کلام عشق – قسط 1

·
Novel: Kalam e Ishq
کلامِ عشق…..
(Ep:1)
Writer:SyEdA Humna SHah…

شام پسند ہے تمہیں؟ فون پر ٹن کی آواز کے ساتھ کسی نے اپنی موجودگی کا احساس دلایا تھا.
ڈوبتے ہوۓ سورج کو دیکھتی گرے آنکھیں یک دم موبائل کی سکرین کی طرف مڑی تھی.
“نہیں” نرم گلابی ہاتھوں نے دھیرے دھیرے مسیج لکھنے میں تقریباً 5 منٹ لگا دیے تھے
“عجیب ہے! ” اس پار کسی کے چہرے پر مسکراہٹ گہری ہوئ تھی
ڈھلتے ہوۓ سورج کو دیکھنے کا منظر کتنا اذیت ناک ہے اسکے لیے وہ کیسے کسی کو بتاتی…
ٹن ٹن…. اب کی بار موبائل پر کسی نے میسجز کی بھرمار کردی تھی.
مگر وہ کہی کھو چکی تھی .وہ شام کے اس منظر میں اس اندھیرے میں خود کو بھی کھو دینا چاہتی تھی…

❤✨❤✨❤✨❤
زمل اٹھ جاؤ کب سے آوازیں دے رہی ہو تمھیں میں.
بڑی سی چادر میں لپٹی اک عورت اس سوۓ ہوۓ جن کے کمرے کی طرف بڑھی تھی.
جیسے ہی دروازہ کھول کر وہ کمرے کے اندر داخل ہوئ تو جیسے آسمان سے گلاب کے پھولوں کی بارش ہونے لگی. وہ اچانک ہی اللہ کی اس قدرت پر ششدر رہ گئ تھی.

ہیپی برتھ ڈے ٹو یو,ہیپی برتھ ڈے ٹویو.. کسی نے مبرا کے وجود نے اپنے کندھے پر اپنے جگر کے لمس کو محسوس کیا تھا.
ہیپی برتھ ڈے مبرا میری جان میری دنیا میرا پہلا پیار میرا عشق میری دنیا و….. اچھا بس بس مبرا نے اس سوۓ ہوۓ جن کے ہونٹوں پر اپنی انگلی رکھے اسے چپ کروانے کی ناکام کوشش کی تھی.
‘شرم کرو ماں ہو تمھاری’
‘ تو کیا مبری جان پیار کیا تو ڈرنا کیا تم بھی نہ.. ‘ اپنے آپ کو وہ مبرا کے دوپٹے میں چھپاۓ رومیو کی سی ایکٹنگ کرنے لگا.
‘اچھا بس بس سوۓ ہوۓ جن بس کرو! باہر سعود آیا تمھیں لینے’
‘آہ مبری جان یہ کیا کہہ دیا کال می زی ‘ منہ سا بناتے ہوۓ کالر کو جھاڑتے ہوۓ وہ اپنی پیاری امی جان کو ٹیبل پر رکھے کیک کی طرف لے جانے لگا.
‘کم آن مام کٹ دی کیک its your day’مبرا کی پیشانی کو چومتے ہوۓ یہ جن بلکل اک ننھے بچے کی طرح اپنی ماں سے محبت کا اظہار کر رہا تھا.
مبرا نے ٹیبل پر رکھا پائن ایپل کیک کاٹتے ہو ۓ دل میں زمل کے نام بے شمار دعائیں کہی تھی.اسکی دنیا تو زمل سے شروع اور اسی پر ختم ہوتی تھی.اور زمل کی؟ شاید زمل کی زندگی میں اب تبدیلی کا وقت تھا اور ہاں شاید کسی اور کے آنے کابھی.
مبرا نے کیک کاٹ کر پہلا ٹکڑا زمل کو جبکہ زمل نے وہی کیک دوبارہ ماں کو کھلاتے ہوۓ اک خوب صورت سی شال ماں کو اوڑھائ تھی.
‘جان یہ میری طرف سے’
‘چلو چھچورے کہی کے یہ یونیورسٹی جا کر تم کچھ زیادہ ہی بولڈ نہیں ہوگۓ ‘ مبرا زمل کا کان کھینچتے پوۓ اس سے پوچھنے لگی.
‘میرا مطلب مام سالگرہ والے دن کون ایسے کرتا’
‘ بیٹا ہم آپکی اماں ہے اور بیشک ہم بڑی بھی ہوجاۓ آپکی اماں ہی رہے گی’
‘ہاۓ کیا سین تھا آنٹی میرے تو آنسو مطلب ہنسی ہی نہیں رک رہی’ سعود جو دروازے میں کھڑا اس جنت کا مظاہرہ کر رہا تھا .زمل کو ڈانٹ پڑتے دیکھ اس منظر سے محظوظ ہوتا ہوا اپنی آنٹی کی سائڈ لینے لگا.
‘بس بیٹا تو باہر مل’ زی منہ پر ہاتھ پھیرتے سعود کو دھمکی دینے لگا..
‘آنٹی دیکھ لے اس ڈون کو کیسے میری عزت برباد کرنے پر تلا ہوا یہ’
‘اللہ اک تو تم دونوں کے ڈرامے. … بس بھئ میں باہر جارہی ہو ناشتہ لگانے آجاؤ تم دونوں بھی ‘مبرا ان دونوں کو خوشیوں بھری زندگی کی دعا دیتے باہر کچن کی طرف بڑھ گئ.
‘ادھر آ سالے تجھے میں بتاتا’ زی کے بازوؤں میں اب سعود کی گردن تھی.
‘اچھا یار مزاق تھا نہ میری جان’ سعود زی کے ہاتھ سہلاتے اپنی جاں بخشی کی ناکام کوشش کرنے لگا.
دونوں اب بیڈ پر بیٹھے اک دوسرے کو تنگ کرنے میں مصروف تھے. .
نامکمل ہوتے ہے غم!جو خوشیاں کھا کر اپنے آپ کو مکمل کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہے.
کینوس پر کسی کے ہاتھ رنگوں سے لت پت کسی کے چہرے کو بنانے کی ناکام کوشش کررہے تھے. انگلیاں اک اک نقش کو اور پوری طرح واضح اور نکھارنے میں مصروف تھی.
‘نہیں بن رہا نہیں بن رہا اففففف’ بالوں کو اک پونی میں قید کرتے وہ بیڈ پر گری تھی.آنکھیں موندے وہ اس چہرے کو یاد کرنے کی کوشش کررہی تھی.اک سایہ تھا جو ذہن کے پردے پر لہرایا تھا.
‘گولڈن آنکھیں, کرل بال… چچچ ‘ کیوں یاد نہیں آرہا مجھے’ انگلیوں کو بالوں کی جڑوں میں دھنساتے ہوۓ وہ اک دیوانی سی لگ رہی تھی. شاید اگر کوئ اسکی یہ حالت دیکھ لیتا تو دیوانی ہی سمجھتا اسے. کمرے میں ہر طرف کاغز بکھرے پڑے تھے جس پر آدھے آدھے چہروں کو بنا کر ادھورا چھوڑا گیا تھا. کارپٹ پر ہر جگہ پینٹ برشز بکھرے پڑے تھے.
‘میں کیا کروں ‘اسکی بے بسی آنکھوں سے اب آنسوؤں کی صورت چھلکنے لگی تھی. گلابی گالوں پر آنسوں موتیوں کی طرح لڑکنھیں لگے تھے.آنکھوں کے گرد سیاہ ہلکے اسکے رت جگے کی خبر دے رہے تھے.
دروازے پر دستک ہوئ تھی یہ دستک تقریباً آدھے گھنٹے سے ہر پانچ منٹ کے وقفے کے بعد دی جارہی تھی.
اسکو سخت کوفت ہوئ اور پاس رکھا گلاب کے پھول کا ڈیکوریشن پیس دروازے پر دے مارا جو اک سیکنڈ میں کئ کرچیوں میں بکھر چکا تھا بلکل اسکے دل کی طرح.
‘آہ آہ.!!!!!!!! ‘ وہ اب چیخنے لگی تھی اس حالت سے تنگ آتے ہوۓ وہ اب اونچی رو رو کر اپنی حالت کا اعلان کر رہی تھی. اندر جلنے والی آگ آنسوؤں, دکھوں اور اضطراب کو آج اک دم باہر لایئ تھی .جو اب اذیت بن کر اسکے وجود کو اپنے اندر پگھلا رہا تھا…
✨❤✨❤✨❤✨❤✨

سنہری بال گرے آنکھوں کے سامنے پردے کی طرح منہ کو ڈھانپے ہوۓ تھے. فجر کی أذان کی آواز اک عالم کے خاموشی کے سکوت کو چیرتی ہوئ اس کے کانوں تک پہنچی تھی.
وہ اک باغ میں تھی اک سفید پھولوں والا باغ جہاں اسے لایا گیا تھا. ہمراہ کوئ تھا نا آشنا چہرہ بہت تیز روشنی کے باعث وہ ٹھیک سے دیکھ نہیں پارہی تھی مگر وہ اسکے ہاتھ میں اپنا دیے چلی جارہی تھی یا پھر اسے لے جایا جارہا تھا. وہ پہاڑ کے کنارے آکر رک گئ اب ان گرے آنکھوں کی ساری کوشش اس چہرے کو دیکھنے میں تھی. اسنے اپنا ہاتھ اس چہرے کو چھونے کے لیے آگے بڑھایا ہی تھا کے اللہ اکبر کی آواز عالمِ خوابیدگی سے اسے ہوش کی دنیا میں واپس لائ تھی. فضا میں چاروں سمت اس ذات باری تعالیٰ کی حمد و ثناء جاری تھی. اسکی تعریف سے اس جہاں کی ہر شے جھوم رہی تھی.

‘یا اللہ یہ کیا تھا؟’ ماتھے پر آئ پسینے کی بوندوں کو ہاتھوں سے پونچتی وہ بیڈ سے نیچے اتری اور وضو کی نیت سے واش روم کی طرف چل دی.

فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد وہ قرآن پاک کی تلاوت کر رہی تھی کہ وہی منظر اسکی آنکھوں کے سامنے لہرا گیا.
.’استغفراللہ …’ اپنے حجاب کو ٹھیک کرتی وہ بے چینی سے قرآن پاک کو چومتے ہوۓ اسکی جگہ پر رکھنے لگی.
‘ یہ کیا ہورہا ہے؟ کیوں مجھے یہی خواب بار بار.. کون ہے کہاں تھی میں؟…’ خود سے سوال کرتی وہ سڑھیوں سے نیچے اتر رہی تھی کہ کسی کا طاقت ور وجود اسکے کندھے کے ساتھ ٹکرایا تھا.خود کو مشکل سے گرتے ہوۓ سنبھالتی اس نے سائیڈ گرل سے سہارا لیا تھا.
‘سوری ..’ نشے میں دھت یہ وجود لڑکَھڑاتا آگے بڑھ گیا. اسکے منہ سے نکلنے والی بو دور دور تک پورے ماحول کو مدہوش کرنے کی کوشش کرہی تھی.
‘اسے کوئ سمجھاتا کیوں نہیں یا اللہ اسے ہدایت دے’ ہاتھوں کو فضا میں بلند کرتے ہوۓ وہ اس خمار سے آلود وجود کے لیے دعا کرتی کچن کی طرف بڑھ گئ.
‘حبان اپی آپ کیا کرہی ہے؟’ اسکے گرد باہوں کا گھیراؤ کرتے ہوۓ اینا حبان سے لپٹی تھی.
‘چاۓ بنا رہی ہو شہزادی’
‘ کس کی چاۓ؟’
آپکی خالہ کی’ اینا کی پیشانی کو چومتے وہ اسے چولہے سے دور کرنے لگی.
اینا حبان کی خالہ کی بیٹی تھی. جوکہ بچپن سے ہی دماغی ابنارمییلیٹی کا شکار تھی. سولہ سالہ اینا کا دماغ ابھی بھی پانچ سال کے بچوں جتنا ہی تھا. وہ لکھنا پڑھنا تو جانتی تھی. مگر اپنی کمزوری کی وجہ سے اسکی خالہ مہرین نے حبان کی امی کے اصرار پر بھی اسے سکول داخل کروانے سے صاف صاف منع کردیا تھا جبکہ اسکو گہری وابستگی کے باعث وہ اسے خود سے دور نہیں کرنا چاہتی تھی. البتہ حبان نے بچپن سے ہی اسکا بہت خیال بھی رکھا تھا اور وہ اسے بکس لاکر دیتی پڑھنے کے لیے جو کتابیں وہ بچپن میں خود پڑھتی وہی کتابیں اینا کو بھی پڑھانے کی کوشش کرتی مگر اس دماغی کمزوری کے باعث اب بھی وہ 2 کلاس کی کتابیں ہی بامشکل پڑھ پاتی تھی. گھر میں اینا سب اے زیادہ حبان کا کہنا مانتی جبکہ حبان کو بھی سب سے زیادہ اینا سے محبت تھی.
‘آپی مجھے آملیٹ کھانا ہے’ بکھرے ہوۓ بالوں کو کانوں کے پیچھے سرکاتی وہ ٹیبل کے پاس پڑی بے بی چیئر پر بیٹھنے لگی.
‘نہیں نہیں. … اینا یہ حماد کی ہے ادھر آؤ صوفے پر بیٹھتے ہے ‘ اینا کو کچن سے باہر لاتی وہ اینا کو صوفے پر بٹھانے لگی.
‘مجھے آملیٹ کھانا ہے نہ… آملیٹ… ‘ ہاتھ میں پکڑا ٹیڈی وہ دور پھینکتے ہوۓ رونے کو تیار تھی.
‘میری بیبی کو آملیٹ چاہیۓ نہ میں ابھی بنا دیتی ہو ابھی آپ ادھر بیٹھو ٹیڈی کے ساتھ باتیں کرو تب تک میں دو منٹ میں آملیٹ بنا کر لائ’ حبان اینا کا ٹیڈی اس کو پکڑایا اینا کے بالوں کو سنوارتے ہوۓ اسے بہلانے لگی.
‘دو منٹ دو منٹ ‘ دو انگلیوں کو حبان کے سامنے لہراتے کالی سیاہ آنکھوں کو بڑا کرتے ہوۓ وہ بولی تھی.
‘جی بس دو منٹ’ حبان اسکی ناک کو دباتے کچن کی طرف بڑھ گئ .
وہ کچن میں اندر داخل ہوئ تو اسے وہاں اک طوفان برپا تھا. خمار میں آلود وجود کیبنز کو چھانتے ہوۓ چیزوں کو ادھر سے ادھر الٹ رہا تھا.
اپنے حجاب کو سر پر اچھی طرح لپیٹتے ہوۓ وہ آگے بڑھی اور فریج سے انڈہ نکالتے ہوۓ آملیٹ بنانے کی تیاری کرنے لگی.
‘سر….. سرک… سرکہ کہاں ہے’ خماری اتنی تھی کہ زبان بھی لفظوں کو ادا کرنے سے قاصر تھی.
حبان خاموشی سے اپنا کام کرنے میں مصروف تھی.
‘سنو لڑکی تم سے پوچھ رپا ہو سرکہ کہا
سرک… سرکہ کہاں ہے’ خماری اتنی تھی کہ زبان بھی لفظوں کو ادا کرنے سے قاصر تھی.
حبان خاموشی سے اپنا کام کرنے میں مصروف تھی.
‘سنو لڑکی تم سے پوچھ رپا ہو سرکہ کہاں ہے؟’ حبان کے چہرے کے سامنے چٹکی بجاتے وہ بولا تھا.
حبان اک دم پیچھے ہٹی تھی جیسی کرنٹ چھوڑتی کوئ تار اسکے سامنے گرادی گئ ہو. مگر یہاں کوئ تار نہیں بلکہ وہ بو تھی جو اس وجود کو اپنے لپیٹ میں لیے ہوئ تھی.
‘ فریج کے ساتھ لیفٹ کیبن میں’ انگلی سے اشارہ کرتی ہوئ وہ نظریں جھکاۓ بولی تھی.
اب وہ دیوانوں کی طرح اس کیبن کی تلاشی لینے میں مصروف تھا. اس کے ہاتھ سے کانچ کی اک بوتل ٹکرائ تھی. اس کو نکالتا ہوا وہ فریج کی طرف بڑھا پانی کی بوتل نکالی اور کچن میں رکھے ٹیبل پر رکھے گلاس میں سرکہ انڈیلنے لگا. خماری کی وجہ سے زیادہ سرکہ گلاس میں ڈلنے کی بجاۓ نیچے ٹیبل پر گرتا رہا. پھر ہانی کی بوتل میں سے پانی کو گلاس میں انڈیلنے لگا. گلاس کے بھرتے ہی اسنے وہ گلاس اپنے لبوں سے لگایا تھا.
جبکہ چولہے کے ہاس کھڑی حبان یہ سارا منظر حیرانگی سے دیکھ رہی تھی.

‘آملیٹ……. ‘ اینا کی آواز پر وہ جھٹکا کھا کر ہوش کی دنیا میں واپس آئ تھی.
‘ لا رہی ہو’
‘میرے لیے بھی’کچن میں اک وجہہ آواز نے اک سحر طاری کیا تھا.
‘ابھی نہیں مل سکتا ابھی اینا کو دینا ہے مجھے پہلے’ انڈے کو فرائنگ پین میں ڈالتی ہوئ وہ دھیمی آواز میں بولی تھی.
خماری سے اٹا وہ وجود اک دم کرسی پیچھے دھکلیتے ہوۓ اسکی طرف بڑھا تھا.
‘یہ کیا بتمیزی ہے’ حبان کی بازو اب اس وجود کے سخت ہاتھ کی گرفت میں تھی.
‘میں نے کہاں پہلے میں تو میں’ زور سے اسکا بازو تھامے وہ شخص اسے اسکی سانسوں سے بھی زیادہ قریب محسوس ہوا تھا.
گہری گرے آنکھوں نے اس نیلی آنکھوں والے کو جیسے خود میں قید سا کرلیا تھا. دونوں طرف گہری خاموشی تھی سواۓ اس شخص کی تیز سانسوں کے. حبان کو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا جبکہ اس شخص نے اس لمحے کے ہزاروے سیکنڈ اپنے دل کی دھڑکن تیز ہوتی محسوس پائ تھی.
‘آپی…… ‘اک دم اینا کے چلانے کی آواز آئ تھی. جس نے ان دونوں کے درمیان اس خاموشی اور سکوت کو توڑا تھا.
‘چھوڑو مجھے’ حبان اپنا ہاتھ چھڑواتے کچن سے باہر بھاگی تھی.
جبکہ وہ شخص اپنی اس کمزوری پر حیران تھا. وہ جو بیچ چراہے پر چند لڑکوں کو بری طرح پیٹنے پر انکو ICU میں پہنچا سکتا تھا. اب حیران کھڑا اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہا تھا. آخر کیا تھا جو وہ صبر کرگیا برداشت کرگیا. وہ بجلی کی سی تیزی سے کچن سے باہر نکلا اور صوفے پر بیٹھی حبان کو دیکھنے لگا جو اینا کو چپ کروانے کی کوشش کرہی تھی.
‘وہ یہی ہے آپی وہ مجھے کھا جاۓ گا!’ اینا اپنی گیلی آنکھوں رگڑتے ہوۓ حبان کے سینے سے لگی ہوئ تھی.
‘ بس بس کچھ نہیں کہتا وہ وہ دیکھو وہ تو TV میں ہیں کیسے میری بے بی کو کھا سکتا پٹائ نہ لگا دو گی میں اسکی’ حبان اینا کے بالوں میں اپنی نرم انگلیاں پھیرتی انہیں سہلارہی تھی.حبان اس وجود سے بے خبر کتنی ہی دیر اینا کے ساتھ بچوں والی باتیں کرتی رہی. وہ اک نظر ان دونوں کی طرف ڈال کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا. نشے کی خماری اب کم تھی سرکے والے پانی نے خوب کام دکھایا تھا اپنا.
❤✨❤✨❤✨❤✨❤✨

‘سعود کتنی دیر ہے یار کب سے کھڑا تیرا انتظار کر رہا میں ‘
‘جانی بس پانچ منٹ میں گھر سے نکل رہا تو 20 منٹ ویٹ کر لے میں آدھے گھنٹے تک پہنچتا ہو ‘
‘کیا؟یہ کیا کہہ رہا تو؟’
‘مطلب کے آرہا نہ تو رک جا میری جان میں آتی ہو’
‘اففف سعود!!! ‘ غصے سے فون پاکٹ میں رکھتے ہوۓ وہ کینٹین کی طرف بڑھا ہی تھا کہ کوئ برق رفتاری سے اس سے ٹکرایا.
‘ سوری… ‘ حواس باختہ یہ لڑکی اپنے گرے ہوۓ سکیچز سمیٹنے لگی تھی.
‘ Let me help u’
‘ don’t touch them’زمل پیپرز اٹھانے کے لیے بڑھا ہی تھا کہ اس لڑکی کی تیز آواز نے رکنے پر مجبور کیا
وہ اپنے پیپرز اٹھاتی بجلی کی سی تیزی سے آرٹس ڈیمارنٹمنٹ کی طرف بڑھ گئ.
‘ عجیب ‘ زمل کو یہ لڑکی پاگل لگی تھی.
زمل تقریباً آدھے گھنٹے سے کینٹین میں بیٹھا سعود کا انتظار کررہا تھا. کہ سامنے ٹیبل پر پڑے موبائیل کی رنگ نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا تھا. پہلے تو اس نے اگنور کیا مگر جب کوئ اسے اٹھانے نہ آیا تو وہ کرسی اٹھا اور ٹیبل سے موبائیل اٹھا کر کال ریسیو کی.
‘ بیٹا کہاں ہو؟ ‘ موبائیل کان کو لگاتے ہی کسی کی پریشان آواز سماعتوں سے ٹکرائ. وہ کچھ لمحے تو خاموش رہا.
‘ علیہا بیٹا کیا ہوا کہاں ہو خاموش کیوں ہوں’ اس پار کی آواز اب مزید پریشان ہوئ تھی جو فکر میں اتنے جملے اک ساتھ بولتی چلی گئ.
‘ جی میں زمل ہو ‘
‘ کون زمل؟’
‘مجھے یہ موبائیل کینٹین میں ٹیبل پر پڑا ملا ہے آنٹی’ زمل نے اس خاتون کو واضح کیا کہ یہ جس کا بھی موبائیل ہے وہ اسے یہاں بھول کر جاچکی ہے.
‘ بیٹا میری بیٹی کا موبائیل ہے یہ اس سے میری بات کروا دو’
‘جی آنٹی ضرور مجھے بتاۓ کے آپکی بیٹی کونسے ڈیپارنٹمنٹ میں ہے؟’
‘بیٹا وہ آرٹس ڈیپارٹمنٹ میں ہے اسے وہاں یہ موبائیل دے آؤ اور اسے کہہ دو کہ پلیز مجھ سے بات کرلے’ اب کی بار علیہا کی ماں روپڑی تھی.
‘ نہیں آنٹی آپ روۓ نہیں میں فوراً جاتا ہو اسکے ڈیپارٹمنٹ آپ پریشان نہ ہو’ کال کٹ کر کے اسنے فوراً آرٹس ڈیپارٹمنٹ کی راہ لی.
کہی یہ موبائیل اس صبح والی لڑکی کا تو نہیں؟’ خود سے باتیں کرتے ہوۓ وہ اب آرٹس کلاس کے باہر تھا. جیسے ہی وہ دروازہ کھولنے لگا وائلن کی اک مدھر دھن اسکے کانوں میں پڑی. وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تو وہی صبح والی لڑکی کینوس کے سامنے بیٹھی وائلن بجارہی تھی. زیادہ دیر نہیں ہوئ تھی کہ وہ یہ دھن پہچان گیا. یہ اک مشہور سنگر کے سونگ “lovely ” کی دھن تھی.
وہ تھوڑا آگے بڑھا ہی تھا کی اسکے جوتوں کی آواز نے فضا میں پھیلے اک سحر کو توڑا تھا.
وائلن بجاتے ہاتھ اک دم رکے تھے.
سوری.. وہ.. میں آپکا فون دینے آیا تھا. آپ کینٹین پر بھول گئ تھی.’
‘ رک جاؤ وہی میں خود آتی ہو’ وہ موبائیل آگے بڑھاتے ہوۓ آگے بڑھا ہی تھا کہ علیہا نے اسے وہی کھڑے رہنے کا کہہ دیا .
آنکھوں کے کناروں پر آئ نمی کو صاف کرتی وہ کرسی سے اٹھ کر زمل کی طرف بڑھنے لگی تھی.
لمبے براؤن بالوں کو پونی میں قید کیے.بلیو جینز کے ساتھ اک کھلی سی لانگ پرپل شرٹ میں ملبوس وہ کسی جگہ کی شہزادی لگ رہی تھی جو خود کے غموں میں ڈوب رہی ہو کوئ ہو جو اسے اس گہرے عمیق پانی سے نکالے .
‘میرا فون’
‘ہاں؟!’
‘فون! ‘
‘ آہ یس There u go’زمل اک پل کے لیے اس وجود میں کہی کھو گیا تھا. کچھ تلاش کررہا تھا. شاید کے وہ شوخ چنچل پن جو اس عمر کی لڑکیوں میں ہوتا ہے. مگر وہاں تو اداسی اپنے ڈیرے ڈالی تھی.
‘آر یو اوکے؟’
‘یس’ کافی رووڈ انداز میں وہ جواب دیتے ہوۓ کینوس کی طرف بڑھ گئ تھی.
‘کتنی سنکی لڑکی ہے نہ شکریہ نا کچھ اور’ دل میں کہتا ہوا وہ دروازے کی طرف پلٹنے لگا تو اسے علیہا کی مام کا میسج یاد آیا.
‘ah! one thing more! your mum called up وہ چاہتی ہے کہ تم ان سے بات کرلو کافی ہریشان ہے وہ تمہارے لیے’
فون پر پھر سے کالنگ کی بیل بجنے لگی. اسنے زمل کو جانے کا کہتے ہوۓ کال ریسیو کی تھی.
‘ ٹھیک ہے میں جارہا ہوں’دونوں ہاتھوں کو بازوؤں سمیت ہوا میں لہراتے وہ آرٹس روم سے باہر نکل. گیا.
‘ عجیب سنکی. لڑکی ہے پاگل بھی اس سے بہتر ہوگے’ یہ کہتا وہ سیکنڈ فلور پر اپنی کلاس کی طرف بڑھ گیا. اب وہ سعود کا مزید انتظار نہیں کرنا چاہتا تھا.اور اس سب کے بعد تو بلکل نہیں..
زمل ساہیوال کی اک مشہور یونیورسٹی میں بی ایس کمسٹری کاسٹوڈنٹ تھا.سعود زمل کا بچپن کا دوست تھا اور وہ دونوں بچپن سے اب تک ساتھ ہی تھے. دوسال پہلے ابو کے انتقال کے بعد اب گھر کی ساری ذمہ داری زمل کے کاندھوں پر تھی جسے وہ پارٹ ٹائم جاب کر کے مینج کرتا تھا.

‘جی مام’
‘بیٹا کہاں ہو صبح بنا بتاۓ تم یونیورسٹی جلی گئ ناشتہ بھی نہیں کیا میں پوری رات تمہارے روم کا دروازہ نوک کرتی رہی’آمنہ جو رات سے اپنی بیٹی کی اس کیفیت سے پریشان تھی صبح سے علیہا سے رابطہ کرنےکی کوشش کرہی تھی.
‘مام میں ٹھیک ہو میں نے کینٹین سے ناشتہ کرلیا تھا’ اب وہ اپنی ماں کو اپنی رات کی حالت کے بارے میں کیا بتاتی کیسے اسے بھی اس اذیت کے بارے میں بتا کر تکلیف دیتی.
‘علیہا کیا بات ہے جو تمہیں تنگ کرہی ہے کیا ہوگیا ہے تمہیں تم پہلے تو ایسی نہیں تھی اگر کوئ پریشانی یے تو مجھے بتاؤ ہم مل کر کوئ حل نکالے گے’
“نہیں مام کچھ نہیں ٹھیک ہو میں… اچھا گھر آکر بات ہوتی ہے میری کلاس کا ٹائم ہوگیا ہے ‘علیہا جلد سے جلد ان سوالات سے پیچھا چھڑوانا چاہتی تھی.
‘اچھا ٹھیک ہے اپنا خیال رکھنا اللہ حافظ’
‘اللہ حافظ’ علیہا نے اک گہری سانس لی وہ اپنی ماں کو دکھ نہیں دینا چاہتی تھی مگر کسی نہ کسی وجہ سے وہ انھیں اداس کر دیتی تھی. اب وہ ونڈو سے چھن چھن آتی دھوپ کی کرنوں کو دیکھنے لگی شاید وہ اس روشنی میں بھی اسی چہرے کو تلاش کرہی تھی.
❤✨❤✨❤✨❤

Its been a long day without u my friend
and i will tell u all about it
when i see u again….. ‘
کمرے میں گانے نے اک شور برپا کیا ہوا تھا. فلور پر آدھے جلے سگریٹ کے ٹکڑوں نے ٹائلز کی خوبصورتی کو بد نما کیا ہوا تھا.
اور اک وجود جو بیڈ پر اس تیز میوزک سے بے خبر نیند کی وادی میں کھویا ہوا.
‘نہیں نہیں چھوڑ دو میرے بابا کو کچھ… نہیں کیا انھوں نے’ وہ نیند میں کچھ بڑبڑا رہا تھا.
روم سے باہر ظہر کی اذانوں کی صدائیں جاری تھی. مگر اس سے بے خبر اسکے روم میں ہر طرف میوزک کا بے ہنگم شور تھا.

‘Long day without u my friend
i will tell u all about it
when i see you again’
سونگ کی آواز کسی عام انسان کے کان کے پردے پھاڑنے کے لیے کافی تھی…
‘نہیں…. نی….. چھوڑ دو چھوڑ دو….. ‘وہ اک جھٹکا کھا کر ہوش کی دنیا میں واپس آیا تھا. اے سی کے سرد ماحول میں بھی اسکا وجود پورا پسینے میں ڈوبا ہوا تھا.
‘ احمد شیرازی چھوڑو گا نہیں میں تمہیں تم دیکھنا تم اپنی زندگی کے لیے خون کے آنسو رو گے ایسی موت مارو گا کہ تم پل پل مرو گے …….. ‘ اک آواز گونجی تھی فضا میں جو میوزک کے شور سے بھی زیادہ اونچی تھی……………

جاری ہے……….

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *