وحشت-قسط سات

ناول وحشت

قسط سات

از قلم نویدہ شاہد

Don’t copy paste without permission

“دانیہ میں نے ایک فیصلہ کیا ہے” ناشتے کی ٹیبل پر جنید نے کچھ سوچتے ہوئے کہا تو ثمینہ کے کان کھڑے ہوئے

” کیسا فیصلہ ” دانیہ نے ہاتھ روک کر پوچھا

“میں چاہتا ہوں تم شرجیل سے خلع لے لو “جنید نے بے حد سنجیدگی سے کہا

“جنید آپ کیوں اس معاملے کو اتنا طول دے رہے ہیں میاں بیوی میں بہت سی باتیں ہو جاتی ہیں وقت دیں یہ ٹھیک ہوجائیں گے اور انس کو بھی مت بھولیں ” ثمینہ کے ماتھے پر بل آگئے تھے جنید نے ان سنی کرتے دانی سے ہوچھا

“تم بتاؤ کیا کہتی ہو ”

“میرا خیال ہے آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں اس معاملے کو ختم ہونا چاہیے”اسکے دماغ میں مال والا واقع گھوم گیا تھا یہ بات اسنے جنید کو نہیں بتائی تھی کہ وہ مزید اسکو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی

“گڈ ۔۔ کل تیار رہنا ہم وکیل کی طرف چلیں گے” جنیدنے بات سمیٹ دی تھی ثمینہ کی قہر آلونگاہیں دانیہ پر جمی تھیں

⚫⚫⚫⚫⚫

رات کا وقت تھا وہ اس وقت آفس کا کوئی کام کررہا تھا جب اس کے موبائل پر انجان نمبر سے کال موصول ہوئی

‘”ہیلو کون ” مقابل کوئی لڑکی تھی جو کہہ رہی تھی “مجھے دانی کے شوہر سے بات کرنی ہے” اسکے کان کھڑے ہوئے

“بول رہا ہوں کریں بات”

“آپ اگر اپنی بیوی کو لگام ڈال سکتے ہیں تو ڈال لیں کیسے مرد ہیں آپ آپکی بیوی غیر مرد کے گھر میں پڑی ہے اور آپکو پرواہ ہی نہیں ” ثمینہ کی بات نے اسکے ماتھے پر بل ڈال دئیے

“کیا کہنا چاہتی ہیں آپ ”

“آپکی بیوی کل خلع کے لیے عدالت جارہی ہے اگر اسے روکنا چاہتے ہیں تو جد از جلد اپنی بیوی کو یہاں سے لے جائیں ” مقابل بات کرکے فون کاٹ چکا تھا اور وہ طیش سے بھرتا وہیں بیٹھا رہ گیا

⚫⚫⚫⚫⚫⚫

“کیا بات ہے دانیہ تم اس وقت یہاں کیا کررہی ہو اور یہ انس کیوں رو رہا ہے ”
دانیہ کو کچن میں دیکھ کر ثمینہ نے فکرمندی سے پوچھا

“پتا نہیں بھابھی کچھ طبیعت نہیں ٹھیک لگ رہی اور انس کوبھی بھوک لگی ہے ” دانیہ نے چکراتے سر کو بمشکل سنبھالتے لڑکھڑاتی آواز میں کہا

“اوہو ۔۔۔ ادھر لاؤ انس مجھے دو اور تم آرام کرو میں اسے سنبھال لوں گی” ثمینہ فکر مندی سے کہہ رہی تھی

“نہیں بھابھی یہ آپ سے نہیں سنبھلے گا” دانیہ حیران ہوئی تھی

“ادھر دو بھئی فکر نہیں کرو کچھ نہیں کہوں گی میں اسے جاو اور آرام کرو جنید تو سو چکے ہیں ورنہ وہ تمہیں ہسپتال لے جاتے ”

ثمینہ کے لہجے میں مٹھاس بھری تھی دانی کچھ الجھی سی واپس مڑ گئی البتہ ذہن اسکی باتوں میں اٹکا تھا

⚫⚫⚫⚫⚫⚫

رات کا جانے کونسا پہر تھا جب دروازے پر ہولے ہولے دستک ہورہی تھی اسے انس کے بغیر نیند نہیں آرہی تھی جا کر ثمین کو بھی کچھ نہ کہہ سکتی تھی کہ بمشکل اسکا موڈ ٹھیک ہوا تھا دستک پر وہ بیڈ سےاٹھ کر دروازے کی طرف بڑھی قوی یقین تھا کہ بھابھی انس کو لائی ہوں گی

“آرہی ہوں بھابھی” دروازہ کھول کر وہ سائیڈ پر ہوگئ لیکن اگلے ہی پل وہ ساکت ہوئی تھی پھرتی سے ہوش میں آتے اسنے دروازہ بند کرنا چاہا لیکن وہ درمیان میں آچکا تھا

“شوہر کا استقبال ایسے کرو گی” وہ چڑانے والے انداز میں کہہ رہا تھا وہ دو قدم پیچھے ہٹی تو اس نے دروازہ اپنے پیچھے بند کرکے لاک لگادیا وہ یہاں تک کیسے آیا تھا حیرت سی حیرت تھی

“یہ لاک کیوں کیا ہے تم نے ” وہ بے اختیار ڈر کر ہیچھے ہٹنے لگی وہ جوں جوں پیچھے جارہی تھی وہ اسکی طرف بڑھ رہا تھا نظریں اسکے ڈوپٹے سے عاری وجود پر تھیں

“اتنے عرصے بعد اپنی بیوی سے ملنے آیا ہوں ۔۔ادھر آو شاباش ” وہ اسے پچکارتا ہوا اپنی طرف بلا رہا تھا

ْ”نہیں تم جاؤ یہاں سے ۔۔۔ ورنہ میں شور مچا دوں گی” اسکے حواس اب بھی بحال نہ ہوئے تھے البتہ اس نے جدوجد جاری رکھی

“مچاؤ شور شاباش چیخو چلاؤ ۔۔۔ اور اگر آج کوئی ہمارے بیچ آیا تو میں اسکی یہیں قبر بنادوں گا “اسکی دھمکی پر اثر تھی دانی کے آنسو نکل آئے

وہ دیوار سے جالگی تھی اور وہ اسکے گرد بازوں کا حصار بناتا اسے مکمل قید کرچکا تھا

“پہلے سے زیادہ خوبصورت ہوگئی ہو کیا راز ہےاسکا ؟؟ جنید کی قربت یا ــــ”

“اپنی گندی بکواس بند کرو” اس سے مزید سنا نا گیا تھا تبھی چیخ کر بولی

“تو تم چاہتی ہو ہم پیار کی باتیں کریں “وہ چہرہ اسکے مزید قریب لے آیا کہ گرم گرم سانسیں اسکے چہرے سے ٹکرا رہیں تھیں اس نے آنکھیں میچ کر چہرہ موڑ لیا

“تم تنے بہت تڑپایا ہے مجھے جان من “وہ اسکے کان کی لو کو چومتا ہوا کہہ رہا تھا اسکا ایک ہاتھ اسکے گال کو سہلا رہا تھا جبکہ دوسرا اسکی کمر پر گرفت کر چکا تھا کہ وہ ہل بھی نہ پارہی تھی

“دور ہٹو مجھ سے” اس نے کراہیت سے اسکے ہاتھ کو جھٹکا تو وہ ایک دم اس سے الگ ہوگیا

“اتنی نفرت اتنی حقارت “اسکا نرم انداز ایک دم ہی جارحیت اختیار کرگیا تھا اسکے بالوں کو گرفت مں لیتے اسکا چہرہ اپنے برابر لے آیا وہ بری طرح مچلنے لگی

“خلع چاہتی ہو مجھ سے” اسکے سوال نے اسے ساکت کیا تھا یہ بات اس تک کیسے پہنچی تھی وہ سمجھ نہ پائی اور جو سمجھ آرہی تھی وہ کسی طور سمجھنے کے قابل نہ تھا

اس نے گرفت سے نکلنے کو اسکے سینے پر مکے برساتے تگ ودو شروع کی

“میرے بال چھوڑو مجھے درد ہورہا ہے” اسکی گرفت بے حد سخت تھی مارے تکلیف کے وہ چیخ پڑی تھی اسے روتے دیکھ کر شرجیل نے اپنی گرفت ڈھیلی کردی اور کھینچ کر بیلٹ نکال لی اسکی حرکت نے دانی کی ریڑھ کی ہڈی سنسا اٹھی وہ رونا بھول کر آنکھیں پھیلائے اسے دیکھنے لگی

لیکن اس سے پہلے کے وہ کچھ سمجھتی وہ دونوں ہاتھ اسکی پشت پر لے جاتا ہاتھ باندھ چکا تھا

جاری ہے

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *