھے صبح سے شام ہوگئی تھی انہیں چلتے ہوۓ لیکن اس وجود کا نام و نشان نہیں ملا تھا

” سر ہم نے ہر جگہ ڈھونڈ لیا ہے وہ کہیں نہیں ہیں ” اک گارڈ نے مؤدب ہوکر عرض کیا تھا گو کہ اندر سے اسکا دل اپنے مالک کے چہرےکے غضبناک تاثرات دیکھ کر کانپ رہا تھا

اس نے اک لمحے کو رک کر دیکھا پھر سر جھٹکتا وہیں ڈھے گیا درخت کے ساتھ گردن ٹکاۓاسنے سختی سے آنکھیں میچیں تو اک منظر آنکھوں کے سامنے لہرا گیا

” تم نے کیا ہے یہ ؟؟ تم نے بتایا اسے ؟؟ تم نے ذہر بھرا اسکے دماغ میں ۔۔ “وہ سارا الزام اس پر ڈالتے پھر سے وحشی ہوگیا تھا پہلے منہ پر تھپڑ مارے پھر بال مٹھی میں جکڑ لیے اسکی آنسوؤں میں روانی آئی تھی پر منہ سے آہ نہ نکلی

“بولو کیا کیا بتایا تم نے میری بہن کو ۔۔۔ صاف صاف بک دو سب ۔۔۔ ورنہ تمہارے ٹکڑے ٹکڑے کردوں گا ۔۔۔ ” وہ گالیاں بکتا گرج رہاتھا بار بار ہاتھ اٹھاتا تھا

“میں نے کچھ نہیں بتایا” اسنے سچ بولا تھا پر وہ یقن کرتا تب نا ۔۔۔ وہ مجرم کی طرح سر جھکاۓ ہوۓ تھی اس کے پاس کسی سوال کا جواب نہ تھا ۔۔ رونے تڑپنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا یہ کھیل پوری رات جاری رہاتھا گالیاں طعنے تشدد اذیت بے پناہ اذیت یہ بہت بری رات تھی بہت طویل رات تھی

⚫⚫⚫⚫⚫⚫

دن کی روشنی نکل آئی تھی وہ بے صبری سی لان میں ٹہلتا کسی کا انتظار کررہا تھا ماتھے ہر شکنیں واضح تھیں

” سر میڈم کہیں نہیں ملیں ۔۔ خون کا بھی کوئی نشان نہیں ہے ہم نے پوری کوشش ۔۔۔” اس کی بات ادھوری رہ گئی تھی کہ شرجیل لال انگارہ آنکھیں لیے اس کی گردن پر گرفت سخت کرگیا تھا

“اگر تم سے یہ نہیں ہوتا تو میرے لیے تم کسی کام کے نہیں ہو دو دن ہیں تمہارے پاس اگر وہ نہ ملی تو تم سب کی قبریں یہیں بنادوں گا سمجھے ۔۔۔ زمین کھودو آسمان تک جاو لیکن مجھے وہ دو دن میں چاہیے ۔۔ دو دن کا مطلب صرف دو دن ۔۔۔”

⚫⚫⚫⚫⚫

دانی ۔۔۔ دانیہ شرجیل ۔۔۔ میری بیوی ۔۔۔بلکہ دوسری بیوی ۔۔۔ہاں وہ میری دوسری بیوی تھی میری پہلی شادی نورین سے ہوئی وہ محبت کی شادی تھی سارے گھر کی مخالفت کے باوجود میں نے یہ شادی کی تھی نورین بہت خوبصورت تھی اور پھر وہ محبت بھی تھی میں پور پور ڈوبا ہوا تھا جھٹکا تو تب لگا جب وہ مجھے چھوڑ گئی ۔۔۔ دولت کے لالچ میں وہ کسی اور کے ساتھ بھاگ گئی تھی یہ سب کیسے اور کیوں ہوا مجھے کچھ پتا نہ چلا وہ اک بار مجھے بتاتی تو سہی ۔۔مجھے یقین نہ آتا تھا اور جب یقین آیا تو میں ڈپریشن میں چلا گیا میں جو فطرتاً نرم مزاج تھا اک دم ہی بدل گیا کسی سے بات کرتا تو یوں ہوتا جیسے انگارے چباۓ ہوں خود کو مصروف کرلیا اتنا کہ بہت جلد ہی میں نے بزنس میں اپنا نام کما لیا میرے پاس اتنا پیسہ آگیا کہ میں ہر شے خرید سکتا تھا لیکن میرے مزاج میں تبدیلی نہ آئی ۔۔۔ اماں کی پریشانی بجا تھی اس واقعے کو سات سال گزر چکے تھے

وہ چاہتی تھیں میں شادی کرلوں لیکن یہ ممکن نہیں تھا مجھے عورت کے نام سے گھٹن ہونے لگی تھی میں کیسے کسی اور کو خود کو برباد کرنے کا موقع دیتا لیکن پھر اماں کی ضد جیت گئ وہ جاتے جاتے دانیہ نامی کھلونا مجھے دے گئیں ۔۔۔

مجھے یاد ہے شادی کی پہلی رات میں نے اسکا کیا حشر کیا تھا ۔۔۔اور جو سکون مجھے اس رات ملا تھا وہ پچھلے سات سالوں کا نقصان پورا کرگیا ۔۔۔ وہ ایک کٹھ پتھلی جیسی تھی ایک موم کی گڑیا۔۔۔گندمی رنگت ک حامل میری زوجہ نورین کے مقابلے میں بھلے کچھ نہ تھی لیکن مجھےاسکا ڈرنا سہمنا اچھا لگنے لگا تھا میں نے اسے توڑنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی مجھے یہ سب کرکے مزہ آتا تھا ۔۔۔ اسے اک فلیٹ میں بند کیے رکھا ذرا سی بات پر کڑی سزا دیتا اور اسکا چیخنا دل میں ٹھنڈک پیدا کردیتا اسکا کزن پتا نہیں کیسے اسے ڈھونڈتا پہنچ گیا تھا میں نے بمشکل ضبط کرتے اسے ملنے دیا انہی دنوں مجھ پر عجیب انکشاف ہوا مجھے لگتا تھا میرا ڈر اسے بھاگنے نہیں دے گا لیکن وہ بھی بھاگنا چاہتی تھی قید سے رہائی چاہتی تھی بکل نورین کی طرح میں نے اسے چابی نکالتے دیکھ لیا تھا وہ بھاگ رہی تھی میں نے چابی بدل دی ۔۔۔ میں نے اسے بری طرح دھنک دیا ۔۔ وہ چپ تھی بلکل بت کی طرح ۔۔۔ پھر ایک دم پھٹ پڑی اسکے لفظوں نے مجھے حیران کیا تھا وہ میرے ساتھ رہنے سے بہتر موت سمجھتی تھی اس چیز نے مجھے آگ بگولا کیا تھا میں نے وحشت کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے

میں بپھرے سانڈ کی طرح اس پر جھپٹا اور پے در ہے کئی تھپڑ رسید کیے پھر میں نے اسے ٹھوکروں کی زد پر رکھ لیا تھپڑ لاتیں گھونسے وہ چیخنے لگی بری طرح تڑپ رہی تھی تبھی میں اک دم رک گیا چہرے پر ہاتھ پھیر کر پرسکون ہوتا میں اسکے ہچکیاں لیتے وجود کو دیکھ رہا تھا وہ تڑپ رہی تھی میں خطرناک تیوروں سے وہ اسکی طرف جھک آیا کھینچ کر بیلٹ نکالی اور اسے بالوں سے پکڑ کر مقابل کر لیا

“دماغ آیا ٹھکانے پر یا موت کا بھوت اب بھی سوار ہے “وہ سن کر بری طرح رودی

“اگر اب بھاگنے کی کوشش کی یا موت کا نام لیا تو ذہن میں بٹھا لو اس چمڑے سے تمہاری کھال ادھیڑ دوں گا پل پل ماروں گا اتنی آسان موت نصیب نہ ہونے دوں گا ۔۔۔۔ ” میں دھمکی دے کر رکا نہیں

بعد میں مجھے دکھ ہوا تھا میں ازالہ کرنے کو اسے اپنی پرانی حویلی لے آیا ۔۔اور یہاں وہ ہولناک حادثہ پیش آگیا میں یہ کبھی نہیں چاہتا تھا وہ میری دسترس سے دور جاگری تھی میں دیوانہ وار بھاگا ایک گھنٹے کی مسافت کے بعد میں وہاں پہنچا تو وہ وہاں نہیں تھی اسے وہیں گرنا چاہیے تھا میں نے گھوم پھر کر دیکھ لیا جنگل چھان مارا وہ کہیں نہیں تھی اس شے نے مجھے جنونی کردیا تین دن گزر چکے تھے اور میرا کھلونا مجھ سے چیھن لیاگیا تھا مجھے چین نہیں آرہا تھا آہی نہیں سکتا تھا

⚫⚫⚫⚫⚫⚫

“بھاگنے لگی تھیں ؟؟ جنید کے ساتھ ؟؟ “۔وہ اسکا چہرہ اپنے فولادی پنجے میں جکڑتے قریب کرتے غرایا تھا وہ سوکھے پتے کی مانند لرزنے لگی ۔۔خود کو اک نئی اذیت کے لیے تیار کرنے لگی ۔۔
“میں نے کچھ نہیں کیا ۔ میں بے گناہ ہوں” وہ طری طرح روتے ہوۓ کہہ رہی تھی
“کتیا ہونا اسی کم ظرف انسان کے خاندان سے جس نے میرے گھر میں نقب لگانے کی کوشش کی ۔۔۔تم مجھے سب کچھ بتاؤ گی ورنہ تمہاری بوٹی بوٹی کرکے چیل کووں کو کھلا دوں گا” وہ اتی زور سے دھاڑا کہ کمرے کی دیواریں لرز اٹھیں ۔۔ پھر اٹھ کر دراز سے چاقو اٹھا لایا اسکی آنکھیں خوف سے پھیلیں ۔۔۔ “ن نہیں ۔۔ میں سچ میں نہیں جانتی جنید بھائی کیسے آۓ ”

وہ بری طرح ڈر گئ تھی ۔۔ اسکا دل اچھل کر حلق میں آگیا تھا ۔۔ وہ آگے بڑھا اور اسکا بازو تھام لیا ۔۔۔ سرخ انگاروہ آنکھوں سے اسے تکتے وہ اب اسکے بازو پر کٹ لگارہاتھا وہ بری طرح مچل رہی تھی ذبح ہوتے بکرےکی طرح چیخ رہی تھی ۔۔ پر اسے رحم نہ آیا تھا

ایک دم میری آنکھ کھل گئی لبے لمبے سانس لینے کی کوشش کی دل بری طرح دھک دھک دھک کرریا تھا میرا جسم پسینے میں شرابور تھا یہ خواب تھا یہ یقین کرنے میں وقت لگا تھا میں خواب میں بھی اس تکلیف کو برداشت نہیں کرسکتی تھی ایک دم میں نے گردن گھمائی تو دھک سے رہ گئی۔۔۔۔
جاری ہے

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *