اک پاگل سی محبت-قسط نمبر 20

ایک پاگل سی محبت
ازقلم#مائرہ
قسط#20

آج بارات تھی ہر طرف افرا تفری چھائی ہوئی تھی لیکن فادی اپنے کزنز اور دوستوں میں بلکل فری ہوا بیٹھا تھا اور خود سے چھوٹے کزنز سے ڈیمانڈے پوری کرقا رہا تھا۔۔۔جب اس نے نیٹ سے سونگ نکالنے کے لیے سرچنگ کی تو ماہی کی ویڈیو سامنے آئی جیسے دیکھتے اسے یقین نا ایا تو اس پہ اگین کلک کرتے ایک بار پھر سے دیکھنے لگا۔۔ پھر ایک دم سے اٹھا اور ماہی کے کمرے کی طرف بڑھا تھا۔۔۔جہاں ماہی اپنے ڈریس سلیکشن میں گم تھی۔۔۔ماہی تمہیں پتابھی ہے نا کے چاچو جان کو یہ سب نہیں پسند پھر تم نے یہ سب کیوں کیا اس نے اپنا فون اس کے سامنے کیا۔۔۔کتنا مان ہے انہیں تم پہ اورتم یہ سب کر رہی ہو۔۔۔فادی بھائی میری بات سنے یہ میرا اکاؤنٹ نہیں ہے یہ جس آئسکریم پالر میں ہم سب جاتے اکثر وہاں کے مینیجر نےمیرے نام کا اکاؤنٹ بنا کے سب کیا اور یہ ویڈیوز جو آپ دیکھ رہے یہ تو ہم آرڈرکے ویٹ میں جسٹ وار فن کرتے تھے ۔۔۔ تمہیں پتا ہے یہ کس نے کیا اور پھربھی تم نے سب ڈلیٹ نہیں کروائی کیوں۔۔۔اور ہمیں بتانا تک گوارا نہیں کیا ۔۔۔میں آج ہی بات کرتا ہوں اس مینیجر سے۔۔۔روکے بھائی آپ اسے کچھ نہیں کہے گے۔۔۔فادی کہہ کے غصے سے نکلنے کو تھا۔۔۔جب ماہی نے اسے اگے بڑھ کے روکا تھا۔۔۔ فادی نے بے یقینی سے اس کی طرف دیکھا تھا۔۔۔ککیا ہوا بھائی۔۔۔ماہی نے اس کے دیکھنے پہ نظریں چراتے گھبرا تے پوچھا تھا۔۔۔ماہی کہہ دو جو میں سمجھ رہا ہوں وہ غلط ہے۔۔۔فادی کے کہنے پہ ماہی نے کوئی جواب نہیں دیا۔۔۔ماہی تم تم ایسا کیسے کر سکتی ہو تمہیں پتا چاچو کبھی اجازت نہیں دیں گے۔۔۔آپ میرا ساتھ دیں گے بھائی انہیں منانے میں تو پاپا مان جائے گے بلییو می۔۔۔ماہی نے آگے بڑھتے ہوئے فادی کا ہاتھ پکڑکے پر امید لہجے میں کہا۔۔۔کبھی نہیں میں ان کے خلاف تمہارا ساتھ کبھی نہیں دوں گا اور یہ جانتے ہوئے بھی کے وہ بلکل ٹھیک ہیں ۔۔۔ انہیں نہیں پسند تو کیا مجھے تو پسند ہے نا یہ میری لائف ہے اور مجھے پورا حق ہے کہ میں اپنی مرضی کی فیلڈ چنو اپنی مرضی کی لائف جیئوں۔۔پاپا کی پسند نا پسند کو دیکھتے میں اپنا فیوچر داو پہ نہیں لگا سکتی ۔۔مجھے آج موقع مل رہا ہے میں اسے گوا نہیں سکتی پتا نہیں دوبارہ موقع ملے یاں نا ۔۔۔پلیز سمجھے مجھے آپ اور میرے ساتھ پاپا کو منائے۔۔۔ کتنی سیلفیش ہو تم ماہی۔۔۔ تمہاری آنکھیں آنے والے وقت کی تباہی نہیں دیکھ رہی ۔۔میں کبھی تمہارا ساتھ نہیں دوں گا سمجھی تم۔۔۔ماہی کے کہنے پہ فادی نے غصے سے بولتے ہوئے ایک جھٹکے سے اپنا بازو چھڑواتے ہوئے کمرے سے باہر نکلنے لگا جب ماہی ایک بار پھر سے بولی تھی۔۔۔مجھے بھی کسی کھوکھلے رشتے کی کوئی ضرورت نہیں سمجھے آپ ۔۔۔آپ جیسے ہی ہوتے ہیں سب بھائی جو وقت پڑھنے پہ منہ موڑتے ہوئے ہمیں مشکلات میں چھوڑ اپنا دامن بچا کے چلے جاتے ہیں اور مجھے آپ کے ڈھگمگاتے سہارے کی کوئی ضرورت نہیں آپ کیا کسی کے بھی سہارے کی ضرورت نہیں اور نا ہی میرے کسی بھی فیصلے کا اختیار ہے اس لیے میرے کسی بھی کام میں عمل دخل مت دیجئے گا ۔۔۔ماہی کے دماغ میں عاشر کی گئی باتیں گھومنے لگی تھی۔۔جن کے زہن میں آتے ہی بغیر سوچے سمجھے بول گئی۔۔۔اور تم جیسی ہوتی ہیں وہ بیٹیاں جو نہ باپ نہ بھائی کسی کی نہیں سنتی کسی کو کچھ نہیں سمجھتی صرف اپنےمفاد کی ضد میں دلدل میں دھنستی چلی جاتی ہیں اور آخر میں صرف پچھتاوے ان کے ہاتھ آتے ہیں۔۔فادی یہ کہہ کے وہاں رکا نہیں تھا۔۔۔وہ تو اسے اس سب سے بچانے آیا تھا روکنے آیا تھا اور بے اعتباری اور کھوکھلے رشتہ کا الزام لے کے گیا۔۔۔

ماہی وہی بیٹھی کبھی فادی کی باتیں سوچ رہی تھی تو کبھی عاشر کی ۔۔۔سہی کہتا عاشر اور وہ مینیجر یہ سب رشتے صرف اور صرف کھوکھلے سہارے ہیں ۔۔جو ہمیں آگے بڑھتے دیکھ ہی نہیں سکتے صرف اپنے پلو سے باندھے ہمارا تماشا دیکھتے رہتے ہیں۔۔۔لیکن میں کمزور نہیں ہوں میں آج کی لڑکی ہوں خود مختار اپنے لیے جینے کا فیصلہ کسی کے ہاتھ نہیں دے سکتی میں بلکل نہیں۔۔چاہے وہ پھر میرے سگے والدین ہی کیو نا ہوں…..ماہی نے ایک سیکنڈلگایا تھا فیصلہ کرنے میں وہ اٹھی اپنا موبائل پکڑا ابھی وہ موبائل آن کر ہی رہی تھی جب دروازہ پہ دستک دے کے کوئی روم میں آنے کی اجازت کسی نے مانگی۔۔۔جی آ جائے ماہی نے نم لہجے میں اجازت دی۔۔۔آپ یہاں۔۔۔جی میں نیچے دادا جان کو۔ چھوڑنےآیا تھا تو فادی کو غصےسے اوپرآتےدیکھا تواسکے پیچھے ہی آگیا۔۔۔اورسوری لیکن میں نے ساری باتیں سن لی آپ کی۔۔۔زمار کے کہنے پہ ماہی نے اسے غصے سے دیکھا تھا۔۔۔جس پہ اس نے کندھے اچکا دیے۔۔۔اس ساری بات کا مقصد۔۔۔؟ماہی نے اس کی حرکت پہ اسے غصےسے دیکھتے پوچھا تھا۔۔۔میرے خیال سے آپ کو اپنے پاپا اور بھائیوں کو سمجھنا چاہئے۔۔۔ماں باپ ہمارا کبھی برا نہیں سوچ سکتے۔۔بلکہ یہ کہنا ٹھیک ہو گا کے ماں باپ کے علاوہ کوئی اچھا ہمارا سوچ ہی نہیں سکتا۔۔۔آپ ۔۔آپ اپنا خیال اپنے پاس رکھیں میرا اچھا برا میں خود بہت اچھے سے جانتی ہوں مجھے کسی کی تقریر کی ضرورت نہیں سمجھے آپ۔۔۔ابھی وہ کچھ اور بولتا جب ماہی نے اسےغصے سے ٹوکا تھا۔۔۔زمار کے اندر کچھ ٹوٹا تھا اس کے اندازسے۔۔۔میں صرفآپ کو بتانا چاہتا تھا کہ۔۔۔کیابتانا چاہتےتھے کہ آپ بہت سمجھدار ہیں اور میں بے وقوف مجھ میں عقل نہیں ہے ۔۔۔ہاں آپ سب مردوں کو یہی کیوں لگتا کے آپ ہر حال میں درست اور ہم لڑکیاں غلط ہیں۔۔۔اپنے کام سے کام رکھیں اوردوبارہ کبھی میرے راستے میں مت آئیے گا۔۔۔ماہی کے الفاظ اسے اندر تک چبے تھے اور اسے کہنے کو زمار کے پاس ایک لفظ نہیں تھا۔۔۔اس لیے وہ جن قدموں پہ آیا تھا انہی قدموں پہ واپسی کے لیے پلٹا تھا۔۔۔اور ہاںجس خواہش کی بنا پہ آپ یہ سب سمجھانے مجھے آئے ہیں نا اسے یہی ختم مر دیں کیونکہ ہر لڑکی آپ مردوں کی خدمتوں کے لیے نہیں پیدا ہوتی۔۔۔جا سکتے ہیں آپ ۔۔۔مطلب یہ جانتی تھی کہ میں اسے ۔۔۔زمارصرف سوچ ہی سکا کیونکہ اپنی ہی محبت کے ہاتھوں اپنی ہی محبت کی تزلیل برداشت کر کے شاید الفاظ خود ہی دم توڑ جاتے ہیں۔۔۔۔ ماہی پہ ایک آخری نظر ڈال کے وہ وہاں رکا نہیں بلکے جا چکا تھا ۔۔۔شاید ہمیشہ کے لیے۔۔۔یا شاید زندگی کبھی ان کا سامنا دوبارہ کروا دے۔۔۔۔زمار کے جاتے ہی ماہی نےموبائل آن کیا اور کسی کو کال ملائی۔۔۔دوسری بیل پہ کال اٹھا لی گئی تھی۔۔۔میں ماہی بات کر رہی ہوں۔۔۔مجھے کیا کرنا ہو گا ۔۔۔اگر میں آگے بڑھنا چاہوں تو۔۔۔۔اگے سے ناجانے کیا کہا گیا تھا کے وہ اوکے کہہ کے فون رکھ چکی تھی۔۔۔اور ایک بار پھر سے اپنے اور فادی کی باتوں کو سوچنے لگی تھی۔۔۔

سارے فنکشنز میں فادی اورماہی کی کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔۔۔فادی بلکل ہی چپ کر گیا تھا۔۔۔ابھی بھی وہ ولیمے کے فنکشن میں ایک کونے میں کسی غیر مرئی نقطے کو ڈھونڈتا جانے کیا سوچ رہا تھا جب اسے کسی پکارہ تھا ۔۔۔فادی ۔۔فادی آپ سن رہیں ہیں۔۔۔۔ہا۔۔ہاں جی ۔۔۔آپ یہاں کیوں کھڑے ہیں ۔۔۔میں کل سے نوٹ کر رہی ہوں آپ یہاں ہوتے ہوئے بھی یہاں نہیں اور آپ کے فیس سے بھی آئی تھینگ کچھ میسنگ ہے۔۔۔سحراسکےچہرےکو غورسے دیکھتی ہوئی بولی تھی۔۔فادی حیرانی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔یہ پہلی بار ہوا تھا کے سحر اس اے یوں بات کر رہی تھی وہ بھی خود آکے ورنہ وہ تو سلام کا جواب بھی بہت آہستہ سے دیتی آگے بڑھ جاتی تھی۔۔۔کیا ہوا دراصل میں کافی دیر سے آپ کو دیکھ رہی تھی ایک ہی پوزیشن میں بیٹھے اس لیے خود کو روک نہی سکی۔۔۔کوئی پریشانی ہے ۔۔۔آپ چاہے تو مجھ سے شئیر کر سکتے ہیں۔۔۔نہیں کوئی پریشانی نہیں۔۔۔فادی نے نظر اس کے چہرے سے ہٹاتے ہوئے جواب دیا تھا۔۔۔آپ کے چہرے پہ لکھا ہے صاف صاف کے آپ کو کوئی پریشانی ہے۔۔۔اچھا آپ چہرے پڑھ لیتی ہیں ۔۔؟اس نے سنجیدہ سے لہجے میں سامنے دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔۔۔جی بلکل پڑھ لیتی ہوں۔۔۔اچھا تو پھر بھی آپ نے دھوکہ کھایا اور جان تک لینے کی کوشش کی اپنی۔۔اب کی بار فادی نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔۔فادی کی بات سن کے سحر کا چہرا لٹھے کی مانند سفید پڑھا تھا۔۔۔ اس کا چہرہ دیکھتے فادی کو اپنے الفاظ کا خیال آیا وہ کیا کہہ گیا تھا۔۔۔سوری لیکن میں خود کو روک نہیں پایا کہنے سے کیونکہ میں تمہیں بہت سمجھدار سمجھتا تھا۔۔جو باقی لڑکیوں کی طرح جلد بازی نہیں کرتی جو انسان کو اس کے عمل سے پہچاننے کا ہنر رکھتی ہے۔۔۔تم چہرے پڑھ لیتی ہو لیکن کسی کی آنکھیں کیوں نہیں پڑھ پائی ۔۔۔محبت کا پہلا تاثر انسان کی آنکھوں سے ہوتا۔۔۔پھر اس کے چہرے سے پھر الفاظ سے اور پھر عمل سے اور کئی بار الفاظ کی بھی ضرورت نہیں ہوتی صرف عمل ہی کافی ہوتا جاننے کے لیے۔۔۔لیکن تمہیں ایک انسان جو لفظوں سےمات دے گیا۔۔۔تمہیں اتنا کمزور تو نا سمجھتا تھا۔۔۔۔تم کیا کوئج بھی لڑکی اتنی کمزور کیسے ہو سکتی ہے۔۔۔میں نے سنا اور دیکھا بھی ہے ایک لڑکی کی حس بہت تیز ہوتی ہے مرداسے کس نظر سے اور کس نیت سے دیکھ رہا وہ منت کے دسوے سیکنڈ میں جان جاتی ہے پھر تم نے کیوں نہیں محسوس کیا کیوں نہیں سمجھی۔۔۔ایک عورت پہت انمول ہوتی ہے۔۔وہ محبت، صبر ،برداشت، استقامت کا منہ بولتا ثبوت ہوتی ہے۔۔۔پھر تم نے کیسے ایک اجنبی جس کی محبت میں کھوٹ تھا اس کے لیے زندگی اے منہموڑ لیا۔۔۔۔ہاں۔۔۔۔تم نے ایک جھوٹی محبت پہ یقین کر لیا لیکن کسی کی آنکھوں میں سچی محبت نہہں دیکھ سکی۔۔۔۔سحر جو اسے یک ٹک دیکھے جا رہی تھی اور پلکے جھپکائے بغیر اسے سانس روکے اسے سن رہی تھی اس کی آخری بات سن کے گھڑ بڑا گئی تھی اور حیرانی سے آنکھیں اور بڑی کر کے اسے دیکھنے لگی تھی۔۔۔لیکن وہ اس وہی حیران چھوڑ کے وہاں سے اٹھ کے چلا گیا تھا۔۔۔۔

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *