ایک پاگل سی محبت -23

ایک پاگل سی محبت
اذ قلم#مائرہ
قسط23

اسلام علیکم ۔۔۔امید کرتا ہوں آپ سب خیریت سے ہوں گے۔۔۔میں آپ سب کا شکر گزار ہوں کے آپ لوگ اپنے قیمتی وقت میں سے میرے لیے وقت نکالتے ہیں۔۔یہ یہ چھوٹا سا ایک نما کمرا تھا جس میں ہر عمر کے لوگ بیٹھے آنے والے کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔جس میں شایان اور زمار بھی شامل تھے۔۔زمار کو یہاں اس کے بزنس پارٹنر اظہر صاحب لائے تھے جو خود آنے والے بندے کے بہت بڑے فین تھے۔۔۔۔لیکن میں کہتا ہوں در حقیقت یہ وقت آپ سب اپنے لیے نکالتے ہیں ۔۔۔کیونکہ سنا تو ہو گا کے لفظ تاثیر رکھتے ہیں ۔۔۔ہم کسی قسم کے دکھ میں مبتلا ہوتے ہیں تو لفظوں کی ضرورت ہوتی ہے دکھ سے نکلنے کے لیے۔۔۔جب ہمت ہار جاتے ہیں آگے بڑھنے کے لیے لفظوں کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔جب ناکام ہو جاتے ہیں تو کسی کےالفاظ ہمیں ہمت دیتے ہیں جوش دیتے ہیں جو ہمیں کامیاب کرنے کے لیے کافی حد تک حصہ دار ہوتا ہے۔۔۔میں یہ سب آپ سے اپنے ایکسپیرینس سے کہہ رہا ہوں۔۔۔آج ہم سب پریشانیوں میں پھنسے ہیں۔۔۔اور پریشانی میں مبتلا انسان اگر صرف پریشانیوں میں ہی مبتلا رہے اور خدا سے رجوع کرنے کی بجائے دنیاوی مسئلوں میں ہی الجھا رہے تو اللہ پاک بھی اس کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔۔۔اور احادیث میں بھی ہے کہ ۔۔۔جو اللہ کو چھوڑ کے دنیا کی پریشانیوں،مسئلوں میں الجھا رہے اس پاک ذات سے رجوع نا کرے تو وہ جہاں مرضی جائے۔۔۔آج کا انسان اتنا مصروف ہو گیا ہے کے اپنے لیے وقت نہیں۔۔۔اور جب اپنے لیے وقت نہیں تو اپنے دنیا و آخرت سنوارنے کا کیسے ہو گا۔۔۔اور جب یہ سب نہیں ہو گا تو ہمارے حالات پھر ایسے ہی ہوں گے۔۔۔کبھی زلزلے آئے گے، کبھی سیلاب ،کبھی وبا ۔۔۔خدا نے ہمیں اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے نا۔۔اورانسان غافل ہے ہرچیز سے اورعبادت صرف نماز پڑھنا،روزےرکھنا،حج کرنا وغیرہ نہیں اس لیے ہی نہیں بس انسان پیدا کیا گیا۔۔۔کیونکہ اگر صرف عبادت ہی ہوتی تو ایک دن میں ستر ہزار فرشتے خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہیں اور قیامت تک پھر ان کی باری نہیں آئے گی۔۔۔فرشتے ہر وقت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پہ درود پڑھتے ہیں اور فرشتوں کی تعداد کتنی ہے یہ صرف اسی پاک ذات کو پتا ہے۔۔۔اس لیے عبادت میں کسی کے آنسوں پونچھنا کسی کو خوشی دینا کسی کی مدد کرنا کسی کی افلاح کرنا ،اولاد کی نیک تربیت کرنا۔ہے اور اللہ تعالی کو وہ بندہ بہت پسند ہے جو مشکل میں صرف اپنے اللہ سے مدد مانگتا ہے۔۔اس کی رحمت مانگتا۔۔اور یہ سب کر کے ہم اللہ تعالیٰ پہ کوئی احسان نہیں کرتے ۔۔۔کیونکہ کنواں پیاسے کے پاس نہیں جاتا پیاسا کنواں کے پاس جاتا۔۔۔اور دیکھوں اس رب کی عظمت یہ ہے ۔۔۔کہ ہم اپنی پریشانی کے لیے اسے یاد کرتے ہیں اور ایک تو پریشانی میں آسانی اوربہترین کرنے کا وعدہ اور دوسرا مرنے کے بعد جنت ۔۔۔۔پھر بھی اگر ہم آج بھی اس سے اس کی رحمت نا مانگے تو کتنے دکھ اور بد قسمتی کی بات ہے۔۔۔۔اگر آپ سب اپنی زندگی میں بھلائی اور کامیابی چاہتے ہیں توخدا کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو تا کے ہماری دنیا اور آخرت میں بھلائی ہو سکے۔۔۔اس ذات کو پہچانوں اس کیونکہ جب ایک انسان کسی کو پہچان جاتا ہے نا تو ہی اس کی عزت اور احترام اوراس سے پیار کرتا۔۔۔میں ایک دفعہ اپنے ایک دوست کے ساتھ اپنے ایریے کے ڈی ایس پی سے ملنے گیا تھا بہت گرمی تھی سورج ایسے جیسے سوا نیزے پہ ہو ۔۔
اور ہم لوگ تھانے گئے تو ایک راستا چھوٹا تھا یعنی شورٹ کٹ روٹ تھا اور ایک بہت لمبا راستا تھا۔۔۔لیکن گرمی کو دیکھتے ہوئے ہم لوگ شورٹ رستے سے گئے تو گیٹ پہ چوکیدار بیٹھا تھا کہتا کدھر ۔۔۔ہم نے کہا کے بھائی ہمیں ڈی ایس پی سے ملنا۔۔۔تو کہتا اوووو لمبے رستے تو آو ۔۔۔میں کہا بھائی بہت گرمی ہے ۔۔۔ہمیں ادھر سے ہی جانے دو۔۔۔لیکن وہ کہے نا دوسری طرف سے آو اور دوسری طرف ایک تو گرمی اور دوسرا اینا لمبا راستا ہم نے اسے کہا بھائی صاحب بہت گرمی ہے جانے دو تو کہتا چلوں پچو ایتھو کوئی نہیں۔۔۔اس نے دراصل ہمیں پہچانا نہیں تھا۔۔۔پھر میں نے اپنا تعارف کروایا کے میں ایس ایچ او ہوں اور میرے بتانے کی دیر تھی وہ فٹا فٹ کھڑا ہوا اور سلیوٹ مار کےمعافی مانگنے لگا۔۔۔خیر ہم لوگ اندر چلے گئے لیکن یہ واقع ایک سبق دے گیا کے جب تک انسان پہچانتا نہیں کسی کو تب تک اس کی طرف بڑھتا نہیں ۔۔۔جس دن اس ذات کو پہچان جاو گے اپنا آپ صرف اس کے سامنے کھولو گے اپنے غم اس سے کہوں گے تو ایک تو دنیا کی رسوائی اور شرمندگی سے بچ جاو گے کیونکہ ہم جب کسی انسان سے اپنے دکھ پریشانیاں کہتےہیں اس کے سامنے روتے ہیں وقتی طور پہ چاہے وہ آپ کو دلاسا دے دے لیکن بعد ازا کبھی نا کبھی وہ مذاق ضرور اڑاتا لیکن وہ پاک ذات ایسا نہیں کرتی۔۔۔وہ سب سنتا دیکھتا دلوں کے حال بھی جانتا آپ کی پریشانیاں بھی پتا اسے لیکن وہ صرف آپ کے اس کی طرف اٹھائے گے ایک قدم کا منتظر ہے۔۔۔۔آپ ایک قدم اٹھائے گے وہ دس قدم آپ کے قریب ہو گا۔۔۔۔یقین مانے وہ بڑا رحم کرنے والا رحمت کرنے والا ہے اس سے اپنے پریشان حال دل کا دکھ بانٹے ۔۔۔پریشانیاں ہلکی لگنے لگیں گی۔۔۔پورے کمرے میں سکوت سا چھایا تھا اور صرف ڈاکٹر احمد حسن کی آواز اس کمرے میں گھونج رہی تھی۔۔۔جو کے موٹیویشنل لیکچرز دیتے تھے۔۔۔اور لوگوں کی فلاح کی کوشش کرتے تھے۔۔۔ان کے چپ ہونے پہ سارے حال میں تالیاں گھونجی تھی۔۔۔

مس ماہ نور آپ ایک بار اپنی لک چیک کر لیں پھر ہمیں شوٹ کے لیے جانا ہے۔۔۔جی آپ چلیں میں آتی ہو۔۔۔ماہی چیئر سے اٹھتی شیشے کے سامنے کھڑی ہوئی خود کو دیکھنے لگی۔آج اس کا ایز اے ماڈل پہلا شوٹ تھا جس میں اسے نیلے رنگ کی سلیوزلیس ٹائٹ شارٹ شرٹ جو کے پنڈلیوں تک ہی تھی با مشکل پہنائی گئی تھی اور ساتھ کافی ہیوی میک اپ کیا گیا تھا۔۔۔خود کو دیکھتی وہ اس لمحے سے ڈر رہی تھی جب وہ گھر والوں کا سامنا کرے گی۔۔۔ ۔۔بابا نے مجھے اس طرح دیکھ لیا یا گھر والوں نے تو وہ کیسا ری ایکٹ کریں گے۔۔۔سوچ کے ہی ڈر لگ رہا ہے کیا کروں۔۔۔ نا کروں شوٹ ۔۔۔۔نہیں ماہی نہیں یہ تو کامیابی اور فیم کا پارٹ ہے اور صرف بازو ہی تو دیکھ رہے ہیں باقی تو سارا کور ہی ہے نا سو یہ میرے کام کا حصہ مجھے کرنا ہی ہو گا۔۔۔مس ماہ نور آجائے۔۔۔ماہی مزید سوچتی جب اسے پھر سے اس کی سیکٹری کیآواز آئی اوروہ سارے خیالات جھٹکتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔۔۔جب ہم برائی کی طرف ایک قدم بڑھاتے ہیں نا تو شیطان ہم پہ حاوی ہونے لگتا۔۔۔وہ انسان کو بٹھکانے کے لیے اس کے دل میں وسوسے ڈالتا جس سے انسان وسوسو میں گھیرا برائی کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے دل لاکھ سمجھائے ضمیر لاکھ ملامت کرے لیکن وہ مختلف حیلے بہانوں سے خود کو تسلی دیتا برائی کی طرف بڑھتا رہتا۔۔۔۔۔اور ماہی کے ساتھ بھی شاید ایسا ہی تھا۔۔۔دل میں ڈر تھا کے گھر والے کیسا ری ایک کرے گے۔۔۔اور جو وہ کر رہی غلط ہے لیکن اس کا نفس اور شیطان اس پہ حاوی ہو رہا تھا ۔۔۔ ماہی کیمرے کے سامنے کھڑی مختلف شاٹز دے رہی تھی اور کیمرا مین اسے ادھر سے ادھر کبھی ایسے تو کبھی ویسے کھڑے ہونے کو کہہ رہا تھا اور وہ اس کے کہنے پہ عمل کرتی ویسے ہی کر رہی تھی۔۔۔وہاں موجود ہر شخص کی نظر اس پہ تھی۔۔۔کوئی اس کے سراپے کو دیکھتا تو کوئی اس کے اداوں کو اسے ان سب کی نظریں عجیب لگ رہی تھی لیکن وہ خود کو مطمئن دیکھاتی ان سب کو اگنور کیے فوٹو شوٹ کروا رہی تھی۔۔۔۔تقریبا ایک گھنٹے کے بعد اس کا شوٹ ختم ہوا تھا۔۔۔وہ اپنے آفس میں آ کے بیٹھی ہی تھی جب مینیجر اس کے پاس آیا تھا۔۔۔اس کے دروازے پہ دستک دینے سے ماہی جو چیئر سے سر ٹکائے آنکھیں موندے کچھ سوچ رہی تھی چونکتی اٹھی تھی۔۔۔ارے آپ آئے نا۔۔۔پلیز بیٹھیں۔۔۔ماہی اسے دیکھتی کھڑی ہوئی تھی۔۔۔لگتا کافی تھک گئی ہیں۔۔۔۔وہ اس کے چہرے کو دیکھتا بولا تھا۔۔۔جی بس ابھی فری ہوئی ہو۔۔۔اؤوووو سہی ۔۔۔سب ٹھیک ہے نا مطلب گھر والے۔۔۔مینیجر نے اسے دیکھتے جیسے سب جانتے ہوئے کہہ رہا تھا۔۔۔جی جی سب ٹھیک ہے۔۔۔نہی اگر کوئی مسئلہ ہے تو مجھ سے شیئر کر سکتی ہو۔۔۔دراصل میرے خاندان میں ایسی ڈریسنگ کی پرمیشن نہیں ہے بس اسی بارے سوچ رہی تھی۔۔۔ماہ نور آپ ایک سٹار ہو اور سٹار کو سٹار بنے رہنے کے لیے یہ سب تو کرنا پڑتا ہے نااور آپ انڈیپینڈنٹ ہو آپ کو ان کی کیا ضرورت اب بلکے ان کو اب آپ کی ضرورت ہے۔۔۔سو یہ سب چھوڑ کے اگے کا سوچوں تمہاری تو آواز نے ہی ہمارے کنسرٹس کی ٹی آر پی بڑھا دی ہے اور آج کا یہ شوٹ پوری انڈسٹری میں تھلکا مچا دے گا ۔۔۔ہر کوئی تمہیں اپنے پروجکٹز کے لیے شوٹ کرنے کا خواہش مند ہو گا۔۔۔۔سو اس پہ فوکس کرو۔۔۔اوکے ۔۔۔او کے ماہی نے ہنستے ہوئے جواب دیا تھا۔۔۔اچھا میں چلتا ہوں ۔۔۔مجھے کچھ کام ہے۔۔۔۔جی جی ٹھیک ہے
۔۔۔۔مینیجر کے جاتے ماہی سب کچھ دماغ سے نکالتی اٹھی تھی اور چینج کرنے کی غرض سے چینجنگ روم کی طرف بڑھ گئی تھی۔۔۔۔مینیجر اپنا کام کر گیا تھا۔۔۔دوسرے لفظوں میں شیطان اپنا کام کر گیا تھا۔۔۔اور شیطان کا تو کام ہی ورغلانا ہوتا ہے۔۔۔سو وہ کر گیا۔۔۔۔۔۔۔

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *