ایک پاگل سی محبت -24

دادا جان داداجان کہاں ہیں آپ ۔۔۔عادی دادا جان کو پکارتا ہال میں داخل ہوا تھا۔۔۔جہاں دادا جان کے ساتھ اشفاق صاحب اور اسحاق صاحب دونوں بیٹھے شام کی چائے پی رہے تھے ان کے ساتھ ہی گھر کی خواتین اور اظہر بھی شامل تھے۔۔۔کیا ہوا ہے برخوردار خیریت ہے نا۔۔۔اس کے پکارنے پہ سب اس کی طرف متوجہ ہوئے تھے۔۔۔جس پہ اسحاق صاحب نے اس سےپوچھا تھا۔۔۔خیریت ہی تو نہیں چاچو جان۔۔۔کیا مطلب ہے سیدھی طرح بات بتاو ایسے کیوں بول رہے ہو اب کی بار دادا جان بولے تھے۔۔۔میں کچھ کہنا نہیں بلکے دیکھانا چاہتا ہوں۔۔۔کیا دیکھانا چاہتے ہو۔۔۔عادی نے اپنےہاتھ میں پکڑا لفافہ دادا جان کی طرف بڑھایا تھا۔۔۔سب چہرےپہ سنجیدگی لائے انہی کی طرف متوجہ تھے۔۔۔کیا ہے اس میں ۔۔۔۔دادا جان نے آئی برو اٹھاتے ہوئے لفافے کی طرف اشارہ کرتے پوچھا تھا۔۔۔آپکی اجازت کا ناجائز فائدہ۔۔۔عادی نے سنجیدگی سے جواب دیا تھا۔۔۔کیا۔۔؟اب کی بار اسحاق صاحب نے پوچھا تھا شاید انہیں اندازا ہو گیا تھا کے کس کے بارے میں بات ہونے جا رہی۔۔۔آپ کھول کے دیکھ لیں۔۔۔اس کی بات سنتے دادا جان نے لفافہ کھولا تھا سب دم سادھے انہیں ہی دیکھ رہےتھے دادا جان جوں جوں تصویروں جو دیکھنے لگے تھے غصہ شرمندگی اور پچھتاوے سے ان کا چہرہ لال ہونے لگا تھا۔۔۔ان کو دیکھتے ہال میں موجود سب لوگ ان کے چہرے اور حالت دیکھ کے اندازا لگا سکتے تھے کے کچھ غلط ہے ۔۔۔بابا جان کس کی ہیں یہ تصویریں۔۔۔اور کیا ہے ان میں۔۔۔اشفاق صاحب دادا جان کی بگڑتی حالت کو دیکھتے یوئے ہوچھے بنا رہ نہیں سکے تھے۔۔۔ دادا جان نے ہاتھ میں پکڑی تصویریں ان کی طرف بڑھائی تھی جیسے سب باری باری دیکھنے لگے اب کی حالت داداجان جیسی ہی تھی۔۔۔ابھی وہ سب دیکھ رہے تھے جب ماہی نے ہال میں قدم رکھے تھے۔۔۔اس کے جوتے کی آواز سے سب اس کی طرف متوجہ ہوئے تھے۔۔

تنہائی انسان کے وجود سے چمٹا ہوا وہ خوں آشام چیونٹا ہے جو اس کے وجود سے قطرہ قطرہ ساری سانسیں چوس لیتا ہے ، کہنے والے کیا خوب کہتے ہیں ، تنہائی بندے کو خدا سے ملنے کا موقع دیتی ہے ، مگر کیا خبر ان کہنے والوں کو ؟ کس قدر تکلیف دہ مراحل طے کر کے انسان اس مقام پر پہنچتا ہے ، جب باہر تو دنیا کی رونقیں ، مگر اندر دل رونق سے خالی ، نہ سورج کا چمکنا کوئی معنی رکھتا ہے نہ چاند کا دمکنا ، نہ کسی دوست سے ربط ، نہ کسی خیر خواہ سے کچھ ضبط ، خاموشیاں بہت اچھی جبکہ محفلیں زہر لگتی ہیں ، کیونکہ درد اتنا گہرا ہوتا ہے کہ الفاظ ان کی گہرائیوں کو ناپنے سے قاصر ہوتے ہیں ، کتنی زبانیں سیکھی انسان نے ، کتنی رنگ برنگی بولیاں بولتا ہے انسان ، مگر صبرو ضبط کی زبان اللہ کے سوا نہ کوئی سمجھتا ہے ، نہ کوئی سمجھ پائے گا ، اللہ کے علاوہ نہ کوئی دل مضطر کو سکوں دے سکتا ہے اور نہ کوئی دے پائے گا ، اللہ ہی ہے جو ٹوٹے ہوؤں کو کرتا ہے مکمل ، اور مکمل بھی ایسا کہ یوں لگے جیسی کبھی ہلکی سی تڑیڑ بھی نہ آئی ہو جسم و جاں پر ، ساری بڑائی و کبریائی اللہ کو ہی زیبا ہے۔*کچھ لوگ تباہ حال لوگوں کے پرسان حال بنتے ہیں اور کچھ لوگ ہنستے کھیلتے لوگوں کو زندہ قبر میں اتار دیتے ہیں۔ آفریں ان لوگوں پر جن کے دلوں میں انسانیت کی مدد و فلاح کا جذبہ موجزن ہے ۔۔۔
ڈاکٹر احمد حسن بول رہے تھے اور زمار کو لفظ اپنی روح میں اترتے محسوس ہو رہے تھے۔۔۔اسے ان کا ہر لفظ اپنی آب بیتی لگ رہا تھا۔۔۔۔زمار نے سر چئیر سے لگا کے اوپر دیکھا تھا اور دل ہی دل میں اپنےخدا سے مخاطب ہوا تھا۔۔۔پلیز اللہ جی میرے دل کو سکون عطا کر دیں اگر وہ میرے حق میں بہتر نہیں تو پلیز میرے دل کو اپنی رضا کی طرف موڑ دیں۔۔۔۔

یہ سب کیا ہے ماہی۔۔۔ کیا ہے یہ سب ۔۔۔ہم نے تمہیں صرف گانے کی اجازت دی تھی۔۔۔اور تم یہ سب کیا کرتی پھر رہی ہو۔۔۔اووو تو انہوں نے بات پہنچا دی واو۔۔۔فاسٹ سروس ہاں۔۔۔ماہی نے عادی کی طرف دیکھتے ہوئے طنز اور حقارت سے دیکھتے کہا تھا۔۔۔۔بکواس بند کرو اپنی اور جو بابا پوچھ رہے اس کا جواب دو۔۔۔راحیلہ بیگم نے بہت مشکل سے اپنا ہاتھ روکا تھا اس کے اندازپہ۔۔۔کیا کیا ہے ایسامیں نے جو آپ سب یوں عدالت لگائے بیٹھے ہیں۔۔ گانا گانا ٹیلنٹ ہے اورجب اس فیلڈ میں قدم رکھاہے تو یہ سب تو کرنا پڑےگا نا۔۔۔گانا ایک ٹیلنٹ ہے لیکن یہ بے حیائی ہےسمجھی تم۔۔۔اسحاق صاحب غصے سے بولے تھے۔۔ برہنا کپڑے پہن کے اپنی نمائش غیر مردوں کے سامنے کرنا کم از کم ٹیلنٹ نہیں ہو سکتا مس ماہ نور اسحاق شاہ۔۔۔عادی نے اسے طنز بھرے انداز میں کہا اور اپنے کمرے کی طرف جل دیا۔۔۔اس کے الفاظ کے جواب میں ماہی کو واقعی اپنا قدم غلط لگا تھا لیکن وہ بھی بولے بغیر سب کو وہی بولتے اور غصے میں چھوڑ اپنے کمرے میں چلی گئی تھی۔۔۔۔۔

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *