میرئ محرم- قسط نمبر 2

میرئ محرم
قسط نمبر 2
مصنفہ:مومنہ عدن

بیٹھک سے نکلتے وقت اذلان کی نظر سیدھا اُس لڑکی پے گئی جو منہ ڈھک کر اندر کی طرف بھاگی تھی۔
اذلان کو ایسی لڑکیاں بالکل پسند نہیں تھیں جو عبایا پہنتی ہیں۔وہ لندن میں تعلیم حاصل کر کے آیا تھا اور انتہائی آزاد خیال،دین سے دور تھا۔
اُس نے حقارت سے دیکھ کر منہ پھر لیا۔ اسراء کی ماں بولیں ، اؤ اذلان بیٹا، بیٹھو ۔۔
اذلان نے فون کال بند کی اور نفی میں سے ہلا دیا۔ و یہاں نہیں انا چاہتا تھا مگر بابا کے مجبور کرنے پر آگیا۔ کیوں کے اُسکی بہن کی شادی تھی اور وہ لوگ دعوت دینے آئے تھے۔
دعوت دینے کے بعد سکندر صاحب اذلان کے والد نے اجازت مانگی۔ اور چل دیے۔
__–__—-____—___

بابا جان کہیں سے بھی نہیں لگتا کے حیدر چاچو آپکے سگے بھائی ہیں۔آپ میں اور اُن میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔
بیٹا خون کے رشتے کسی تعارف کے محتاج نہیں ہوتے ، اور فرق انسانوں کی اپنی تخلیق ہیں۔ میں نے کبھی ایسا نہیں سوچا۔اور آپ بھی فرض
ہے کے اُنکا ادب بجا لایں۔
بابا آپکو معلوم ہے مجھ میں سو خرابیاں سہی مگر کبھی بھی میں نے تمیز کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔
Anyway what’s about uncle’s strange daughter? Hahhaha
وہ اسراء کی بات کرتے ہوئے ہنس پڑا۔سکندر کو یہ بات پسند نہیں آئی۔
بیٹا و تمہاری چاچو زاد ہے۔ اور انتہائی دیندار ، با تمیز، با ادب بچی ہے۔
اور وہ با ادب بچی آپکو ملنے بھی نہیں آئی۔ اور مجھے دیکھ کے ایسی بھاگی جیسے کبوتر بلی کو دیکھ کے بھاگتا ہے۔🤣🤣🤣
بیٹا وہ شرم و حیاء کی پیکر ہے۔ شاید تمہیں دیکھ کر نہ آئی ہو ورنہ وہ مجھ سے بہت خوش دلی سے ملتی ہے۔
چھوڑیں بابا مجھے بتائیں آپ کب جارہے ہیں رشتہ لینے دانیہ کے گھر؟

بہت جلد۔۔۔ البتہ میں ایک بار اُسکی عادات و اطوار دیکھنا چاہتا ہوں۔

بابا وہ مجھے پسند ہے جیسی بھی ہے۔ ہم لوگ پسماندہ سوچ کے مالک نہیں ہیں۔
بیٹا سوچ کی بات نہیں ہوتی ہے شریف خاندان میں روایت ہے کے وہاں آنے والی لڑکی کے بارے میں معلوم کریں ۔
اتنا کہہ کر وہ فون پے مصروف ہو گئے اور اذلان دانیہ کے بارے میں سوچنے لگا۔
_____———_______

وہ درس میں بیٹھی انتہائی غور سے سن رہی تھی۔
الله بڑا رحیم و کریم ہے۔ و ہمارے گناہوں کو چھپاتا ہے بے پردہ نہیں کرتا ۔ وہ فرماتا ہے تم گناہ کرتے کرتے آسمان تک لے جاؤ معافی مانگ لو میں معاف کردوں گا۔
اور ہم جیسے لوگ مسلسل نافرمانی کر رھے ھیں۔
اللہ ہمیں ہدایت نصیب فرمائے۔
آمین
______———-_______

اسراء درس کو دھیان سے سنتے ہوئے بولی۔۔
سیدہ باجی! اگر کوئی شخص جان بوجھ کر بار بار گناہ کرتا رہے اور بار بار معافی مانگے۔پھر بھی باز نہ آئے۔ تو ایسے لوگوں کے بارے میں کیا کہا جائے؟
اسراء بیٹا! اللہ کو معافی مانگنے والے لوگ بہت پسند ہیں۔ اور اللہ کو معاف کرنا بے حد بھاتا ہے۔ اللہ نے جہاں جہاں اپنی صفت قہار و جبار کا ذکر فرمایا ہے۔ ساتھ ہی فرمایا کے میں بہت غفور رحیم ہوں۔
یہ اللہ کی صفت ہے کے ہم لگاتار اُسکی نافرمانیاں کیے جارہے ہیں اور وہ ہمیں بخشے جارہا ہے۔ اسے تو بس بہانہ چاہیے ہمیں بخشنے کا۔
جو فرشتے شام کو ہمارے گناہ اُسکی بارگاہ میں لے جاتے ہیں۔ اللہ انہی کے ہاتھوں صبح ہمارا رزق بھیجتا ہے۔
پورا کمرہ سبحان اللہ کی صداؤں سے گونج اٹھا اور اسراء کے دل میں ایمان مزید پختہ ہوگیا۔
_______———-__________

دانیہ اور اذلان ریسٹورانٹ میں بیٹھے تھے۔
اذلان کب بھیج رہی ہو امی ابو کو ہماری جانب؟
دانیہ جلد ہی بھیجنے کا ارادہ تو ہے۔ رامین کی شادی ہی جائے اسکے بعد ہم بھی کچھ سوچتے🙂
میں انتظار کرونگی۔ جلدی بھیجنا۔
فکر نہ کرو میری جان۔
اذلان نے دانیہ کے ہاتھوں کو چومتے ہوئے کہا۔ دانیہ ایک انداز سے بالوں کو جھٹک کر اسے دیکھنے لگی ۔ اور دونوں مزید گپ شپ کرنے لگے۔
________——______

پُتر اپنی سری چیزیں یاد سے رکھ لی ہیں نہ۔ ؟
جی امی جان رکھ لی ہے۔ پر میرا ابی بھی جانے کو دل نہیں کر رہا امی جاں۔
ارے میری بچی ہم تُجھے اکیلا بھی کہاں چھوڑ کے جائینگے بھلا۔؟
اسراء نے اُداسی سے منہ بنا لیا۔😓
اور تیاری مکمل کرنے لگی۔
______-_———-___…

ارے واہ آج تو اسراء بیٹی آئی ..
مسز سکندر بولیں۔
جی چاچی السلام وعلیکم۔
وعلیکم السلام۔ پر یہ تم نے کیا حلیہ بنا رکھا ہے۔
سکینہ بھابی آپ کو ساری زندگی اوڑھنے پہننے کا سلیقہ نہیں آیا اور وہی آپ نے اِس کو بھی سیکھا دیا۔
بجائے اُنہیں ملنے کے وہ اُن کو طنز مارنے لگیں۔۔
سکینہ بیگم نے مسکرا کر ہاتھ آگے بڑھا دیا جو انہوں نے نخوت سے تھام لیا۔
___—–_____

رامین بھی اپنی ماں کی کاپی تھی۔ جسکو افسوس ہونے لگا کے اُسکی شادی پے اتنے پسماندہ رشتےدار کیوں بلائے گئے۔
اسراء نے نہایت سلیقے سے سر ڈھک کر ساتھ ایک شال لپیٹ رکھی تھی ۔
مہندی کا فنکشن گھر میں ہی رکھا گیا۔ گھر کو بہت خوبصورت طریقے سے پھولوں سے سجایا گیا۔
رامین نے پنک شرٹ اور کنٹراسٹ لہنگا پہن رکھا تھا اور دوپٹہ ایک طرف گردن کی زینت تھا۔ پھولوں کی جیولری کھولے بال اور نفاست کے ساتھ کیا گیا میک اپ اُس کے حسن میں اضافہ کر رہے تھے۔
اسراء نے سرخ اور سبز امتزاج کا فروک پہنا دوپٹے کو سے پے اوڑھ کر چادر کندھے پے پھیلا لی۔
اُس نے ایک الگ تھلگ میز کا انتخاب کیا جہاں اسے کوئی دیکھ نہ سکے۔ اور بیٹھ گئی۔
_____———-________

اذلان آگے پیچھے کام میں مصروف تھا۔ اچانک اُسکی نظر اسراء پے پڑی۔
اُس نے نخوت سے سے جھٹک دیا اور دانیہ کو دیکھنے لگا تو آدھے لباس میں ملبوس ہر کسی کی توجہ کی مرکز تھی۔
اچانک ایک زور دار دھماکہ ہوا اور سب کی چیخیں بلند ہوئیں۔ بتیاں گل ہوگئی۔ ٹرانسفرمر جل گیا تھا۔ ملازم جرنیٹر آن کرنے بھآگے۔
اسراء بھی خوفزدہ ہو کر آیات ال کرسی کی تلاوت کرنا شروع ہوگئی۔
اور اٹھ کر اپنی امی کی جانب بھاگی۔۔مگر ساتھ بنا پول اندھیرے میں تالاب نہیں دیکھ پائیں اور پاؤں پھسلنے کے باعث اُس میں گر گئی ۔
اُس کے گرنے سے آواز پیدا ہوئی اور اُسکی چیخ بھی سب نے سنی۔ اسی وقت لائٹس آن ہوگئیں۔
اذلان تالاب کی جانب بھاگا۔ اور کود گیا۔ جا کر اسراء کو ہاتھوں میں اٹھایا۔ جو ہوش و حواس سے بیگانہ ہوچکی تھی۔
______———–_______

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *