2nd last (part1) ناول وحشت- قسط

ناول وحشت
قسط 2nd last (part1)

اسکی انکھ کھل چکی تھی وہ بھیانک خواب دیکھ رہا تھا جسم پسینے سے بھرچکا تھا سانس دھونکنی کی مانند چل رہی تھی سامنے کھڑے وجود کو دیکھتے اسے جھٹکا لگا تھا وہ بلکل سہی سلامت مرر کے سامنے کھڑی تھی اس نے گہرا سانس بھر کر خود کو نارمل کیا اس خواب نے اسکی جان نکال لی تھی وہ دیوانہ وار اسکی جانب بڑھا اور اسے سینے میں بھینچ لیا دانیہ شاک میں گھر گئی وہ دیوانہ وار اسے چوم رہا تھا دانیہ ساکت سی کھڑی تھی چند لمحوں بعد اسے احساس ہوا تو وہ پیچھے ہٹا نظر اسکے ساکت وجود پر پڑی تو شرمندگی میں آگھرا

“آئم سوری ۔۔۔ “وہ شرمندہ سا تھا

“مجھے بس اک خواب ۔۔ آئم سوری” وہ بغیر اس سے نظر ملائے اسے دیکھتا تیزی سے باہر نکل گیا

⚫⚫⚫⚫⚫⚫⚫

وہ آج دل لگا کر تیار ہوئی تھی روشنا کی باتوں نے اچھا اثر ڈالا تھا وہ واقع اپنے گھر کو جنت بنا سکتی تھی اس نے باہر کا رنگ بھی دیکھا تھا یہاں سے نکل کر جاتی بھی تو کہاں تو کیا یہ بہتر نہیں تھا کہ وہ اسی پنجرے میں قید ہوجاتی صیاد کو اپنا دیوانہ بنا ڈالتی

اسکی تیاری آخری مراحل میں تھی جب دروازہ کھول کر شرجیل اندر داخل ہوا

“کیا ہوا کہاں کی تیاری ہے” وہ حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا

“شاپنگ پر جارہی ہوں” بلکل نارمل سا جواب جس کی توقع وہ شاید نہیں کررہا تھا تبھی چونکا

“کس کے ساتھ” وہ سوال کر رہا تھا

“روشنا کے ساتھ۔۔۔ بھاگنے کا کوئی پلین نہیں ہے ڈونٹ وری گھر آجاؤں گی مطمئن رہیں “بے حد اعتماد کے ساتھ جواب دیتی وہ اسے جھٹکا دے گئی تھی

“میرا یہ مطلب نہیں تھا میں تو بس ایسے ہی ۔۔۔”

“اٹس اوکے ” وہ بات کاٹ کر بیگ اٹھاتے باہر کی طرف بڑھی

“سنو ” اس نے پکارا تو وہ رک گئی

“بولیں” وہ بلکل نارمل تھی جیسے کچھ ہوا ہی نہیں

“مجھے معافی نہیں مل سکتی ” وہ بمشکل کہہ پایا تھا

“مل سکتی ہے لیکن ”

“لیکن”
“میری کچھ شرائط ہیں ”

“ہاں مجھے سب منظور ہے ” وہ تیزی سے بولا

“میرا خیال ہے ہمیں بیٹھ کر بات کرنی ہوگی جس کے لیے آپکو کسی اچھی سی جگہ کا بندوبست کرنا چاہیے ”

“میں تیار ہوں”

“ابھی نہیں واپسی پر ۔۔۔ ابھی مجھے جانا ہے “وہ اسے حق دق چھوڑے جا چکی تھی
⚫⚫⚫⚫⚫⚫⚫

دروازے پر بیل مسلسل بج رہی تھی دروازہ کھلا تو وہ سیدھا اندر چلی آئی

” ارے ارے کون ہیں آپ یوں اندر چلی آرہی ہیں”

“مجھے نورین سے ملنا ہے “وہ سن گلاسز اتارتی ہوئی بولی

“میں ہی ہوں” وہ اسے حیران نظروں سے دیکھ رہی تھی اسکے بولنے پر دانیہ پوری طرح مڑ گئی

جینز شرٹ میں میک اپ سے لتھڑا چہرہ لیے وہ کہیں سے بھی اسے ویسی نہ لگی تھی جیسا وہ اسکے بارے میں سوچتی آئی تھی اس میں ایسا کیا تھا جو شرجیل بری طرح اس پر فدا رہا تھا

“آپ کون ہیں ” وہ اب دانیہ سے ہوچھ رہی تھی

“میں مسز شرجیل ہوں” اسنے دھماکہ کیا تھا دانیہ پورے اعتماد سے کھڑی اسے دیکھ رہی تھی

“آپ میرے شوہر کی پہلی بیوی ہیں مجھے آپ سے ملنے کا بہت اشتیاق تھا” دانیہ مزید کہہ رہی تھی

“میں ۔۔۔ ” نورین نے کچھ بولنا چاہا

“نہیں باتیں ہم بعد میں کریں گے ابھی مجھے جلدی ہے یہ کارڈ رکھیے میں انوائیٹ کرنے آئی تھی آپکو ۔۔۔۔ ہمارے گھر میں چھوٹی سی پارٹی ہےمیں چاہتی ہوں آپ شرجیل کو سرپرائز دیں آپ لازمی آئیے گا پلیز ” وہ روبوٹ کے انداز میں بولتی اسے ساکت چھوڑے دہلیز پار کرگئی تھی

⚫⚫⚫⚫⚫⚫

وہ گھر میں داخل ہوئی تو شرجیل کو منتظر پایا وہ تیزی سے اسکی طرف آیا

“کہاں تھی تم “وہ غصے میں تھا دانیہ نے رک کر دیکھا

“کام سے گئی تھی” وہ بے حد پر اعتماد تھی
“کیا کریں گے ؟ ماریں گے مجھے ؟؟ ”

“ن نہیں میں بس فکرمند تھا “وہ ٹھنڈا پڑتا ہوا بولا

“اوکے ” وہ کندھے اچکاتی سیڑھیوں کی طرف بڑھی

“کہاں جارہی ہو ” وہ اسکے پیچھے لپکا

“انس کو دیکھنے ” وہ سیڑھیاں چڑھ رہی تھی
“ہمیں بات کرنی تھی ” وہ اسکے پیچھے آیا تھا

“نہیں تو ”

“وہ تمہاری شرائط ” وہ بولا تو دانیہ رک گئی

“شرائط کے لیے یہ جگہ نا مناسب ہے میں نے یہ بھی کہا تھا کہ ۔ ۔ ۔ ” وہ مڑے بغیر بولی تھی

“اوہ سوری وہ میں بھول گیا لیکن تم مجھے بتا تو سکتی ہو نا ” وہ اسکی بات کاٹ گیاتھا وہ جانے کیوں اتنا بے صبرا ہورہا تھا اسے خود پر حیرانی تھی

“نہیں بلکل نہیں ۔۔۔ میں یہاں نہیں بتا سکتی”
وہ تڑخ کر بولی

“اگر آپکو کسی شے کی کنفیوژن ہے تو آپ روشنا سے ہیلپ لے سکتے ہیں ” جانے سے پہلے وہ مڑی اور اسے مشورے سے نوازتی آگے بڑھ گئی وہ حیران سا اسکایہ روپ دیکھتا رہ گیا جو بھی تھا وہ اس لب و لہجے میں پہلے سے بڑھ کر حسین لگ رہی تھے

جاری ہے

You may also like...

1 Response

  1. Reema Raza says:

    Vry nice pls happy ending krna next kab ay ge last

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *