کلام عشق .7

کلامِ عشق
Ep:7
WriteR:SyedA Humna Shah….

وہ اسکا وجود سفید بیڈ شیٹ میں لپیٹے اپنے ساۓ میں اسے اندر لے جانے لگا. حسن پیچھے سے صرف اسکے ساتھ چلنے والے ساۓ کو ہی دیکھ پایا تھا.
” تم یہاں بیٹھو میں آتا ہوں” وہ حبان کو کمرے میں بیٹھاتا خود تیزی سے قدم باہر بڑھا گیا تھا… اس وقت وہ اسکا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا. اور جو کچھ غوث کی وجہ سے وہ دیکھ چکی تھی اسکے بعد تو بلکل بھی نہیں….
وہ حسن کے کمرے میں زمین پر بیٹھا بیڈ سے ٹیک لگاۓ چھت کو گھور رہا تھا.
“غوث یہاں آجا… چاۓ پی لے. ” حسن کپس کو ٹیبل پر رکھتا اسکی طرف بڑھا تھا.
“حسن یہ نہیں چاہتا تھا میں!” وہ بے خیالی میں جسن کے چہرے کو دیکھتا ہوا بولا تھا.
“یار جو ہوا سو ہوا خدا کا شکر ہے کہ کچھ برا نہیں پوا اور تم لوگ سہی سلامت لوٹ آۓ”
“مگر یہ سب میری وجہ سے ہوا… ” غوث اک ٹرانس کی سی کیفیت میں بول رہا تھا.
“یار تو بھول جا اٹھ چاۓ. پی اور جا اس سے بھی پوچھ کچھ کھانے کا… “حسن غوث کا ہاتھ کھینچتا اسے صوفے پر بٹھا چکا تھا.
“میں اسکا سامنا نہیں کرسکتا”غوث اپنے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں چھپاۓ اپنا سر جھکاۓ بیٹھا.
“مجھے نہیں پینا کچھ لے جاؤ اسے یہاں سے”وہ یہ کہتا کمرے سے باہر چلا گیا تھا.

🍁🌙🍁🌙🍁🌙🍁🌙🍁🌙🍁🌙

“یا اللہ…. مجھے معاف کردے.. “وہ جاۓ نماز پر سجدے میں گری گڑگڑا رہی تھی. آنکھوں سے بہنے والے آنسو جاۓ نماز کو تر کررہے تھے.
“یا اللہ میں ہینچ ہو آپ ہی ہے بس آپ کی حقیقت ہیں میں کوئ معنی نہیں رکھتی میری زات مٹی ہے. اور مٹی پونا ہے… “وہ ناجانے کس گناہ کی معافی کی طلبگار تھی.
“مجھے نفرت نہیں اس سے میں اپنے الفاظ واپس لیتی ہوں مجھے معاف فرما دے بس آج جو کچھ ہوا اسکو میرے ذہن کے پردے سے اوجھل کردے.. “وہ ہچکیاں لیتی بار بار ان الفاظ کو دہرا رہی تھی.
“اسکو نہیں پتہ وہ کیا ہے میرے لیے مگر اسنے ہمیشہ میرے اندیشوں کو غلط ثابت کیا ہے… میں کوئ نہیں ہوں جو سہی اور غلط کا فیصلہ کرے. آپ بہتر انصاف کرنے والے ہیں. بیشک آج غوث مجھ سے اوپر ہوگیا اور میں نیچے اپنے مجھے میری حقیقت سے آگاہ کیا اگر وہ نہ ہوتا تو ناجانے کیا ہوجاتا” وہ خدا کی شکر گزار بھی تھی. آج اس پر یہ راز افشاں پوگیا کہ ہر برا انسان جو بظاہر برا ہے وہ اندر سے برا نہیں ہوسکتا اور جو اچھا ہے وہ ہمیشہ اچھا نہیں ہے. آج اسے غوث پہ رشک آیا تھا کہ وہ اسکا مسیحا بن کر وہاں موجود تھا. اور اک دوسرے مرد کو اسکا نام لینے پر اسنے مار مار کر بےحال کردیا تھا. وہ جان گئ تھی کہ غوث کے لیے نفرت بلکل بے بنیاد ہے.
دروازے کے پیچھے کھڑا حسن حبان کی سب آہ بکا سن رہا تھا. وہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ ان دونوں کے دل میں اک جگہ جہاں نفرت ہے تو دوسرہ جگہ وہاں محبت جنم لے چکی تھی.مگر اب بات یہ تھی کہ یہاں صرف اک ہی جذبہ رہ سکتا تھا. یا تو وہ محبت کا تھا یا پھر نفرت کا….
🍁❤🍁❤🍁❤🍁❤🍁❤🍁❤🍁❤🍁

غوث کے فون پر بار بار ہانیہ بیگم کا نام جگمگا رہا تھا. وہ فون کو دیکھ رہا تھا مگر وہ کیا جواب دے وہ اس کشمکش میں تھا.
“جی… ” وہ ہمیشہ کی طرح روکھا انداز اپناتا ہوا ان سے مخاطب ہوا تھا
“بیٹا تم لوگ ابھی تک وابس نہیں آۓ مجھے حبان کی فکر ہورہی تھی اور پھر تم وقت بھی دیکھو 10 بج گۓ ہے”ہانیہ بیگم کے لہجے سے لگ رہا تھا کہ وہ حبان کی عدم موجودگی سے کافی پریشان تھی.
“جی میری میٹنگ تھی.. ہم 1 گھنٹے تک گَھر ہوگے… ” وہ یہ کہتا فون رکھ چکا تھا. دوسری طرف ہانیہ بیگم یہ سن کر پرسکون ہوئ تھی کہ حبان غوث کے ساتھ ہے.
وہ فون کو آف کرتا حبان کے کمرے کی طرف بڑھا تھا. وہ دروازے پہ اک پل کے لیے رکا تھا. شاید اس لیے کہ اسے توقع تھی. کہ وہ اب تک رو رہی ہوگی. مگر اندر گہری خاموشی تھی. وہ دروازہ کھول کر آگے بڑھا تو اندر گہرے اندھیرے نے اسکا استقبال کیا تھا. وہ دروازے کے سائیڈ پر سوئچ کے لے ہاتھ مارنے لگا تھا. وہ لائٹ آن کر چکا جس سے پورا کمرا روشنی میں نہا گیا تھا. وہ تھو ڑا اور آگے بڑھا تو اسے حیرے ہوئ حبان اسی سفید بیڈ شیٹ میں خود کو لپیٹے جاۓ نماز پر ہی سو چکی تھی.
وہ اسکے قریب جا بیٹھا تھا. ہمیشہ کی طرح اسکی آنکھوں سے آنسوں بہہ رہے تھے اور جاۓ نماز کو تر کررہے تھے. دونوں ہاتھوں کو تکیہ بناۓ حبان نے کسی چھوٹے بچے کی طرح اپنے سر کے نیچے کیے ہوۓ تھے. وہ اسکے چہرے کو دیکھ رہا تھا جہاں آج کے اس واقعے کے رونما ہونے کے اثرات واضح تھے. آنکھیں رو روکر سوج گئ تھی. اور پلکیں ابھی تک نم تھی. وہ اس حسین سنڈریلا کو دیکھ رہا تھا. جو آج اسکی وجہ سے بہت روئ تھی. بلا کی معصومیت چہرے میں امڈ آئ تھی.
“وہ نیند میں بھی کیا ایسے ہی روتی تھی ہمیشہ سے کیا غم تھا جو اسکے دل میں دفن تھا.اس خاموش پری کے اندر کتنا دکھ تھا جو اسے بےخیالی کی دنیا میں بھی رونے پر مجبور کر دیتا تھا” غوث یہی سوچتا اسکا نام پکارنے لگا تھا اور اسے جگانے کی کوشش کررہا تھا.
“حبان اٹھو… ہمیں جانا ہے… ” وہ بامشکل اسکا نام اپنے لبوں سے ادا کررہا تھا. یا شاید اسے عادت نہ تھی اسے بلانے کی انکی بات ہی کہا ہوتی تھی جو اسکو بلاتا.
“حبان… اٹھو… “وہ اسکے کندھے پر انگلیاں رکھے اسے جگانے لگا تھا. اسنے اک دم اپنی آنکھیں کھولی تھی اور غوث کو اپنے سامنے پاکر وہ اک بجلی کی سی تیزی سے اٹھی تھی. اور اپنا آپ کور کرنے لگی تھی.
“ڈرو.. نہیں… ہمیں گھر جانا ہے بی جاں کی کال آئ ہے ہم کافی لیٹ ہوچکے ہیں”وہ اسے پیچھے ہٹتے ہوۓ کہنے لگا تھا.
“جی… ” وہ یہ کہتی اٹھ کھڑی ہوئ تھی اور اپنے کینوس پہنتی اسکے پیچھے جانے لگی تھی.
“غوث کیا یہ مناسب ہوگا ایسی حالت میں اسکو یہاں سے لے جانا” حسن فکرمند ہوتا غوث سے پوچھ رہا تھا. جبکہ حبان کار کی بیک سیٹ پر بیڈ شیٹ سے اپنا آپ ڈھانپے بیٹھ چکی تھی.
“نہیں میں مال لے جاؤ گا پہلے وہاں سے کوئ مناسب چادر دلا کر اسے گھر لے جاؤ گا… “وہ یہ کہتا حسن کے لگا تھا.
“یار اللہ تیرے راستے آسان کرے”حسن یہ کہتا غوث سے الگ ہوا تھا. کار کالونی سے نکل کر مین روڈ پر دوڑ رہی تھی.
“ہم پہلے مال جاۓ گے وہاں سے تمہارے لیے عبایا اور چادر خریدے گے”وہ ونڈ سکرین سے باہر دیکھتا اسے کہہ رہا تھا.
“ٹھیک بہتر” حبان بہت سمٹے الفاظوں میں اس سے بات کررہی تھی. جبکہ غوث کو یہ بات کھاۓ جارہی تھی کہ حبان نے ابھی تک اس سے اسکی وہاں موجودگی کی وجہ نہیں پوچھی تھی.
“چلو.. ” غوث اسکا ہاتھ تھامتا مال کے اندر لے جانے لگا تھا. حبان بے یقینی سے غوث کو دیکھ رہی تھی. وہ حیران تھی کہ جس شخص نے آج تک گھر میں کسی سے ڈھنگ سے بات نہیں کی اور جو ہر وقت عیاشی میں غرق رہتا ہوں اسے حبان کے کے بے پردہ ہونے سے کوفت ہورہی تھی. غوث اسے اک بہت بڑی عرب عبایا نامی دکان میں لایا تھا.
“ہیلو سر… ” کاؤنٹر پر بیٹھا مینیجر کبھی غوث کو اور اس ساتھ کھڑی بیڈ شیٹ میں لپٹی اس لڑکی کو دیکھ رہا تھا.
“مجھے گاؤنز چاہیے” وہ یہ کہتا آگے بڑھا تھا
“جی ضرور سر آپ آئیے بیٹھے”مینیجر یہ کہتا اسکے پیچھے ہوا تھا.
غوث ہینگرز میں لٹکے کئ عبایا کو اتار کر حبان کو پکڑا چکا تھا.
“جاؤں ٹراۓ کر لو وہاں ہے ٹرائل روم” وہ انگلی سے اشارہ کرتے ہوۓ حبان کو بتا رہا تھا.حبان چپ چاپ چلتی ٹرائل روم میں گئ تھی. اور تقریباً 10 منٹ کے بعد وہ عبایا چینج جر کے باہر نکلی تھی. غوث کی آنکھیں اسے دیکھ کر اک. لمحے کے لیے ٹھہری تھی. دل نے ناجانے کتنی بار دھڑکنے سے منع کیا تھا اور خاموش رہنے ہر باضد تھا. تاکہ بس اس میں ہی کہی کھویا رہے…
سفید عبایا میں ملبوس وہ اک پری لگ رہی تھی. سر کو سفید اور سی گرین کلر کے سٹولر میں لپیٹے وہ سہی معنوں میں جنت کی حور کا عکس دے رہی تھی. آنکھوں پر اسی سٹولر سے نقاب کیے اسکی حیاء کے رنگ اسکی آنکھوں سے جھلک رہے تھے جو رونے کی وجہ سے سرخ تھی.
غوث اک ٹرانس کی سی کیفیت میں اس تک چلتا آیا تھا.
“یہ رہ گیا ” وہ اسکے ہاتھ میں سفید ہی رنگ کے گلوز پکڑاتا اسکی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا. غوث کو جہاں گلیمرس لڑکیاں اٹریکٹ کرتی تھی. یہاں وہ اک حیاء کی دیوی پر جان ہار بیٹھا تھا. وہ نہیں جانتا تھا کہ حبان کو لے کر اسکے دل میں جو جذبہ ہے وہ کیا ہے… محبت ہے عشق ہے کیا ہے؟ … مگر وہ اپنی آنکھوں کو حبان کی آنکھوں سے کلام کرتا باخوبی سمجھ رہا تھا. وہ عشق کی بولی سمجھ رہا تھا جو اسکء نظریں حبان کی نظروں سے کررہی تھی.
حبان گلوز پہنے باہر نکلی تھی. جیسے جنت کی حور کو کسی شہزادے کو عطا کردی گئ ہو…غوث اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھامے اسکو ساتھ لے جارہا تھا.سچ میں محبت بے عزتی سے زیادہ حیاء کے پردوں پر مبنی ہے…
کار پھر سے روڈ پر رواں دواں تھی. حبان بیک سیٹ پر بیٹھی ونڈو سے باہر چلتی گاڑیوں کو دیکھ رہی تھی. اسکا دل آج پہلی بار خوش ہوا تھا جسکو وہ نفرت کی نگاہ سے دیکھتی تھی. آج اسنے ہی اسکو سب کی نگاہوں سے چھپایا تھا.
“بے خود کیے دیتے ہے انداز حجانانہ
آ دل میں تجھے رکھ لو اے جلوہ جاناناں….
کار کے ریڈیو پر نعت کے اشعار گونجنے لگے تھے جس نے گاڑی میں پھیلی خاموشی کو توڑا تھا.
“مت بند کرے… ” غوث ریڈیو کو آف کرنے لگا تھا. جب حبان نے اک دم اسے ایسا کرنے سے منع کیا تھا…… ..
………….

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *