وحشت-قسط پانچ

ناول وحشت

از قلم نویدہ شاہد

قسط پانچ

وہ نیند میں تھی جب آوازوں نے تعاقب کیا “کیا کہہ رہی تھی تم جانور ہوں ۔۔۔ ہاں ۔۔ کہو ذرا ۔۔ دوبارہ سے کہو “وہ بال مٹھی میں جکڑکر زوردار جھٹکا دیتے ہوۓ کہہ رہے تھے

“نہیں میں کچ ۔۔۔۔کچھ نہیں “۔۔مارے خوف کے وہ ہکلا گئی مقابل کو ترس نہیں آیا

“میں تمہیں دکھاؤں اپنے اندر کا درندہ ۔۔۔ ”
ایک ہاتھ سے بال دبوچے چٹاخ چٹاخ کئی تھپڑ چہرے پر برساۓ تھے اسکے حلق سے گھٹی گھٹی چیخیں نکلتی چلی گئیں وہ غیض و غضب کا طوفان بن گیا تھا گھسیٹ کر واش روم میں لے آیا

“چھوڑ دو خدا کا واسطہ ہے چھوڑ دو مجھے “لڑکی تڑپ رہی تھی منظر واضح ہوگیا تھا

“نہیں میں تمہیں دکھاتا ہے درندگی کیا ہوتی ہے ”
وہ ٹپ میں پانی بھرتے بولا تھا اس سے پہلے کہ کچھ سمجھتی وہ سختی سے سر پانی میں ڈبو چکا تھا لڑکی بری طرح مچلی تڑپی ہاتھ پاؤں مارتے سانس لینے کی سعی کررہی تھی اور جب اسے لگا کہ اب دوبارہ سانس نہیں لے سکوں گی تب اس نے باہر کھینچ لیا وہ گہرے گہرے سانس بھرنے لگی زندگی پھر سے دوڑنا شروع ہوئی پر ابھی یہ اختتام نہ تھا وہ پھر سے یہ عمل دوہرا رہا تھا
اور یہاں اسکی برداشت ختم ہوگئی تھی اسکا چہرہ پسینے ے بھر چکا تھا وہ گہرے گہرے سانس لے کر خود کو پرسکون کرنے لگی لیکن یہ بے سکونی تو جانے کب تک رہنی تھی

نیا اک رشتہ پیدا کیوں کروں میں
بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کروں میں
خاموشی سے ادا ہو رسم دوری
کوئی ہنگامہ برپا کیوں کروں میں
یہ کافی ہے کہ ہم دشمن نہیں
وفاداری کا دعوی کیوں کروں میں

⚫⚫⚫⚫⚫

“تم لوگ کون ہو اور یہ کیا غنڈہ گردی ہے “چند لمبے تڑنگے گارڈز کو بے دھڑک آفس روم میں داخل ہوتے دیکھ کر جنید فورا اپنی جگہ سے اٹھ کر غصے سے بولا اوراس سے پہلے کہ وہ کچھ سد باب کرتا وہ اسے قابو کرچکے تھے

“کون ہو تم لوگ “وہ انکی گرفت میں بری طرح مزاحمت کررہا تھا

“چپ رہو باس آرہے ہیں ”

ایک نے کرخت آواز میں جواب دیا تبھی آفس کا دروازہ کھلا اور آنے والے شخص کو دیکھ کر اسکی آنکھیں پھٹی پھٹی کی رہ گئیں

بے حد قیمتی نیلے کلف لگے سوٹ میں جاندار مسکراہٹ لیے وہ شرجیل ہی تھا پہلے سے زیادہ صحت مند اور خوبرو ۔۔ وہ بے حد بدلا ہوا لگ رہا تھا

“کہو کیسے ہو “وہ اسکے سامنے شان بے نیازی سے بیٹھتا ہوا بولا چہرے پر ہنوز مسکراہٹ تھی

“حیران ہو ؟؟ تمہیں کیا لگا تم سب کچھ سمیٹ کر بھاگو گے تو مجھ سے بچ جاؤ گے پھر کیسا لگا سرپرائز ”

“کیوں آۓ ہو یہاں “جنید نے سیدھا اسکی آنکھوں میں دیکھتے سوال کیا

“تمہارے پاس میری ایک قیمتی چیز ہے “اسکی کھوجتی نظریں جنید پر ہی تھیں جنید کا چہرہ بے تاثر تھا

“کونسی چیز “وہ انجان ہوا

“بھولے نہ بنو میں تمہاری زبان کھلوانے کو کیا کرسکتا ہوں جانتے بھی ہو ؟؟” شرجیل کی آنکھوں سے شعلے نکل رہے تھے

“میں نہیں جانتا تم کیا کہہ رہے ہو “جنید ناسمجھی سے اسے دیکھ رہا تھا

“میں دانیہ کی بات کررہا ہوں ”

“کیا ؟ دانیہ تمہار پاس نہیں ہے” وہ ایک دم ٹھٹھکا تھا

“میری آنکھوں میں دیکھ کر جھوٹ بول رہے ہو ؟” شرجیل کو اس پر یقین نہیں آیا تھا تبھی مٹھیاں بھینچ کر بولا

“مجھے کیا معلوم تمہاری بیوی ہے وہ ۔۔۔ میں نہیں جانتا کہاں ہے وہ تم اب بھی مجھ پر شک کررہے ہو کیسے مرد ہو تم” جنید کو اسکی سوچ پر افسوس ہوا تھا

“میری مردانگی کی بات تو مت کرو ۔۔۔ مجھے تم سے کوئی مسئلہ نہیں ہے تم بس مجھے میری دانی واپس کرو اور اپنی زندگی جیو سو سمپل
” وہ بے حد سکون سے چٹکی بجا کر بولا جیسے سب اتنا ہی آسان بھی تھا

“میں نہیں جانتا میرا تو اس سے رابطہ بھی نہیں ہے” جنید نے پرزرور انداز میں انکار کیا تھا شرجیل اک پل کو چپ کر گیا کھوجتی نگاہوں سے اسے دیکھتا رہا

“نئی نئی شادی ہوئی ہے نہ تمہاری سنا ہے بیوی بہت خوبصورت ہے ”

وہ بولا تو جنید کی آنکھیں پھیلی وہ کیا کہنے والا تھا وہ اخذ نہ کرسکا

“شرم کرو تم” اسکی ملامت نے شرجیل پر کوئی اثر نہ کیا تھا

“اور میرے گارڈز کو خوبصورت لڑکیاں بہت پسند ہیں ۔۔۔”وہ اسکی عزت کی دھجیاں اڑا رہا تھا اسکی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ رہا تھا جنید اک پل کو گنگ ہوا

“شٹ اپ یو ۔۔۔۔ ” اسکے منہ سے گالیوں کا طوفان نکلا تھا پر وہ آنکھیں چھوٹی کیے یونہی سکون سے مسکراتا رہا

“واہ اپنی بیوی سے اتنی محبت ؟؟ تو سوچو میری محبت مجھ سے دور ہے میں کیسے برداشت کروں کہ وہ تمہاری پناہ میں چھپی بیٹھی ہے

“کیسے گھٹیا انسان ہو تم۔۔۔۔ اچھا کیا کہ دانیہ چلی گئی ۔۔۔۔”جنید کی آگ کسی طور کم نہ ہوئی تھی کہ اس نے نیا وار کیا

“اگر تمہاری بیوی بھی چلی جائے تب ” وہ جتاتی نگاہوں سے بول رہا تھا

“میں تمہیں جان سے مار دوں گا “جنید بلبلا اٹھا تھا

“اور میں ایک منٹ میں تمہاری جان لے سکتا ہوں یو نو ۔۔۔ لیکن تمہیں مار کر میں اپنی جان کو کھو دوں گا جس کا پتا صرف تمہارے پاس ہے اس لیے سیدھے سیدھے سب اگل دو۔۔۔۔ دو دن کا وقت ہے تمہارے پاس ورنہ تمہاری بیوی کا میں وہ حال کروں گا کہ تم خود کو اپنے ہاتھوں سے مار لو گے” اسکا چہرہ مٹھیوں میں دبوچتا وہ غرایا تھا پھر جھٹکے سے پلٹ کر باہر نکل گیا

⚫⚫⚫⚫⚫⚫

جب وہ مجھے حوالوں میں مطلوب ہوگیا
مجھ سے بھی معتبر میرا اسلوب ہو گیا

جب وہ آ نہ سکا میرے لفظوں کی قید میں
میں سوچ کی صلیب سے مصلوب ہو گیا
آنکھوں کو پھر نہ مل سکے خوابوں کے ذائقے
جس دن مجھ سے مجھ کو رتجگا محبوب ہو گیا

وہ آنکھ بھی تھا آئینہ بھی عکس بھی میرا
جو شخص کسی غیر کا مندوب ہو گیا

وقت کا کام ہے گزرنا ۔۔۔ وقت گزر ہی جاتا ہے کبھی کسی کے لیے رکتا نہیں ہے جاتے جاتے یہ بہت سا کچھ اپنے ساتھ بہا لے جاتاہے وہ بھی اس وقت کے ساتھ آگے بڑھ آئی تھی کچھ حصہ دور رہ گیا تھا ماضی کا کوئی بھولا بھٹکا وحشت ناک لمحہ ذہن میں آتا تو اسے پھر سے انگاروں پر لاپٹختا تھا ہر درد بھری داستان اسکی راتیں اب بھی اذیت ناک کرتی تھیں لیکن اسنے ہمت کرلی تھی اپنی زندگی میں آنے والے اک وجود نے اسے اتنا بہادر بنادیا تھا کہ وہ اس دنیا سے تنہا لڑ سکتی ۔۔۔ وہ کھڑکی کھولے کھڑی دور آسمان کو تک رہی تھی جب ننھے وجود کی آواز نے اسے واپس دنیا میں کھینچ لائی وہ ماضی کے دردناک دریچوں کو بند کرتی واپس پلٹ آئی تھی

“اٹھ گیا میرا چاند مما کا بیٹا ۔۔۔” وہ ایک سالہ انس کو گود میں بھرتے ہی چہکنے لگی تھی یہ وجود اسکی کل کائنات تھا جس کی آمد نے اسکی تکلیف بھلا دی تھی تین ماہ ہوئے تھے اسے شرجیل کی زندگی سے نکلے ہوئے ۔۔ جب اسے پتا چلا کہ اک نئی زندگی اسکے اندر پنپ رہی ہے ۔۔ اور تب اس نے فیصلہ کیا تھا وہ اپنی اولاد کو اس نفسیاتی شخص کے سائے میں پروان نہیں چڑھائے گی انس کی آمد نے اسے نئی زندگی دی تھی وہ انس کے ساتھ ممتا بھری باتیں کررہی تھی جب باہر بیل بجی

“لگتا ہے جنید ماموں آگئے ہیں ” وہ اسے لٹا کر دروازہ کھولنے چلی آئی یہ ایک چھوٹا سا ایک کمرے کا فلیٹ تھا جو آبادی سے ذرا ہٹ کر تھا

” اسلام و علیکم جنید بھیا ” حسب توقع جنید ہی تھا انہوں نے اسکی اس عرصے میں بڑے بھائیوں کی طرح مدد کی تھی وہ انکی بے حد مشکور تھی

“دانی تم ٹھیک ہو ” وہ کچھ فکر مند سے تھے

“جی میں تو ٹھیک ہوں کیوں کیاہوا آپ کیوں پریشان ہیں ” وہ انکی پریشانی بھانپ گئی تھی

“دروازے سے اک انجان چہرے کو پلٹتے دیکھا ہے کوئی آیا تھا”

انکی بات نے اسے بھی پریشان کیا تھا

“ن نہیں تو کوئی بھی نہیں آیا ”

وہ گھبرا اٹھی تھی

“کہیں شرجیل تو”

“ن نہیں ایسا نہیں ہوسکتا وہ اس انجان جگہ پر مجھے کیسے ڈھونڈ سکتا ہے ”

اسکا رنگ زرد پڑا تھا جنید بتا نہیں سکا کہ وہ اسی شہر میں کل اسکے آفس آکر اسے دھمکا چکا ہے

⚫⚫⚫⚫⚫⚫

مـــیں زنـــدگی کے ســـاتھ نـــبھاتا چـــلا گـــیا
ہر فکـــر کـــو دھویـــں مـــیں اڑاتا چـــلا گـــیا
بــربادیوں کـــے ســـوگ منـــانا فـ ضول تــــھا
بربادیـــوں کا جـــــشن مناتــا چـــلا گیـــــا
جــو مل گـــیا اســـی کـــو مـــقدر سمـــجھ لیـــا
جـــو کـــھو گۓ اس کو بھـــلا تا چـــلا گیـــا
غـــم اور خـــوشی مــیں فـــرق نــہ محسوس ہو جہاں
میـــں دل کو اس مــــقام پـــر لاتـــا چـــلا گــــیا

یہ ایک محل نما گھر کامنظر تھا بارودی گارڈ ہر جگہ کھڑے تھے باہر سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا لیکن کمرے میں گھپ اندھیرا تھا وہ ریوالونگ چئیر پر مسلسل جھول رہا تھا سگار تھامے ہاتھ کب سے اک زاویے پر ساکن تھا اسکی زندگی میں دو عورتیں آئی تھیں پہلی جس سے اس نے شدید محبت کی لیکن وہ کھو گئی جسے روکنے یا ڈھونڈنے کی کوشش اس نے کبھی نہیں کی اور دوسری دانیہ ۔۔۔ جس سے اس نے شدید نفرت کی جس کے وجود پر نفرت کی مہر ثبت کی اسے روکنے کو اس نے ہر ہتھکنڈا اپنایا دروازے مقفل کیے لیکن وہ پھر بھی اسکی گرفت سے نکل گئی محبت کھو جانے پر وہ سرد پڑا تھا تو نفرت کےدھوکے نے اسے جنونی کیا تھا اس نے کونا کونا چھان مارا تھا پر اسکا سراغ نہ مل سکا تھا جنید کو دھمکا تو آیا تھا لیکن امید ٹوٹتی جارہی تھی وہ اس عرصے میں کیا سے کیا ہوگیا تھا وہ بزنس کی دنیا کا بے تاج بادشاہ تھا لیکن دل خالی تھا وہ سوچوں میں گم اب بھی جانے کہاں پہنچا ہو ا تھا جب اسکا فون بجا

“ہاں کہو ”

“سر میڈیم کا ایڈریس مل گیا ہے ”

دوسری طرف سے جیسے زندگی کی نوید سنائی گئی تھی

“ویری گڈ جلدی سے ایڈریس سینڈ کرو اور وہاں ہی رکو نظر رکھو پہرہ دو کوئی بھاگنے نہ پائے۔۔۔ ” وہ تیزی سے سیدھا ہوتا بولا تھا چہرے پر زہر خند مسکراہٹ آگئی تھی

جاری ہے

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *