ایک پاگل سی محبت – 1

Aik pagal si muhabat
Writer# Maira
Episode 1
یہ کالج کا پہلا دن تھا جب وہ بھی ساری لڑکیوں کی طرح تھوڑی کنفیوژ تھی اور کنفیوژ وہ بھی وہ جس نے ھارنا اور ڈرنا سیکھا ہی نہیں لیکن سکول کے بعد کالج کا پہلا دن تھا جو سب کے لیے ہی شا ید ایسا ھوتا ھے جب اچانک اس نے کلاس میں نظر گھمائی جہاں 150 لڑکیوں کی کلاس تھی جن کا پہلا دن تھا وہ کلاس کے درمیان میں ایک کرسی پے بیٹھی تھی جہاں میں 65 سے ذیادہ کرسیاں ایک سایڈ پے پانچ قطاروں کی طرح سیٹ تھی بلکل اسی طرح دوسری طرف بھی تھا اور درمیان میں گزرنے کا راستہ تھا کلاس میں انٹر ھوتے بلکل سامنے دو بڑی بڑی کھڑکیاں سامنے دیوار سے ذرا سے فاصلے پر لکڑی کا ڈایز تھا اور کلاس کے سامنی دیوار پے وائٹ بورڈ لگا تھا ھر طرف لڑکیوں کا شور تھا جو بیٹھی اپنے بارے ایک دوسرے سے تعارف کروانے میں مصروف تھی جب اچانک کچھ سینیر لڑکیاں کلاس میں داخل ھوہئ جن کو دیکھ کر کچھ دیر پہلی والی کنفیوژن منٹ میں غائب ہو گئ کیوں کہ سینیر سٹوڈینٹس ان نئے آ نے والی کلاس کی ریکنگ کے لیے آ ئیں تھی یہ سب امائمہ اور فادی نے کالج آنے سے پہلے بتایا تھا وہ سینیر گرلز کبھی کوئی بات الٹی سیدھی پوچھتی کبھی کچھ اور جواب دینے پر ان آنے والی نئی سٹوڈینٹس کا مذاق ارا راہی تھی اور ان میں سے کچھ کو اپنے لیے کچھ کھانے کے لیے لانے کو کہہ رہی تھی جب ان میں سے ایک کی نظر اس پر پڑی اس لڑکی نےاسے کھڑی ہو نے کا اشارہ کیا پہلے تو وہ خاموشی سے دیکھتی رہی اور اگنور کیا لیکن جب وہ لڑکی نےاسے غصے سے آواز دی ہے تم کھڑی ہو سنا نہیں تم نے تو اسے دل بڑا کر کے اٹھنا ھی پڑا کیا نام ہے تمہارا اس سے غصے سے پوچھا اس نے اپنے سنجیدہ انداز میں دیکھتے ہوئے جواب دیا ۔۔
ماہ نور اسحاق شاہ۔۔۔۔۔ نام تو ایسے بتا رہی ہو جیسے پرائم منسٹر کی بیٹی ھو ۔۔۔ان سینیر میں سے ایک نے ہستے ہوئے اونچی آواز میں کہا تو سب ہسنے لگے ۔۔۔ماہ نور کی بھی برداشت یہی تک تھی کیونکہ اس نے کبھی کسی کو خود سے اونچی اواز میں بات کرنے کی اجازت نہیں دی تو ایسی باتیں کیسے برداشت کر لیتی ۔۔۔اچھا اگر میں پرائم منسٹر کی بیٹی ھوئی تو کیا اپنا منہ بند کر لیں گی۔۔۔؟؟؟ اس نے غصے سے پوچھا ۔۔۔تمہاری ھمت کیسے ھوئی اپنے سینیر سے ایسے بات کرنے کی۔۔۔سینیر اپنی عزت خود کرواے چھوٹوں کو عزت دے کے اس نے سنجیدہ لہجے میں ٹکا سا جواب دیا ۔۔اس سے پہلے وہ اسے پھر سے جواب دیتیں ایک تیس بتیس سال کی ڈیسنٹ سی خاتون کلاس میں داخل ھوئی۔۔۔اور ڈائز کے پاس جا کے رکی اسلام علیکم سٹوڈنٹس۔۔۔ان پہ نظر پڑھی تو پوچھنے لگی جی زمر آ پ اور آپ کا گروپ یہاں کیا کر ری ھیں تو وہ لڑکی جس نے ماہ نور کو کھڑا کیا اس نے جواب دیا کچھ نہیں میم بس ایسے ہی جونیئر سے ہاے ہیلو کرنے اے تھے تو میم نے ان کی طرف اشارے سے پوچھا کیا واقعی۔۔۔لیکن اس سے پہلے میم کچھ پوچھتی انہوں نے کلاس سے دوڑ لگا دی لیکن جانے سے پہلےزمر ماہ نور کو کہنا نا بھولی دیکھ لو گی ۔۔شوق سے ۔۔۔ جواباماہ نو ر نے کہا اور اپنی جگہ پہ بیٹھ گئی”۔۔۔۔۔اس دن ماہ نور کی کالج لائف شروع ھوئی لیکن اسی دن سے ان کے درمیان ایک عجیب قسم کی جنگ شروع ہو گئی۔۔۔۔۔🔥🔥🔥🔥وہ ابھی اپنے کالج میں پہلے دن کو یاد کر رہی تھی جب اسے کسی نے جھنجھوڑ کے پوچھا ۔۔۔ماہی کہا کھوئی ھو یار جونیئر کی ریکنگ کے بارے کیا پلین ہے۔۔۔ماہی جو ماضی میں کھوئی تھی فورن سے حال میں واپس آئ اس کو جھنجھوڑ نے والی کوئی اور نہیں اس کی دوستیں تھی ان کا گروپ نو لڑکیوں کا گروپ تھا ۔۔۔۔مصباح،فروا،ماہا،سحر یاسمین ، ثمن ،زکیہ،فاریہ اور خود ماہ نور۔۔۔پورے کالج میں ان کا گروپ شرارتوں اور الٹی سیدھی حرکتوں کے لیے مشہورِ تھا ۔لیکن صرف الٹے کاموں میں ہی نہیں بلکہ پڑھائی میں بھی اور دوسروں کے کام انے کے لیے بھی ۔۔۔۔مصباح(کدو) جو جسامت میں ہیلتھی لیکن خوبصورت تھی اس نے ماہ نور کو کھنچا اورچلنےکوکہا جو پتا نہیں کہا کھوئی کھوئی تھی ماہی چل یار دیکھ میم شازیہ کا لیکچر سٹارٹ ہونے سے پہلے ہمیں وہاں سے نکلنا۔۔۔وہ سب کو ساتھ لیے چلنے لگی یہ ایک گورنمنٹ لیکن خوبصورت کالج تھا جہاں4خوبصورت لان تھے اور ان کے درمیان خوبصورت سڑک نما راستے بنے تھے اور ان راستوں کے کنارے مختلف درخت لگے تھے جو اس راستو کو اور خوبصورت بناتے تھے وہ ان سب لان کو عبور کرتی ہوئی کلاسیس ایریا میں داخل ہونے لگی جب اچانک پہلی سیڑھی پہ روکی اور موڑی اور کدو کی عینک اوتار کے خود کو لگائی اور اس کے ہاتھ سے موٹی جلد والا رجسٹر لیا اور بولی۔۔ ہاں ہاں جانتی ہوں اور سحر سے بولی جو مسلسل انہیں منا کر ری تھی ۔۔۔ تم اپنی چونچ بند رکھو اور ہا پارٹی کے لیے تیار ھو جاو۔ اور آگے بڑھ گی۔۔ یہ ان سب کا اصول تھا کے روزانا اپنی باری پے کوئی نہ کوئی لڑکی لنچ کرواتی تھی اور آج ماہی کی باری تھی اور اس نے نئے آنے والی کلاس سے لینے کے بارے پلان بنایا ۔۔

سرفراز شاہ اور نصرت بیگم کے تین بچے تھے دو بیٹے مشتاق شاہ اور اسحاق شاہ اور ایک بیٹی ردا شاہ تھی مشتاق شاہ اور انیلہ بیگم کے تین بچے تھے اظہر،فاہد اور امائمہ اور اسحاق شاہ اور راحیلہ بیگم کی صرف ایک ہی بیٹی تھی ماہ نور اسحاق شاہ جسے انہیں بہت دعاؤں اور منتوں کے بعد حاصل کیا لیکن خدا کی مرضی سے اور کوئی اولاد نہ ھوئی اور اسحاق شاہ اور راحیلہ بیگم نے اسے ہی اپنی کل کائنات مان لیا اور اس پہ خدا کا شکر کرتے نا تھکتے اور باقی گھر والو کی بھی اس میں جان بستی تھی سب کے لاڈ پیار نے اسے مغرور بنا دیا تھا اس نے نہ سننا سیکھا ہی نہیں تھااور یہی چیز راحیلہ کو اچھی نہیں لگتی تھی ان کاماننا تھا کے لاڈ پیار اپنی جگہ لیکن بیٹیوں کو اتنا خود سر نھیں ھونا چاھئے اور اسی لیے وہ اسے اکثر سمجھاتی کبھی پیار سے تو کبھی ڈانٹ سےلیکن اس پے اثر کہاں ہوتا وہ وھی کرتی جو اسے ٹھیک لگتا ۔۔۔اظہر کی تعلیم مکمل ہو گئ تھی اس لیے وہ اپنا خاندانی بزنس جوئن کر چکا تھا ماہ نور سب سے زیادہ اظہر کی لاڈلی تھی اور سب سے زیادہ قریب بھی اسے کے تھی فا ہد کا گریجویشن مکمل ھو گیا تھا تو اس نے کرکٹ ٹیم جوئن کر لی وہ کرکٹ کا دیوانا تھا جب کےامائمہ نے ایف اے مکمل کرنے کے بعد پڑھائی کو الوداع کہہ دیا اور گھر داری میں مشغول ہو گئ امائمہ کی منگنی اپنی پھوپھو کے اکلوتے بیٹے سے ھوئی۔۔۔ردا شاہ کی شادی اس کے چچا زاد وجدان شا ہ سے ھوئی اور ان کا صرف ایک ہی بیٹا تھا آفاق شاہ جو کے امائمہ کے منگیتر کے رتبے پہ فائز ھے۔۔۔انیلا بیگم ۔راحیلہ بیگم اور نبیلہ بیگم تین بہنیں تھیں سر فراز شاہ نے اپنے خاندان کو جوڑے رکھنے کے لیے دونوں بڑی بہنوں کی شادی اپنے دونوں بیٹوں سے کر دی جو کہ انیلا اور راحیلہ نے با خوبی نبھا یا اور نبیلہ کا رشتہ اپنے ماموں زاد وحید سے ھوا ان کے 2 بچے تھےآمنہ اور عاشر آ منہ کا رشتہ اظہر سے تہہ تھا جبکے عاشر انجینئرنگ کر رھا تھا

شایان ہاتھ میں پانی سے بڑھا جگ لے کے سیڑھیاں چڑھنے لگا آخری سیڑھی پہ رک کے اس نے ایک نظر نیچے لاؤنچ میں دیکھا پھر دائیں طرف چل پڑا ایک دروازے کے سامنے نا کے رکا اور مڑ کے دیکھا پیچھے بھی ایک دروازہ تھا جو کے بند تھا وہ سیدھا ہوا اور دروازے کے لاک پہ ہلکا سا دباؤ ڈالا جس سے دروازہ کھلتا چلا گیا وہ اندر داخل ہوا تو کمرہ دن ہونے کے باوجود رات کا منظر پیش کر رہا تھا وہ آگے بڑھا اور سوئچ بورڈ پہ ھاتھ مارا جس سے ساری لائٹ اون ھو گی کمرے کے دروازے کے ساتھ ڈبل صوفہ جس کے آگے خوبصورت شیشے کا میز تھا اس کے آگے بک شیلف بنی تھی جس میں مختلف انگلش ،اور اُردو کی کتابیں پڑھیں تھیں اس کی دائیں دیوار میں کھڑکی تھی جس سے باہر لان کا خوبصورت منظر صاف دکھتا لیکن ابھی اس کھڑکی کے آگے مہرون خوبصورت پردے تھےاور اس کے سامنے والی دیوار میں الماری اور اس کے ساتھ ڈریسنگ ٹیبل تھا اوراس کے ساتھ واش روم تھا کمرے کے بیچوں بیچ جہازی سائز بیڈ تھا جس پہ وہ دنیا جہان سے بیغانا سویا ھوا تھا۔۔۔شایان اس کے سر پہ جا کے کھڑا ھوا اور کمفرٹر اس سے کہنچ کے دور کیا اور پانی سے بڑھا جگ اسکے منہ پہ انڈیل دیا جس سے وہ ہڑ بڑا کے اٹھ بیٹھا وہ اپنے ساتھ کیا ھوا وہ سمجھ رہا تھا جب اس کے کانو میں شایان کا قہقہہ گونجا ۔۔۔۔تم یہاں کیا کر رہے ہو صبح صبح کیا آفت آ پڑی جو تم اپنی سڑی ہوئی توری جیسا منہ لے کے ٹپک پڑے وہ غصے سے تقریباً چلا کے بولا تھا۔۔۔او مسٹر زمار رضا ابرا ہیم آپ شاید بھول رہے ھیں کے آپ ایک طالب علم بھی ہیں اور اس وقت 8 بج رہے ھیں اور ساڑے آٹھ سر فاروق کی accountsکی کلاس ھے اس کی بات سنتے ہی وہ ایک ہی چست میں بیڈ سے اترا اور الماری کے سامنے جا کے رکا الماری کا پٹ وا کر کے اس سے نیوی بلو شرٹ ساتھ بلیک پینٹ نکالی اور واپس پلٹا اور شایان کی کمر میں موکا جہڑتے بھاگ کے واش روم میں گھس گیا اور شایان بس کرلہ کے رہ گیا۔۔۔۔

وہ اعتماد سے چلتی کلاس میں داخل ہوئی ساری کلاس میں ایک دم سے خاموشی چھا گئی۔۔۔چھوٹی مگر خوبصورت آنکھیں اس پہ گہنی لمبی پلکیں اور ان پہ چشمہ تیکھا ناک خوبصورت ہونٹ نیچے والا تھوڑا موٹا اوپروالا باریک اس میں گہرا کٹ جو اس کی خوبصورتی کو بڑ ھاتے تھے کھولے کندھوں تک آتے بال جن کو آگے سے پکڑ کے کیچر میں بندھا گیا تھا لیکن کچھ لٹیں اڑتی چہرے پہ اتی اس کی خوبصورتی کو بڑ ا ری تھی ۔۔ھلکی گلابی رنگ کی قمیض جس پہ سفید کام ہوا ساتھ سفید چیکن کی کیپری ساتھ ملٹی رنگ کا شفون کا دوپٹہ اور پاؤں میں سلور کھسہ جس پہ ملٹی کڑھائی ھوئی تھی بلا شبہ وہ ایک خوبصورت لڑکی تھی وہ چلتی ڈائز کے پاس گی اور ہا تھ میں پکڑا رجسٹر ڈایز پہ رکھا اور ایک طائرانہ نظر پوری کلاس پہ ڈالی اور پورے اعتماد سے بولی۔۔۔۔اسلام علیکم کلاس اور سانس لے کے کلاس سے جواب سننے کے لیے رکی اور ساری کلاس نے با آواز بلند جواب دیا جسے سن کے دوبارہ بھو لی and well come to the class میں امید کرتی ہوں کے آپ سب خیریت سے ہوں گی ۔۔۔میرا نام ماہ نور اسحاق شاہ ہے اور میں آپ کی انگلش ٹیچر ھوں ۔۔۔۔ اصولاً تو مجھے آپ کا تعارف لینا چاہیے سب سے پہلے لیکن کیا ھے نہ اتنی بڑی کلاس سے تعارف کرتے میرا لیکچر ختم ہو جانا سو ہم کام کی طرف آتے ہیں آج اپکی رائٹنگ اور سپیڈ چیک کرتے ہیں پہلا دن ہے اس سے بہتر کام کیا ھو سکتا ہے کیوں۔۔اس نے اپنی بات مکمل کر تے کلاس کی رائے بھی لی جس کا جواب کلاس نے بڑے جوش سے ہاں میں دیا ۔۔۔آپ کے پاس انگلش بک ھو گی جس کے پاس نہیں وہ دوسرے سے شیئر کر لیں اور آپ سب کےپاس 15 منٹ ھیں جلدی سے پہلی سٹوری لکھیں اور کم از کم ڈھائی پیجیز لکھیں اس سے اپ کی سپیڈ اور رائٹنگ چک کروں گی hope so u understand…آپ کا ٹائم شروع ہو تا ہے اب۔۔۔ساری کلاس میں اک ہل چل مچ گئی جس کو دیکھتے ماہی کے چہرے پہ ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔۔۔ٹھیک 15 منٹ بعد اس نے آواز دی سٹاپ رائٹنگ۔۔ساری کلاس ایک بار پھر سے سناٹے میں آگئ۔۔۔ان15 منٹوں میں وہ اس بات کا اندازہ لگا لیا کے کون کس حد تک لکھ چکا ہے اور ان کا کام اس کے کس حد تک ان کے کام آ سکتی ہے ماہی راؤنڈ لیتے ہوئے کلاس کی درمیان رکی اورایک لڑکی کو کھڑا کیا what’s your name..? لڑکی نےاسے جواب دیا حنا اسلم رجسٹر دیکھاو اس نے کام دیکھا اور بس چند لائنیں لکھی ھوہی تھی اس نے آبرو اٹھا کر دیکھا تو لڑکی ڈر گی اس کے چہرے پہ مسکراہٹ ابری ۔۔۔اس نے سنجیدگی اورغصے سے اس کی طرف دیکھا اور بولی آپ کو ڈھائی پیج لکھنے کو کہا اور آپ نے ایک پیج کیا چند لائنیں لکھی ہیں بس اس لیے آپ کے پاس دو راستے ہیں پہلا آپ پورا ہفتہ میری کلاس میں نہیں آنا اور دوسرا آپ ایسا کریں کہ کسی بھی سینیر کو لنچ کروا دیں اب اس کی طرف دیکھا تو لڑ کی نے دوسرا راستہ اپنایا جیسے ماہی چاہتی تھی آپ کے پاس 5 منٹ ہیں اور عوم نمبر 3میں جاے وہاں accounts departmentکی گرلز ھوں گی ان سے کہیں کہ میم ماہ نور نے سزا دی ہے اور ہاں کیونکہ آپ کو ڈھائی پیجیز لکھینے کو کہا تھا اس حساب سے 9 لوگوں کو لنچ کروانا بنتا ےھا لیکن آپ نے چند لائنیں لکھی ہیں تو آپ آٹھ لوگوں کو لنچ کروائے گی you may go now….وہ لڑکی بھاگتی ہوئی کلاس سے باہر نکی آگے ماہی جانتی تھی اس کا گروپ سنبھال لے گا۔۔۔اب وہ مڑی اور ایک اور لڑکی کو کھڑا کیا اور نام پوچھا جس پے لڑکی نام بتانے کی بجائے اسی سے پوچھنے لگی میم مجھے لگتا میں آپ کو دیکھا ہے۔۔۔ماہی ایک پل کے لیے سوچ میں پڑ گی لیکن جلد اپنی ٹون میں واپس آی بیٹا جو بھی آپ کا نام ہے آپ کو بتا دوں کے آپ یہاں انگلش کا لیکچر لیں رہی ہیں نا کہ فلم و ڈراموں کا جو آپ یہ گھیسا پیٹا ڈائلاگ مار ری ہیں ۔۔۔وہ لڑکی اپنی اچھی خاصی عزت افزائی پہ شرمندگی سے سر جھکا گی ۔۔۔آپ کون سا آپشن چوز کریں گی؟؟؟ اس کے پوچھنے کی دیر تھی وہ لڑکی بھی پہلی لڑکی کےپیچھے بھا گی وہ خوبصورت مسکراہٹ لیے آگے بڑی اس کا کام تو ھو گیا تھا لیکن اس کو ابھی ڈراما کرنا تھا جب تک وہ گرلز واپس نہ آجاتی۔۔۔ راؤنڈ لیتی اور کام دیکھتی وہ اگے بڑی اور گھڑی پہ ٹائم دیکھا جو خطرے کی گھنٹیاں بجا ری تھی وہ جلد از جلد کلاس سے نکلنے کے لیے بڑہی لیکن جلدی میں کسی سے ٹکرا گئی۔۔۔۔😜😜😜😜😜

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *