میری محرم – 5

میری محرم
قسط نمبر ۵
مصنفہ، مومنہ عدن
(میری والدہ کی طبیعت ناسازی اور نے انتہا مصروفیت کے باعث جتنا ہوسکتا ہے میں کوشش کرتی ہوں۔ آپ سب کی شکر گزر ہوں کیوں کے میرا پہلا ناول ہے۔ لیکن آپ سب نے میرا ساتھ دیا۔ اللہ آپکو جزائے خیر عطا فرمائے۔ )
کوئی کسی کو بیچ رستے میں ایسے بھی چھوڑ کے جاتا ہے۔ امی بابا میں اللہ کی رضا میں بہت راضی ہوں مگر آپکی کمی کبھی کوئی پوری نہیں کر سکتا۔
قل شریف کے بعد اسراء دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھی سوچ رہی تھی۔
روزینہ اسکے پاس آئی ۔ اسراء مجھے واپس جانا ہوگا۔ تم بھی چلو میرے ساتھ تا کے گاؤں کے لوگ افسوس کے لیے آ سکیں۔ وہ غائب دماغی سے روزینہ کو دیکھنے لگی۔ ہاں چلو ۔ وہ اٹھی مگر اس سے پہلے کے کمرے تک جاتی۔ سکندر صاحب نے اُس سے دریافت کرلیا۔
کہاں جارہی ہو بیٹا۔
چاچو میں اپنے گھر جانا چاہتی ہوں آپ مجھے اجازت دیجئے۔
نہیں بیٹا میں ایسا کبھی نہیں چاہونگا ۔
آپ ہمارے ساتھ ہی رھوگی ہمیشہ۔ اور آپ کے پردے میں میں آپکا ساتھ دونگا۔
سکندر انکل میں آپ پے بوجھ نہیں بننا چاہتی۔
اسراء بیٹی ۔۔ بیٹیاں بوجھ نہیں ہوتیں ۔ اورمیں تمہیں اس جہاں کی تلخیاں سہنے کےلئے اکیلا کیسے چھوڑ دوں۔ روز قیامت میں کیسے اپنے بھائی کو منہ دکھاؤں گا۔ اتنا کہتے ہی سکندر صاحب کا لہجہ نم ہوگیا۔
اسراء نے روزینہ سے بول دیا کے وہ فلحال اسکے ساتھ نہیں جاسکتی۔ لیکن گاؤں میں آئیگی ضرور۔
روزینہ نے رخصت لی اور روانہ ہوگئی۔
_______——_________

وقت کی ایک خوبی یہ ہے اچھا ہو یا برا گزر ہی جاتا ہے۔
حیدر اور انکی بیوی کی موت کو بھی ۴۰ دن گزر چکے تھے۔ اس دوران اسراء صرف ایک کمرے تک محدود رہی ۔ مسز سکندر اور اُنکے بچوں کو وہ کچھ خاص بھاتی نہیں تھی۔
ایک دیں ڈنر کرتے ہوئے سکندر صاحب نے بات کی تمہید باندھی۔
میں جانتا ہوں اذلان بیٹا کے تم دانیہ سے بہت پیار کرتے ہو۔ مگر وہ اس قابل نہیں ہے کے گھر بسا سکے۔
ڈیڈ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں۔
کچھ نہیں بیٹا لکن میری دلی خواہش ہے کہ اسراء ہمارے گھر کی بہو بنے۔ اور میں نے سوچ لیا ہے کے ایسا ہے ہوگا۔
واٹ؟؟؟ ڈیڈ آپ ہوش میں تو ہیں کہاں میں اور کہاں آپکی جاھل بھتیجی۔
اسی دوران مسز سکندر نے بھی اذلان کا ساتھ دینا ضروری سمجھا۔
اذلان ٹھیک کہ رہا ہے سکندر۔ آپ کو سوچ سمجھ کے بات کرنی چاہیے۔
میں نے کو کے دیا وہی ہوگا۔
ڈیڈ آپکو میں ہی ملا تھا قربانی کا بکرا۔ میں ہرگز اُس لڑکی سے شادی نہیں کرونگا۔ و کسی اور دنیا کی مخلوق ہے میرا لیول اور ہے۔
فیصلہ تو میں کر چکا ہوں اذلان اور میں تمہارا باپ ہوں تمھی وہی کرنا ہے جو میں نے کہہ دیا ہے۔
ڈیڈ اگر آپ اپنی مرضی کرینگے تو نتائج کے زمہ دار آپ خود ہونگے میں نہیں۔
اتنا کہہ کر اذلان خراب تیور لیے وہاں سے اٹھ گیا۔
مسز سکندر بھی اسکو پکارتی ہوئی وہاں سے اٹھ گئیں۔
______——________
اذلان ذہنی دباؤ کام کرنے کےلئے کلب آ گیا۔
وہیں اُسے اسد نظر آگیا۔ اُس نے ایک فیصلہ کیا۔
اسد کے پاس جا کر اسی کہا کہ اگر وہ اسراء سے شادی کرنا چاہتا ہے تو کل ہی اپنے گھر والوں کو بھیجے۔
اسد کی تو جیسے لاٹری نکل آئی ہو۔
اُس نے کہا کہ وہ گھر جاتے ہی اپنی امی سے بات کریگا ۔
اس سب کہ بعد اذلان کافی مطمئن ہوگیا۔
_______——-_______
اللہ اپنی بندو کو کے کر بھی آزماتا ہے اور دے کر بھی۔ و دیکھتا ہے کے کون سب کچھ چلے جانے کے بعد بھی اُسکا شکر گزار ہوگا اور کون شکوہ کریگا۔
اسراء کو گاؤں کے درس کی باتیں یاد آرہی تھیں وہ آنکھیں بند کئے بیٹھی تھی۔ اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔
وہ سیدھی ہو بیٹھی۔
آ جائیں۔ سکندر صاحب اندر آئے۔
اسراء بیٹا مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے۔
جی جی آپ حکم کیجئے۔
بیٹا میں اپنی مرضی سے تمہارا کہیں رشتا طے کردوں تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں ہوگا نہ؟؟
نہیں انکل آپ میرے بابا کی طرح ہیں آپ کا ہے فیصلہ مجھے منظور ہے۔
_______—–______

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *