وحشت-قسط نو

Don’t cpy paste without permission

ناول وحشت

قسط نو

“آپ یقین کریں میں نے انہیں نہیں بلایا ۔۔۔میں سچ کہہ رہی ہوں” وہ بری طرح روتے ہوئے اپنی بے گناہی کا یقین دلا رہی تھی شرجیل بمشکل یہاں سے گیا تھا لیکن جن خطرناک نظروں سے اس نے دانیہ کو دیکھا تھا وہ نظریں اندر تک گڑھ کر رہ گئی تھیں وہ یقیننا چپ نہیں بیٹھنے والا تھا

“اگر تم نے نہیں بلایا تو پھر وہ یہاں کیسے آگیا ۔۔۔” ثمینہ نے سلگتی نظروں سے اسکے ہچکیاں لیتے وجود کو دیکھا اور پھنکار کر بولی

“مجھے نہیں معلوم میں سچ کہہ رہی ہوں ” وہ جنید کو دیکھتی کہہ رہی تھی

“ٹھیک ہے مجھے تمہاری بات کا یقین ہے لہکن اب اس مسئلے کا کوئی حل نکالنا ہوگا تم اچھی طرح سوچ لو۔۔۔ کہ تمہیں اسکے ساھ رہنا ہے یا نہیں “جنید نے قطعیت سے سخت لہجے میں کہا تو وہ جھٹ سے بولی

“مجھے اسکے ساتھ نہیں رہنا ”

“تو ٹھیک ہے تم ابھی میرے ساتھ چلو خلع کے لیے کیس دائر کرو چھٹکارا پاتے ہی میں تمہارا نکاح کسی اور جگہ کردوں گا منظور ہو تو مجھے بتادینا” وہ جھٹکے سے اٹھ کر چلاگیا تھا

سر میں سودا بھی نہیں، دل میں تمنّا بھی نہیں
لیکن اِس ترکِ محبت کا بھروسہ بھی نہیں

دل کی گنتی نہ یگانوں میں نہ بیگانوں میں
لیکن اُس جلوہ گہہِ ناز سے اُٹھتا بھی نہیں

شکوۂ جور کرے کیا کوئی اُس شوخ سے جو
صاف قائل بھی نہیں، صاف مُکرتا بھی نہیں

مہربانی کومحبت نہیں کہتے، اے دوست
آہ اب مجھ سے تری رنجش بیجا بھی نہیں

بات یہ ہے کہ سکونِ دلِ وحشی کا مقام
کنجِ زنداں بھی نہیں، وسعتِ صحرا بھی نہیں

مدّتیں ہوئیں، تِری یاد بھی آئی نہ ہمیں
اور تمھیں بھول گئے ہوں کبھی، ایسا بھی نہیں

⚫⚫⚫⚫⚫

اس واقعے نے اسے ڈرا دیا تھا وہ رات کو بار بار نیند سے اٹھتی ہر آہٹ پر ڈر جاتی تھی ڈور لاک کو بار بار چیک کرتی کبھی اٹھ کر چکر کاٹنے لگتی وہ بے حد خوفزدہ تھی شرجیل کا اس طرح آنا دانیہ کو بھی شک کے کٹہرے میں لے آیا تھا وہ نہیں چاہتی تھی دوبارہ ایسا ہو جنید کی نظر میں اگر وہ مشکوک ہوئی تو وہ یہ آخری سہارا بھی کھو دے گی اسے احتیاط کرنا تھی بے حد احتیاط ۔۔۔۔ وہ جلد از جلد جنید کی بات مان کر اس رشتے سے آزادی چاہتی تھی اور اس کے لیے ہمت کی ضرورت تھی

⚫⚫⚫⚫⚫⚫

بہت سوچنے سمجھنے کے بعد اس نے بالآخر یہ قدم اٹھا لیا تھا خلع کا نوٹس اسے بھجوا دیا گیا تھا کل ہیئرنگ تھی وہ آج جنید کے ہمراہ وکیل کی طرف آئی تھی جہاں اسکی ملاقات جبران احمد سے ہوئی جنید نے تعارف کروایا تو وہ سرسری سی نظر ڈال کر نظر جھکاگئی ۔۔۔ وہ اک عام شکل وصورت کا درمیانی عمر کا مرد تھا چہرے پر نرم نرم سے تاثرات تھے بال سر پر نہ ہونے کے برابر تھے بلاشبہ شرجیل اور جبران کا کوئی مقابلہ نہ تھا جنید باہر گیا تو وہ بول اٹھا

“آپ بے فکر رہیں اس کیس کا فیصلہ آپ ہی کے حق میں ہوگا “وہ جو اسے پرشوق نگاہوں سے تک رہا تھا اسے گم س بیٹھے دیکھ کر کہنے لگا وہ چونک گئی

“انشاءاللہ” وہ مختصر سا جواب دیتی اٹھ کر باہر نکل آئی تھی جہاں جنید اسکا انتظار کررہا تھا

⚫⚫⚫⚫⚫

شام کے وقت جنید کے ساتھ تمام معاملات نمٹاتی گھر لوٹی انس ثمینہ کے پاس گھر پر تھا اسکا دل شام سے گھبرا رہا تھا کچھ انہونی کا احساس ہورہا تھا جسے وہ بار بارجھٹک رہی تھی مگر اسکا وہم بےوجہ نہیں تھا اسکا ڈر حقیقت بن کر سامنے آکھڑا ہوا تھا

سارا گھر الٹا پلٹا پڑا تھا جنید ثمینہ کو پکار رہا تھا وہ بھاگ بھاگ کر کمروں میں تلاش کرنے لگے
کچن کے دروازے کے پاس آکر وہ رکی تھی جہاں ثمینہ اوندھے منہ زمین پر پڑی تھی جنید نے سرعت سے آگے بڑھ کر اسے سیدھا کیا تو اسکا خون آلود چہرہ سامنے آگیا انس کہیں نہیں تھا اسکا سانس اٹکنے لگا

ثمینہ کو دو گھنٹے بعد ہوش آیا تھا اور اس دوران وہ سولی پر لٹکی رہی تھی ثمینہ کے سر پر شدید چوٹ آئی تھی جس کے باعث ٹانکے لگے تھے اور اگلے دو گھنٹے میں اسے ڈسچارج کردیا گیا تھا گھر آنے تک وہ خاموش رہی وہ بمشکل خود کو روکے ہوئے تھی

“ثمینہ یہ سب کیسے ہوا اور انس کہاں ہے ” جیند نے بلآخر اسکی مشکل آسان کردی تھی

“شرجیل “وہ اک لفظ بول کر دھواں دار رونا شروع ہوگئی تھی جنید نے آگے بڑھ کر اسے گلے سےلگا لیااور وہ لٹی پٹی سی ثمینہ کو دیکھتی رہ گئی

سلسلے توڑ گیا، وہ سبھی جاتے جاتے
ورنہ اتنے تو مراسم تھے، کہ آتے جاتے

شکوۂ ظلمتِ شب سے، تو کہیں‌ بہتر تھا
اپنے حِصّے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

کتنا آساں تھا ترے ہجر میں مرنا جاناں
پھر بھی اک عمر لگی، جان سے جاتے جاتے

جشنِ مقتل ہی نہ برپا ہوا، ورنہ ہم بھی
پابجولاں ہی سہی، ناچتے گاتے جاتے

اِس کی وہ جانے اُسے پاسِ وفا تھا کہ نہ تھا
تم فراز! اپنی طرف سے تو، نبھاتے جاتے

⚫⚫⚫⚫⚫⚫

وہ پچھلے تین گھنۓ سے شرجیل کا نمبر ملارہی تھی پر نمبر بزی مل رہاتھا رو رو کر اسکا برا حال ہوچکا تھا انس بہت چھوٹا تھاوہ اس کے بغیر نہیں رہ سکتا تھا شرجیل یہ ظلم اپنے بیٹے کے ساتھ کیسے کرسکتا تھا وہ تھک ہار کر وہیں بیڈ پر ڈھے گئی کچھ ہی پل گزرے تھے جب اسے انجان نمبر سے کال موصول ہوئی

“کیسا لگا سرپرائز “دوسری طرف شرجیل تھا

“تمہں شرم آنی چاہیے کیسے باپ ہو تم اپنی اولاد کا بھی خیال نہیں ہے تمہیں بے شرم انسان” وہ جو منہ میں آیا بولتی چلی گئی دوسری جانب وہ قہقہ لگاتے ہنس دیا وہ اسکی بے بسی کا مزہ لے رہا تھا وہ تھم گئی رک گئ کہ اس شخص سے کچھ بھی بعید نہ تھا ایکدم وہ خاموش ہوگیا

“باپ کی تو خوبیاں بیان کردی تم نے۔۔۔ تم کیسی ماں ہو بچے کو چھوڑ کر دوسرے مردوں کی ہمدردیاں بٹورنے چلی تھیں اسکا باپ زندہ تھا لیکن تم نے میرے بچے کو مجھ سے ہی چھپا کررکھا اور اب اس کے لیے دوسرے باپ کا بندوبست کرنے چلی تھیں ” وہ سرد آواز میں پھنکارا

“کیا کہہ رہے ۔۔۔۔”وہ حیرت سے بول رہی تھی جب شرجیل نے بات کاٹ دی

“تمہیں کیا لگتا ہے میں اتنا بے خبر ہوں ۔۔۔۔؟ تمہاری تو سانس لینے کی خبر بھی رکھتا ہوں ”

“م مجھے میرا بیٹا واپس چاہیے ” وہ سیدھا مدعے پر آئی تھی دوسری جانب سے جھٹ جواب آیا تھا

“اسکے لیے تمہیں میری قید میں آنا پڑے گا میرے ساتھ رہنا پڑے گا جب تک میں چاہوں ۔۔۔ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے اگر تم نہ مانی تو تم ساری عمر اپنے بیٹے کہ شکل دیکھنے کو ترس جاؤ گی میں اسے بہت دور لے جاؤں گا ” وہ اسے صاف دھمکا رہا تھا اسکے ہاتھ ترپ کا پتا لگا تا جسے وہ بہت مہارت سے استعمال کررہا تھا

“تم ایسا نہیں کرو گے “وہ اسکی بے رحم منصوبہ بندی پر کھول کر رہ گئی تھی

“میں بہت کچھ کرسکتا ہوں ۔۔۔ جس کا شاید ابھی تمہیں اندازہ نہیں ہے ” دوسری جانب سے کھٹ سے فون بند کردیا گیا تھا وہ پکارتی رہ گئی۔۔۔۔۔

جاری ہے

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *