وحشت-قسط دس

Don’t copy paste without permission

ناول وحشت

قسط 10

شرجیل کے دھمکی بھرے فون نے اسکی نیند اڑا دی تھی ساری رات آنکھوں میں کٹی تھی انس کا سوچ سوچ کر اسکی جان پر بن آئی تھی تبھی صبح سویرے ہی وہ جیند کے دروازے کے باہر کھڑی تھی

“مجھے شرجیل کا فون آیا تھا” درازہ کھلتے ہی وہ تیزی سے بولی جنید غالبا نیند سےاٹھ کر آیا تھا

“دانیہ ابھی جاؤ ہم بعد میں بات کریں گے ” جنید کے لہجے میں بے زاری تھی وہ ٹھٹھکی

“کیا مطلب ہے ابھی جاؤمیرا بیٹا کل سےغائب ہے اور آپ سکون سے کہہ رہے ہیں کہ ۔۔۔۔”

“اتنی جلدی کچھ نہیں ہوسکتا آرام سے بیٹھ کراس مسئلے کا حل نکالیں گے جلدبازی مت کرو جاؤ آرام کرو” وہ بات کاٹ کر بولا اور دروازہ بند کردیا

وہ بے یقین سی کمرے میں واپس آگئی جنید کی سردمہری نےاسے حیران کردیا تھا وہ کتنےسکون سےکہہ رہا تھا اگر اس صورت حال میں اسکی اپنی اولاد ہوتی تب بھی کیا وہ یہی کرتا ۔۔۔۔۔ بے یقینی سی بے یقینی تھی

⚫⚫⚫⚫⚫

وہ ناشتے کی میز پرآئی تو جنید ثمینہ کو اپنے ہاتھ سے کھلا رہا تھا اسکی بھوک تو مر چکی تھی وہ بس جنید سے بات کرنے کی غرض سےآئی تھی

“آو بیٹھو دانیہ “جنید نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا

“مجھے آپ سے بات کرنی ہے” وہ وہیں کھڑی رہی

“ہاں کرو ”

“مجھے میرے بیٹے سے ملنا ہے ” وہ بولی تو ثمینہ نے بے حد غصے سے اسے دیکھا

“آپ اسے کہیں جائیں یہاں سے اسکی وجہ سے میری یہ حالت ہوئی ہے اور یہ اب بھی چاہتی ہے کہ ہم اسکے بیٹے کی بات کریں ” ثمینہ چیخ کر بولتی اسے حقارت سے دیکھ رہی تھی جنید نے اسکا ہاتھ سہلاتے ٹھنڈاکرنے کی کوشش کی

“ثمینہ اس ٹاپک سے ڈسٹرب ہورہی ہے ہم بعدمیں بات کریں گے ” جنید نےاسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا تھا

“بعد میں کب۔۔۔۔ وہ میرا بیٹا ہے میں کیسے رہوں اسکے بغیر ۔۔۔ وہ وہاں رو رہا ہوگا کیسے رہے گا میرے بغیر ” وہ بے بسی سے چیخ پڑی تھی اسے ثمینہ پر نہیں جنید پر غصہ آیا تھا

“وہ اپنے باپ کے پاس ہے کسی غیر کے نہیں اور میرے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہے کہ گھما کر لادوں اسکا واحد حل شرجیل سےچھٹکارا ہے ” وہ بے حد تلخی سے کہتا رخ موڑ گیا تھا دانیہ نے چند پل اسے دیکھا پھر پلٹ کر واپس چلی گئی کہ ابھی کچھ بھی کہنا بیکار تھا

⚫⚫⚫⚫⚫⚫

شام کے وقت اسے جنید نے نیچے بلوایا تھا وہ آئی تو قدم دروازے پر ہی رک گئے سامنے شرجیل بہت ٹھاٹھ سے ٹاگ پر ٹانگ جماۓبیٹھا تھا جنید اسکے سامنے سرخ چہرہ لیے موجود تھا وہ یہاں کیوں آیا تھا یہ حیران کن تھا

“یہ محترم تمہیں لینے آئے ہیں انہیں لگتا ہے ہم نے تمہیں زبردستی روک رکھا ہے “جنید اسے دیکھتا گرج کر بولا شرجیل نے غصیلی نظروں سے اسکا یہ انداز دیکھا تھا

“میرا بیٹا کہاں ہے ” وہ اسے دیکھتے ہی سب کچھ بھول گئی تھی سرعت سے اسکی طرف بڑھتے گریبان پکڑ لیا وہ اس وقت بے حد جنونی ہورہی تھی

“میرے پاس ہی ہے جان من بلکل ٹھیک ہے فکر مت کرو ” اسنے اسکے ہاتھوں کر نرمی سے تھام کر بے حد محبت سے جواب دیا تھا

“مجھے میرا بیٹا چاہیے ابھی ۔۔۔ “وہ جھٹکے سے پیچھے ہوتے ہوئے بولی تو وہ مسکرا دیا

“میں بھی یہی چاہتا ہوں وہ تمہارت پاس رہے لیکن اسکے لیے تمہیں میرے ساتھ رہنا ہوگا ” وہ محبت پاش نظروں سے اسکا تپتا چہرہ دیکھتے اپنی شرط بتا رہا تھا

“میں تمہارے ساتھ نہیں رہوں گی کبھی بھی نہیں ” وہ نفی میں سر ہلاتی دو قدم پیچھے ہٹ گئی شرجیل نے ہونٹ بھینچ کر ضبط کیا کوئی اور وقت ہوتا تو وہ ایک جھانپڑ دے کر لے جاتا

“سوچ لو آنا تو تمہیں میرے پاس ہی ہے تمہارا ہر رستہ مجھ تک آتا ہے پیار سے منا رہا ہوں تو مان جاؤ یہ تمہارے لیے آسان ہوگا لوگوں کی باتوں میں مت آنا ۔۔۔ یہ صرف اپنی دشمنی نبھا رہے ہیں۔۔۔۔ اس نے آخری بات بغور جنید کو دیکھ کر کی تھی پھر آگے بڑھا اور اسکے قریب آگیا

“میں تمہاری کال کا انتظار کروں گا” اس سے پہلے کے وہ کچھ سمجھتی وہ اسکے ماتھے کو چومتا نکلتا چلا گیا تھا

آشنائے جذبۂ الفت نہیں رہا

دل میں ترے وہ ذوق محبت نہیں رہا

پھر نغمہ ہائے قم تو فضا میں ہیں گونجتے

تو ہی حریف ذوق سماعت نہیں رہا

آئیں کہاں سے آنکھ میں آتش چکانیاں

دل آشنائے سوز محبت نہیں رہا

گل ہائے حسن یار میں دامن کش نظر

میں اب حریص گلشن جنت نہیں رہا

شاید جنوں ہے مائل فرزانگی مرا

میں وہ نہیں وہ عالم وحشت نہیں رہا

ممنون ہوں میں تیرا بہت مرگ ناگہاں

میں اب اسیر گردش قسمت نہیں رہا

جلوہ گہہ خیال میں وہ آ گئے ہیں آج

لو میں رہین زحمت خلوت نہیں رہا

کیا فائدہ ہے دعوئے عشق حسین سے

سر میں اگر وہ شوق شہادت نہیں رہا

⚫⚫⚫⚫⚫⚫

” آپ نے انہیں کچھ کہا کیوں نہیں ” شرجیل کے جانے کے بعد وہ جنید کی طرف پلٹی جو ایک طرف تماشائی بن کر کھڑا تھا

” جب تم نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اسکے ساتھ نہیں جاؤ گی تو اسکی باتوں پر کان نہ دھرو میں جانتا ہوں اسے یہ آگ کیوں لگی ہے کہ کہیں عدلت کا فیصلہ تمہارے حق میں نہ ہوجائے اور ایسا ضرور ہوگا میں اسے ہارتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہوں یاد رکھنا ۔۔۔” جنید کی آواز میں سختی تھی اسکا وہ نرم بڑے بھائیوں سا روپ تو جانے کہاں جا سویا تھا

“لیکن مجھے میرا بیٹا چاہیے ” اسے اس وقت سوائے انس کے کوئی فکر نہیں تھی

“جب تمہیں اس شخص کے ساتھ ہی نہیں رہنا تو اس جھنجھٹ میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے سنبھالنے دو اسے خود ہی ۔۔۔ جب تک سنبھالتا ہے ” وہ بے حد اجنبی انداز میں ہاتھ جھٹک کر کہتا چلا گیا تھا دانیہ گنگ سی اسکی پشت دیکھتی رہ گئی

“چچ چچ کتنی مشکل میں پھنس گئی ہو نا” ثمینہ نے مصنوعی افسوس سے سر ہلایا

“میرا مشورہ ہے کہ اگر تم انس سے ملنا چاہتی ہو تو تمہیں اپنے شوہر کے پاس واپس چلے جانا چاہیے۔۔۔۔ جو بھی ہے آخر کو شوہر ہے تمہارا اسکے مزاج سے سمجھوتہ کرنا سیکھو وہ سختی کرتا ہے تو برداشت کرو ۔۔۔ مار تو نہیں دے گا تمہیں ” ثمینہ نے اسکے ساکت وجود کو دیکھتے نصیحت جھاڑی اور جنید کے پیچھے کمرے میں چلی گئی وہ اپنی تکلیف اٹھانے کو اکیلی کھڑی تھی ہمیشہ کی طرح

⚫⚫⚫⚫⚫⚫

“کیا سوچا جان من” وہ بھاری قدم اٹھاتی کمرے میں آگئی تھی اور پچھلے کئی گھنٹوں سے اک ہی زاویے میں بیٹھی تھی تبھی فون بجنے لگا دوسری جانب شرجیل تھا اس کی آواز سنتے ہی وہ پھٹ پڑی

“تم میں دل نام کی شے ہے یا نہیں ”

“ہے نا ۔۔۔ جو صرف تمہارے نام پر دھڑکتا ہے جب سے تمہیں دیکھ کر آیا ہے تمہیں سامنے پانے کی جستجو کررہا ہے۔۔۔میرے پاس آجاؤ جان من ۔۔۔ ابھی آجاؤ “وہ عجیب بہکے ہوئے انداز میں بات کررہا تھا

“میں تمہارے پاس مر کر بھی نہیں آؤں گی ” وہ بے حد نفرت سے بولی دوسری جانب خاموشی چھا گئی

“اتنی نفرت ” کچھ بعد وہ ہلکی آواز میں پوچھنے لگا

“ہاں میں نفرت کرتی ہوں تم سے بے حد نفرت ۔۔۔۔ میں تمہارے وجود کو یاد بھی نہیں رکھنا چاہتی اکھاڑ پھینکنا چاہتی ہوں ” وہ بے حد جنونی ہورہی تھی آنسو تواتر سے بہہ رہے تھے ذہنی اذیت اتنی تھی کہ حد نہیں ۔۔۔۔

اگر مجھے بھولنا چاہتی ہو تو اپنے بیٹے کو بھی بھول جانا ” وہ پھنکار کر بولتا پھر سے اسے دھمکا رہا تھا

“تم مر کیوں کہیں جاتے ۔۔۔ خدا کرے مرجاؤ تم ” وہ بلند آواز روتی اسے بددعائیں سے رہی تھی دوسری جانب سے لائن کٹ گئی یا کاٹ دی گئی وہ چہرہ ہاتھوں میں چھپائے روتی چلی گئی تھی

ہم میں ہی تھی نہ کوئی بات، یاد نہ تُم کو آ سکے
تُم نے ہمیں بُھلا دیا، ہم نہ تمہیں بُھلا سکے

تُم ہی اگر نہ سُن سکے، قِصّۂ غم سُنے گا کون
کس کی زباں کُھلے گی پھر، ہم نہ اگر سُنا سکے

ہوش میں آ چکے تھے ہم، جوش میں آ چکے تھے ہم
بزْم کا رنگ دیکھ کر سَر نہ مگر اُٹھا سکے

رونقِ بزْم بن گئے، لب پہ حکایتیں رہیں
دل میں شکایتیں رہیں لب نہ مگر ہِلا سکے

شوقِ وصال ہے یہاں، لب پہ سوال ہے یہاں
کِس کی مجال ہے یہاں ہم سے نظر مِلا سکے

ایسا ہو کوئی نامہ بر، بات پہ کان دھر سکے
سُن کے یقین کرسکے، جا کے اُنھیں سُنا سکے

عجْز سے اور بڑھ گئی برہمیِ مزاجِ دوست
اب وہ کرے علاجِ دوست، جس کی سمجھ میں آ سکے

اہلِ زباں تو ہیں بہت، کوئی نہیں ہے اہلِ دل
کون تِری طرح حفیظ ، درد کے گیت گا سکے

⚫⚫⚫⚫⚫⚫

جاری ہے

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *