کلامِ عشق-4

کلامِ عشق 🌙❤
Ep#4
ازقلم:سیدہ حملہ شاہ

رات کے ساۓ میں دو وجود دنیا سے بے خبر اک دوسرے کا سہارا لیتے اک دوسرے کی موجودگی سے انجان محو خواب تھے.
“اللہ اکبر! اللہ اکبر…. ”
فجر کی اذان صبح کا بلاوا دے رہی تھی.

“محبت ہے نہ مجھ سے ؟”اک نرم نازک جنس اپنے گلابی ہاتھوں میں اسکے چہرے کو تھامے اس سے سوال کر رہی تھی.
“نہیں میرا عشق ہو تم… عشق.. میری روح ہو… ” غوث آج پھر اس حور کے قدموں میں بیٹھا گڑگڑا رہا تھا.
“تمہیں کہا تھا نہ میں نے عشق کی آہ مت لینا.. تم نے بات نہیں مانی میری” اس حور کی آنکھوں سے آنسوں چھلکے تھے اور غوث کے چہرے پر گرے تھے.
“عشق کی آہ برباد کردیتی ہے غوث چین چھین لیتی یے سکون غارت کردیتی ہے اور پھر تم اس فانی وجود پر اتراتے تھے اس وجود کا کیا غوث کیا؟ یہ فانی تھا فانی ہوگیا اور تمہارے فانی ہونے کا مٹی یونے کا سفر شروع ہوچکا ہے”وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ سخت لہجے میں بولی تھی. جبکہ غوث سب سے انجان اسکی آنکھوں کے ان پانیوں میں بہہ گیا تھا.
“نہیں… ” وہ ہوش کی دنیا میں واپس آیا تھا.اسکا ہاتھ حبان کے ہاتھ میں قید تھا.
“میں یہاں…. “رات کا منظر یاد آنے لگا تو اسے خود پہ غصے کے ساتھ حبان سے کوفت ہونے لگی. جو نگاہیں رات کو اسکے حسن سے چمک رہی تھی.اب ان آنکھوں سے نفرت کے شعلے نکل رپے تھے.
“اے مسلمانوں جاگو….. آؤ فلاح کی طرف بیشک نماز نیند سے بہتر یے…. ” پاس کی مسجد میں مولانا صاحب بار بار مسلمانوں کو نماز کے لیے بلا ریے تھے.حبان زرا کسمسائ تھی.
“چھوڑو میرا ہاتھ… وہ اک دم بیڈ سے بجلی کی سی تیزی سے اترا تھا. حبان جو نیند کی وادی میں تھی کرنٹ کھا کر ہوش کی دنیا میں لوٹی اور غوث کو اپنے سامنے پاکر اسے دھچکا لگا تھا.
“آپ یہاں….. ” وہ حواس باختہ ہوگئ تھی.
لمبے سنہری بال شانوں سے نیچے کسی آبشار کی طرح گررہے تھے.
“کیا کررہے ہے آپ میرے روم میں؟” لہجے میں تھوڑی سختی لاتے وہ غوث کے سامنے کھڑی تھی.
“آہہہ ناٹ بیڈ “غوث اپنی دائیں آئبرو کو اٹھاتا اسکے اس انداز سے محزوز ہورہا تھا.
“ساری رات میرے کندھے پر سر رکھ کر آرام سے یہ پرنسس سوتی رہی اور تو اور جب میں جانے لگا تو میرا ہاتھ پکڑ کرمجھے روک لیا… ” بازوؤں کو سینے پر باندھتے وہ اسکے قریب ہوا تھا.
“واٹ ربش… کیا بکواس کررہے آپ؟” غوث کی اس بات سے وہ آگ بگولا ہوگئ تھی.
“ایسا ہے تو نہیں مگر اگر تم نے شور مچانے کی کوشش کی تو میں کہوں گا یہی آگے تمہاری مرضی ہے”وہ اسکے اور قریب ہوا تھا. حبان اسکے اس قدر پاس آنے پہ دیوار کے ساتھ جالگی تھی.
حبان کی تیز سانسیں غوث کے چہرے کو چھو رہی تھی . سنہری آبشار کی اک لہر اک طرف سے چہرے کو ڈھانپے ہوۓ تھی.
“سورج چاند کی شہزادی….” ناجانے کیوں غوث کے لب سے یہ الفاظ بے ساختہ نکلے تھے.
“غوث اسکی آنکھوں میں خوف تلاش کررہا تھا. مگر وہاں خوف سے زیادہ بےبسی تھی.
وہ اپنے دائیں ہاتھ سے چہرے پر آئ لٹ کو ہٹانے لگا تھا. جو اس چاند کو اپنے حصار میں لیے ہوۓ تھی. غوث کی انگلیاں اسکے گلابی گالوں پر رقص کرہی تھی.
“نفرت ہے مجھے اس چہرے سے”وہ اسکے کانوں میں سرگوشی کرتا دروازے سے باہر نکل گیا تھا.
وہ دیوار کے ساتھ لگی نیچے زمین پر بیٹھ گئ تھی. اور اپنی رکی ہوئ سانس کو بحال کیا تھا.
“آو فلاح کی طرف…. مسلمانوں….. ” جیسے ہی یہ آواز اسکے کانوں میں پڑی وہ واش روم کی طرف بھاگ گئ اور وضو کرکے نماز ادا کرنے لگی..
🌙❤🌙🌙❤🌙🌙❤🌙🌙

“میں آخر ایسے کیسے کرسکتا ہو”وہ کھڑکی میں کھڑا باہر سورج کی امڈتی ہوئ کرنوں کو دیکھ رہا تھا جو اندھیرے کے وجود کو ختم کر روشنی پھیلا رہی تھی.
سورج کی کرنوں کو دیکھتے ہوۓ پچھلے پہر کا منظر لہرایا تھا. سنہری بال بھی تو انھی کرنوں کی طرح تھے پھر وہ نازک وجود جس میں غوث کھویا تھا. کتنا کچھ پھر سے آنکھوں کے سامنے لہرایا تھا.
” نہہہں میں نہیں سوچ سکتا اسکے بارے میں.. ”
اپنے سر کو ہاتھوں سے تھامے وہ صوفے پر دراز ہوا تھا.
“وہ باہر امڈتی ہوئ صبح کو دیکھتے ہوۓ آنکھیں موند گیا تھا.
🌙❤🌙❤🌙🌙❤🌙🌙❤
“حبان…. جانی کہاں کھوئ ہو….. “لائبہ حبان کے گلے میں باہیں ڈالی پیار جتا رہی تھی.
“خیر ہے اتنا پیار آرہا ہے مجھ پر؟” حبان شک کی نظروں سے لائبہ کو گھورنے لگی…
“یار اسے کب پیار نہیں آتا… اسکی چھوڑ یہ جو ہمارے کالج میں مستری ناجی ہے نہ کل پرسوں تک تو دیکھی یہ اس پہ فلیٹ ہوگی….. ” کلاس میں سمیرا, امائمہ ,حبان کے قہقہے گونجے تھے
“ہاں نہ تو سہی ہے میں دل نہیں توڑ سکتی کسی کا”
“کسی کا کہ اپنا؟”سمیرا آنکھ مارتی لائبہ کو تنگ کرنے میں مصروف تھی..
“اچھا… ان سب کو چھوڑو حبان تمہیں کیا ہوا ہے آج مرجھائ مرجھائ لگ رہی ہو.. ”
“کچھ نہیں… مج.. مجھے کیا ہونا ہے” حبان گڑبڑائ تھی. حبان کے گال گلابی سے سرخ ہورہے تھے
“نہ میڈم حبان کچھ تو ہوا ہے ورنہ یوں آپ بلش نہ کرتی.. ” سمیرا حبان کے گالوں پر انگلی پھیرتے اسے چھیڑنے لگی تھی.
“یار تیرا نکاح تو نہیں ہوگیا…. پلیز کہہ دے کے ہوگیا.. مجھے میرے یار کی شادی پر ناچنا ہیں اور ٹریٹ کھانی ہے… “لائبہ حبان کے گلے میں باہوں کا گھیرا تنگ کرتے بولی تھی.
“یار نہیں ہوا تم لوگ کیوں مجھے سولی پر لٹکانا چاہتی ہو… ”
“یار نکاح تو اک دن ہونا ہی ہے.. “امائمہ حبان کی طرف دیکھتے بولی تھی
” تم لوگوں میں پہلے بھی بتا چکی اور اب بھی بتا رپی ہو مجھے شادی نہیں کرنی.. ” وہ یہ کہہ کر غصے میں کلاس سے باہر نکلی تھی
“اچھا نہ میری جان نہیں کہتے…مجھے بھوک لگی ہے چلو کینٹین چلے”لائبہ اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھے ایکٹنگ کرنے لگی تھی.
“یار پر سائیکولوجی کا لیکچر… “سمیرا فکرمند ہوئ تھی
“دفعہ کرو یار آگے بڑا ہم نے میدان فتح کر لینا ہے”اس بار بولنے والی آمائمہ تھی جو سمیرا کو کھینچے کینٹین کی طرف لے جارہی تھی..
“ٹائم کیا ہوا پے” سمیرا سموسہ کھاتے ہوۓ آمائمہ کی کلائ پکڑے کہہ رہی تھی.
“یار کھا تو سکون سے لے چلے جاتے ہے کلاس میں”امائمہ چڑتے ہوۓ بولی تھی.
“یار مڈز نہیں دینے پاس نہیں ہونا؟”سمیرا منہ بسوڑتے ہوۓ بولی تھی.
“اچھا یار حبان سنا تیرا وہ ہینڈسم کزن کیسا ہے کہاں ہوتا ہے کبھی نظر ہی نہیں آیا…. ”
“کیاا………ہج… ہج…. ” سموسہ کھاتی حبان کو ہچکی لگی تھی.
“بےوقوفوں پانی دو اسے… “سمیرا بوتل اٹھاتی لائبہ کو پکڑانے لگی
“یہ لے پی… ” لائبہ نے بوتل کا ڈھکن کھولتے اسکو حبان کے لبوں سے لگایا تھا. لائبہ حبان کو پرسکون کرنے کے لیے اسکی کمر سہلانے لگی تھی.
“اب ٹھیک ہے نہ تو.. ” امائمہ حبان کی طرف دیکھتے ہوۓ بولی تھی.
“ہاں… “صبح کا منظر اسکی آنکھوں کے سامنے لہرایا تھا. اک سایہ تھا غوث کا جو اسے اپنے بے حد قریب محسوس ہوا تھا.
“یار تو بتایا نہیں اسکا”لائبہ پھر اسی موضوع کی طرف آگئ تھی. جس سے حبان فرار چاہتی تھی.
“کس کا؟”حبان ہکلاتے ہوۓ انجان بنی تھی.
“یار کس کا پوچھے گی غوث کا پوچھ رہی ہے ٹھرکی عورت”سمیرا نے حبان کو زیرِ گفتگو کردار بتایا تھا
“یار ٹھرکی تو مت بول اب اتنا پیارا ہے کسی کا بھی دل آسکتا ہے اس پر”لائبہ اپنے دل پر ہاتھ رکھتی حبان کے کندھے کے ساتھ جالگی تھی.
حبان کے دل نے اک بیٹ مس کی تھی. غوث کا پورا وجود اسکے سامنے اک حقیقت بن کر آیا تھا.
“بتا نہ یار….. “لائبہ نے حبان کو کہنی ماری تھی.
“ٹھیک ہی ہوگا.. ” حبان اپنے آپکو سموسہ کھانے میں مصروف دکھانے لگی.
“کیا ٹھیک ہی ہوگا……. تیرا کزن ہے تجھے پتہ نہیں. ”
“نہیں میری بات نہیں ہوتی اس سے”حبان نے گفتگو ختم کرنا چاہی تھی.
“یار اتنا ہینڈسم ہے تو ٹرائ کر تیرا تو کزن ہے ویسے بھی مجھے لگتا تیرا نکاح ہونا اسی کے ساتھ ہی ہے… “لائبہ حبان کو آنکھ مارتی کہہ رہی تھی.
“کیا…. ؟” اپنی دائیں آبرو کو اچکاتی وہ معنی خیز نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی.
“ہماری حبان کونسا کم ہے.. اک سے اک لڑکا فدا ہے اس پر”سمیرا اب حبان کو مزید تنگ کرنے لگی تھی.
لمبے سنہری بالوں کو پونی میں قید کیے. تھوڑے سے بالوں کا وہ بے بی پف کاٹے ماتھے کو ڈھانپے ہوۓ اک گڑیا لگ رہی تھی. سفید یونیفارم کے ساتھ بلیو دوپٹہ اوڑھے وہ اک کالج گرل کم اور سکول گرل زیادہ لگ رہی تھی جس کی وجہ اسکی گالوں پر پڑنے والے ڈمپلز اور گول گول آنکھیں تھی جو اپنی پسندیدہ چیز کو دیکھ کر معمول سے زیادہ بڑی ہوجاتی تھی.
“اچھا بس چلو… اب کلاس میں نکسٹ لیکچر شروع ہوگیا ہوگا”سمیرا اپنے ہاتھ جھاڑتی کینٹین کی روش سے کھڑی ہوگئ تھی.
“چلو” امائمہ سمیرا کے ہاتھ کا سہارا لیتے کھڑی ہوئ تھی. اور لائبہ کی چٹیاں کو لگی پونی اتار کر کلاس کی طرف بھاگی تھی.
“ہاہایاہاہا…. بہت اچھا کیا چھا گئ…. ” حبان بھی اپنے ہاتھ جھاڑتی اٹھی تھی اور سمیرا کے ساتھ کلاس کا رخ لینے لگی.
“یار ویسے واقعی میں تمہیں غوث میں انٹرسٹ نہیں… جس پر ساری لڑکیاں مرتی ہے سواۓ تمہارے”
“یار کتنی بار کہوں وہ اچھا انسان نہیں گھن آتی ہے مجھے اس سے…. اور تم ہوکہ انٹرسٹ لینے کی بات کر رہی ہو… اففففففف حد ہوگئ.. ” حبان اپنا سر پکڑتی کلاس میں داخل ہوئ تھی.
“اچھا نہ سوری… ” سمیرا اسکے سر پر پیار دیتی اپنی چیئر پر جا بیٹھی تھی. جبکہ امائمہ اور لائبہ اک دوسرے کو تنگ کرنے میں مصروف تھی.
سمیرا اور حبان امائمہ اور لائبہ کی شرارتوں سے محظوظ ہورہی تھی جب ہسٹری کی میم کلاس میں داخل ہوئ. اور سب خاموشی سے اپنی اپنی چیئرز پر بیٹھ گئ. کمرے میں مکمل خاموشی تھی جبکہ ہسٹری کی میم ہمیرا اپنا لیکچر شروع کرچکی تھی.. حبان لیکچر نوٹ کرنے کی بجاۓ اک گہری سوچ میں تھی. جو کچھ ہوا…. اک گنہگار اور اک. مومن کا فرق بھانپنے لگی..
❤🌙❤🌙🌙❤🌙🌙❤🌙🌙

“علیحا…..آجاؤ بیٹا کھانا کھا لو… ” حاجرہ ٹیبل پر کھانا رکھتی علیحا کو بلارہی تھی.
“آرہی ہو مما…. جسٹ ٹو منٹس… “بلیک پینٹ سے کینوس پر سٹروکس لگاتے وہ تیزی تیزی سے اک ماہر آرٹٹس کی طرح ہاتھ چلا رہی تھی.
تم محبت ہو میری جان کیونکہ
تمہارا مسکرانا محبت ہے…
چہرے پر اک شرمیلی مسکراہٹ سجاتے اسنے اس پینٹنگ کو فائنل ٹچ دیا تھا.
چہرے پر جگہ جگہ لگے پہنٹ سے وہ اک بہار کی دیوی لگ رہی تھی جسے مختلف رنگوں سے سجایا گیا ہو.
“تم نظر کے سامنے تو آگۓ ہو بس تمہیں ڈھونڈنا باقی ہے”اس پینٹنگ میں موجود شخص کے بالوں کو وہ فائنل ٹچ دیتی اپنے ہاتھ صاف کرنے لگی تھی.
“علیحاا……. بیٹا آجاؤ کھانا ٹھنڈا ہوجاۓ گا…. ”
“آگئ مما…. ” علیحا اپنے ہاتھوں کو صاف کرتی کمرے سے بایر بھاگی تھی.
“میری پیاری مام نے کیا بنایا ہے میرے لیے” حاجرہ کے گلے میں باہیں ڈالتی وہ حاجرہ کے منہ پر بوسے دینے لگی.
“تمہاری فیورٹ میکرونی ود پنک ساس”حاجرہ علیحا کا منہ چومتے ہوۓ اسے باؤل سے میکرونی نکال کر دینے لگی.
“امممممممم مام اٹس سو یمی…. والا….” علیحا حاجرہ کو فلائنگ کس دینے لگی.
“ہاہاہاہا علیحا… میں تمہیں دیکھ رہی جب سے تمہارے سر پر چوٹ لگی ہے تم بدل گئ ہو… “حاجرہ نے ہنستے ہوۓ علیحا کو چھیڑا تھا.
“کیا… مطلب؟”علیحا نے سنجیدہ ہوتے ہوۓ ماں سے پوچھا تھا.
” میرا مطلب ہے کہ اک نئ علیحا ہے اُس ایکسیڈنٹ کے بعد”حاجرہ نے میکرونی کا چمچ منہ میں ڈالتے ہوۓ کہا تھا.
“مما آپ خوش نہیں ہے کیا” علیحا چمچ کو اک سائیڈ پر رکھ کر دونوں کہنیوں کو ٹیبل پر رکھے تھوڑی کے نیچے ٹکاۓ حاجرہ کو دیکھ رہی تھی
“نہیں بیٹا میں خوش ہو بلکہ بہت خوش کہ تم زندگی کی طرف واپس آرہی ہو” حاجرہ علیحا کو پیار سے دیکھ رہی تھی.
“مما آپ ہمیشہ میرا ساتھ دے گی نہ؟”علیحا معنی خیز انداز میں اپنی ماں کو ٹٹول رہی تھی.
“ہاں نہ میں اپنی شہزادی کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑوں گی”حاجرہ اپنی نشست سے اٹھتی علیحا کی چیئر کے پاس کھڑی اسے سینے سے. لگا چکی تھی
“اچھا مام میں کھا چکی ہو مجھے نیند آرہی ہے میں سونے جارہی ہوں” علیحا چیئر سے اٹھتی حاجرہ کی پیشانی چومنے لگی تھی.
“اوکے مما گڈ نائیٹ” علیحا حاجرہ کے گلے لگتے اپنی طرف جانے لگی تھی. حاجرہ علیحا کو اس طرح خوش دیکھتی بہت سی دعائیں دیکھ رہی تھی.

علیحا نے روم میں پہنچ کر دروازے لاک کیا تھا او آنکھوں میں آئ نمی کو صاف کرنے لگی
“تمہیں تو میرا ہونا ہی پڑے گا تیار ہو جاؤ مسٹر غوث علیحا کی سلطنت کے کنگ بننے کے لیے”علیحا کینوس کے سامنے رکھے سٹول پر بیٹھے غوث کی پینٹنگ سے مخاطب تھی.
“تمہیں پتہ ہے غوث محبت میں جنون نہیں ہوتا اور عشق ,عشق کی اک خاصیت ہے یہ محبت کی طرح ساکن نہیں جنونی ہوتا ہے عشق میں پانا ہی سب کچھ محبوب کے گرد طوا ف کرنا عشق کا رقص کرنا….. اور جانتے ہو تمہیں یہ شہزادی اپنی سلطنت خوب صورت ترین مجسمے کی طرح اپنے پاس سنبھال کر رکھے گی” علیحا کسی جنونی انسان کی طرح کمرے میں جھوم رہی تھی اور غوث کی پینٹنگ سے باتیں کر رہی تھی.

عشق کی راہ ہے محبت کی فضا ہے
تم ہو جان من یہ کیسی وجہ ہے
یار کو پہلو میں بٹھا کے
دیکھے گے ہم ساری رات
یہ تم کو پانے کی چاہ ہے…..

علیحا غوث کی پینٹنگ کو محبت سے مگر نظروں میں جنونیت بھرے اسے دیکھ رہی تھی.
❤🌙🌙❤🌙🌙❤🌙🌙❤🌙🌙

“تمہیں کوئ اور دیکھے تو جلتا ہے دل
بڑی مشکلوں سے پھر سنبھلتا ہے دل… ”
آج یونیورسٹی آف ساہیوال میں جشن بہاراں کی خوشی میں اک بہت بڑی تقریب رکھی گئ تھی.
اور زمل سٹیج پر گٹار لیے اپنی آواز کا جادو بکھیر رہا تھا. کالے سلکی بالوں کو جیل کی مدد سے اک سائیڈ پر ٹکاۓ وہ بلیو جینز اور کیمل شرٹ میں ملبوس تھا. کافی ہجوم کی وجہ اسکی شرٹ پسینے سے بھیگی ہوئ تھی. آستینوں کو کہنیوں تک موڑے ہاتھوں میں کئ رنگ کے بینڈز ڈالے وہ کوئ پاپ سٹار لگ رہا تھا. لڑکیوں کی اک خاص بھیڑ اسکا گانا سننے کے لیے آئ تھی. یہی وجہ تھی لڑکوں کی نسبت لڑکیوں کا رش زیادہ تھا.
“چلو نہ علیحا چلتے ہے… ” منسا کب سے علیحا کو اپنے ساتھ چلنے کے لیے منا رہی تھی.
“نہیں نہ منسا تمہیں پتہ ہے مجھے یہ شور پسند نہیں مجھے کنسرٹ میں جانا بلکل پسند نہیں اور ویسے بھی کیا ہے اسکی آواز میں کئ بار تو سن چکی ہو تم” علیحا نے موبائیل پر کچھ ٹائپ کرتے ہوۓ تمہید باندھی تھی.
“یار چلو نہ تمہیں پتہ ہے مجھے زمل کی آواز بہت پسند ہے کتنا اچھا گاتا ہے”منسا اکسائٹمنٹ سے بولی تھی.
“نہیں جانا مجھے”علیحا نے قدرے سنجیدگی سے جواب دیا تھا اسے.
“ٹھیک ہے مت چلو میں جارہی ہو تم بیٹھو اس بورنگ بزنس کلاس میں پتہ نہیں ہو آرٹس سٹوڈنٹ بیٹھی اس خاموش اور بور کلاس میں ہو… ” منسا نے اپنی جگہ سے اٹھتے ہوۓ دروازے کی راہ لی تھی.
“مجھے بلانا مت”منسا غصے سے دروازہ بند کرتی کہہ کے گئ تھی
“ہیز ہیئر… یس”خوشی سے اپنی جگہ سے اٹھتی وہ بھی دروازے کی طرف بڑھی تھی.

❤🌙🌙❤🌙🌙❤🌙🌙❤
“غوث میری جان کدھر ہو یار ملاقات ہی نہیں ہوتی” نیند کی خماری سے چور وہ فون کان کو لگاۓ گل کو سن رہا تھا
:ہاں بس کافی بزی تھا میں…. ” منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ وہ نیند کی وادی سے باہر آنا چاہتا تھا.
“زہِ نصیب اس ناچیز بندی پر بھی تو رحم کرے جو کب سے اپکی راہ دیکھ رہی ہے” گل اک روایتی انداز میں بولتی ہوئ اپنی ریشم سی نازک انگلیوں میں بالوں کو لپیٹ رہی تھی.
“ہاں آج آؤں گا… ” غوث یہ کہہ کر فون بند کر چکا تھا.
گل اک مشہور طوائف زادی تھی جسے غوث نے اک کثیر رقم دے کر خود کے لیے محفوظ کر رکھا تھا. شانتا بائ کو وہ پہلے ہی تنبہہ کر چکا تھا کہ گل اسکے سوا کسی کے پاس نہیں جاۓ گی….
وہ فون سائیڈ ٹیبل پر رکھتا فریش یونے طلا گیا تھا.
🌙❤❤🌙❤❤🌙❤❤🌙❤❤🌙
“فون تقریباً پچھلے پندرہ منٹ سے بج رہا تھا. غوث شاور لینے میں مصروف تھا. جب وہ فریش ہوکر باہر نکلا تو حسن کی کال پھر سے آنے لگی.
غوث ٹاول سے اپنے گیلے بالوں کو پونچھتا سائیڈ ٹیبل کی طرف بڑھا تھا. ٹاول کو بیڈ پر گرا کر وہ حسن کی کال ریسیو کر چکا تھا.
“ہاں بولو حسن” گھمبیر لہجے مہں بولتا ہوا وہ حسن کو ڈرا گیا تھا
“گڈ مارننگ….سر” حسن گڑبڑا کر بولا تھا
“گڈ مارننگ !”اسنے اپنے لہجے کو تھوڑا نرم کیا تھا.
“سر وہ آپکو انفورم کرنا تھا کہ آج یونیورسٹی آف ساہیوال میں چیف گیسٹ کے طور پر جانا تھا اور لیکچر دینا تھا! “حسن اک سانس میں ہی سب بول گیا تھا.
“آنہہہہہ”اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرتے وہ شیشے کے سامنے کھڑا تھا.بالوں سے گرنے والا پانی اسکے وجود کو بھگو رہا تھا. اگر وہ شرٹ لیس نہ ہوتا تو یقیناً یہ پانی اسکی شرٹ کو مکمل گیلا کر چکا ہوتا. گیلے سلکی بال ماتھے پر آۓ نیلی آنکھوں کا پردہ بن رہے تھے. انھیں اپنے بائیں ہاتھ سے پیچھا کرتے وہ ڈیوڈرنٹ اٹھاتا اپنے اوپر اڈیلنے لگا تھا. ڈیسٹنی ڈیزائر کی اک خاص مہک پورے کمرے کو معطر کرگئ تھی.
“اچھا تم جاؤ ill be there in 20 minutes” اتنا کہتا وہ فون بند کرتا بیڈ پر اچھال چکا تھا.
“امی آج حبان نے جلدی فری ہوجانا تھا کالج سے اور نہ ہی اسکی کوئ ایکسٹرا کلاس ہے آج “زرش ٹی وی دیکھتے ہوۓ ہانیہ بیگم سے بولی تھی.
“ہاۓ اللہ تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں میں اسکے رکشے والے سے کہہ دیتی کے جلدی چلاجاۓ” ہانیہ بیگم غوث کے لیے ناشتہ لگوارہی تھی.
“امی آج وہ رکشے پہ نہیں گئ آج تو انکل آۓ ہی نہیں کیونکہ انکی بیٹی بیمار ہے”ریموٹ سے چینلز کی سرچنگ کرتے ہوۓ وہ بولی تھی.
“تو اب کیسے آۓ گی وہ واپس…. “ہانیہ بیگم صوفے پر بیٹھتے ہوۓ فکرمند ہوتی بولی تھی.
“بیٹا غوث…! ” غوث ہاتھ پہ گھڑی باندھتا باہر جانے لگا تھا کہ ہانیہ بیگم نے اسے آواز دی تھی.
“جی….. ” غوث کو ناچاہتے ہوۓ بھی رکنا پڑا تھا. ہانیہ بیگم غوث کی تائ اماں تھی جوکہ غوث کے والد کے بڑے بھائ سید برھان شاہ کی بیوہ تھی. بچپن میں اک حادثے میں غوث اپنے والدین اور ہانیہ بیگم نے اپنے شوہر کو کھو دیا تھا. اور غوث کی پرورش ہانیہ بیگم نے ہی کی تھی. مگر غوث سب سے ہی الگ الگ رہتا تھا وجہ شاید والدین کی عدم موجودگی تھی.
“ًغوث آج وہ حبان کا رکشہ والا نہیں آیا تو کیا تمہیں اسے پک کر لو گے اور اپنے ساتھ ہی واپس لے آنا” صوفے سے اٹھ کے وہ غوث کے قریب آئ تھی.
“امی…. میں بزی ہو کافی مجھے کہی اور جانا ہے… ” بیزاریت سے کہتا وہ منہ موڑ گیا تھا .
“دیکھو بیٹا…. مانا کہ تمہارا مزاج نہیں گھلنے ملنے والا مگر وہ اکیلی کیسے آئے گی اور تم. ہی بتاؤ آج تک وہ اکیلی کہی گئ ہے؟” ہانیہ بیگم غوث کے سر پر. پیار دیتے اسے حبان کو لانے کے لیے منا رہی تھی.
“ہاں…. اچھا میں اسے پک کرکے اپنے ساتھ ہی یونیورسٹی لے جاؤ گا کیونکہ مجھے وہاں کام ہے اور اپنے ساتھ ہی واپس لے آؤ گا” وہ اک سرد آہ بھرتا باہر بڑھ گیا تھا.
ڈرائیور کو ہاتھ کا اشارہ کرتے اسنے گاڑی نکالنے کا کہا تھا.
“گرلز کالج چلو…..” سی گرین شیڈز لگاتے وہ موبائیل پہ مصروف ہوگیا تھا..
#Continue…….
And readers plz give your feedback if u like my writing…….

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *