میری محرم – 6

میری محرم
قسط نمبر ۶
مصنفہ۔ مومنہ عدن

سکندر صاحب نے دست شفقت اسراء کے سر پر پھیرا اور دعا دیتے ہوئے اٹھ گئے۔
_____——–________

تمام لوگ لاؤنج میں بیٹھے سکندر صاحب کی آمد کا انتظار کر رہے تھے۔
اسد اپنی ماں اور بہن کے ہمراہ اپنے رشتے کی بات کرنے آیا تھا۔
سکندر صاحب سیڑھیوں سے اترے ، اسد ادب بجا لاتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔
سکندر ، اسد کو بچپن سے جانتے تھے۔
اُسکی عادات و اطوار سے بخوبی واقف تھے۔ اور اسد کو کافی پسند کرتے تھے۔
اسد کی والدہ نے حال و احوال کے بعد مدعا عرض کیا۔
سکندر بھائی ، اسد آپکا اپنا بچہ ہے آپ شاید مجھ سے بہتر جانتے ہونگے۔
ہمارے یہاں تشریف لانے کی وجہ آپکی بھتجی اسراء ہے۔ جو ہمیں بہت پسند ہے اور ہم اسد کے ساتھ اُسکی بات طے کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں اسکے پردے سے کوئی مسلہ نہیں ہے۔ ہم اُسے مکمل طور پر اُسکی تمام خوبیوں کے ساتھ اپنانا چاہتے ہیں اور اگر آپ کو اس رشتے پی اعتراض نا ہو تو یہ ہماری خوش قسمتی ہوگی۔
سکندر کسی گہری سوچ میں گم ہو گئے۔
دیکھئے بہن آپ ہمیں تھوڑا وقت دیجئے۔
جلد ہی آپکو اپنی جواب سے آگاہ کرونگا۔
جی بھائی آپ جتنا وقت مرضی لی لیجئے۔
ٹھیک ہے بہن۔ آئیں کھانا کھائیں۔
اور تمام لوگ کھانے کی میز پر چلے گئے۔
______——_______
اسراء بیٹھی درس کے بارے میں سوچ رہی تھی اسی اچانک یاد آیا ایک دن باجی نے ایک بات بولی تھی :
میں اکثر سوچتی تھی کہ جب اللہ تعالیٰ کسی انسان پر اس کی سکت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا تو پھر اکثر ایسے لمحات ہماری زندگیوں میں کیوں آتے ہیں جب انسان تھک کر ٹوٹ جاتا ہے دل تکلیف اور اذیت سے بھر جاتا ہے آنکھیں امید کی بینائی سے محروم ہو جاتی ہیں زندگی کی تمام تر رنگینیاں ختم ہو جاتی ہیں اور انسان کو اپنا آپ کسی بوجھ جیسا لگنے لگتا ہے جب اس نے کوئی شے ہمارے لیے بنائی ہی نہیں ہوتی تو وہ کیوں ہمیں اس کی چاہت میں مبتلا کرتا ہے؟ لیکن اب مجھے سمجھ آ گئی ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے اللہ اپنے خاص بندوں کو چننے کے لیے ان پر آزمائش بھیجتا ہے وہ اپنے خالص بندوں کو الگ کر لینا چاہتا ہےدوسروں سے وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کون اس کی محبت میں صبر کے آخری پیمانے تک جا پہنچتا ہے کون سخت اذیت اور تکلیف میں بھی اس کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھتا ہے کون اس کی چاہت کے لیے اپنی چاہت تک قربان کر دینے کا حوصلہ رکھتا ہے کہ آزمائش محبت ہی کا پیمانہ ہے اور پھر جو لوگ اپنے اللہ تعالیٰ کی چاہت کے لیے اپنی چاہت قربان کر دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ انھیں ان کی تکلیفوں اذیتوں اور قربانیوں کے بدلے میں ایسا بہترین صلہ عطا فرماتا ہے کہ انسان ساری زندگی اس کے احسان کی شکر گزاری میں گزار دیتا ہے پھر جتنی بڑی قربانی اتنا ہی بہترین صلہ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے اوپر کوئی احسان نہیں رکھتا بلآخر کندن بننے کے لیے جلنا تو پڑتا ہے نا انسان کچھ اور سوچ رہا ہوتا ہے اس کے پلان اور ہوتے ہیں انسان کی سوچ ارادہ اور ترکیب کچھ اور کہتی ہے جب انسان کی ترکیب اور اللہ تعالیٰ کی ترکیب جدا ہو سمجھ جائیں جہاں آپ محنت کر رہے تھے وہ آپ کے لئے صحیح نہیں تھا
جان لو اللہ تعالیٰ کی ترکیب سب سے بہترین ہے

القرآن

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں
“میں نے اپنے ارادوں کی شکست سے اللہ کو پہچانا۔۔

پھر آپ بھی فکر نہ کریں ایک روشن صبح آپ کی منتظر ہے
کیونکہ فیصلہ ہو چکا ہے ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمھیں ناگوار گزرے اور وہی تمھارے لیے بہتر ہو اور ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمھیں پسند ہو اور وہی تمھارے لیے بری ہو اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے

القرآن
اور اس سب کے بعد اسراء کے آنسو اسکے گالوں پر بہ نکلے۔
الحمد للہ یا اللہ
اور وہ زارو قطار رونے لگی۔
______——______
آزلان ایک بار پھر سوچ لو۔
ڈیڈ سوچنے کی بات ہی نہیں ہے۔
مجھے اُس سے شادی نہ کرنی۔ ویسے بھی اسد اسکو پسند کرتا ہے بہت خوش رکھے گا۔
اور یقین مانیں میں اُسکی شادی میں سارے کام خود کرونگا۔
سکندر صاحب نے رکھ پھر کا اور اذلان اپنی ماں کو وکٹری کا نشانہ دیکھا کہ باہر نکل گیا۔
سکندر صاحب نے باہر نکل کر اسد کو کال کی اور کہ دیا کے یہ رشتا پکا سمجھیں۔ لیکن ہم مہندی کے ساتھ نکاح کی رسم رکھیں گے۔ اور جتنا جلدی ہو سکے یہ کام مکمل کیا جائے۔
اسد نے بتایا کہ اسکے بابا کے پاکستان آنے کے فورا بعد یہ کام سرانجام ہو جاے گا۔ ۔
____——–________
اسراء بیٹی میں اندر آجاؤں۔
جی جی پلیز۔
بیٹا آپ سے کچھ کہنے آیا ہوں۔
جی حکم کیجئے
بیٹا میں اپنی مرضی سے آپکا رشتا طے کردیا ہے۔ جلد ہی یہ کام طے پایا جائیگا۔
آپکو کوئی اعتراض؟
نہیں چاچو۔
بس مجھے ایک بار گاؤں والے گھر میں جانا ہے ۔
ٹھیک ہے آپ کو میں خود لے کر جاؤں گا۔
اور یہ لیں میں آپکے لئے موبائل لایا ہوں۔ تا کہ آپ اپنی دوستو سے رابطے میں رہ سکیں۔
بہت شکریہ چاچو جان۔
جیتی رہی بیٹی اللہ تمہارے نصیب اچھے کرے۔آمین
_____—–_____

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *