کلام عشق ـ 8

کلامِ عشق…. 🌙
رائٹر:سیدہ حمنٰہ شاہ
ایپی:8.

رات کے ڈھلتے ہوۓ ساۓ میں چاند پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا. کچھ دیر پہلے آۓ طوفان کے بعد گہری خاموشی تھی. کار اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی. دونوں اپنی اپنی جگہوں پر بلکل خاموش بیٹھے تھے. کار کے اندر کی خاموشی کو نعت خواں کی مخصوص آواز بہار کی فضا کا روپ دے رہی تھی.
“کبھی تم نے محبت کی ہے کسی سے؟” غوث نے بغیر سوچے سمجھے حبان سے پوچھا تھا
“کیا… ” حبان اک دم گڑبڑائ تھی. اس سے یہ سوال پہلے بھی پوچھا جا چکا تھا. مگر پوچھنے والا کوئ اور تھا.
“محبت کی ہے ؟” وہ فرنٹ مرر میں نظر آتی اسکی آنکھوں سے مخاطب تھا.
“جی… ” حبان نے ہاں کی تھی جو غوث کی چلتی سانسوں میں زہر گھول رہی تھی.
“کیا میں پوچھ سکتا ہوں کون ہے؟” غوث سٹیئرنگ پر اپنی گرفت مضبوط کرتا بولا تھا.
“مجھے محمد صلی اللہ و علیہ والہ وسلم سے محبت ہے” حبان نے بہت غیر متوقع جواب دیا تھا
“مطلب” غوث نے اک دم بریک پر پاؤں رکھا تھا.جس سے کار اک جھٹکے سے رکی تھی.
“مطلب کے مجھے ہمارے نبی SAW سے محبت ہے” حبان آنکھوں میں آئ نمی کو غوث سے چھپانے کے لیے نظریں جھکا گئ تھی.
غوث کا یک دم کار میں دم گھٹنے لگا تھا. وہ کار سے باہر نکلا تھا. حبان کار میں موجود خاموش آنسوں بہا رہی تھی. یہ آنسو کیوں تھے. شاید انکی محبت کی وجہ سے یا پھر اپنی زات سے شرمندگی کی وجہ سے کہ جن کی ہم امت ہے انکو ہم نے کتنا رلایا ہے.ہمارے اعمال تو اتنے بھی نہیں کے حضور ہماری حشر کے روز سفارش کرے مگر ہمارے نبی ہوگے جن کے لبوں پر اپنی امت کی بخشش کے سوا کچھ نہ ہوگا…
غوث کار سے کچھ دور بنے نہر کے پاس بنے واکنگ ٹریک پر واک کر رہا تھا. کفس کو کہنیوں تک موڑے وہ اپنی کن پٹیوں کو اپنی انگلیوں کی پوروں سے سہلا رہا تھا.
حبان نے اک نظر غوث کو مضطرب دیکھا تھا. وہ کار سے نکلی تھی اور چلتی ہوئ غوث کے پاس آئ تھی. غوث نہر کی طرف منہ کیے فولڈز پر ہاتھ رکھے چلتے ہوۓ پانی کو دیکھ رہا تھا.
” آپ کو محبت نہیں ہے انسے” وہ بھی بہتے پانی کو دیکھتے ہوۓ بولی تھی
“نہیں… ” وہ اک دم بولا تھا.
“وہ آپ سے محبت کرتے ہے”وہ اسکی طرف دیکھتے ہوۓ بولی تھی.
غوث کے دل کی دھڑکن اک پل کے لیے تھمی تھی کہ کوئ ہے جو اس سے بھی محبت کرتا ہے.
“مجھ سے محبت؟” وہ حبان کی طرف دیکھتا ہوا بولا تھا.
” جی… ” وہ محبت بھرے لہجے سے بولی تھی.
“کیسے” غوث اسکی آنکھوں کو تلاش کررہا تھا جو وہ نظریں جھکاۓ اسکے سامنے کھڑی تھی.
“وہ تو ہمیشہ سے ہی آپ سے محبت کرتے ہے جب سے وہ آۓ ہے قیامت تک وہ آپسے محبت کرے گے. آپ جو مرضی کر لے وہ آپکو آپنی محبت دے گے ہم انکے امتی ہے… ہم مسلمان ہے سب سے بڑھ کر انکی امت ہے تو وہ ہم سے کیسے منہ موڑ سکتے ہیں.. ” حبان نے آنکھوں سے آنسوؤں کی آبشار بہاتے کہا تھا. وہ آنکھیں نیچے کی غوث سے کہہ رہی تھی وہ غوث سے اپنے آنسو چھپانا چاہ رہی تھی..
“تم…. تم نہ… نفرت ہے مجھے تم سے تمھارے اس چہرے سے تمہاری آواز سے آئندہ میرے سامنے مت آنا” وہ اسے شہادت کی انگلی سے وارن کرتا آگے بڑھ گیا تھا. حبان اس سے اس رویے کی توقع نہیں کررہی تھی. غوث اسکے سامنے سے جاچکا تھا اور اب ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا ہارن بجا رہا تھا اور اسکو بلا رہا تھا. جبکہ وہ وہی پتھر کی بن چکی تھی حبان کے کانوں کی سماعت میں اک گہری خاموشی چھا گئ تھی جو کار کے ہارن کو بھی نہیں سن رہی تھی.
“تم چل رہی یو ” اسکے بازوں کو پیچھے سے پکڑتے ہوۓ اس نے اسے اپنی طرف دھکیلا تھا. وہ یوش کی دنیا میں لوٹی تھی.
“جانا ہے یا نہیں؟” وہ سرخ آنکھیں لیے اسے گھورپا تھا. حبان نے اسکی آنکھوں میں جھانکا تھا اسے کچھ دیر پہلیے والا غوث کہی نظر نہیں آیا تھا.
“ہمم… ” وہ سر کو جھکاتی اسکے پیچھے چلنے لگی تھی. حبان بیک سیٹ پر جابیٹھی تھی جبکہ غوث ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتا گاڑی گھر کی طرف موڑ چکا تھا. حبان نے سٹیئرنگ سنبھالتے ہوۓ اک ہاتھ سے منہ میں سگریٹ رکھتے ہوۓ اسے جلایا تھا. گاڑی میں دھواں پھیل چکا تھا. جو حبان کی سانسوں مہں اذیت بن رہا تھا. گاڑی گھر کے پورچ میں رکی تھی. حبان تیزی سے باہر نکلتی اندر جاچکی تھی. جبکہ غوث کار میں بیٹھا حبان کو جاتا دیکھ رہا تھا.
حبان تیزی سے سیڑھیاں چڑھتی اپنے کمرے میں جاچکی تھی. غوث تھکے ہوۓ قدموں سے اندر داخل ہوا تھا. پورا گھر تاریکی میں ڈوبا تھا. جب غوث نے اپنی رسٹ واچ کی طرف نظر دوڑائ تو وہ رات کے بارہ بجا رہی تھی. انہیں گھر سے گۓ کافی دیر ہوچکی تھی. ہانیہ بیگم بھی انکا انتظار کرتے کرتے سوچکی تھی. وہ بھاری قدم اٹھاتا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا. وہ اک پل کے لیے حبان کے کمرے کے سامنے رکا تھا مگر اندر گہری خاموشی تھی اور کمرا تاریکی اور اندھیرے میں ڈوبا لگ رہا تھا.
غوث کمرے میں داخل ہوتا بیڈ پر خود کو دراز کرچکا تھا. کمرا اے سی کی وجہ سے سرد ماحول میں جکڑا ہوا تھا. گہری خاموشی ہر طرف پھیلی تھی. اسے شدید گرمی میں بھی سردی کا احساس ہونے لگا تھا. شاید کوئ شے تھی جو اسکے دل کو بھی جما چکی تھی. وہ بیڈ پر لیٹا آنکھیں موند گیا تھا جب حبان کے الفاظ اسکے کانوں میں گونجے تھے.
“جو کافروں سے محبت کرتے ہے اور وہ خدا جو ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے کیا وہ ہم سے نہیں کرے گا جبکہ ہم اسکے محبوب کی امت ہے… ” اسنے اک دم آپنی آنکھیں کھولی تھی. اور گہری گہری سانسیں بھری تھی. حبان ایسی ہی تھی جب بھی وہ اسکے سامنے آتی تھی اسے کسی سوال کے ساتھ چھوڑ جاتی تھی اور وہ کئ دنوں تک اس مشکل سے دوچار رہتا تھا.
🌙❤🌙❤🌙❤🌙❤🌙❤🌙❤🌙❤🌙

“کیا محبت یہ نہیں ہے عشق یہ نہیں ہے جو میں تم سے کرتی ہو غوث ہاں بولو” علیحا دیوانوں کی طرح ًغوث کی تصویر سے مخاطب تھی.
“تم آخر کیسے مجھے اگنور کرکے اسے دیکھ سکتے ہو تم کیسے میرے عشق اور جنون کو پس پشت ڈال کر کسی اور کو اپنی محبت کا حقدار کرسکتے ہو تم مجھے چھوڑ کر کیسے اپنا آپ کسی اور کو سونپ سکتے ہو… ” حبان سرخ آنکھوں میں آنسوں لیے یلو ٹاپ اور بلیو جینز میں زمیں پر بیٹھی اسکی تصویر سے باتیں کررپی تھی.
“میری راہ میں کوئ بھی نہیں آسکتا کوئ تمہیں مجھ سے نہیں چھین سکتا تم پہ صرف میرا حق ہے میرا “علیحا یہ کہتی فروٹ کٹس نائف سے اپنے ہاتھ پر مار چکی تھی اور خون اسکے ہاتھ سے گرتا کارپٹ میں جزب ہونے لگا تھا….
علیحا غوث کے جانے کے بعد اپنی دوست کے ساتھ مال میں آگئ تھی.ماہم اسکا دل بہلانے کے لیے اسے زبردستی اپنے ساتھ لائ تھی. علیحا نے وہاں غوث کو دیکھا تو بے اختیار اسکے قدم اسکی طرف بڑھے تھے. جب اسنے دیکھا کہ غوث کسی لڑکی کے لیے کچھ خریدرہا تھا. وہ چلتا ہوا اسکے پاس آیا تھا. اور اسکے سر کا حجاب سہی کرنے لگا تھا. جس نے علیحا کے دل میں حسد کی چنگاری بھڑکائ تھی. وہ پورے راستے غوث کا پیچھا کرتی رہی تھی.اور اب اپنے کمرے میں بیٹھی اسکی تصویر سے مخاطب تھی. وہ غوث کو کسی اور کو نہیں دے سکتی تھی. وہ آخر کیسے غوث کو کسی کے ساتھ شیئر کرلیتی. جبکہ اس سب سے پہلے غوث کو کسی کے نصیب میں لکھ چکا تھا. وہ جس کا حقدار تھا اسکے نصیب میں وہ لکھا جاچکا تھا اور جو اسکی حقدار تھی وہ اسکے نصیب میں لکھ دی گئ تھی….

اے عشق محبت دے کھیل آں بلیے
تینوں ککھا وانگوں رول دوں
تو دل لا کہ ویکھ محبت
تینوں خون دے آنسو کول دو…. 💔

🌙❤🌙❤🌙❤🌙❤🌙❤🌙❤🌙

“میں تم سے بات کرنا چاہتا ہوں” وہ خاموش بیٹھی کھڑکی کے پار رات کو ڈھلتا ہوا دہکھ رہی تھی جب موبائیل کی رنگ ٹیون نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا تھا.
“جی” اسنے کھوۓ ہوۓ انداز میں اسے میسج کیا تھا.
حبان کو غوث کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کو تقریباً اک ہفتہ گزر چکا تھا. وہ اب کافی نارمل تھی مگر اس دن کے بعد اسکا غوث سے سامنا نہیں ہوا تھا. وہ خود بھی غوث کے سامنے نییں آنا چاہتی تھی. کیونکہ اسکے تلخ الفاظ اسے بہت اذیت دے کر گۓ تھے. اور غوث نے بھی اسے صاف الفاظ میں کہہ دیا تھا .اور وہ اس پر اب عمل بھی کررہی تھی.

“شادی کروگی مجھ سے” غوث کے کہے گۓ الفاظ اسکے کانوں میں گونج رہے تھے جب موبائیل پر آنے والے میسج نے حبان کی کانوں کی سماعتوں کو بیدار کیا تھا.حبان اس میسج کو دیکھ کر جتنا غصہ تھی اتنا حیران بھی تھی.
“کیا مطلب ہے آپکا… ” اسنے غصے سے میسج ٹائپ کرتے ہوۓ کہا تھا.
“یہی کے شادی کروں گی تم… ” پھر سے اک میسج ریسیو ہوا تھا.
“نہیں بلکل بھی اور ہاں آئندہ میسج کرنے کی ہمت مت کرنا”وہ غصے میں میسج ٹائپ کرتی موبائیل کو بیڈ پر اچھال چکی تھی. سکریں کے اس پار کسی کی آنکھیں چمکی تھی اور چہرے پر مسکراہٹ پھیلی تھی.
بالوں کو پونی ٹیل میں قید کرتی وہ سٹڈی ٹیبل پر بیٹھتی وہ اپنی ڈائری پر کچھ لکھنے لگی تھی. ڈائری پر اک آرٹیکل لکھ کر وہ دوبارہ کھڑکی کے سامنے کھڑی تھی. پورچ میں مانوس رنگ کی کار کی لائٹس چمکی تھی. غوث اس میں سے لڑکھڑاتا ہوا اترا تھا. کوٹ کو کاندھے پر ڈالے وہ اندر کی جانب بڑھ گیا تھا.
فون پر رنگ نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا تھا. وہ بیڈ کی طرف بڑھی تھی. فون پر لائبہ کا نام جگمگا رہا تھا. کال ریسیو کرتے وہ فون کان سے لگاۓ بیڈ کراؤن کے ساتھ ٹیک لگا چکی تھی.
“یار کیسی ہے تو… ” لائبہ کی آواز اسکے کانوں سے ٹکرائ تھی.
“ٹھیک ہو” حبان نے جواباً کہا تھا.
حبان لائبہ سے کسی ٹاپک پر ڈسکشن کرنے میں مصروف آنکھیں موندے بیڈ کراؤن کے ساتھ ٹیک لگاۓ خود کو ریلیکس کررہی تھی. جب کوئ ااسکے کمرے کا دروازہ کھولتا اندر آیا تھا. حبان اچانک سے اسکی آمد پر بوکھلائ تھی. وہ لڑکھڑاتا ہو ا دروازہ بند کرتا اس تک آیا تھا. حبان کے ہاتھوں سے فون زمین پر گر کر آف ہوگیا تھا.
“غوث آپ یہاں… ” وہ ڈرتی ہوئ قدم پیچھے لینے لگی تھی.
“ہاں میں ” وہ نشے میں چور ہنستا اسکے قریب آیا تھا. حبان دیوار کے ساتھ لگی اپنا سانس روک گئ تھی جو اسکے وجود سے اٹھنے والی بو سے اسکی سانسوں میں تیزاب گھول رہی تھی.
” تم بہت بڑی بڑی باتیں کرتی ہو نہ مجھے ذہنی اذیت دے کر تمہیں خوشی ملتی ہے نہ”وہ اپنی سانسوں کا ہیولا اسکے منہ پر مارتے ہنس رہا تھا.
“نہیں.. آپ یہاں سے جاۓ” وہ اسے پیچھے دھکیلنے کی ناکام کوشش کرنے لگی تھی.
“میں نہیں جاؤں گا یہاں سے یہی بیٹھو گا… “غوث یہ کہتا حبان کے بیڈ پر لیٹ چکا تھا. جبکہ حبان ڈری سی دیوار کے ساتھ لگی کھڑی تھی. غوث شوز سمیت حبان کے بستر پر نیند کی وادی میں جاچکا تھا. جب حبان کو لگا یہ نہیں جاگنے والا تو حبان اس پر اک نظر ڈالتی صوفے کی طرف بڑھ چکی تھی. اور خود کو بڑی چادر میں لپیٹتی وہ صوفے پر لیٹ گئ تھی اور آنکھیں موند گئ تھی….

جاری یے…… ❤🌙

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *