ایک پاگل سی محبت -22

ایک پاگل سی محبت
ازقلم#مائرہ
قسط 22

تو آتا ہے سینےمیں جب جب سانسیں بھرتی ہوں
کون تجھے یوں پیار کرے گا جیسے میں کرتی ہوں۔۔۔

ہوا کے جیسے چلتا ہے تو میں ریت جیسے اڑتی ہوں

کون تجھے یوں پیار کرے گا جیسے میں کرتی ہوں۔۔۔
اووووووو ہہہہہممممممم
میری نظر کا سفر تجھ پہ ہی آ کے روکے۔۔۔
کہنے کو باقی ہے کیا کہنا تھا جو کہہ چکے۔۔۔

میری نظر کا سفر تجھ پہ ہی آ کے روکے۔۔۔

میری نگاہیں ہیں تیری نگاہوں میں پہ۔۔۔
تجھے خبر کیا او بے خبر۔۔۔
میں تجھ سے ہی چھپ چھپ کر ۔۔۔
تیری آنکھیں پڑھتی ہوں۔۔۔
کون تجھے یوں پیار کرے گا جیسے میں کرتی ہوں۔۔۔
ہوا کے جیسے چلتا ہے تو میں ریت جیسے اڑتی ہوں۔۔۔
کون تجھے یوں پیار کرے گا۔۔۔جیسے میں کرتی ہوں۔۔۔۔

سٹیڈیم میں ہر طرف ہوٹنگ چیخوں و پکار ہو رہی تھی لوگ ماہی کی آواز پہ جھوم رہے تھے۔۔۔

تو جو مجھے آ ملا
سپنے ہوئے سر پھرے۔۔۔
ہاتھوں میں آتے نہیں
اڑتے ہیں لمحے میرے۔۔۔
میری ہسی تجھ سے
میری خوشی تجھ سے
تجھے خبر کیا او بے خبر۔۔۔
میں تجھ سے ہی چھپ چھپ کے تیری آنکھیں پڑھتی ہوں۔۔۔
کون تجھے یوں پیار کرے گا جیسے میں کرتی ہوں۔۔۔
اووووووو ہہہہہممممممم۔۔۔۔۔۔
ہر طرف شور تھا جیسے پیچھے چھوڑتی وہ سٹیج سے اترتی آفس کی طرف بڑھ گئی۔۔۔
کانگریجولیشنز مس ماہ نور شاہ آج کا کنسرٹ جتنا سوچا تھا اس سے بھی بڑھ کے گیا۔۔۔ریکارڈ ٹوٹ گیا۔۔۔تمہاری پہلی سیڑھی کامیابی کی طرف جس نے تمہیں اونچائی پہ پہنچا دیا۔۔۔پہلی کامیابی مبارک ہو۔۔۔۔مینیجر نے کافی جوش سے ماہی کو کہا جس پہ ماہی صرف مسکراتے ہوئے تعریف سمیٹتی ہوئی گھر کے لیے نکل آئی تھی۔۔۔آج اسے اتنی بڑی کامیابی ملی تھی پھر بھی وہ چاہ کے بھی خوش نہیں ہو پا رہی تھی۔۔۔اس کا دل اداس تھا۔۔وہ جس چیز کے لیے سب رشتے سب کچھ بھولائے آگے بڑھی تھی وہ چیز پا کے بھی اسے کسی قسم کی کوئی خوشی یا جوش نہیں محسوس ہوا تھا۔۔۔وہ سر جھٹکتی اپنی گاڑی میں بیٹھی اور گاڑی ہوا سے باتیں کرتی فراٹے بھرتی نظروں سے اوجھل ہو نے لگی۔۔۔لیکن کوئی تھا جس کی نظر نے دور تک اس کا پیچھا کیا تھا۔۔۔مبارک ہو سر ہماری پہلی کامیابی۔۔۔اب دیکھتے جائے کیسے ہمیں ہمارے مقصد میں کامیابی ملتی ہے جو چند قدموں کی دوری پہ ہے۔۔۔۔

اللہ حافظ دادو آپ اپنا خاص خیال رکھیے گا ۔۔۔اور دادا جان میری دادوکو دیادہ تنگ نا کریے گا ورنہ میں اپنی پارٹی بدل لوں گا۔۔۔ہاں پہلے تو جیسے میری ہی پارٹی میں ہو نا۔۔۔ائے بڑے۔۔۔دادا جان اداسی سے بولے تھے۔۔ہاں نا میں تو آپ دونوں کی پارٹی میں ہوں نا۔۔۔یار مجھے بھی کوئی پوچھ لو یار مجھے تو گھر والے بھی نہیں آئے چھوڑنے جیسے میں ان کا مانگواں بیٹا ہوں نا۔۔۔شایان نے بھی اپنا رونا رونا ضروری سمجھا۔۔۔زمار شایان آج امریکہ جا رہے تھے ان کو چھوڑنے زمار کے ماما بابا دادا اور دادی جان آئے تھے۔۔۔او کے بھئی جاو آپ کا نام اناونس ہو گیا ہے۔۔۔زمار اور شایان ایک بار پھر سے ملے اور اندر داخل ہق گئے ۔۔۔جب کے زمار تھوڑی دورجا کے روکا اور پلٹا۔۔۔شاید وہ آج بھی کسی کے انتظار میں تھا۔آج میں تمہیں بھولنے کے لیے تم سے ہی نہیں اپنے گھر اپنے ماں باپ دادا جان دادو جان اور اپنے ملک تک سے دور جا رہا ہوں۔۔۔محبت میں دھتکارے گئے شخص شاید یہی حال ہوتا یہی احساسات ہوتے ہیں۔۔کیا میں واقعی میں دھتکارا گیا ہو۔۔۔نہیں شاید ہاں۔۔۔وہ ابھی اسی کشمکش ۔یں تھا جب۔۔شایان نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا اور اسے آگے بڑھنے کو کہا جس پہ زمار سر جھٹکتے شایان کے ساتھ قدم ملاتے آگے بڑھ گیا۔۔۔اپنی جگہ پہ بیٹھتے ہی زمار نے آنکھیں بند کرتے سر سیٹ سے ٹکا دیا۔۔۔وہ کس اذیت میں مبتلا تھا کوئی نہیں جانتا تھا سوائے اس خدا کے اور وہ چاہتا بھی یہی تھا کے کوئی نا جانے ۔۔۔کیونکہ اسے ایک ہی سہارا اور ہم رازکافی تھا۔۔۔جس کا سہارا پا کے کوئی بے سہارانہیں ہوتا جو اندھیرے کے بعد روشنی لاتا وہی دکھ کے بعد خوشی لاتا۔۔۔۔وہی اس کےغم اوراذیت کو بھی ختم کرتے اسے سکون عطا کرے گا۔۔۔

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *