وحشت- قسط آٹھ

Don’t copy waste without permission

ناول وحشت

قسط آٹھ

از قلم نویدہ شاہد

رات کا جانے کونسا پہر تھا جب دروازے پر ہولے ہولے دستک ہورہی تھی اسے انس کے بغیر نیند نہیں آرہی تھی جا کر ثمین کو بھی کچھ نہ کہہ سکتی تھی کہ بمشکل اسکا موڈ ٹھیک ہوا تھا دستک پر وہ بیڈ سےاٹھ کر دروازے کی طرف بڑھی قوی یقین تھا کہ بھابھی انس کو لائی ہوں گی

“آرہی ہوں بھابھی” دروازہ کھول کر وہ سائیڈ پر ہوگئ لیکن اگلے ہی پل وہ ساکت ہوئی تھی پھرتی سے ہوش میں آتے اسنے دروازہ بند کرنا چاہا لیکن وہ درمیان میں آچکا تھا

“شوہر کا استقبال ایسے کرو گی” وہ چڑانے والے انداز میں کہہ رہا تھا وہ دو قدم پیچھے ہٹی تو اس نے دروازہ اپنے پیچھے بند کرکے لاک لگادیا وہ یہاں تک کیسے آیا تھا حیرت سی حیرت تھی

“یہ لاک کیوں کیا ہے تم نے ” وہ بے اختیار ڈر کر ہیچھے ہٹنے لگی وہ جوں جوں پیچھے جارہی تھی وہ اسکی طرف بڑھ رہا تھا نظریں اسکے ڈوپٹے سے عاری وجود پر تھیں

“اتنے عرصے بعد اپنی بیوی سے ملنے آیا ہوں ۔۔ادھر آو شاباش ” وہ اسے پچکارتا ہوا اپنی طرف بلا رہا تھا

ْ”نہیں تم جاؤ یہاں سے ۔۔۔ ورنہ میں شور مچا دوں گی” اسکے حواس اب بھی بحال نہ ہوئے تھے البتہ اس نے جدوجد جاری رکھی

“مچاؤ شور شاباش چیخو چلاؤ ۔۔۔ اور اگر آج کوئی ہمارے بیچ آیا تو میں اسکی یہیں قبر بنادوں گا “اسکی دھمکی پر اثر تھی دانی کے آنسو نکل آئے

وہ دیوار سے جالگی تھی اور وہ اسکے گرد بازوں کا حصار بناتا اسے مکمل قید کرچکا تھا

“پہلے سے زیادہ خوبصورت ہوگئی ہو کیا راز ہےاسکا ؟؟ جنید کی قربت یا ــــ”

“اپنی گندی بکواس بند کرو” اس سے مزید سنا نا گیا تھا تبھی چیخ کر بولی

“تو تم چاہتی ہو ہم پیار کی باتیں کریں “وہ چہرہ اسکے مزید قریب لے آیا کہ گرم گرم سانسیں اسکے چہرے سے ٹکرا رہیں تھیں اس نے آنکھیں میچ کر چہرہ موڑ لیا

“تم تنے بہت تڑپایا ہے مجھے جان من “وہ اسکے کان کی لو کو چومتا ہوا کہہ رہا تھا اسکا ایک ہاتھ اسکے گال کو سہلا رہا تھا جبکہ دوسرا اسکی کمر پر گرفت کر چکا تھا کہ وہ ہل بھی نہ پارہی تھی

“دور ہٹو مجھ سے” اس نے کراہیت سے اسکے ہاتھ کو جھٹکا تو وہ ایک دم اس سے الگ ہوگیا

“اتنی نفرت اتنی حقارت “اسکا نرم انداز ایک دم ہی جارحیت اختیار کرگیا تھا اسکے بالوں کو گرفت مں لیتے اسکا چہرہ اپنے برابر لے آیا وہ بری طرح مچلنے لگی

“خلع چاہتی ہو مجھ سے” اسکے سوال نے اسے ساکت کیا تھا یہ بات اس تک کیسے پہنچی تھی وہ سمجھ نہ پائی اور جو سمجھ آرہی تھی وہ کسی طور سمجھنے کے قابل نہ تھا

اس نے گرفت سے نکلنے کو اسکے سینے پر مکے برساتے تگ ودو شروع کی

“میرے بال چھوڑو مجھے درد ہورہا ہے” اسکی گرفت بے حد سخت تھی مارے تکلیف کے وہ چیخ پڑی تھی اسے روتے دیکھ کر شرجیل نے اپنی گرفت ڈھیلی کردی اور کھینچ کر بیلٹ نکال لی اسکی حرکت نے دانی کی ریڑھ کی ہڈی سنسا اٹھی وہ رونا بھول کر آنکھیں پھیلائے اسے دیکھنے لگی

لیکن اس سے پہلے کے وہ کچھ سمجھتی وہ دونوں ہاتھ اسکی پشت پر لے جاتا ہاتھ باندھ چکا تھا

“کیا کررہے ہو تم ” وہ خوفزدہ ہوتی ایک دم ساکن ہوئی تھی

“آج میں ثابت کروں گا کہ میں تم سے کتنی محبت کرتا ہوں” وہ اسکا رخ اپنی جانب کرتا گھمبیر آواز میں بولا دانیہ کی زبان تالو سے چپک گئی تھی کیسی بے بسی تھی کہ وہ آواز دے کر مدد کے لیے بھی نہیں بلا سکتی تھی وہ اس پر جھکا اسکی گردن چوم رہا تھا گرم گرم سانسیں اسے دہکا رہی تھیں اسکی مضبوط گرفت بے حد سخت تھی تبھی جانے کس رو میں وہ بولی تھی اور سرسراتے ہوئے لفظ اسے رکنے پر مجبور کر گئے

“مت چھوؤ مجھے ۔۔۔مجھے تمہارے لمس سے کراہیت آتی ہے ” وہ ایک دم پیچھے ہٹا تھا آنکھوں میں سرخی اتر آئی تھی اور پھر الٹے ہاتھ کا تھپڑ اسے قدموں پر کھڑا نہیں رکھ سکا تھا وہ بیڈ پر اوندھے منہ گری تھی

“میں تم سے محبت سے بات کررہا ہوں اور تم مجھے وحشت پر اکسارہی ہو ” اسے بالوں سے جکڑ کر سیدھا کرتے وہ غرایا تھا “تمہاری باتوں سے مجھے کتنی تکلیف ہورہی ہے میں بتاتا ہوں تمہیں” وہ اسکی گردن پر دباؤ ڈالتا بے رحمی سے کہہ رہا تھا دانیہ کا سانس گھٹ رہاتھا ہاتھ بندھے تھے وہ بے بس پرندے کی مانند پھڑپھڑارہی تھی تبھی اسنے دباؤ کم کردیا سانس رواں ہوا لیکن اگلے ہی پل وہ دباؤ پھر سے بڑھاچکا تھا یہ عمل اس وقت تک جاری رہا جب تک وہ ہوش سے بیگانہ نہ ہوگئی

اتنا تو دوستی کا صلہ دیجئے مجھے
اپنا سمجھ کے زہر پلا دیجئے مجھے

اٹھے نہ تا کہ آپ کی جانب نظر کوئی
جتنی بھی تہمتیں ہیں لگا دیجئے مجھے

کیوں آپ کی خوشی کو مرا غم کرے اداس
اک تلخ حادثہ ہوں بھلا دیجئے مجھے

صدق و صفا نے مجھ کو کیا ہے بہت خراب
مکر و ریا ضرور سکھا دیجئے مجھے

میں آپ کے قریب ہی ہوتا ہوں ہر گھڑی
موقع کبھی پڑے تو صدا دیجئے مجھے

ہر چیز دستیاب ہے بازار میں عدم
جھوٹی خوشی خرید کے لا دیجئے مجھے
⚫⚫⚫⚫⚫⚫

“تم انس کو کیوں لے آئیں یہاں دانیہ کہاں ہے ” جنید نے ثمینہ کو سوئے ہوئے انس کے ہمراہ آتا دیکھ کر کہا

“وہ اسکی طبعیت کچھ ٹھیک نہیں تھی تو میں نے سوچا آج انس میرے پاس سو جائے “ثمینہ نے انس کو بیڈ پر لٹادیا

“کیوں کیا ہوا اسے “وہ اک دم پریشان ہواٹھا تھا

“ْبس موسمی بخار ہے ذرا “ثمینہ نے سرسری سا بتایا

“میں دیکھتا ہوں اسے “وہ اٹھنے لگا تھا

“ارے نہیں میں نے اسے دوائی کھلا کر سلادیا ہے صبح دیکھ لیجیے گا ”

“تم نے دوائی کیوں دی ڈاکٹر کے پاس لے چلتے” جنید رک گیا تھا

“اب ایسی بھی کوئی طبعیت نہیں خراب تھی اور آپ فکر مت کریں اسکی فکر کے لیے لوگ موجود ہیں “ثمینہ کو اسکا یہ تفکر بھرا انداز ناگوار گزرا تھا تبھی بولی

“کیا مطلب ”

“کچھ نہیں آپ سوجائیں وہ بھی سوگئی ہے” ثمینہ نے لائٹ آف کردی تھی

⚫⚫⚫⚫⚫⚫

ایک گھنٹہ ہوش سے بیگانہ رہ کر بالآخر وہ ہوش میں آچکی تھی شرجیل کے پریشان چہرے پر نظر پڑی تو ساری اذیت یاد آگئی
وہ بری طرح رو دی تھی

“شش شش رونا نہیں” وہ اسکے آنسو صاف کرتامحبت سے پچکار رہا تھا

“کیوں مجبور کرتی ہو مجھے کہ میں وحشت پر اتر آؤں محبت کرتا ہوں میں تم سے جانتی ہو نا تکلیف دینا نہیں چاہتا اب میں تمہیں ”

وہ اسکا چہرہ ہاتھوں میں لیے بولا اور جھک کر آنکھیں چوم لیں

“میرے ہاتھ کھول دیں” وہ سسک کر بولی تو اس نے فورا تعمیل کرڈالی وہ بے حد نرمی برت رہا تھا کچھ دیر قبل کی سختی کا دور دور تک نشان بھی نہ تھا وہ جتنا سمٹ رہی تھی وہ اتنا ہی بہک رہا تھا وہ چاہ کر بھی اسکے ہاتھ نہیں جھٹک سکی تھی کہ اب مزید وحشت سہنے کی برداشت نہ تھی

⚫⚫⚫⚫⚫
عہدِ نارسائی میں، خوابِ زندگی لے کر
دور تک بھٹکتے تھے
جانتے تو تم بھی تھے
راکھ راکھ ہو کر بھی، خاک خاک ہو کر بھی
ہاتھ کچھ نہیں آتا
خواب کی مسافت ہے، ہاتھ خالی رہتے ہیں
مانتے تو تم بھی تھے
اور باوجود اس کے نیند کو لٹا کر بھی
چین کو گنوا کر بھی
ہر شبِ عبادت میں، زار زار اکھیوں کے
اشک رکھ ہتھیلی میں
ہچکیوں کے پھندے میں، میرا نام لے لے کر
مجھ کو اپنے مولا سے
مانگتے تو تم بھی تھے
عشق کے عقیدے میں، فہم کیا؟ فراست کیا؟
کارِ عقل کیا معنی؟
عشق کے مخالف گر لاکھ ہی دلیلیں ہوں
جس قدر حوالے ہوں، مستند نہیں ہوتے
مانتے تو تم بھی تھے
اور ساری دنیا سے، پھر چھڑا کے دامن کو
میری ذات میں آ کر، خود کو سونپ دینے کا
سوچتے تو تم بھی تھے!
اب کی بات چھوڑو تم
اب میں کچھ نہیں کہتی
کچھ نہیں کہوں گی میں
اب فقط سہوں گی میں
اب تو چپ رہوں گی میں
کچھ گلہ نہیں تم سے
یاد بس دلایا ہے
اس طرح سے ہوتا تھا
عہدِ نارسائی میں
اب میں کچھ نہیں کہتی

وہ صبح اٹھی تو رات کا ہر منظر تازہ ہوگیا مارے بے بسی کے اسکی آنکھوں سے جھرنا بہہ گیا تھا وہ اس بھری دنیا میں بھی تنہا تھی تبھی اسکی نظر دائیں جانب بے سدھ سوئے شرجیل پر پڑی وہ کرنٹ کھا کر اٹھی

اٹھو ” شرجیل کو کندھے سے جھنجھوڑ کر اٹھانا چاہا جب اسنے اسکاہاتھ تھام کر خود پر گرالیا

“کیوں رو رہی ہو” وہ نیند بھری آواز میں پوچھ رہا تھا

اسکی آنکھیں بند تھی لیکن حسیات جاگ رہی تھیں

“چھوڑو مجھے چھوڑو ۔۔۔”وہ بمشکل اسکی گرفت سے نکلتی بیڈ سے اٹھ گئی

“اٹھو اور جاؤ یہاں سے “وہ ہر صورت اسے یہاں سے بھگانا چاہتی تھی

“کیا ہے یار کیوں تنگ کررہی ہو اتنے عرصے بعد تو ایسا سکون محسوس ہوا ہے “وہ اس وقت بلکل بھی اٹھنے کے موڈ میں نہیں تھا

“پلیز چلے جاؤ اگر کسی نے دیکھ لیا تو” وہ روہانسی ہوگئی تھی اسکی کمرے میں موجودگی اس پر کیا الزام رکھ سکتی تھی وہ اچھے سے جانتی تھی

“تو کیا ؟؟ میں شوہر ہوں تمہارا کسی کی ہمت نہیں کہ تمہیں بات کرسکے” وہ اب پوری آنکھیں کھولے اسے گھوررہا تھا

“دیکھو پلیز چلے جاو” ڈر اور بے بسی کے احساس کے تحت اسکی آنکھیں نم ہوئی تھیں جسکا اثر مقابل پر بھی ہوگیا تھا وہ گہری سانس بھرتا اٹھ گیا تھا

ْادھر آؤ “وہ اسے اپنے قریب آنےکا اشارہ کررہا تھا وہ بادل ناخواستہ آگئی اسنے ہاتھ سے پکڑ کر گود میں بٹھا لیا

“میں چلا جاؤں گا لیکن میری ایک شرط ہے “وہ اسکے بال سہلاتا ہوا بے حد سنجیدگی سے کہہ رہا تھا

“کیسی شرط ”

“میں آج رات کو دوبارہ آؤں گا اور تم مجھے ”

دراوزے کی دستک پر اسکی بات ادھوری رہ گئی دانیہ بوکھلا کر اٹھی

“کوئی آگیا ہے اب کیا ہوگا پلیز پلیز آپ یہاں سے جائیں آپ واشروم میں چھپ جائیں” وہ بری طرح گھبرائی تھی

“لیکن میں کیوں چھپوں میں شوہر ہوں تمہارا ”
وہ ضد پر اڑا تھا جب دانیہ نے اسکا ہاتھ پکڑ کر کھینچ کر اٹھایا وہ زیر لب مسکراتا ہوا اٹھ گیا وہ اسے واشروم میں دھکیل کر انگلی اٹھا کر کہہ رہی تھی “چپ رہنا پلیز ”

دروازے پر ثمینہ انس کو لائی تھیں ساتھ جنید بھی تھا اسکی اڑی رنگت نے پریشان کیا تھا

“کیا ہوا دانی تماری طبیعہت زیادہ خراب ہے کیا ” جنید نے فکرمندی سے پوچھا

“ن نہیں تو ” وہ ھواب دے رہی تھی اسکا ارادہ انہیں دروازے سے ہی واپس کرنے کا تھا لیکن ایسا نہ ہوسکا تھا

“رستے سے تو ہٹو “ثمینہ اندر چلی آئی تھی

وہ بری طرح گھبرائی تھی

“میں پریشان ہوگیا تھا تمہاری طبیعیت خرابی کا سن کر ” جنید کہہ رہا تھا اور وہ ثمینہ کو دیکھ رہی تھی

“کمرے میں کوئی آیا تھا کیا” ثمینہ کمرے میں اردگرد دیکھتی کہہ رہی تھی

“ثمنینہ” جنید نے گھرکا تھا

“نہیں کوئی بھی نہیں آیا” اسکی زبان لڑکھڑائی تھی

“تو پھر یہ بیلٹ کس کا ہے ” بات ایسی تھی کہ اسکے قدموں سے زمین نکل گئی جنید بھی اندر بڑھ آیا وہ وہیں جمی رہی بے بسی سے انگلیاں مروڑتے۔۔ جنید اسکی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا تبھی آواز آئی

“میرا ہے ”

واشروم کے دروازے پر کھڑے شرجیل کو دیکھ کر جنید کا چہرہ ایک دم ساکت ہوا تھا

“کوئی اعتراض ہے” وہ بھی جنید کی جانب ہی متوجہ تھا

“تم یہاں کہسے ؟؟ “وہ اتنا حیران تھا کہ سہی سے پوچھ بھی نہ سکا

“میں تو پہلے کہتی تھی یہ میاں بیوی کا معاملہ ہے آپ بیچ میں نہ پڑیں ”

ثمینہ نے اپنا فرض نبھانا ضروری سمجھا تھا

“یہ کیا ہے دانیہ” جنید نے بے یقینی سے مجرم بنی دانیہ سے پوچھا تھا

“وہ یہ زبردستی آئے تھے مجھے نہیں پتا کیسے ٖ”
وہ بمشکل صفائی پیش کرسکی

“جھوٹ مت بولو تمہاری اجازت کے بغیر کیسے آسکتا ہے یہ یہاں ” ثمینہ نے تلخی سے کہا تھا پر جواب دوسری جانب سے آیا تھا

“شٹ اپ ۔۔۔مخاطب ہونے سے پہلے سوچ لینا وہ کس کی بیوی ہے” شرجیل نے سختی سے کہا تھا

“اوہ اچھا ایک ہی رات میں اتنی محبت واہ بھئی واہ ۔۔۔چلیں بیوی سے تو مل لیا آپ نے بیٹے سے بھی مل لیں ” ثمینہ نے طنزیہ ہنسی ہنستے انس کو سامنے کیا اسے اپنی توہین کسی صورت قبول نہ تھی

“بھابھی پلیز ” دانیہ نے التجا کی تھی وہ انس کے وجود سے اسے آشنا نہ کرنا چاہتی تھی لیکن یہ راز بھی راز نہ رہ سکا تھا

“ارے حیران کیوں ہورہے ہیں آپکو اس نے بتایا نہیں کیا ؟؟ حیرت ہے رات تو گزار لی لیکن اتنی اہم بات نہیں بتائی ” وہ اب کے جتاتی نظروں سے دانیہ کو دیکھتی کہہ رہی تھی

“ثمینہ خاموش رہو ۔۔۔ اور تم نکلو یہاں سے ابھی کہ ابھی نکلو ” جنید کا قہر عود کر آیا تھا وہ بے حد غصے سے شرجیل کو کہہ رہا تھا لیکن شرجیل تو بس اسی بات میں اٹک گیا تھا

“دانی یہ میں کیا سن رہا ہوں” وہ دانی کی طرف بڑھا تھا ہر شے سے بے نیاز

“تمہیں میں نے کہا کہ جاؤ یہاں سے ۔۔۔ نکلو ” جنید نے اسے گریبان سےپکڑ کر روک لیا تھا
شرجیل نےاسے زوردار دھکا دیا
ْمیں اپنی بیوی سے بات کررہا ہوں” وہ پھر سے دانی کے سامنے آگیا تھا

“کیا یہ سچ ہے ؟ “وہ سلگتی نظروں سے پوچھ رہا تھا دانیہ نے منت بھری نظروں سے جنید کو دیکھا

“بولو” وہ دھاڑا تھا وہ اچھل گئی

“ج ۔۔جی” اسے بولنا پڑا تھا اور اسکا بولنا غضب ہوگیا تھا

“تڑاخ ” الٹے ہاتھ کا تھپڑ اتنا زوردار تھا کہ وہ دیوار سے جا ٹکرائی سر پر ایسا زخم لگا تھا کہ آنکھیں دھندلا گئیں

“تم نے مجھ سے چھپایا تمہیں میں زندہ نہیں چھوڑوں گا ” وہ وحشی ہوتا اسکی طرف بڑھا تھا جب جنید درمیان میں آگیا ۔۔۔۔۔

جاری ہے

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *