میری محرم ۔ 7

ناول:میری محرم
مصنفہ: مومنہ عدن
قسط نمبر۔۰۷
سکندر صاحب اور اسراء گاؤں کے لیے روانہ ہوئے۔
گاؤں کی کچی سڑک پر پہنچتے ہی اسراء کی آنکھ سے آنسو چھلک پڑے۔
یا اللہ۔ تو مجھے اس آزمائش میں استقامت آیا فرما اُس نے دل میں دعا کی
جب گھر پہنچی تو ہر چیز میں سے امی ابو کی جھلک نظر آنے لگی۔ سکندر صاحب اُسکی کیفیت سمجھ رہے تھے۔ اسراء بیٹا آپ کسی دوست سے ملنا چاہیں تو مل سکتی ہیں۔
جی مجھے میری ایک دوست اور سیدہ باجی کے گھر جانا ہے۔
آئیں بیٹا میں آپکو لے جاتا ہوں۔
وہ روزینہ کے گھر کی جانب روانہ ہوگئی۔
روزینہ نے اسے دیکھا تو خوشی کے میری بھاگتی ہوئی اسکے گلی آ لگی لیکن گلے ملتے ہی دونوں کے آنسو تھم نہ سکے۔
روزینہ کے ابو نے سکندر صاحب کو کمرے میں بٹھایا اور چائے پانی کا انتظام کرنے کو کہا۔
روزینہ میری شادی ہونے والی ہے۔
ہیں؟ کس کے ساتھ۔۔ یقیناً اذلان بھائی کے ساتھ۔۔؟
نہیں ۔ میں نہیں جانتی ۔ چاچو نے رشتا طے کیا ہے۔ میرا فون نمبر لکھلو۔ میں تمہاری ساتھ رابطے میں رہوں گی۔ اور سیدہ باجی کے درس میں جب بھی جانا مجھے ریکارڈ کر کے بھیجنا۔
اسراء، تم ٹھیک ہو نا؟ روزینہ نے اسی دیکھتے ہوئے کہا۔
اسراء نظر چرا گئی۔ ٹھیک ہوں پاگل۔ ویسے ہی امی بابا کی یاد آتی ہے۔ باقی کوئی بات نہیں۔
دونوں نے باتیں کی اور کچھ دیر بعد اسراء نے اجازت طلب کرلی۔
اسراء سیدہ باجی کے گھر روانہ ہوگئی۔
دروازے سے اندر جاتی ہے باجی کی آواز اُسکے کانوں میں گونجی۔
اللہ رب العزت کی محبت کو چھوڑ کر انسانوں میں اور اپنی خواہشوں میں سکون کی تلاش میں در بدر بھٹکنے والی روحیں کبھی سکون نہیں پاسکتیں
اسراء جا کے درس میں بیٹھ گئی۔ اور بغور سننے لگی۔
۔۔۔۔دیکھیں یہ جو راستہ ہے ناں یہ خساروں کا راستہ ہے۔۔۔ اس راستے کا ہر راہی لوٹ لیا جاتا ہے۔۔۔یہ وہ راستہ ہےجہاں مسافر خود ازیتوں کے سزا میں جگڑ دیے جاتے ہیں۔۔۔سراب کی سمت چلنے والوں کے ہاتھ خساروں کے سوا کچھ نہیں آتا۔۔۔پھر جب انسان ان خواہشات کو پانے کا مقصد بنا لیتا ہے تو قدرت اُسے ان خواہشات کے ہاتھوں تھکاکر رکھ دیتی ہے۔۔۔ہماری ہر وہ امید توڑ دی جاتی ہے جو انسانوں سے خواہشات سے وابسطہ ہوتی ہیں۔۔۔من پسند انسانوں اور خواہشات کے ہاتھوں دکھ دیے جاتے ہیں تاکہ انسان یہ سمجھ سکے کہ اللہ کریم کے فیصلے اللہ رب العزت کا چناو ہمارےخواہشات سے بہترین ہوتے ہیں۔۔۔اور آخر میں ہم یہ تسلیم کرہی لیتے ہیں کہ محبت فقط خدا کی۔۔۔امیدیں صرف اسی سے لگانی چاہیں۔۔۔طلب صرف اسی کی ہونی چاہیے۔۔۔اس سفر میں آنےوالے دکھ زندگی کی خوبصورت پیش رفت ہوتی ہے۔۔۔تھکی روح کیلے راحت کا بندوبست کیا جاتا ہے۔۔۔دکھ سے انسان کی روح کو نکھار کر اسے سراب سے حقیقت تک لایا جاتا ہے تاکہ انسان یہ جان سکے کہ تمام محبتیں تمام تعریفیں اور امیدیں صرف اللہ رب العزت کیلے ہیں_
بیشک ، سبحان اللہ۔ اس کے بعد تمام لوگ رخصتِ ہوگئے۔
اسراء نے باجی کو سلام کیا۔
آو پُتر کیسے آنا ہوا۔ تمہارے والدین کی کوچ کا سن کر بہت دکھ ہوا۔ ہر انسان کو جانا ہے ۔ یہ دنیا فانی ہے بیٹا۔ دل چھوٹا مت کرنا۔ اللہ کی مدد تمہاری ساتھ ہے۔
جی باجی آپکی دعاؤں کی ضرورت ہے۔۔—
میری دعا ہمیشہ آپ کے ساتھ ہے پتر۔
سدا خوش رہو ۔۔
کچھ باتیں کرنے کے بعد اسراء نے رخصت لی۔
_______——-_________
گھر پہنچنے کے کچھ دیر بعد، اسراء کو تیار ہو کر نیچے آنے کا کہا گیا۔
اسراء نے بےبی پنک کلر کے ڈریس کے ساتھ بڑی شال سر پر کی۔ اور چہرہ ڈھک لیا۔
نیچے جا کر سب کو سلام کیا۔ اسد بھی اپنے والدین کے ساتھ آیا تھا۔
اسد کی امی نے اسی دیکھتے ہوئے ما شا اللہ کہا۔
جب کے مسز سکندر نے انتہائی تمسخر سے دیکھا۔
سکندر بھائی ، میں اپنی بیٹی کو انگوٹھی پہنانے آئی ہوں۔
مجھے آپ کی کی بھتیجی بہت پسند ہے ہے اور مجھے اس رشتے پر کوئی کوئی اعتراض بھی نہیں۔
سکندر صاحب بولے بلی جی جی کیوں نہیں بہن آپ انگوٹھی پہنائے۔
انگوٹھی پہنائی گئی اُسکے بعد اسراء دھیمے سے بولی۔
اجازت ہو تو میں کمرے میں جانا چاہتی ہوں۔
ارے بیٹی کیوں نہیں آپ جائیں۔ سکندر صاحب بولے۔
_____——_______
وقت کا کام ہے گزرنا اور وہ انتہائی تیزی سے گزرا یہاں تک کہ اسراء اور اسد کے نکاح کا دن آن پہنچا ۔
نکاح سے ایک دن قبل اسراء کو مہندی لگانے کے لیے پارلر سے لڑکی بلائی گئی۔
جب وہ واپس چلی گئی اسرا نے روزینہ کو کال کی۔
اسے اپنے نکاح کے متعلق بتایا اور دعوت دی۔
ہاں اسراء میں ضرور آؤنگی۔
ابھی وہ دونوں آپس میں بات کے رہیں تھیں کے زور دار دھماکہ سے لائٹ چلی گئی۔
اسراء کی چیخ بلند ہوئی۔
باقی لوگ نیچے انتظامات دیکھ رہے تھے
اذلان اپنی کمرے سے بھاگتی ہوئے نکلا۔ اور اسراء کے کمرے کی جانب آیا۔ کیو نکہ اُس نے اسراء کی چیخ کو سنا تھا۔ ۔
روزینہ کال پر ہی تھی۔ اسراء کو بار بار مخاطب کے رہی تھی مگر اسراء کو اندھیرے میں ہمیشہ دورہ پڑتا تھا۔
وہ آپے سے باہر ہونے لگی تھی موبائل گر گیا۔
اذلان نہ موبائل کی روشنی سے سمت کا تعین کیا ۔ اور بھاگتے ہوئے اسکے پاس پہنچا۔
اسراء آپ گھبرائیں مت۔ ٹرانسفارم جل گیا ہے۔ ابی جنریٹر آن ہو جائیگا۔
اسراء نے اذلان کی آواز سنی پر جواب نہ دے پائی۔ ۔۔
اچانک سے روشنی کا جھما کا ہوا۔
اسراء کا رخ اذلان کی جانب تھا پر وہ اپنی حالت سے بےخبر تھی اور نہایت تیزی سے آنکھیں بند کرکے سانس لیے جارہی تھی۔
اذلان نے پہلی مرتبہ اسراء کو دیکھا۔
اور دیکھتا ہے رہ گیا۔
بکھری سیاہ زلفیں، رنگت تو گندمی تھی، پر خوبصورت دراز پلکیں ، عنابی ہونٹ، اذلان کو اس سے پہلے کبھی کسی لڑکی نے اس حد تک ایک نظر میں اٹرایکٹ نہیں کیا تھا۔ و بے اختیار سا ہوگیا۔
اسراء دونوں ہاتھ سر پر رکھی آنکھیں بند کئے کانپ رہی تھی۔ دوپٹے سے بےخبر ، لیموں رنگ لباس میں بہت معصوم لگ رہی تھی۔ اچانک ہے دوبارہ دھماکہ ہوا اور روشنی گل ہوگئی۔ اسراء پھر سے چیخ پڑی۔
اذلان نے ایک jhtky سے اسراء کو اپنی جانب کھینچا وہ اسکے c سینے سے آلگی۔
اور ہوش و حواس سے بیگانہ ہوگئی۔
مگر اذلان کو بری طرح اپنی سحر میں جکڑ چکی تھی۔ وہ اپنی کیفیت سے بخبر تھا۔
جنریٹر کی آواز آئی۔ روشنی آگئی۔
اذلان نے اُسکا بے سد وجود بستر پر ڈالا اور نیچے بابا کو بلانے چلا گیا۔
______——-________
اللہ نے انسان میں چیزوں کی محبت نہی رکھی بلکہ “حُبُّ الشَّھْوٰتْ ” ان چیزوں کی “شہوت” کی محبت رکھی ہے، یہ چاہ عزیز ہوتی ہے ، اس خواہش کے پیچھے انسان بھاگتا ہے ، اس خواہش سے محبت رکھتا ہے ، چیزیں ، انسان، مرعات یہ سب نہیں چاہئیے ہوتیں ، لگتا ہے جیسے یہ سب ضروری ہیں یہ سب چاہئیے ان کے بغیر زندگی نا مکمل ہے ، یہ سب ہوگا تو بس پھر کوئی کمی نہیں رہے گی ۔ زندگی پرفیکٹ ہو جائے گی ، لوگ ہمیں رشک آمیز نگاہوں سے دیکھیں گے ، ہم مثالی ہو جائیں گے (آئیڈیل یو نو!)
لیکن شاید یہی وجہ ہے کہ “اس دنیا کی زندگی کو دھوکہ کہا گیا ہے”
جب ہمیں وہ مل بھی جائے جو چاہئیے، جو پہلے نہیں تھا، تب بھی بلکہ تب ہی ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ سب جو چاہ رہے تھے یہ تو کچھ بھی نہیں تھا ، اس شے کی تو اہمیت ہی نہیں تھی ، اہم تو خواہش تھی جو “پوری” ہو گئی اور ؟؟ اور “ختم” ہو گئی
اور اگر ہر خواہش پوری ہو جائے تو کیا ہوتا ہے ؟ کیا رہ جاتا ہے باقی ؟ ایک خالی پن ، ایک خلا ۔
یہ خلا کسی چیز کی غیر موجودگی سے ملنے والی کمی سے مختلف ہوتا ہے۔
بہتر ہے کمی رہ جائے ، بہت بہتر ہے جو اللّٰہ ہر دروازہ نہیں کھولتا ، الحمداللّٰہ جو ہر خواہش پوری نہیں ہوتی۔ کمیاں بہتر ہیں تو کیا اگر آپ یا میں آئیڈیل زندگی نہیں گزار رہے ، زندہ تو ہیں ! کیا یہ کم ہے ؟ یہ وبا کتنوں کو لے چکی ہے مگر ہم اور ہمارے گھر والے محفوظ ہیں الحمداللّٰہ
کیا آپکی زندگی کی اہمیت ہر اس شے کی اہمیت سے زیادہ نہیں ہے جسکے پیچھے آپ بھاگ رہے ہیں!!♥️
سیدہ باجی کی آواز ماحول کو سحر زدہ کر رہی تھی۔ روزینہ نے ریکارڈ کر کے اسراء کو بھیجی ۔
____—–______
اسراء کو جب ہوش آیا تو اسے یاد آیا کے اُس نے آخری بار کمرے میں اذلان کی آواز سنی تھی۔
وہ خوفزدہ ہوگئی۔ یا اللہ مجھے کچھ یاد نہیں۔ یا اللہ یہ کیا ہوگیا۔ اللہ جی مجھے معاف کردیں وہ دل ہی دل میں دعائیں کرنے لگی۔
ایک عجیب سی بےچینی نے اسے گھیر لیا تھا۔
سکندر صاحب اُسکی اس حالت کو کے کر بہت پریشان ہو گئے تھے۔
سکندر صاحب اسراء کے پاس تھے۔ اچانک یونہی نیچے سے اذلان کی بلند آواز آئی۔ و نیچے کی جانب گئے۔
کیا ہوا ہے کیوں شور کر رہے ہیں آپ؟
میںنے فیصلہ کرلیا ہے بابا۔
اسراء کی شادی اسد سے نہیں ہوگی۔
اذلان دو ٹوک لہجے میں بولا۔۔
مسز سکندر بولیں۔۔ خدارا اسکو سمجھائیں۔
آخر بات کیا ہے اذلان۔ کل ان دونوں کا نکاح ہے۔
بابا جان میں خود اسراء سے شادی کرنگا۔ گویا اُس نے سب کی سماعتوں پے بم پھوڑا تھا۔
کیا؟؟؟
سکندر صاحب چیختے ہوئے بولے
۔۔۔۔
❣️❣️❣️❣️
جاری ہے

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *