ناول۔میری محرم – 4

ناول۔میری محرم
مصنفہ۔ مومنہ عدن
قسط نمبر۔ 4

اسراء کے ابو میں چاہ رہی ہوں کہ ہم بھی اب اسراء کا کہیں اچھے نیک گھرانے میں رشتا طے کردیں۔
بات تو ٹھیک ہے تمہاری۔۔ گاؤں واپس جا کر اس فرض سے بھی سبکدوش ہی جائیں تو اچھا ہے۔
_____——______

میں کب سے دیکھ رہا ہوں آپ یہان الگ تھلگ بیٹھی ہیں۔ اور آپ نے چہرہ کیوں ڈھک رکھا ہے۔
اسراء اُس اجنبی کی جرات پے حیران ہوئی اور وہاں سے بنا جواب دیے اٹھ گئی ۔
_____——_____

اذلان یار وہ لڑکی کون ہے۔؟
ارے وہ۔۔ میری چچا زاد ہے گاؤں سے آئی ہے۔ پینڈو کہیں کی۔
اذلان مجھے وہ بہت اچھی لگی ہے یار۔ میں امی سے بات کروں گا۔ مجھے ایسی ہے لڑکی چاہئے تھی ۔
تم ہوش میں تو ہو اسد تمہارا ٹیسٹ کب سے اتنا پینڈو ہوگیا۔
بھی اذلان پینڈو کی بات نہیں ہے۔ بات ہے تو اسکی خود کو ڈھکنے کی ۔ میں نے کبھی ایسی لڑکی نہیں دیکھی۔ میں اس سے بہت متاثر ہوا ہوں۔
یہ بس ڈھونگ کرتی ہے پردہ کا۔ تم بھی جانتے۔ یہ سب امیر زادوں کو اپنی جال میں پھنسانے کے طریقے ہیں۔
نہیں اذلان وہ ایسی نہیں ہے۔ اور تم پڑھے لکھے ہو ایسی گفتگو زیب نہیں دیتی تمہی۔
اذلان نے سے جھٹکا۔
اتنے میں برات کی روانگی کی اطلاع موصول ہوئی۔ و دونوں اندر بڑھ گئے
_______——-_________

ارے حیدر رک جاتے کل تک ۔۔
نہیں بھائی۔ پیچھے گھر کوئی نہیں ہے۔ اور اس بار ہم نے جا کر اسراء بیٹی کی بات پکی کرنی ہے تا کے ہم بھی اس فرض سے سبکدوش ہو جائیں
ارے واہ یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ میں ضرور آؤنگا لڑکا دیکھنے۔
کیوں نہیں بھائی جان
اب اجازت دیجئے۔
اللہ کی امان ہو۔
اتنا کہہ کر اسراء اور اسکے والدین واپسی کی طرف بڑھ گئے۔
______—–_______
ٹرین تیز رفتار میں جارہی تھی۔ اسراء کا دل گھبرا رہا تھا وہ ورد کرنے لگی۔
عجیب سے خیال ذہن میں آرہے تھے۔
اچانک ہے ٹرین کا توازن بگڑا، چیخیں بلند ہوئی اور ٹرین پٹری سے نیچے اتر گئی۔
اسراء بلند آواز میں تلاوت کرنے لگی ۔ اُنکے ڈبے کا توازن بگڑا اور سب کی چیخیں فضا میں بلند ہوئیں۔ اسکے بعد اسراء کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا
_____—-________

سکندر صاحب کو حا دثہ کی اطلاع موصول ہوئی۔
اُنکے پیروں کے نیچے سے زمین کھسک گئی۔ موبائل ہاتھ سے گر گیا ۔
اذلان نے آ کر اُن کو دلاسہ دیا۔
دونوں جائے وقوع پر نکل گئے۔
ہر طرف ہو کا عالم تھا۔ اذلان جا کر ہے لاش کو ہلا کر دیکھ رہا تھا اور پہچان کر رہا تھا اور اسے کہیں بھی نظر نہیں آیا۔
اچانک اُس نے آواز سنی۔
کوئی ہے۔ میری مدد کیجئے۔
اور اذلان کو اُسکی آواز پہچاننے میں ایک لمحہ لگا تھا۔
مگر اس سے پہلے کے وہ اُس تک پہنچتا۔ ریسکیو اہلکار وہاں پہنچ گئے۔ خواتین اُسکی مدد کرنے لگی۔ اُدھر ہی پاس اذلان کو چچا چاچی کی لاش نظر آگئی۔ اُس نے ریسکیو کو بلایا اور باڈیز اُٹھوا دیں۔
سکندر صاحب وہیں بیٹھ کر رونے لگے۔ اذلان نے اُن کو ہمت بندھائی۔
دونوں ہسپتال کی طرف روانہ ہو گئ

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *