کلامِ عشق-5

کلامِ عشق 🍁
رائٹر:سیدہ حمنٰہ شاہ

” تمہیں پتہ بھی ہے محبت کے بارے میں جو تم یوں واویلا مچا رہی ہو… ” حبان جو بلیک پوائنٹر سے فولڈر پر لکھ رہی تھی مسکرا کر لائبہ کی طرف دیکھنے لگی.
“یار جو بھی ہے یہ پر اتنا پتہ ہے تمہارے ان ڈمپلز کو دیکھ کے مجھے تم سے ہوجاۓ گی.. ” لائبہ حبان کے ڈمپلز پر انگلی رکھتے اسے دبانے لگی تھی. جس سے حبان کی مسکراہٹ اور گہری ہوئ تھی.
“آنہہ اس کا مطلب مجھے بچنا چاہیئے اب تم سے” حبان ہنستی ہوئ لائبہ کو تنگ کرہی تھی.
“جی بلکل اور یہ سمیرا اور امائمہ کیوں نہیں آئ آج “لائبہ نے انکی عدم موجودگی پا کر اداس ہوتے ہوۓ کہں تھا.
“پتہ تو ہے آج ہاف ڈے تھا انہوں سے سوچا ہوگا جانا ہی کیوں ہے”حبان فولڈر کو بند کرتے ہوۓ بیگ میں رکھ رہی تھی.
“لکھ لیا آرٹیکل ؟”
“ہاں…! ” وہ خوشی سے چہکتے ہوۓ بولی تھی.
“ٹوپک کیا تھا…. ؟”لائبہ نے تجسس سے پوچھا تھا.
“اممم “محبت” وہ کچھ دیر ٹھہر کے بولی تھی.
” مجھے بی بی جی کہہ رہی تھی کہ یہ فضول ہے اور اب خود محبت کو لکھ رہی ہے”لائبہ نے خفا ہوتے ہوۓ کہا تھا
“ہے تو یہ فضول پر اچھی لگتی ہے یہ فضول حرکت”حبان نے اک خمار میں یہ کہا تھا
“اوہوووووو مجھے لگا تھا مس حبان کا ٹاپک اپکا کزن دی ہینڈسم غوث ہوگا”لائبہ نے حبان کو آنکھ مارتے یوۓ چھیڑا تھا.
“لائبہ! ” حبان اک دم اس پر چیخی تھی. اطراف میں گراؤنڈ میں بیٹھی لڑکیاں اب انھیں گھور رہی تھی.
“یار… کیا ہوگیا ہے مزاک تھا یہ”لائبہ چہرے پر جھوٹی مسکراہٹ سجاۓ بولی تھی.
“مزاک اپنے تک یا مجھ تک رکھا کرو یہ مزاق نہیں ہے کتنی بار کہہ چکی میں! “حبان یہ کہتی وہاں سے بیگ اٹھاتی چلے گئ تھی.
“حبانننننن. حبا… جانی… رک نہ… “لائبہ حبان کے پیچھے آوازیں لگاتی آرہی تھی.
حبان کالج کے ویٹنگ ائیریا میں موجود چیئرز پر جا بیٹھی تھی.
“حبا…. ” لائبہ اسے آوازیں دیتی ویٹنگ ایریا تک آگئ تھی.
حبان آنکھوں میں آئ نمی کو صاف کررہی تھی. جب لائبہ اسکی ساتھ والی چیئر پر آبیٹھی تھی.
“یار سوری مجھے نہیں پتا تھا تو اتنا ہرٹ ہوگی… “لائبہ حبان کی آنکھیں پونچھتی شرمندہ ہورہی تھی
“تم لوگوں کو پتہ ہے کہ مجھے اسے دیکھنا پسند نہیں ہے اور تم میرا نام اسکے نام کے ساتھ جوڑ دیتے ہوۓ”حبان نے بہت کوشش کی تھی کہ وہ نہ روۓ مگر آنسو گرے آنکھوں سے چھلک پڑے تھے.
“حبان آئ ایم سوری میری جان میں آئندہ نہیں کروں گی” لائبہ حبان کی آنکھوں کو صاف کرتے ہوۓ اسے گلے سے لگا لیا تھا.
لائبہ اور حبان کی دوستی کو 4 سال ہوگۓ تھے جب حبان نے یہاں میڈیکل میں ایڈمیشن لیا تھا تو لائبہ اسکی پہلی دوست تھی جو اسے اس کالج میں ملی تھی اور اب تک اسکے ساتھ تھی.
” اچھا ٹھیک ہے بس بس.. اب مجھے بتا میں روتے ہوۓ کیسی لگ رہی ہو؟”حبان نے خفا ہوتے ہوۓ لائبہ سے کہا تھا.
“اک دم پری”لائبہ حبان کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی حبان لائبہ کی اس بات پر ہنس دی تھی.
“تو ہے بڑی ڈرامے باز” لائبہ نے حبان کا بے بی پف ٹھیک کرتے ہوۓ کہا تھا.
“ہاں تو تجھ سے ہی سیکھا ہے” حبان تھوڑی بھرائ آواز میں بولی تھی.
“آ میرا بچہ… ” لائبہ حبان اب دونوں اک دوسرے کی باتوں پر ہنس دی تھی. دوستی بڑی انمول چیز ہے آپکو احساس دلاتی ہے اپنے پن کا آپکو تکلیف میں تھامتی ہے. کبھی تو دوستی دعا ہے اور کبھی شرارتوں نادانیوں سے بھرا سمندر. محبت سے بھی انمول ہوتی ہے یہ دوستی. اور جن کے دوست ہوتے ہے نہ تو یقین مانو وہ کبھی تنہا نہیں روتے…
“تجھے کون لینے آرہا ہے”لائبہ نے برقعہ پہنتے ہوۓ حبان سے پوچھا تھا.
“پتہ نہیں رکشے والا تو آۓ گا نہیں کونکہ انکل کی بیٹی کی طبیعت نہیں ٹھیک”حبان نے لائبہ کو صبح کے سارے واقعے سے آگاہ کرتے ہوۓ بتایا تھا.
“او…. اللہ صحت دے”
“آمین… ”
“تو تم کس کے ساتھ جاؤ گی میں ڈراپ کر دو؟”لائبہ نے فکر مند ہوتے ہوۓ کہا تھا.
“صبح گھر کے پاس ہی رکشہ والا مل گیا تھا اب تھوڑی دیر ویٹ کروں گی.اگر کوئ نہ آیا تو رکشے والے کے ساتھ چلی جاؤں گی”حبان نے نقاب کرتے ہوۓ لائبہ کو بتایا تھا
“یار… نہیں نہ میں ڈراپ کردیتی ہو رکشے والے سے کہوں گی کہ تمہیں بھی چھوڑ دے”لائبہ نے اسے اک حل بتایا تھا
“نہیں نہ یار تم کیوں زحمت کروں گی”
“حبان… “لائبہ نے اسے گھورا تھا.
“اچھا ٹھیک ہے”حبان نے ہار مانتے ہوۓ لائبہ کی بات مانی تھی
دونوں برقعہ پہنے کالج کے گیٹ کے باہر کھڑی تھی. دونوں نے نقاب کی مدد سے چہروں کو چھپا رکھا تھا.
“لائبہ آجاؤں رکشے والا آگیا ہے “لائبہ کے ساتھ جانے والی اک سٹوڈنٹ نے لائبہ کو آکر بتایا تھا.
حبان لائبہ کے رکشے کی طرف بڑھ رہی تھی. جب پیچھے اسے کسی نے آواز دی تھی.
“میم میم حبا…. ” سرفراز جوکہ غوث کی گاڑی کا ڈرائیور تھا اسکو پیچھے سے بلا رہا تھا.
“میم… دس وے.. آپکو لینے آیا ہو… “سرفراز بھاگتا اسکی طرف آیا تھا.
” آپ یہاں”حبان نے حیران ہوتے ہوۓ کہا تھا.
“یہ کون ہے”لائبہ نے تجسس سے پوچھا تھا.
“یہ سرفراز ہے ڈرائیور ہے غوث کا”حبان نے لڑکھڑاتی زبان کے ساتھ کہا تھا.
“تو یہ یہاں کیوں آیا ہے”لائبہ نے حبان کے کان میں سرگوشی کی تھی.
“میم آپکو پک کرنے والا کوئ نہیں تھا تو سر کو میم ہانیہ نے کہا تھا کہ آپکو پک کرکے گھر چھوڑ دے.”سرفراز نے پورے واقعے کی وضاحت کی تھی.
“اچھا ٹھیک ہے حبان تم جاؤ میں بھی چلتی ہو” لائبہ اسے چھیڑتے رکشے میں جا بیٹھی تھی.
“لائبہ… ” حبان نے اک غصیلی نظر لائبہ پر ڈالی تھی.
“دس وے میم” سرفراز ہاتھ سے اشارہ کرتا اسے گاڑی کا راستہ بتانے لگا.
“اچھا چلو”حبان نے اکتاۓ ہوۓ لہجے میں کہا تھا.
وہ گاڑی کا دروازہ کھول کر اگلی سیٹ پر بیٹھنے لگی تھی کہ سرفراز نے پیچھے کا دروازہ کھول کر اسے وہاں بیٹھنے کی ہدائیت دی تھی.
“افففففف” دل میں خود کو آج کالج آنے کے لیے کوستی وہ پیچھے سیٹ پر بیٹھی تھی.
اسکی ساتھ غوث اسکی موجودگی سے بلکل بے نیاز موبائیل پر بزی تھا. وہ خود کو سمیٹ کر بیٹھ گئ تھی. غوث کے مخصوس پرفیوم کی خوشبو نے ہوری گاڑی کو مہکایا ہوا تھا. اسنے غوث پر اک نظر ڈالی تھی وہ اس سے بلکل بے نیاز آپنے کام میں مصروف تھا. جیسے وہ. یہاں موجود ہی نہ ہو….
“یو. او. ایس چلو”غوث نہائیت گھمبیر لہجے میں بولا تھا.
“کیا مطلب ہم گھر نہیں جارہے”حبان اک دم سے اونچی آواز میں بولی تھی.
غوث بلکل خاموش بیٹھا اپنے موبائیل میں مصروف ہوچکا تھا.
“میں نے کچھ پوچھا ہے “وہ دوبارہ بولی تھی. وہ اب بھی خاموش تھا.
“مجھے کوئ کچھ بتاۓ گا؟ مسٹر غوث” وہ غوث کی طرف دیکھتی اک خاص مگر رعب دار انداز میں بولی تھی.
“نہیں…. “وہ اسکی طرف دیکھتا بہت سنجیدگی سے بولا تھا. وہ اک دم ٹھہر گیا تھا گرے آنکھوں نے اک دم غوث کورکنے اور ان میں دیکھنے. پرجبور کیا تھا.
“کیا مطلب نہیں مجھے گھر جانا ہے… “وہ افسردہ ہوتے ہوۓ بولی تھی.
“مجھے یو. او.ایس جانا ہے اس لیے اب جب میں گھر جاؤں گا تم بھی تبھی جاؤں گی”وہ آبرو اچکاتا اپنی بات مکمل کرچکا تھا. حبان نے بھی غصے سے منہ دوسری طرف پھیر لیا تھا. وہ جانتی تھی اب کچھ نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ ڈیسائڈ کر چکا تھا. یو. او. ایس کا باقی سفر خاموشی میں گزرا تھا.
🌙❤🌙❤❤🌙❤❤🌙❤❤🌙
علیحا دیوانوں کی طرح بزنس ڈیپارٹمنٹ کے کوریڈورذ سے باہر پارکنگ کی طرف بھاگ رہی تھی.

“عشق نہ جانے کیا کیا کرشمے دکھاتا ہے
گڑیا کو کنول اور شہنشاہ کو بھکاری بناتا ہے”

جو خواب وہ برسوں سے دیکھ رہی تھی آج اسکے سامنے حقیقت بن کر آنے والا تھا. اک سال کی اذیت اک سال کا حجر کئ رت جگے آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے جو گواہ تھے اسکی محبت کی کیفیت سب عجیب ہی رنگ دے رہے تھے اس منظر کو. براؤن بال یوا کے دوش پر اسکے بے چین دل کی طرح اڑے جا رہے تھے. بلیو جینز کے اوپر وائٹ ٹوپ جس پر علیحا کی طرح اک خوبصورت تتلی نمایاں تھی. اسکے اوپر بلیو جیکٹ ڈالے وہ واقعی میں اک حسین گڑیا لگ رہی تھی وائٹ فلیٹ کے ساتھ سیڑھیوں سے اترتی تیز قدموں کی آواز پورے کوریڈور کو موسیقی سے بھر رہی تھی.
“آئیے سر دس وے” غوث کے ڈرائیور جو ہاتھ سے اشارہ کرتے یونیورسٹی کا گارڈ اسے بزنس ڈیپارٹمنٹ کا راستہ بتا رہا تھا.
غوث موبائیل کو اک طرف رکھتے ونڈو سے باہر دیکھنے لگا تھا. پارکنگ ایریا میں بہت سی گاڑیوں کا ہجوم تھا. آج جشن بہاراں کی تقریب کی وجہ یونیورسٹی میں سٹوڈنٹس کا کافی ہجوم تھا. جو ہاتھوں میں پھول پکڑے انجواۓ کررہے تھے.
غوث کی کار کو ٹھیک بزنس ڈیپارٹمنٹ کے بایر روکا گیا تھا. حسن غوث کے لیے گاڑی کا دروازہ کھول چکا تھا.
“اور میں اتنی دیر یہاں کیا کروں گی؟” بھرائ ہوئ آواز میں حبان نے غوث سے کہا تھا جب وہ اپنا موبائیل پکڑے گاڑی سے باہر نکلنے لگا تھا
“میرا انتظار”وہ اک طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ یہ جملہ کہتا باہر نکل گیا تھا.حبان اسکی پشت کو بزنس ڈیپارٹمنٹ کی طرف بڑھتے یوۓ دیکھ رہی تھی.
“ویلکم مسٹر غوث” بزنس ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ نے غوث کا استقبال کیا تھا. علیحا پھولی ہوئ سانس کے ساتھ بھاگتی ہوئ باہر آئ تھی. وہ اسکے سامنے تھا. اسکا خواب سچ بن کر سامنے کھڑا تھا. مہرون تھری پیس سوٹ میں ملبوس وہ نیچے بوائز پمس ڈالے بالوں کو جیل کی مدد سے ٹکاۓ. نیلی آنکھوں پر سی گرین شیڈز ڈالے وہ واقعی میں کسی ناول کے ہیرو سے کم نہیں لگ رہا تھا. یا وہ شہزادہ جو صرف خوابوں میں ہی آتا ہے.
علیحا اس دنیا سے بے خبر اسکی طرف بڑھی تھی.
“او علیحا… مسٹر غوث یہ ہے ہماری فائن آرٹس کی سب سے ٹیلیںٹڈ سٹوڈنٹ علیحا جبران”
“ہاۓ” علیحا اک سحر کے زیر اثر بولی تھی اور اپنا دایاں ہاتھ آگے بڑھایا تھا.
“علیحا. یہ ہے مسٹر غوث… دا فیمس اینڈ ینگ ٹیلینٹ آف پاکستان” ہیڈ نے غوث کی قابلیت کا کچھ حصہ علیحا کو بتایا تھا
“ہاۓ” غوث چند لمحے علیحا کے بڑھے ہوۓ ہاتھ کو دیکھتا رہاں پھر اسنے بھی اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تھا.
علیحا غوث کا لمس اپنے وجود پر پاتے ہی ہوش کی دنیا میں لوٹی تھی
“سر سٹوڈنٹس بہت اکسائٹڈ ہے آپسے ملنے کے لیے”ہیڈ فواد مسکراتے ہوۓ غوث کو بتانے لگے تھے.
علیحا قریب کھڑے غوث کو بے یقینی سے دیکھ رہی تھی.
ہیڈ اسکو بزنس ڈیپارٹمنٹ کی مین کلاس میں لے گۓ تھے. جہاں بزنس سٹوڈنٹس کا ہجوم غوث سے ملنے کے لیے بےتاب تھے. اس ہجوم میں لڑکیوں کی بھی کافی تعداد تھی جو غوث کو دیکھتے ہی بے قابو ہوگئ تھی. اور اب سب لڑکیوں کی نگاہ کا مرکز صرف اک ہی شخص سید غوث شاہ تھا.
🌙❤🌙🌙❤🌙🌙❤🌙🌙❤🌙🌙🌙❤
یہ سب ایکسیڈنٹ والے دن شروع ہوا تھا. جب علیحا ہاسپٹل ایڈمٹ تھی. حاجرہ علیحا کو چھوڑ کر باہر اسکے لیے کچھ کھانے کے لیے لینے گئ تھی.
علیحا بیڈ پردراز اپنے زندہ بچ جانے پر شکوہ کر رہی تھی. جب اسے باہر کوریڈور سے اٹھنے والے شور نے اپنی طرف متوجہ کیا تھا.
“بس بہت ہوا میں نہیں رہ سکتا یہاں اور” باہر کسی شخص کی غصیلی پر وجہہ آواز گونجی تھی. علیحا نے اپنے دل پر ڈر سے ہاتھ رکھا تھا. وہ بامشکل اٹھ کر روم کے دروازہ کے قریب پہنچی تھی. کھلی سی وائٹ فراک کے نیچے بلیک جینز پہنے, بالوں کو شانوں پر بکھیرے آنکھوں کے گرد سیاہ ہلکے اسکی افسردگی کو ظاہر کررہے تھے.
اس نے دروازہ کھولتے ہوۓ باہر کوریڈور میں دیکھا تھا. اسے وائٹ شرٹ میں ملبوس کسی کی پشت نظر آرہی تھی.
کوئ بھاگتا ہوا اس شخص کے قریب پہنچا تھا. “سر آپ ایسے نہیں جاسکتا آپکو ابھی کچھ اینٹی بائیوٹک انجیکشنذ لگنے ہیں” بلیو شرٹ اور بلیک جیز میں ملبوس وہ شخص اس بتا رہا تھا.وہ غصے سے پلٹا تھا. اور وہی علیحا کو اپنے دل بند ہوتا محسوس ہوا. محو خواب جو شخص اسکے وجود کا طواف کرتا تھا یا علیحا کی زندگی اور خوابوں کا مرکز جو شخص تھا آج اسکے سامنے تھا.
“غوث سمجھ کچھ انجیکشنز لگوا لے پھر چلتے ہے”اس بڑ حسن اک دوست کی طرح اس سےخاطب ہوا تھا. وہ بیزاریت سے اپنی پیشانی کو انگلیوں سے سہلا رہا تھا. غوث کی وائٹ شرٹ پر جگا جگا خون کے دھبے نمایاں ہورہے تھے جو اسکے سر پر لگنے والی چوٹ سے بہہ رہا تھا. علیحا کسی سحر کے تحت اسکے پاس جارہی تھی. خوبخود اسکے قدم اسکی طرف اٹھے تھے .اسکے ذہن میں صرف اک ہی نام گردش کررہا تھا. اسکے دل کی دھڑکن بس اک ہی نام کو بار بار پکار رہی تھی اور وہ تھا غوث!
“میری جان باہر کیوں آگئ آرام کرنا تھا نہ چلو روم ممں چلو”حاجرہ اسے کھینچتی روم میں لے کے جارہی تھی.
“مما وہ غو….. “وہ ہڑبڑاتی حاجرہ سے کہہ پائ تھی وہ.
“علیحا….. “حاجرہ کی چیخ کی آواز کوریڈور میں گونجی تھی.. علیحا حقیقت سے بے خبر بے ہوش ہوگئ تھی. حاجرہ بیگم آنسو بہاتی اسکا چہرہ سہلا رہی تھی.غوث علیحا پر اک سرسری نگاہ ڈالتا ہوا آگے بڑھ گیا تھا. اگر اس وقت علیحا ہوش میں ہوتی تو وہ غوث کی اس بے رخی کو دیکھ کر واقعی میں مرجاتی…
ہاسپٹل سے واپس آنے کے بعد علیحا سارا دن لیپ ٹاپ لیے غوث کو ڈھونڈتی رپی. نہ ہی وہ جانتی تھی وہ کون تھا؟اسکا پورا نام کیا تھا؟وہ کیا کرتا تھا؟کہاں رہتا تھا؟سواۓ اگر وہ جانتی تھی تو بس اتنا کہ وہ. اسکے خوابوں میں آتا تھا.اور یہ کہ علیحا اسکو دیکھنے کے لیے کتنا تڑپی تھی.
علیحا نے اب یوٹیوب کھولے سرچ انجن پر غوث کا نام لکھ رہی تھی. یوٹیوب نے بہت سے رزلٹ شو کیے تھے.سکرول کرتے ہوۓ اسکی انگلیاں اک نام پر رکی تھی. اسنے اس ویڈیو کو فل سکرین موڈ پر کیا تھا. جب اسنے نیچے وڈیو کا ٹاپک پڑھا تو وہاں اسے سید غوث شاہ لکھا ہوا نظر آیا ویڈیو پلے ہوتے ہی غوث کی کئ تصویریں اسکی بائیوگرافی کے ساتھ آنے لگی. اسکی ڈیٹ آف برتھ اسکا گھر اسکا لائف سٹائل وہ پلکے جھپکے بغیر اسے دیکھ رہی تھی. وائٹ کلر کی کیئول جینز شرٹ پہنے اوپر بلیک گلاسسز لگاۓ وہ کسی دریا کے قریب کھڑا تھا. اور اس تصویر کا ٹاٹئٹل “دی فیمس ینگ بزنس ٹائکون آف پاکستان” علیحا نے غوث کے متعلق اک اک ویڈیو کو کئ بار دیکھا تھا.
عیلحا کمرے میں ادھر سے ادھر واک کررہی تھی. وہ کچھ سوچ رہی تھی کہ وہ غوث سے کیسے ملے. کوئ پلین نہیں تھا. وہ تھی بھی آرٹس سٹوڈنٹ اور وہ بزنس… وہ یہی سوچ رہی تھی کہ اسنے جلدی جلدی بیڈ سے موبائیل اٹھایا اور کسی کلا نمبر ملانے لگی.
“ہیلو نازلی” علیحا نے اہنی بزنس ڈیپارٹمنٹ کی دوست نازلی کو فون کیا تھا.
“ہاۓ علیحا کیسی ہو کتنے دن ہوگۓ تم یونیورسٹی نہیں آئ” نازلی نے اسکے نہ آنے کی وجہ پوچھی.
” وہ باتیں چھوڑو میں تم سے ملنے آرہی ہو یہ بتاؤ تم گھر ہو؟”علیحا نے بات کو زیادہ طول نہ دیتے ہوۓ مدعے کی بات کی تھی.
“ہاں ٹھیک ہے میں آرہی ہو” علیحا یہ کہتی کال بند کر چکی تھی.
وہ جلدی سے کار کی چابیاں اٹھاتی نازلی کے گھر کی طرف روانہ ہوگئ تھی. نازلی کے گھر پہنچتے اسنے غوث کے بارے میں اسے سب بتایا پہلے تو اسے علیحا پاگل. لگی مگر اسکی محبت کی شدت کے سامنے ہار مان گئ. اور اس سے وعدہ کیا کے وہ جشن بہاراں کے ایونٹ میں غوث کو یونیورسٹی بلانے کی پوری کوشش کرے گی .نازلی نے ہیڈ فواد سے بات کی جس پر وہ بھی باخوشی راضی ہوگۓ یوں علیحا بھی غوث کو یونیورسٹی بلانے پر کامیاب ہوگئ اور آج وہ شخص حقیقت بن کر اسکے سامنے کھڑا تھآ.
🌙❤❤🌙❤❤🌙❤❤🌙❤❤🌙
“بات سنیں”حبان نے گاڑی سے نکلنے کی بعد سرفراز کو بلایا تھا جو کہ پارکنگ میں اک درخت کے نیچے بیٹھا تھا.
“جی میم” وہ سر جھکاتا بولا تھا
“مجھے پیاس لگی یے بہت مجھے پانی پینا ہے” وہ اٹکتے بولی تھی.
“جی میم میں لے کر آتا ہوں…. ” وہ یہ کہتا یونیورسٹی کی کینٹین کی طرف بڑھا تھا.
حبان سرفراز کو کہہ کر واپس گاڑی کی طرف جانے لگی تھی کہ کسی کا بھاری وجود اس سے ٹکرایا تھا وہ خود پر قابو نہ رکھ سکی اور نیچے گر گئ.
“سوری ایم سو سوری میں نے دیکھا نہیں تھا”وہ شخص اک ہی سانس میں اتنی معذرت کر گیا تھا
“پاگل پے آپ نظر نہیں آتا آپکو” وہ زمین سے اٹھتے ہوۓ بولی تھی.
“آپ مجھے اس یونیورسٹی کی نہیں لگتی” زمل نے اسکی طرف دیکھتے ہوۓ کہا تھا.
“مطلب کیا ہے آپکا؟”حبان نے آنکھوں میں آنسو لیے اسکی طرف غصیلی نظروں سے دیکھا تھا.
“مطلب کچھ نہیں” زمل بغور اسکے سراپے کو دیکھ رہا تھا جہاں چہرے پر نقاب ہاتھوں پہ گلوز اور وجود کو برقعے کے اندر ڈھانپا گیا تھا.
“آپ یہاں کیسے؟”زمل جو پارکنگ میں اپنے دوست سے اپنا گٹار لینے آیا تھا. اس محترمہ کو دیکھ سوال کرنے لگا تھا
“اکچلی میں اس یونیورسٹی کی نہیں ہو” حبان اس بار قدرے نرم اور دھیرے لہجے میں بولی تھی.
“وہ. تو مجھے اندازہ ہوگیا تھا”زمل ہونٹوں پہ مسکراہٹ سجاتا اسے کہہ رپا تھا
“تو پھر آپ یہاں کیسے”
“میں اپنے کزن کے ساتھ آئ تھی اسے کچھ کام تھا تو وہ مجھے بھی. لے آیا کالج سے سیداھا ادھر ہی” حبان اس وقت غوث کا نام لے کر اپنا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتی تھی جو اسکی وجہ سے پہلے سے خراب تھا
“اوہ ہ ہ…. تو آپ میرے کنسرٹ میں آجاۓ تب تک جب تک آپکا کزن اپنا کام کررہا” زمل نے اک جگہ رکتے ااے پیشکش کی تھی.
“اتنا اچھا تو نہیں گاتا پھر بھی کالج کی لڑکیوں یا یونیورسٹی کی لڑکیوں کو پسند آجاتا یے” زمل اپنے بال ٹھیک کرتا فخریہ انداز میں بولا تھا
“نہیں مجھے اسنے کار میں رکنے کا بولا ہے”حبان اب تک نظریں جھکاۓ ہی زمل سے بات کررہی تھی.زمل.کو یہ بات کافی عجیب لگیگر اسے حبان باقی لڑکیوں سے قدرے مختلف لگی تھی. جو اک نامحرم کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرتی تھی.
“میم… آپ یہاں میں آپکو ڈھونڈ رہا تھ”سرفراز نے اسے دیکھا تو دوڑا اس تک چلا آیا تھا.
“وہ میں واپس آرہی تھی تو…. “وہ گڑبڑا کر بولی تھی.
“کوئ بات نہیں ریلیکس… بھائ وہ یہ مس واپس آرہی تھی تو راستے میں چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہوگیا کہ انکی مجھ سے ٹکر ہوگئ “زمل مسکراتا ہوا بولا تھا.
“السلام علیکم بھائ میں زمل ہو” زمل نے سرفراز کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا.
“وعلیکم اسلام میں سرفراز “سرفراز نے ہاتھ ملاتے ہوۓ ملنساری سے اسکے سلام کا جواب دیا تھا.
“میم یہ لے پانی آپ گاڑی میں جاکر بیٹھیں… ” حبان کو پانی کی بوتل تھماتے سرفراز نے اسے جانے کا کہا تھا.
“جی ٹھیک شکریہ”حبان اس سے پانی پکڑتی گاڑی کی طرف بڑھ گئ تھی.
زمل سرفراز سے اللہ حافظ کہتا سامنے آرٹس ڈیپارٹمنٹ کے کوریڈور کی طرف بڑھ گیا تھا. زمل اتنی گرمی میں اس لڑکی کو مکمل باحجاب دیکھ کر حیران تھا. جہاں یونیورسٹی کی لڑکیاں سلیو لیس شرٹس میں ملبوس تھی وہی وہ مکمل پردے میں اپنا آپ چھپاۓ ہوۓ تھی. اسے یہ روپ کافی بھایا تھا.
❤❤🌙❤❤🌙❤❤🌙❤❤🌙

“اٹینشن پلیز……. ” ہیڈ نے ڈائیس پر لگے مائک کو تھپتھپاتے ہوۓ سب سٹوڈنٹس کا پنی طرف متوجہ کیا تھا.
سب لڑکیے اور لڑکیاں اس خوبرو نوجوان کو دیکھنے میں بزی تھے. کوئ ہیڈ کی بات پر متوجہ نہیں تھا. جب ہیڈ نے دیکھا کے انھیں مائک اب غوث کے حوالے کر دینا چائیۓ تو وہ ہلکا سا انٹروڈکشن دء کہ غوث کو ڈائس پر آنے کی دورت دے چکے تھے.
“السلام علیکم ایوری ون” وہ اک وجہہ آواز میں بولتا سب کے دل کی دضڑکن روک گیا تھا. جہاں وہ دکھنے میں خوبصورت تھا وہی اسکی آواز اس سے بھی زیادہ پرکشش تھی. دھیمے مگر گرج دار لہجے نے سب کو اپنے اپنے کام روکنے پر اور اسکی طرف دیکھنے پر مجبور کیا تھا.
“i hope u are all doing fine and don’t have any important thing to do except gazing at me…. “وہ مسکراتا ہوا بولا تھا. علیحا سامنے اسکو دیکھتی ساکن بیٹھی تھی.
سب کے قہقہوں کی آواز گونجی تھی. اور سب کو اپنی اس حرکت کا احساس ہوگیا تھا کہ وہ کتنے برے طریقے سے غوث کو گھور رپے تھے. مگر غوث کو ہمیشہ سے ایسی آٹینشن کی عادت تھی. مگر اسے انھیں شرمندہ کرنا اچھا لگا تھا.
“سو گائز آپ بزنس کے بارے میں کیا جانتے ہے کیا سمجھتے ہے کہ بزنس کیا ہے؟” غوث نے تجسس سے سب کی راۓ جاننا مناسب سمجھی.
“سر بزنس مطلب ٹو گرو کہ آپ ذیرو کو ہیرو بنا دے” سٹوڈنٹس کے ہجوم میں اک لڑکا بولا تھا
“سر بزنس مینز ٹو passionate about something مطلب کے کسی چیز کو اپنا جنون بنا کر کرنا”اب کی بال بولنے والی اک لڑکی تھی.
“آہمممممم…. ” غوث نے دسترس میں آنے والے جوابات کا سرسری انداز میں استقبال کیا تھا.
سب اپنی اپنی راۓ دیتے رہے… مگر غوث کو کسی کا جواب نہ بھایا.
“بزنس بزنس…… بزنس میں سب زیادہ ضروری بزنس کو کرنے والا ہے وہ شخص جس کی دسترس میں آپ اپنا کاروبار سونپتے ہے اگر اسکے پاس کچھ ابیلیٹیز ہوئ ہیرو والی تو آپکا بزنس آپ ٹو سکائ ہے اگر زیرو ہے تو وہ زیرو ہی ہر چیز کو کردے گا…. ” غوث نے طنزیہ مگر اک جوش بھرے لہجے میں کہا تھا.
“غوث آپکو کیا لگتا ہے کہ کوئ ایسا موجود ہے جو آپ جیسے ہیرو کو زیرو کردے… ” اک لڑکی نے جو کہ بلیو جینز اور ییلو ٹاپ میں ملبوس تھی اور بال شانوں پر کھلے چھوڑے گۓ تھے. غوث کو چیلینج بھرے انداز میں یہ سوال کر گئ تھی.
“غوث…. غوث…. ” غوث کو یہ سوال اک خنجر کی طرح لگا تھا مگر وہ اطمینان سا اپنا نام دہرانے لگا تھا.جہاں سٹوڈنٹس کا نائلہ کی اس جرأت پر حیرت ہوئ وہی غوث کا اپنا نام یوں لینا عجیب لگا تھا.
“آپ جانتی ہی کتنا یے غوث کا سید غوث شاہ مٹی کو بھی سونا بنانا جانتا ہے غوث وہ یے جس کو فقیر بھی کردیا جاۓ تو پوری دنیا اسکے ساتھ کھڑی ہے غوث وہ ہے جسے کسی تعارف کی ضرورت نہیں غوث وہ ہے جس کہ آگے سب بیکار ہے غوث وہ ہے جو قسمت کو ضود لکھتا ہے…… “وہ اک جنونیت سی کیفیت میں یہ سب کہ گیا تھا. غوث کی آنکھیں مارے ضبط کے لال ہورہی تھی. اگر اسکے بس میں ہوتا تو اس لڑکی کو یہی شوٹ کردیتا..
ہیڈ کو معاملے کی سنگینی کا احساس ہونے لگا تو وہ ڈائس پر خود آنے لگا. اور غوث کو رخصت کرنے لگا تھا.
“ویسے میں تمییں چیلینج کرتا ہو…. جو بھی ہو تم….”غوث نائلہ کی طرف انگلی کرتا کہہ رہا تھا.
“نائلہ بزنس سٹوڈنٹ آف لاسٹ یہئر “نائلہ نے اک ادا سے اپنا تعارف دیا تھا.
“ہاں تم نائلہ تمہیں چیلینج کرتا ہو اور دوسال کا وقت دیتا ہو….. اگر تمییں لگتا ہے تم غوث کو بزنس میں بیٹ کرسکتی ہو تو آجاؤ…. غوث تمہیں خوشآمدید کہتا ہے میری جان…. “وہ باہیں پھیلاۓ یہ سب کہتا کمرے سے بایر نکل گیا تھا. جب کہ سب سٹوڈنٹس کی نظریں آب نائلہ کے وجود کا تعاقب کرہی تھی.
نائلہ صرف غوث کی آنکھوں میں ہی پتھر کی طرح آئ تھی. بلکہ وہاں موجود اک اور شخص کے دل میں بھی نفرت کا بیج بو گئ تھی. مگر غوث نہیں جانتا تھا.کہ خود کو خدا کہلوانے والا فرعون بھی غرک ہوگیا تھا تو خود کی قسمت لکھنے والے کا دعوا کرنے والا یہ انسان کیا چیز تھا اا عزیم الشان رب کے سامنے…….

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *