ایک پاگل سی محبت – 21

ایک پاگل سی محبت
ازقلم#مائرہ
قسط #21

آج امائمہ کی شادی کو گزرے دو دن ہو گئے تھے۔۔آج سب ناشتے پہ موجود تھے۔۔سب چھوٹی موٹی گفتگو کے دوران ناشتا کر رہے تھے سوائے ماہی کے اور فادی کے فادی ناشتے کرنے میں مکمل طور پہ مصروف تھا اور یہ پہلی بار تھا کہ وہ چپ چاپ بنا کسی کو بلائےبغیر سکون سے بیٹھا ناشتا کر رہا تھا ورنہ وہ تو ماہی کے ساتھ کسی نا کسی بات پہ اسے تنگ کرتا سب کو ہنساتا رہتا تھا۔۔۔جبکہ ماہی ناجانے کہا گم تھی ۔۔۔تم لوگوں کی لڑائی ہوئی ہے۔۔۔دادی جان نے دونوں کو خاموش دیکھتے پوچھا تھا۔۔۔نہی تو۔۔دادی جان کے پوچھنے پہ ماہی فورا سے مکر گئی تھی۔۔۔اور فادی نے تو ابھی بھی سر نہیں اٹھایا تھا۔۔پھر اتنی خاموشی کیوں ہے آج۔۔۔اب کی بار اشفاق صاحب نے پوچھا تھا۔۔۔پاپا اب ہم بڑے ہو گئے ہیں اس لیے بس خود کو کنٹرول کرنے کی کوشش شروع کر دی ہے۔۔ فادی نے انہیں جواب دیا اور پھر سے ناشتا شروع کر دیا جیسے اس سے بڑھ کےکچھ ضروری نہیں۔۔واہ بھائی ہمارا بچہ بڑا ہو گیا ہے۔۔اظہر نے اس کے کندھے پہ شاباشی دیتے ہوئے کہا تھا۔۔۔لیکن تم دونوں ایک بات یاد رکھنا میری بڑے ہوں خود کو کنٹرول کرو لیکن ایک حد تک بس لیکن اپنا بچپنا ختم نا کرو کیونکہ یہی چیز ہمیں زندگی جینے میں ہلپ کرتی ہے۔۔۔دادا جان اورپاپا جان مجھے آپ سے پرمیشن چاہئے۔ اظہر بات ختم کرتے دوبارہ ناشتاکرنے لگا جب ماہی نے لمبی سانس کھینچ کے بات کا آغاز کیا تھا۔۔۔ہاں بولو ہم سن رہے ہیں۔۔۔دادا جان نے اجازت دی تھی۔۔۔میرا آج شام کنسرٹ ہے۔۔۔میں سنگنگ کی فیلڈ میں جانا چاہتی ہوں۔۔۔اور لوگ بھی میری آواز کو پسند کرنے لگے ہیں اس لیےآج ایک کمپنی مجھے اسائن کرنا چاہتی ہے اور میں نے حامی بھی بھر لی ہے۔۔اس کے بتانے پہ سب دم سادھے اسے سن رہے تھے۔۔اورآگےکیا ہو گایہی دیکھ رہے تھے۔۔۔ماہی تم سے پوچھ سکتا ہوں کس کی اجازت سے اتنا بڑا فیصلہ لیا اور عمل کرنے بھی چل پڑی۔۔۔اور تم پرمیشن نہیں لینے آئی ہمیں بتانے آئی ہو۔۔۔لیکن میں اس کی اجازت نہیں دیتا تمہیں۔۔پاپا یہ میرا پیشن ہے۔۔اللہ نے مجھے اچھی آواز دی ہےتومیں اس سے کیوں نا فائدہ اٹھاؤ اور شہرت تو ہر کسی کو چاہئے ہوتی ہے اگر مجھےمل رہی تو اس میں کیا برائی ہے۔۔بیٹا یہ دنیا کی شہرت ہے یہی تک رہ جانی ہے لیکن آگے کی شہرت جو آسمانوں میں ایک مسلمان کو چاہیے ہوتی ہے اس کا کیا کروں گی۔۔۔اورتمہیں یہ تو پتا اللہ نے تمہیں اچھی آواز دی ہے لیکن کیا یہ نہیں پتا کہ اللہ نے عورت کی آواز کا غیر محرم سے پردے کاحکم فرمایا۔۔۔ لیکن تمہارہ قصور نہیں ہے کیونکہ آج کل کے دور میں بہت کم لوگ ہیں جو اسلام کو پوری طرح اپناتے ہیں ورنہ ہر انسان صرف اپنی خواہشات اور اپنی ذات تک ہی محدود رکھے ہوئے صرف اپنی مرضی جتنا ہی اسلام اپنائے ہوئے ہے ۔۔۔اور پھر کسی کے تصصیح کرنے پہ اسے اسلام کا حوالہ دے کے چپ کروا دیا جاتا۔۔۔بابا پلیز آپ میری بات کو سمجھیں اس فیلڈ کو لے کے آپ کے جو بھی ایشوز ہیں وہ اپنی جگہ ہیں ۔۔لیکن مجھے مت روکے۔۔۔کیوں نا روکے ہاں جب چھوٹے غلطی پہ ہوتے ہیں نا بڑوں کا فرض ہوتا انہیں سمجھانے کا بتانے کا انہیں سہی ڈریکشن دیکھانے کا فرض ہوتا ہے۔۔۔کب سے چپ بیٹھےاظہر نے پہلی بار گفتگو میں حصہ لیا تھا۔۔۔مجھے معاف کریے گا لیکن میں اجازت اپنےپاپا سےمانگ رہی ہوں یا دادا جان سے اس لیے باقی پلیز اس معاملے سے دور ہی رہیں۔۔۔ماہی تم اپنی حدسے بڑھ رہی ہو اس بار راحیلہ بیگم نے اسے ٹوکا تھا۔۔۔اس کے انداز پہ اظہرلب دبائے اٹھا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔ماہی کو اس نے سگے بھائیوں کی طرح پالا تھا اس کی چھوٹی سے چھوٹی خواہش پہ سر خم کیا تھا۔۔۔اپنی سگی بہن سے زیادہ عزت مان اور پیار دیا تھا۔۔لیکن اکثر اپنے ہی دل توڑتے اور مان تو ہوتا ہی شاید توڑنے کے لیے ہے۔۔۔ماہی کے انداز نے اسے بہت ہرٹ کیا تھا۔۔۔کیا کہہ دیا میں ہاں بتائے ماما کیا غلط کہا میں یہ سارے رشتے صرف کھوکھلے اور دکھاوے کے ہیں۔۔سارے صرف ایک مطلب کی حد تک ہی ایک دوسرے سے جوڑے ہیں۔۔۔کوئی بھی آپ کا ساتھ نہیں دیتا جب ہمیں ضرورت ہوتی ہے۔۔۔آخری لائن ماہی نےفادی کو دیکھ کے کہی تھی جو اپنی پلیٹ پہ جھکا بے نیاز کھانا کھا رہا تھا۔۔۔ماہی تم۔۔۔بسسس۔۔اس کے کہنے پہ پاپا ایک بار پھر اس کو کچھ کہنے کے لیے بولنے کو تھے جب دادا جان نے انہیں منع کر دیا تھا۔۔۔تمہیں جو سہی لگتاہے کرو اجازت ہے جیسے جینا چاہتی ہو جیو۔۔۔لیکن یاد رکھنا تمہارے کسی کام سے ہمارا نام یا عزت پہ حرف نا آئے۔۔۔تھینکس دادا جان۔۔ماہی کہتی اپنے کمرے کی طرف بھاگی تھی۔۔۔بابا جان آپ جانتے ہیں کے یہ سب ٹھیک نہیں اور ہمارے خاندان میں اس فیلڈ کو کیسا سمجھا جاتا آپ نے پھر بھی اجازت دے دی۔۔۔دیکھو بیٹا جب ایک انسان سمجھنا نہیں نا چاہتا تب آپ جتنی چاہے کوشش کر لیں جتنی مرضی دلائل اس کے سامنے رکھ دیں لیکن اس پہ اس کا رائی کے دانے جتنا بھی اثر نہیں ہوتا آپ کی دلائل کا۔۔۔اس لیے اسے وہ کام کر نے دینا چاہئے کیونکہ اگر آپ اسے روکو گے تو وہ غلط راستے اپنائے گا لیکن روکے گا نہیں اپنی کر کے ہی رہے گا۔۔۔ کیونکہ انسان ٹھوکرکھائے بغیر سمجھ جائے یہ ہونا مشکل نہیں ممکن ہے۔۔۔اور ویسےبھی ایک پرندے کو اڑنا سیکھانے کے لیے اسے بار بار گرنے دینا چاہئے تا کے اگلی بار مضبوطی سے اٹھے۔۔۔اور اگی بار اس کی اڑان بہترین اور درست سمت ہیں ہو۔۔۔۔دادا جان کے سمجھانے پہ اسحاق صاحب چپ ہو گئے تھے۔۔۔

زمار نے آج فیصلہ کر لیا تھابس اس فیصلے پہ عمل کرنا تھا لیکن اس سے پہلے گھر والو کو بتانا تھا۔۔۔وہ وہ اپنے کمرے سےنکلا اور لاؤنچ کی طرفبڑھ گیا جہاں سارے بیٹھے چائے پی رہے تھے۔۔۔اسلام علیکم۔۔۔وہ مشترکہ سلام کرتے دادا جان کے ساتھ بیٹھا تھا۔۔۔دادا جان دادی جان اور ماما پاپا مجھے آپ اے کچھ بات کرنی ہے۔۔۔ہا ں بولو بیٹا کیا بات ہے۔۔۔دادی جان نے اسے اجازت دی تھی۔۔۔میں امریکہ جانا چاہتا ہوں اگے کی پڑھائی وہی کرنا چاہتا ہوں اور پاپا کا بزنس بھی اب میں ہی وہاں سنبھالنا چاہتا ہوں۔۔۔لیکن بیٹا ابھی تو آپ کا رزلٹ بھی نہیں آیا اور ابھی آپ اپنی پڑھائی پہ دیھان دو بزنس ہوتا رہے گا۔۔۔ماما نے اس کی حالت دیکھتے ہوئے اسے نرمی سے سمجھایا تھا۔۔۔مجھے آج بھی بزنس سنبھالنا اور کل بھی تو پھر آج سے ہی کیوں نہیں اور جہاں تک بات رزلٹ کی ہے تو جب تک رزلٹ نہیں آتا تب تک بزنس پہ دیھان دوں گا یہ میرے لیے ہی اچھا ہے نا پلیز ۔۔۔لیکن بیٹا میں کیسے رہوں گی تمہارے بغیر تمہارذ باپ جب باہر گیا تھا تب تم تھے میرے پاس اس لیے میں نے اسے منع نہیں کیا لیکن تمہیں کیسے جانے دوں ۔۔۔دادی جان نے نم آنکھوں سے کہا تھا۔۔۔زمار صوفے سے اٹھ کے دادی جان کے پاوں میں دو زانو بیٹھ گیا کیا یار دادی جان آپ بھی ایسے ایموشنل ہو رہی ہیں اور بس کچھ سالوں کی بات ہےپھر سے واپس آجانا ہے نا ۔۔۔اورپھر پاپا اب یہی آپ کے باس ہوں گے نا۔۔۔لیکن تم تو نہیں ہو گے نا۔۔۔۔دادی جان کے کہنے پہ وہ لب بھینج گیا۔۔۔یہ فیصلہ اس کے لیے بھی بہت مشکل تھا لیکن اسے یہاں سے دور جانا تھا ورنہ وہ پاگل ہو جاتا ۔۔۔ماہی کی باتیں اور اس کا انداز نے اس کے دل و دماغ میں جنگ شروع کر دی تھی جسے چاہ کر کے بھی وہ ختم نہیں کر پا رہا تھا۔۔۔اسلیے وہ خود کو مصروف کرنا چاہتا تھا ان سب چیزوں سے دور ہو کر جس کا اسے یہی راستہ نکالا تھا۔۔۔یہ راستہ اس کے لیے بھی بہت مشکل تھا لیکن اس نے کرنا تھا ہر حال میں۔۔۔ٹھیک ہے بیٹا تمہارے مستقبل کا سوال ہے ہم تمہیں منا نہیں کریں گے۔۔۔دادا جان نے اس کے فیصلے پہ اجازت کی مہر لگائی تھی۔۔۔

بیسٹ آف لک ماہی۔۔۔اور یاد رکھنا آج کنسرٹ اگر کامیاب رہا تو تمہیں سٹار بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔۔۔بلکہ سٹار تو تم بن ہی گئی ہو اب تو صرف رائزنگ سٹار بننا باقی ہے۔۔۔اوکے۔۔۔شکریہ۔۔۔ماہی اسےکہتی ۔۔۔خود کو ریلیکس کرتی سٹیج کی طرف بڑھ گئی۔۔۔جب کے مینیجر نے ایک مکرو مسکراہٹ سجاتے اپنی جیب سے فون نکالا اور کال ملانے لگا۔۔۔ہمیں نیا چہرہمل گیا۔۔جس کے زریعےہم اپنے قدم قدم پہ کامیابیاں سمیٹیں گے۔۔۔اوراپنے مقصدمیں کامیاب ہونگے۔۔۔ہاہاہا۔۔۔۔

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *