وحشت قسط تین

ناول :- وحشت

قسط :- تین

از قلم :- نویدہ شاہد

اور کوئی دَم کی ہے مہماں گزر جائے گی رات
ڈھلتے ڈھلتے آپ اپنی موت مرجائے گی رات

زندگی میں اور بھی کچھ زہر بھرجائے گی رات
اب اگر ٹھہری، رگ و پے میں اترجائے گی رات

ہے اُفق سے ایک سنگِ آفتاب آنے کی دیر
ٹوٹ کر مانندِ آئینہ بکھر جائے گی رات

ہم تو جانے کب سے ہیں آوارۂِ ظُلمت مگر
تم ٹھہرجاؤ تو پل بھر میں گزر جائے گی رات

رات کا انجام بھی معلُوم ہے مُجھ کو سُرُور
لاکھ اپنی حد سے گزرے تاسحر، جائے گی رات

رات ہو چکی تھی شرجیل کے سونے کے بعد میں دبے قدموں اس خفیہ دراز کی طرف آگئی بے حد احتیاط سے وہ چابی نکالی مزید انتظار نہ کرسکتی تھی کہ اگر شرجیل اٹھ جاتا تو قیامت آجاتی مجھے یہ ہمت کرنا ہی تھی اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا

میں رازداری سے چلتی دروازہ کھول کر لاؤنج میں آگئی بیرونی دروازے پر باہر بڑا سا تالا پڑا تھا اور چابی میرے ہاتھ میں تھی اس سے زیادہ خوشی مجھے پچھلے ڈیڑھ سال میں نہ ہوئی تھی اسی مسرت میں میں نے وہ چابی تالے میں گھسائی ۔۔۔ لیکن یہ کیا ۔۔ بہت کوششوں کے باوجود بھی تالا کھل کر نہ دے رہا تھا مجھے رونا آنے لگا میں نے شدت سے دعا کی کوئی معجزہ ہوجاۓ پر اوپر والے کو کچھ اور ہی منظور تھا میں تھک ہار کر وہیں دروازے سے سر ٹکا کر رو پڑی

“رومت جان من ۔۔۔ لو اس چابی سے ٹرائی کرو ” پشت سے ابھرتی آواز پر میں اچھل پڑی وہ دیوار سے ٹیک لگاۓ فرصت سے کھڑا تھا ہاتھ میں چابی تھی ہونٹوں پر محظوظ سی مسکراہٹ ۔۔۔۔ اور آنکھیں ۔۔۔ وہ سرخ انگارہ بنی ہوئی تھیں میرا دل اچھل کر حلق میں آگیا ۔۔۔ یہ میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی مجھے پچھتاوا ہوا پر اب کیا فائدہ ۔۔۔وہ قدم قدم چلتا میرے بلکل سامنے اگیا ۔۔” بھاگنا چاہتی ہو ؟؟”

میں یوں کھڑی تھی جیسے منہ میں زبان اور جسم میں جان نہ ہو” اتنی نفرت ــــ” وہ ایک دم ہی خطرناک انداز کرگیا تھا میرے بالوں کو مٹھی میں جکڑے مجھے گھسیٹ کر اندر لے آیا آگے کا سوچ کر ہی میں کپکپا گئی وہ وحشی ہوگیا تھا اسکی وحشت نے مجھے زیادہ دیر تک حواس قائم نہ رہنے دئیے تھے اور میں بے دم ہوکر اسکی بانہوں میں جھول گئی
⚫⚫⚫⚫⚫

مجھے ہوش آیا تو میں کتنی ہی دیر ساکن پڑی بے آواز روتی رہی آنسو جو غم کی شدت پر اظہار بنا کرتے ہیں یہ آنسوتو میں کل رات سے بہارہی تھی پر شرجیل کو رحم نہیں آیا تھا میں صرف دل بہلانے کا کلھوناتھی جسے وہ جیسے چاہتا اسے استعمال کرسکتا تھا ایک قیدی بنا کر دن کی روشنی سے دور رکھ کر ۔۔۔۔مجھے تو یہ بھی یاد نہ تھا کہ میں کس جگہ پر موجود ہوں شرجیل کی زبانی اتنا معلوم ہوا تھا کہ یہ اک انجان آبادی سے دور جگہ ہے جس کے باہر دو گارڈ ہمہ وقت موجودتھے اسے دروازہ پر پہرہ لگا کر بھی سکون نہیں تھا

کل رات جانے کس طرح میں نے یہ قدم اٹھا لیا اور ایسی سزا پائی تھی کہ پورا وجود درد کا پھوڑا بنا ہوا تھا جس پر ہر انداز سے اسنے وحشت رقم کی تھی وہ میری تڑپ اور سسکیوں سے حظ اٹھاتا رہا تھا اسکی اندر اتنی وحشت و درندگی بھری تھی کہ میری کرلاہٹوں پر بھی کوئی اثر نہ ہوا تھا رات دیر تک آنسو بہاتے میں کب ہوش سے بیگانہ ہوئی پتا ہی ن چلا تھاہڈیوں میں گھستی ٹھنڈ نے ہوش دلایا کہ میں ٹھنڈے ٹھار فرش پر پڑی ہوں

“بہت کرلیا ناٹک اٹھو اب ” شرجیل کی تیز آواز نے مجھے کھڑا ہونے پر مجبور کردیا میں بمشکل اٹھ پائی وہ قدم قدم چلتا میرے قریب آگیا اسکی آنکھوں میں موجود وحشت رات سے قدرے مختلف نہ تھی میں نے بچاو کے لیے پہچھے ہٹنا چاہا پر پراس نے بازو جکڑ کر یہ کوشش ناکام بنا دی میں مچلنے لگی

“اب بھاگو گی دوبارہ یہاں سے ؟؟؟” وہ میرا بازو مروڑ کر کمر سے لگاتے سخت لہجے میں پوچھ رہا تھا میں نے تھک ہار کر اسکی گرفت سے نکلنے کی کوشش بھی ترک کردی البتہ جواب نہیں دیا میرا زخمی بازو اسکی گرفت میں تھا تکلیف پھر سے اٹھنے لگی تھی میں ضبط کیے ہونٹ سیے رہی کہ ظالم کے سامنے فریاد کرکے اسے سکون نہیں دینا چاہتی تھی

“بولو” وہ دھاڑا تھا پر میری چپ نہ ٹوٹی جانے کیوں میں اس سے خوفزدہ ہونے کے باوجود بھی اسکی بات نہیں مان رہی تھی اذیت کی یہ کونسی حد تھی مجھے معلوم نہ تھا

“محبت نہیں ہے نا تمہیں مجھ سے ؟؟” وہ میرے کان کے قریب جھکتا اگلا سوال پوچھ رہا تھا لہجہ دھیمہ تھا تفتیش زدہ تھا میری چپ تب بھی نہ ٹوٹی

“نہیں ہے۔۔۔۔ تمہیں مجھ سے محبت نہیں ہے ۔۔۔ جانتا تھا میں ۔۔۔” وہ خود ہی جواب دے رہا تھا میری مستقل چپ پر وہ پھر سے طیش میں آگیا تھا ” ہونا کسی کم ظرف خاندان کی کتیا ۔۔۔” وہ جھٹکے سے مجھے چھوڑتا مغلظات بکنے لگا تھا اور تب میری چپ بالآخر ٹوٹ گئی تھی

“ہاں نہیں ہے مجھے تم سے محبت۔۔۔ جانتے ہو کیوں ؟؟؟ میں بتاؤں ؟ کیوں کے تم اس قابل ہی نہیں ہو تم ایک وحشی درندے ہو جسے نوچنا آتا ہے بکنا آتا ہے ۔۔ تم جانور ہو درندے ہو سب کچھ ہو پر انسان نہیں ہو میں تم سے محبت کبھی نہیں کروں گی کبھی بھی نہیں ۔۔۔مجھےجب جب موقع ملا میں بھاگ جاؤں گی ہمیشہ کے لیے نکل جاؤں گی۔۔۔ سنا تم نے۔۔۔ میں یہاں سے بھاگ جاؤں گی بار بار بھاگوں گی کبھی تمہاری قید قبول نہیں کروں گی۔۔۔ ”

میں بہت زور سے چیختی ہوۓ کہہ رہی تھی گلا ایک دم رندھا تو میری آواز بند ہوگئی البتہ وہ اب بھی حیران تھا سکتہ زدہ سا مجھے دیکھ رہا تھا میری بےخوفی میرے ساتھ ساتھ اسے بھی حیران کرگئی تھی

“کیا ۔۔۔کیا کہاتم نے۔۔۔۔۔ تم بھاگ جاؤ گی ۔۔۔۔یہی کہا نا تم نے ۔۔۔ “وہ یقین کرنا چاہ رہا رہاتھا

“ہاں ۔۔۔ہاں۔۔۔ ہاں ۔۔۔اور اگر تم نے مجھے مجبور کیا تو میں یہیں جانبدے دوں گی لیکن تم سے محبت نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “میری بات پوری نہیں ہوسکی تھی اسے وحشی اندز میں اپنی جانب بڑھتا دیکھ کر میری بہادری اڑن چھو ہوئی تھی میں تیزی سے دروازے کی جانب دوڑی لیکن میں زیادہ دور تک نہیں جاسکی تھی اسنے لاؤنج میں مجھے جا لیا تھا میرا درد سے بھرا وجود مجھے بے بس کرگیا تھا لیکن مجھے شاید خود بھی اپنے آپ پر رحم نہیں تھا اور میں نے پھر سے اسکی وحشت کو ہوادے دی تھی وہ میرا بازو پکڑتا گھسیٹنے کے انداز میں اندر لے آیا

“تم مر جاؤ گی ہاں ۔۔۔ میں خود اپنے ہاتھوں سے ماروں گا تمہیں “وہ گھسیٹ کر کمرے میں لے ایا تھا

وہ بپھرے سانڈ کی طرح مجھ پر جھپٹا اور پے در ہے کئی تھپڑ رسید کیے اسکےچہرے پر اتنا غیض تھا کہ میری روح فنا ہوگئی میں چیخ بی نہ سکی اس نے یہیں پر بس نہیں کی ٹانگ ہر جوتے سے ضرب لگائی
کہ میں تیورا کر گری پھر میں اسکی ٹھوکروں کی زد پر تھی تھپڑ لاتیں گھونسے میری برداشت ختم ہوگئی تھی میں چیخنے لگی بری طرح تڑپ رہی تھی تبھی وہ اک دم رک گیا چہرے پر ہاتھ پھیر کر پرسکون ہوتا وہ میرے ہچکیاں لیتے وجود کو دیکھ رہا تھا خطرناک تیوروں سے وہ میری طرف جھک آیا میں زمین پر پڑی بری طرح سسک رہی تھی۔۔۔ کھینچ کر بیلٹ نکالی اور مجھے بالوں سے پکڑ کر مقابل کر لیا

“دماغ آیا ٹھکانے پر یا موت کا بھوت اب بھی سوار ہے ”
میرا بدن زخم زخم تھا مزید بداشت نہ تھی میں بری طرح رودی

“اگ اب بھاگنے کی کوشش کی یا موت کا نام لیا تو ذہن میں بٹھا لو اس چمڑے سے تمہاری کھال ادھیڑ دوں گا پل پل ماروں گا اتنی آسان موت نصیب نہ ہونے دوں گا ۔۔۔۔ ” وہ بات کہہ کررکا نہین کمرے کے ساتھ گھر سے ہی نکل گیا اور میں ایک بار پھر ہوش و خرد سے بیگانہ ہوگئ

⚫⚫⚫⚫⚫⚫

مجھے ہوش آیا تو میں بیڈ پر تھی جانے کتنا وقت بیت گیا تھا یہ وہ کمرہ نہیں تھا جہاں میں پہلے رہتی تھی یقیننا میری بے ہوشی کے دوران رہائش بدل دی گئی تھی ہاتھ پر لگی سوئی پر نظر پڑی تو میری آنکھیں پھیل گئیں ۔۔ مجھے ہمیشہ سے انجیکشن سے شدید ڈر لگتا تھا میں نے فورا اٹھنے کی کوشش کی پر ناکام رہی جسم کا رواں رواں درد سے کراہا میں واپس لیٹ گئی آنکھیں پھر سے برسنے لگی تھیں” درد ہورہا ہے ” آواز بائیں جانب سے آئی تھی میں ساکت ہوگئی وہ میرے ساتھ بیڈ پر موجود تھا اور مجھے ہی دیکھ رہا تھا میں نے اک نظر دیکھنے کے بعد منہ موڑ لیا اسنے ہاتھ بڑھا کر میرا چہرہ دبوچ لیا ” مجھے دیکھنا بھی نہیں چاہتی اب ” اسکی گرم گرم سانسوں کی تپش میرے چہرے کو جھلسا رہی تھی میں نے آنکھیں سختی سے میچ لیں اور مزید پیش رفت کا انتظار کرنے لگی لیکن اگلے ہی لمحے مجھے جھٹکا لگا وہ مجھے چھوڑتا بیڈ سے بھی اٹھ گیا اور چلتا ہوا میری بائیں جانب آگیا میں آنکھیں کھولے اسے دیکھ رہی تھی” باہر جانا چاہتی ہو ؟ ” وہ نرم لہجے میں پوچھ رہا تھا البتہ آنکھیں ویسی ہی تھیں سرد میں نے میکانکی انداز میں سر ہلادیا اس نے ہاتھ بڑھا کر میرے ہاتھ سے سوئی کھینچ کر نکال دی میری چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی وہ کتنا سخت تھا مجھے حیرانی ہوتی تھی ” اٹھو ” اس نے حکم دیا تھا میں بمشکل قدموں پر کھڑی ہوئی
“کپڑے بدلو اور باہر آو میں ویٹ کررہا ہوں۔۔۔ ” وہ حکم دیتا نکل گیا تھا مجھے ہر صورت تعمیل کرناتھی اور وہ میں نے کی جب میں باہر آئی تو اک لمحے کو ٹھٹھک گئی ۔۔ یہ کوئی دو کمروں کا فلیٹ نہیں تھا بلکہ نہایت خوبصورت وسیع و عریض گھر تھا میں اتنی محو تھی کہ محسوس ہی نہ کر پائی شرجیل اٹھ کر میرے برابر آگیا تھا ” پسند آیا ” وہ بے حد چاہت سے پوچھ رہا تھا پھر ہاتھ تھام کر آگے بڑھ گیا میں پریشان سی ساتھ چلتی گئی کیسا دھوپ چھاؤں جیساشخص تھا وہ عجیب تھا بہت عجیب

وہ مجھے لیے باہر آگیا تھا میرے لیے یہ حیران کن تھاباہر خوبصورت پہاڑ تھے اونچے لمبے درخت آسمان پر بادلوں کا راج تھا اور ٹھنڈی میٹھی ہوا لطف دے رہی تھی میں ڈیڑھ سال بعد باہر کامنظر دیکھ رہی تھی یہ جگہ میرے سپنوں جیسی تھی لیکن ساتھ کھڑا شخص میرے سپنوں کی دنیا کا راجہ نہیں تھا وہ اک طوفان تھاجو ادھیڑ کر رکھ دیتا تھا ایکدم میری نظر اس پر پڑی تو وہ مجھے دیکھ کر مسکرایا میرا ہاتھ اس کی گرفت میں تھا جسے تھامے خاموشی سے چلتا جا رہا تھا یہاں تک کہ کھائی کا سرا شروع ہوگیا نیچے کھائی تھی بہت گہری اور اردگرد جنگل ۔۔۔ جگہ خوبصورت تھی پر ہولناک بھی ۔۔ میں اپنی سوچوں میں مگن تھی جب اپنے اردگرد مجھے حصار محسوس ہوا شرجیل میرے اردگرد بازو لپیٹے کھڑا تھا ” کیسی جگہ ہے ” وہ چہرہ میرے کندھے پر ٹکاۓ پوچھ رہا تھا۔۔” اچھی ہے “میں مدھم سا بولی تھی ” “اگر میں تمہیں یہاں چھوڑ دوں۔۔۔ ” اس کی بات نے مجھے گنگ کردیا وہ اب بھی وہی سوچ رہا تھا ” ک ۔۔۔۔کیوں ” میں ہکلا گئی

” یہاں اردگرد گہری کھائیاں اور جنگلات ہیں جہاں بہت سے جنگلی جانور ہیں تم یقیننا یہاں سے بھاگنے کی غلطی نہیں کرو گی ” اسکی آواز میں ہنسی بھی شامل تھی مجھے شدت سے بے بسی کا احساس ہوا

“یہاں تمہارا وہ کزن ۔۔۔۔جنید بھی نہیں پہنچ سکے گا اور اگر کوشش کرے گا تو میرے وفادار کتے اسے نوچ نوچ کر ۔۔۔۔ ”

“چھوڑیں مجھے شرم آنی چاہیے آپکو ۔۔ اپنی گندی ذہنیت کو دوسروں پر مسلط مت کریں ”
میں بات کاٹ کر اسکی گرفت سے نکلنے کی کوشش کرتی بولی تھی اس نے میرے بال گرفت میں لیتے جھٹکا دیتے چہرہ اوپر اٹھایا

” پھر سے حمایت کررہی ہو “وہ فورا سے سخت انداز اختیار کرگیا میں نے مزاحمت کی کوشش میں ہہ بھول گئی کہ میں کھائی کے سرے پر تھی اسنے یکدم مجھے چھوڑا تو توازن بحال نہ کرپائی اور لڑھکتی ہوئی نیچے گرتی چلی گئی میری دلخراش چیخوں پر وہ ہوش میں آیا تب تک دیر ہوچکی تھی ۔۔۔

جاری ہے

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *