وحشت-آخری قسط

ناول وحشت

قسط آخری

“وہ آجکل بہت عجیب حرکتیں کررہی ہے میں نے اسے کبھی اتنا پر اعتماد نہیں دیکھا وہ ایک دم بدل گئی ہے مجھ سے ڈرتی بھی نہیں ہے کل بھی وہ چلی گئی اور میں اسے روک بھی نہیں سکا ۔۔۔ وہ کہتی ہے ہمیں بات کرنی ہوگی لیکن کہاں ؟؟ مجھے سمجھ نہیں آتی ۔۔۔ اس نے کہا تم مجھے بتاؤگی”

وہ کھڑکی کے پاس کھڑا بولے چلے جارہا تھا جبکہ روشنا اپنے فون پر جانے کیا تلاش کررہی تھی

“میں تم سے پوچھ رہا ہوں تم سن رہی ہو ؟؟” وہ بگڑ کر بولا تو روشنا نے سر اٹھایا

“سن رہی ہوں ” وہ پھر سے مگن ہوگئی

“تو جواب کیوں نہیں دے رہی ”

“جواب کے لیے کچھ ہے ہی نہیں” بے توجہی برقرار تھی وہ سخت نظر اس پر ڈالتا واپسی کے لیے مڑا

“اچھا سنیں ایک بات بتائیں” روشنا نے اسے جاتے دیکھا تو پکار لیا

“پوچھو” وہ رک گیا البتہ غصہ برقرار تھا

“وہ آپ کی مرضی کے خلاف جارہی ہے اور آپ نے اسے روکا کیوں نہیں “وہ متجسس تھی اس نے بہت سوچ کر کہا

“کیونکہ میں اسے کھونا نہیں چاہتا ”

“یہ ڈر اچانک سے کیوں آگیا “روشنا نے پوچھا تو اک جھماکے سے سے وہ خواب اسکے سامنے آگیا

“آئی ڈونٹ نو” وہ سر جھٹک کر بولتا واپسی کے لیے مڑ گیا

⚫⚫⚫⚫⚫⚫⚫

“کدھر جارہی ہو ” وہ کمرے میں داخل ہوا تو وہ اسے تیار کھڑی ملی

” کام سے ” مختصر جواب دے کر وہ مگن ہوگئی

“یہ تمہارے کون سے کام ہیں جو ختم نہیں ہورہے” اسے غصہ آیا تھا دانیہ نے جواب دیے بغیر پرس اٹھایا اور دروازے کی طرف بڑھی

“مجھے بات کرنی ہے ” وہ پیچھے لپکا

“مجھے ابھی جانا ہے “وہ بے زاری سے بولی

“نہیں جا سکتیں” شرجیل اسکے سامنے آگیا

” روکنے کے لیے کیا کرسکتے ہیں ہاتھ اٹھائیں گے ؟ ” وہ نڈر ہوگئی تھی اسکی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھا

“نہیں میں روک نہیں رہا میں بس کہہ رہا ہوں مجھے بتا کر جاؤ کہاں جارہی ہو” وہ ٹھنڈا پڑ گیا تھا وہ کتنا بے بس ہوگیا تھا

“مجھے دیر ہورہی ہے “وہ سائیڈ سے نکلنے لگی جب اس نے بازو جکڑ لیا

“میں تم سے پیار سے بات کررہا ہوں اور تم ـــ ” اسکی آنکھوں میں سرخی اتری تھی

“آپکو بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے آپکو مجھ سے معافی چاہیے تو اس کے لیے آپکو مجھے آزادی دینی ہوگی کم از کم اتنی آزادی کہ میں کھل کر سانس لے سکوں “وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بولی اور جھٹکےسے بازو چھڑوا کر باہر نکل گئی

⚫⚫⚫⚫⚫⚫

وہ گھر داخل ہوئی اور بیگ صوفے پر اچھال دیا شرجیل نے اسکی موجودگی نوٹ کی لیکن سوال پوچھنے سے گریز برتا
“کیا اب مجھے معافی مل سکتی ہے”
وہ واشروم سے واپس آئی اور ڈریسنگ مرر کے سامنے رک گئی تووہ اٹھ کر اسکے پیچھے آکھڑا ہوا

“ابھی نہیں” وہ اسے جن نظروں سے دیکھ رہا تھا اس نے سک لمحے کو تو دانیہ کا اعتماد لرزا دیا

“پھر کب “وہ پیچھے سے اسکے گرد حصار بندھ چکا تھا

“یہ آپ ۔۔۔ “وہ کچھ کہنے والی تھی جب وہ بولا

“شش بس کرو بہت تڑپا رہی ہو تم مجھے” وہ بہک گیا تھا اسکی طرف جھکا تو وہ تڑپ کر گرفت سے نکلنے کی کوشش کرنے لگی وہ ہنس دیا

“اپنی جان جوکھوں میں مت ڈالو میری جان” وہ پھر سے اسکی جانب جھکا تبھی اسکا فون بج اٹھا وہ گہرا سانس بھرتا الگ ہوگیا

دوسری جانب سے جانے کیا کہا گیاتھا پریشانی اسکے چہرے سے واضح تھی وہ تیزی سے چابیاں اٹھاتا باہر نکلا دانیہ نے تنفر سے اسکی پشت کو دیکھا

⚫⚫⚫⚫⚫⚫

وہ پوری رات گھر نہیں آیا تھا وہ نیند پوری کرکے اٹھی فریش ہوکر نیچے روشنا کے پاس آگئی وہ دونوں کسی بات پر بے تحاشا ہنس رہی تھیں جب آندھی طوفان بنا شرجیل اندر داخل ہوا اور سیدھا دانیہ کے سامنےآن رکا

“دانیہ یہ سچ ہے ؟ “وہ کڑے تیوروں سے پوچھ رہا تھا

“کیا” وہ کھڑی ہوگئی

“کہہ دو کہ یہ جھوٹ ہے تم نے ایسا نہیں کیاپلیز”

“کیا ہوا بھائی “روشنا حیرانی سے دونوں کودیکھ رہی تھی

“نورین کو زہردیا گیا ہے مگر اسکی جان بچ گئی اس نے بیان دیا ہے کہ اسے یہ زہر ـ ـ ـ”

“میں نے دیا ہے “وہ اسکی بات کاٹ کر بولی تو دونوں جھٹکے سے اسکی جانب پلٹے

“کیوں” بمشکل وہ پوچھ پایا تھا وہ دانیہ سے ایسی توقع کر ہی نہیں سکتا تھا روشنا بھی سکتے میں تھی

“میں نے اسے ہوٹل بلایا اور اسے زہر دے دیا “وہ بڑے سکون سے بتارہی تھی

“دانیہ ”

“اس کی بےوفائی کی جو سزا میں نے بھگتی ہے اسکا بدلہ لیا ہے میں نے ۔۔ میں نے سزا کاٹی ہے میں نے آپکی نفرت سہی ہے میری زندگی جہنم ہوئی ہے میں اسے معاف نہیں کرسکتی اس لیے میں نے اسکی زندگی لے لی ۔۔۔ لیکن وہ بچ گئی آپ نے اسے بچا لیا ۔۔۔ ہے نا ؟؟ آپ سے اسکی تکلیف برداشت نہیں ہوئی وہ آج بھی آپکے دل میں ہے ۔۔۔ ” وہ ایک دم چیخنے لگی تھی شرجیل کو اسکے لفظوں نے شاک میں دھکیل دیا ۔۔۔وہ

“آپ اسے بچانے گئے ـ ــ ہے نا ؟” وہ اسکا بازو جھنجھوڑتی بلکل بھی نارمل نہیں لگ رہی تھی

“ایسا کچھ نہیں ہے دانیہ ۔۔مجھے بعد میں پتا چلا میری بات کا یقین کرو “وہ اسے سنبھالنے کو آگے بڑھا

“نہیں ہے یقین اپ پر مجھے ۔۔ آپ کو اب بھی اسکی فکر ہے “وہ اسکے ہاتھ جھٹکتی پیچھے ہوگئی آنسو تواتر سےبہہ رہے تھے

“مجھے تمہاری فکر ہے” شرجیل کا لہجہ بے حد نرم تھا

“جھوٹے ہیں آپ ۔۔۔ دغاباز ہیں ۔۔۔ میں آپکو کبھی معاف ۔۔۔۔۔۔ “وہ پھر سے چیخنے لگی تھی لیکن بات مکمل نہیں کر پائی تھی اور اس سے پہلے کہ وہ اسے سنبھالتا وہ زمین بوس ہوچکی تھی

“دانیہ دانیہ “وہ تیزی سے اسکی طرف لپکا
⚫⚫⚫⚫⚫⚫

وہ اسے ہاسپٹل لے آیا تھا تبھی ڈاکٹر نے اسے خوشخبری سنائی

“مبارک ہو آپکی مسز پریگننٹ ہیں ۔۔۔
کمزوری بہت ہے ہم کچھ گھنٹے انہیں یہیں رکھیں گے”

“میں اس سے مل سکتا ہوں ؟” وہ چمکتے چہرے کے ساتھ پوچھ رہا تھا اجازت پاتے ہی وہ کمرے میں آگیا وہ ہوش میں تھی شرجیل کو دیکھتے ہی منہ موڑ لیا وہ مسکراتا ہوا اسکے پہلو میں ٹک گیا

“ناراض ہو “وہ اسکے ہاتھ کو تھامتے بے حد محبت سے پوچھ رہا تھا

“دانیہ” اسکی مسلسل خامشی پر شرجیل نے پکارا

“مجھے بات نہیں کرنی جائیں یہاں سے پلیز “وہ پھر سے رورہی تھی شرجیل کا دل دکھ سے بھر گیا وہ اسکا ہر غم دور کرنا چاہتا تھا

“دیکھو خدا نے کتنی بڑی خوشی دی ہے انس کی دفعہ تو میں نہیں تھا لیکن اب میں کوئی کمی نہیں کرنا چاہتا ۔میں بدل گیا ہوں یار ۔۔یہ خوشخبری دے کر خدا بھی چاہتا ہے تم مجھے معاف کردو” وہ اسکے بال سہلاتا اسے سمجھا رہا تھا منا رہا تھا

“کیوں کروں میں معاف ؟؟ کیسے کروں ۔۔ کتنے زخم لگے ہیں مجھے کیسے بھلاؤں انہیں میں “وہ مزید رونے لگی تھی شرجیل تڑپ گیا

“میں ازالہ کردوں گا میں ہر زخم پر مرہم لگادوں گا یقین کرو میں اب وہ غلطی کبھی نہیں کروں گا ”

“مجھے یقین نہیں آتا “وہ آنسو صاف کرکے سختی سے بولی تو شرجیل کئی لمحے بول نہیں سکا

“تم نے نورین کو زہر کیوں دیا۔۔۔۔ “وہ جاننا چاہتا تھا تبھی سنجیدگی سے پوچھنے لگا دانیہ نے اسکی آنکھوں میں دیکھا

“کیونکہ مجھے اس سے نفرت یے” اسکی آنکھوں میں اسکی بات کی سچائی واضح تھی

“شادی کرنے والے ہیں آپ سے ؟ “ایک دم وہ جیسے چونکی تھی اسکی سنجیدگی کو کوئی اور ہی نام دیا تھا

“استغفراللہ بیگم ۔۔ کیسی باتیں کررہی ہو” وہ بدک گیا

“تبھی تو اسکی اتنی پرواہ ہے بات بے بات ذکر نکال رہے ہیں” وہ جرح کررہی تھی اور اسے اچھی لگی تھی

“مجھے صرف تمہاری پرواہ ہے کچھ اندازہ ہے کہ تمہیں جیل بھی ہوسکتی تھی “اسنے سچآئی بتائ تو وہ تیزی سے اٹھنے لگی

“کیا مجھے پولیس پکڑ کر لے جائے گی”
اسکا رنگ ایک دم پیلا پڑا تھا ساری بہادری کہیں جا سوئی تھی اس نہج پر تو سوچا بھی نہ تھا

“ہاں “شرجیل کو مزہ آیا تو مزید ڈرادیا

“لیکن اسکا ایک حل ہے” وہ اسکی جانب جھک کر معنی خیزی سے بولا

“کیا” وہ ہونق تھی

“مجھ سے دوستی کرلو ۔۔ “شرجیل نے اسکے گال پر بوسہ دے کر حل پیش کیا دانیہ کے ماتھے پر بل آگئے

“میری اور آپکی دوستی نہیں ہوسکتی ”

“چلو کبھی نا کبھی تو ہو ہی جائے گی” وہ مسکرا کر اٹھ کھڑا ہوا کہ یہ بحث کبھی ختم نہیں ہونی تھی

“پھر آپ دوسری شادی نہیں کرپائیں گے” دانیہ نے جیسے اسے ڈرایا وہ ہنس دیا

“مجھے جو چاہیے وہ میرے پاس ہے نورین کے بڑھتے ہوئے ہاتھ کو میں نے جھٹک دیا تھا وہ نفسیاتی ہوگئی ہے وہ میری مجرم تھی اور میں تمہارا مجرم ہوں لیکن تمہاری محبت نے مجھے بدل دیا ہے میں ہمیشہ تم سے معافی کا طلبگار رہوں گا لیکن کبھی بھی تمہیں اس رشتے سے آزاد نہیں کروں گا کیونکہ تم میری محبت ہو ۔۔۔ عزت ہو ۔۔ میری جان ہو ” وہ اسکے ماتھے پر بوسہ دیتا باہر نکل گیا تھا دانیہ اسکی پشت کو گھور کر رہ گئی

“اتنی جلدی معاف نہیں کروں گی ” وہ دل ہی دل میں مصمم ارادہ کرتی آنکھیں میچ گئی کہ دماغ اب ہر بوجھ سے آزاد تھا

ختم شد

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *