ناول کلام عشق -3

#ep 3
رائٹر:سیدہ حمنٰہ شاہ

وہ اک وجود کے سامنے تھا رو رہا تھا.آنکھوں سے اشک روا تھے. افففف عشق بھی کس کس موڑ پر عاشق کو نچواتا ہے کیا کیا نہیں کرواتا یہ ظالم اسکی اک جھلک پر بےتاب اور اسکی بے رخی پر موت…….
کسی کی مانوس آواز اسکی سمعتوں سے ٹکرائ تھی.
“مجھے معاف کردو “آنسوں سے بھاری اسکی آواز گریا کر رہی تھی.
“میں مانتا ہو میری غلطی ہے بس مجھ سے دور مت جاؤ” اپنے ہاتھوں کو جوڑے وہ اسکے قدموں میں بیٹھا تھا. نیلی آنکھیں اشکبار تھی اذیت سے دہکتے اسکے آنسوں گالوں سے نیچے کسی اجنبی کے پیروں کی زینت بن رہے تھے.
………………………………………
“ڈاکٹر ہیز آویک! ”
نیلی آنکھیں اک سیراب کی دنیا سے حقیقت میں کی دنیا میں واپس آرہی تھی.
” کہاں ہو میں”غوث اٹھنے کی کوشش کرنے لگا
” سر پلیز یو مسٹ ریسٹ” پاس کھڑی نرس اسکے بازوں کو ہاتھوں میں لیتی اسے لٹانے لگی تھی.
“سٹے آوے یو…. بچ” اسکی چیخ نے کمرے کی ہر چیز پر لرزا طاری کیا تھا
“آہہہہہہہہہہ “سر کو ہاتھوں سے تھامتے وہ وہ درد کی شدت سے بے حال ہو رہا تھا
“میرا فون کہاں ہے؟”
“غوث تمہیں ریسٹ کی ضرورت ہو تمہارا زخم کافی گہرا ہے” ڈاکٹر اسکے سامنے آکھڑا ہوا تھا
“کیا ہوا ہے؟” سر ہاتھوں سے سہلاتے وہ بیڈ پر بیٹھنے لگا
“تمہیں یاد نہیں کہ کیا ہوا تھا…. تمہیں ہٹ کیا گیا تھا ہاکی سٹک سے تمہارے سکل کے رائٹ سائیڈ پر کافی گہری چوٹ آئ ہے.”ڈاکٹر اسے تفصیل بتانے لگا تھا.
“اوکے ناؤ آئ نیڈ ٹو گو بیک” وہ ڈاکٹر کو بتاتا اک دفعہ پھر سے اپنے قدموں پر کھڑا تھا.
******************************
میں تجھ کو چاہوں زندگی کی طرح
اور تو ہم کو موت کی رات میسر ہو…..

“تم کہاں جارہے ہو…؟ رکو… رکو…. ” وہ مہو خواب کسی کو پکار رہی تھی.
“رکو…. “وہ اک جھٹکا کھا کر ہوش کی دنیا میں لوٹی تھی.
“علیحا …!” مانوس آواز اسکے کانوں سے ٹکرائ تھی.
“مما” وہ ہاتھ کو حرکت دیتی اس دھندلاتے ساۓ کو چھونے کی کوشش کر رہی تھی.
“میری جان! تم نے تو ڈرا دیا تھا مجھے”
” سوری.. ‘ گلے میں اٹکا اک آنسوؤں کا ریلا روکے وہ بولی تھی
“بس سب گزر گیا تم ٹھیک ہوجاؤ گی انشاءاللہ” حاجرہ محبت سے علیحا کے گال سہلانے لگی.
جانے کیا تھا جو ہر بار اسے روک جاتا تھا. وہ جب بھی زندگی سے دور بھاگنے کی کوشش کرتی مگر حاجرہ کی محبت اور اسکا واحد سہارا ہونا اسکے پیروں کی سب سے بڑی زنجیر تھی.
آنکھوں کے کنارے نمکین پانی سے بھرے تھے. مگر وہ انکو چھپائ دوسری طرف منہ کیے انکی اذیت محسوس کرہی تھی
………………………………
“امی…. امی…….. ” زرش لاؤنج سے آواز لگاتی ہانیہ بیگم کو پکار رہی تھی
“امی……..”
“ارے کیا ہوا؟ کیوں ہلکان ہورہی ہے.. ” ہانیہ بیگم عصر کی نماز ادا کر کے کمرے سے باہر آرہی تھی
“امیی… ”
“ارے رک جا آرہی ہو.. ”
” کیا ہوا ہے کیوں چیخ رہی ہو؟” صوفے پر دراز ہوتے ہانیہ بیگم غصیلی آنکھوں سے زرش کو دیکھنے لگی
“مجھے نہیں اس نیوز کو دیکھے” زرش رموٹ سے اشارہ کرتی ہانیہ بیگم سے بولی
نیوز چینل پر چلنے والی خبر نے ہانیہ بیگم کے رونگٹے کھڑے کیے تھے.
” ہاۓ اللہ” اک آہ ہانیہ بیگم کے لبوں سے بے اختیار نکلی تھی
The famous Business tycon
“SYED GHOUS SHAH”
IS UNDER ATTACK!
نیوز چینل پر چلنے والی خبر نے تقریباً ہر چینل پر اک ولولہ طاری کیا تھا. جہاں غوث ہاتھ پر بینڈیج کرواۓ خون سنے کپڑوں کے ساتھ ہاسپٹل سے باہر نکل رہا تھا. نیوز رپورٹر باہر اسے اک حلقے میں لیے کھڑے تھے. جیسے ہی وہ انکے بیچ سے گزرتا اپنی گاڑی کی طرف بڑھا نیوز رپورٹز کے ہجوم نے اک بھیڑ اکٹھا کی تھی.وہ بغیر کسی سوال کا جواب دیے اپنی کار میں بیٹھ چکا تھا. گارڈز کا اک ٹولہ اسکی گاڑی کو چاروں طرف سے حصار میں لیے کھڑے تھے اور آنے والے نیوز
رپورٹز کو اس تک پہنچنے سے روک رہے تھے.
“یا اللہ یہ سب کیسے ہوگیا… ”
” سن غوث کو فون ملا جلدی جانے کس حال میں ہوگا میرا بچہ” ہانیہ بیگم پریشانی سے صوفے سے اٹھتی زرش کے قریب آئ تھی
“امی اگر ملا بھی دیا تو وہ اٹھاۓ گا نہیں اور نہ ہی بات کرے گا” زرش نے پہلے ہی قصہ تمام کر دیا تھا
“تو ایسا کر اس حسن کو فون ملا جلدی اسے کہہ کے مجھ سے بات کرواۓ غوث کی” ہانیہ بیگم حل پیش کرتے ہوۓ دوبارہ صوفے پر بیٹھی تھی.
“امی وہ گھر میں تو ہم سے بات کرتا نہیں تو کیا فون پر کرے گا؟”زرش نے اک اور تمہید باندھی تھی.
“میں نے کہا نہ تو فون ملا”
” اچھا”
زرش فون پر جلدی سے حسن کا نمبر ڈائیل کرنے لگی.
“فون اٹھایا اسنے ؟”
“امی ابھی تو بیل جارہی ہے”
“اسلام علیکم حسن بھائ”
“وعلیکم اسلام” دوسری طرف سے حسن نے گھبراہٹ سے اسکے سلام کا جواب دیا تھا
” حسن بھائ امی نے آپسے بات کرنی تھی”زرش نے کال کرنے کی وجہ بتائ تھی.
“جہ…جی کرواۓ بات” گھبراہٹ اب بھی برقرار تھی
“ہیلو حسن کیسے ہو بیٹا” ہانیہ بیگم نہائیت شائستگی سے حسن کا حال احوال دریافت کرہی تھی.
“جی میں ٹھیک ہو آلحمداللہ “حسن نے بھی نہائیت احترام سے جواب دیا تھا.
“حسن مہری غوث سے بات کروا سکتے ہو وہ فون نہیں اٹھا رہا میں نے ابھی نیوز دیکھی مجھے بہت فکر ہورہی ہے”

“جی… وہ سر کا فون وہی رش میں کہی گرگیا تھا میں آپکی بات کرواتا ہو. ”
حسن اپنے گھر کے ڈائنگ روم سے چلتا یوا کمرے کی طرف بڑھا تھا جہاں غوث آرام کررہا تھا. غوث اپنے گھر جانے کی بجاۓ حسن کے گھر رہنے کو ترجیع دے رہا تھا کیونکہ وہ ابھی گھر والوں کے سوالات کا جواب نہیں دینا چاہتا تھا اور نہ ہی اسکو کسی کی ہمدردی چاہئے تھی.
فون میوٹ پر لگاتے حسن نے دروازے پر دستک دی تھی
“کم ان”
حسن جیسے ہی کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل پوا تو اک تیز بو اور دھویں نے اسکا سر چکرایا تھا.
“سر وہ ہانیہ آنٹی کی کال ہے وہ آپسے بات کرنا چاہتی ہے”حسن نے فون اسکی طرف بڑھایا تھا.
کمرے میں تیز دھویں میں وہ اپنے وجود کا بھی ہاتھ میں پکڑی سگریٹ کی طرح سلگا رہا تھا.
“ہاہاہاہاہاہاہا…… لگتا ہے کہ شیر کے زخمی ہونے کی خبر جنگل میں پھیل گئ ہے اور اب گیدڑ آۓ تماشہ دیکھنے” ہاتھ میں پکڑی دگریٹ کا اک کش لگاتے ہوے وہ مسکرایا تھا.
حسن خاموش رہا تھا. حسن کی آنکھیں دھویں کی اژیت کی وجہ سے لال ہورہی تھی.
“لاؤ دو فون” ہاتھ کو ہوا میں لہراتے اسنے سگریٹ کو ایش ٹرے میں بھجایا تھا. چیئر پر بیٹھے وہ اہنا چہرہ کھڑکی کی طرف موڑے ہوۓ تھا.
حسن فون دینے کے لیے اسکی طرف بڑھا تھا. وہ اک سیکنڈ کے لیے ٹھٹکا تھا ایش ٹرے سگریٹ کے ٹکڑوں سے بھرا ہوا تھا.اور مزید ٹکڑے ٹیبل کے اک اضافی حصے کو کور کیے ہوۓ تھے. بکھرے بال جو کے اسکےماتھے کو کور کیے ہوۓ تھے اسکی آنکھیں اک وحشت طاری کرہی تھی جو بے حد لال تھی.حسن خاموش کھڑا اسکے وجود کو دیکھ رہا تھا.
“لاؤ دو فون” غوث اک دم چلایا تھا
“جی… جی.. سر” حسن نے ہڑبڑاہٹ میں اسے فون تھمایا تھا.

“ہیلو” ہانیہ بیگم کی آواز نے اسکے کانوں کا تعقب کیا تھا.
“جی بولیں ” غوث نے اکتاتے ہوۓ جواب دیا تھا.
” بیٹا غوث کہاں ہو تم کیسے ہو میں نے نیوز دیکھی تم گھر کیوں نہیں آۓ” بہت سارے سوالات ہانیہ بیگم نے اک سانس میں پوچھے تھے.
“ضروری نہیں سمجھا” غوث کی طرف سے بہت ہی سمٹا ہوا جواب تھا یہ.
” بیٹا کم از کم مجھے تو بتا دیا کرو میں بہت پریشان تھی مجھے اگر زرش نہ دکھاتی نیوز تو مجھے تو پتہ بھی نہ چلتا”
” میں ٹھیک ہو جلد ہی گھر آجاؤں گا”
” غوث میری.. ” غوث فون کاٹ چکا تھا.
“غوث.. غوث.. ”
“کیا ہوا امی”زرش ماں کو دیکھتے ہوۓ بولی تھی
“کچھ نہیں لگتا ہے فون کٹ گیا”ہانیہ بیگم نے زرش کو فون تھمایا تھا.
“امی کٹ گیا یا اانے کاٹ دیا”
“نہیں نہیں کٹ گیا ہوگا وہ حسن کے گھر ہے نہ تو وہاں تو ویسے بھی نیٹ ورک اشو ہے” ہانیہ بیگم اسکی غوث کی صفائ دے رہی تھی.
“امی آپکو بھی پتہ ہے کہ غوث کیسا ہے وہ کسی کو کچھ نہیں سمجھتا اور تو اور وہ وہ کسی سے ٹھیک طرح سے بات بھی نہیں کرتا” زرش نے اپنے اندر اک غم کو پیتے ہوۓ آج اسکی ہر بات عیاں کی تھی.

*************************************

سرخ آنکھیں کیے وہ ہوا کے دوش پر اڑتے پردے کو دیکھ رہا تھا جیسے اسکی کل دنیا کا حاصل بس اس پردے کو تکنا ہو. مگر اس ہلتے پردے کے ساتھ ماضی کی یادیں تھی جو ذہن کے پردے پر ابھری تھی.
“بس بس اور نہیں برداشت کرسکتا میں”ہاتھوں کو سر کے گرد لپیٹتے ہوۓ وہ اذیت سے چلا اٹھا تھا…
“اے خدا…….. “”آہہہہہہی……. ” وہ چلارہا تھا اذیت سے تڑپ رہا تھا. کچھ تھا جو بے چین کیے ہوۓ تھا.
کمرے کے دروازے کے ساتھ کھڑا حسن اسکی حالت سے باخوبی واقف تھا. یہ نیا نہیں تھا اسکے لیے وہ پہلے بھی اسی طرح بےبس ہوجایا کرتا تھا.
وہ کمرے میں چیخ و بکار کرہا تھا تڑپ رہا تھا رورہا تھا مگر حسن صرف اسکے لیے دعا ہی کرسکتا تھا.
******************************
“کیسی ہو حبان” میسج کی رنگ ٹون نے اسے متوجہ کیا تھا. یہ وہی انجانہ نمبر تھا جو اس سے اپنے دل کی باتیں کہتا تھا!
“آلحمداللہ ”
“چاند دیکھا ہے آج کا؟”
وہ زرش کے ساتھ کوئ سیریل دیکھ رہی تھی جب وہ اٹھی اور کھڑکی کی طرف بڑھی تھی.
“خوبصورت” اک مسکراہٹ کے ساتھ یہ میسج سینڈ کیا گیا.
“پر داغ ہے” وہ چاند کے حسن میں کھوگئ تھی. جب میسج کی ٹون نے یہ سکوت توڑا.
“اک گنہگار یا داغدار انسان کو قبول کرنا مشکل ہے ہے نہ؟” میسج بھیجنے والے نے سوال پوچھا تھا.
“نہیں جانتی. ” وہ بس اتنا ہی جواب دے پائ تھی. مگر اس پار بیٹھے اس شخص کے سوال نے اسے مضطرب کردیا تھا.
“بس میں اپنے کمرے میں جارہی ہو نیند آرہی ہے” وہ زرش سے نیند کا بہانہ کرکے فرار ہوئ تھی.
“ارے…رکو…. ” زرش اک دم اسکے جانے پر حیران ہوئ تھی.

گھڑی رات کا 1 بجا رہی تھی بیڈ کراؤن کے ساتھ ٹیک لگاۓ حبان کی آنکھوں سے نیند کی دیوی ناراض تھی. وہ اب تک اسی سوال کے بارے میں سوچ رہی تھی. سائیڈ ٹیبل سے اپنی ڈائری نکالی اور اس پر کچھ تحریر کرنے لگی. یہ ڈائری اسکی کل زندگی تھی جو وہ کسی سے نہ کہتی اس سے کہتی تھی اور آج بھی وہ اپنی الجھنیں اس میں لکھ رہی تھی. ڈائری لکھنے کے بعد وہ دل کا بوجھ ہلکا کر چکی تھی ڈائری بند کی تو پرانی اک تصویر جو اسکے بچپن کی اکلوتی تصویر تھی اسکے والدین کے ساتھ وہ ڈائری سے پھسل کر بیڈ پر گری تھی. اسے اپنا بچپن اتنا یاد نہیں تھا مگر وہ ماں باپ کی محرومی ہرپل محسوس کرتی تھی. آنکھوں نے بے موسم بارش کردی تھی.
رات کے پہر گھڑی با گھڑی گزر رہے تھے. پورچ میں اک بلیک کار رکی تھی. غوث کا اس طرح دیر رات کو آنا معمول تھا. وہ بدحال خون سے سنی شرٹ کے ساتھ اندر گھر میں داخل ہوا تھا یہ کہنا مشکل نہ تھا کہ وہ کسی کو پیٹ کرآرہا تھا. مگر کس کو یہ کوئ نہیں جانتا تھا مگر اس شخص کے لیے دعا ہی کی جاسکتی تھی کے بس وہ زندہ ہو..

وہ چینج کرکے لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھا کچھ سکرول کررہا تھا. جب اسے بھوک کی شدت ستانے لگی. وہ لیپ ٹاپ کی سکرین فولڈ کیے کچھ کھانے کے لیے اٹھا. وہ کمرے سے نکلتا کچن کی طرف جانے لگا تھا کے اک کمرے میں جلتی لائٹ نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا. اسنے وال کلاک کی طرف نظر دوڑھائ تو گھڑی 3 بجا رہی تھی. رات کو اس وقت اس گھر میں اسکے علاوہ کوئ نہیں جاگتا تھا. ڈھیلے سے بلیک ٹراؤزر اور گرے شرٹ میں ملبوس وہ اس کمرے کی طرف بڑھا تھا وہ کمرے کے دروازے کے قریب پہنچا تو کسی کے ہچکیاں لینے کی آواز سنائ دی. وہ دروازہ کھول کر دبے پاؤں کمرے میں داخل ہوا تھا.
سامنے بیڈ پر حبان بیڈ کراؤن کے ساتھ ٹیک لگاۓ گہری نیند میں ہچکیاں لیتی رو رہی تھی. وہ اک دم ٹھٹکا تھا. وہ اسکی طرف بڑھا تھا. لمبے سنہری بال معمول کی طرح آج حجاب میں قید نہیں تھے. غوث نے کبھی اسے حجاب کے بغیر نہیں دیکھا تھا اور آج یہ پہلی بار تھا جب وہ اس کی خوبصورتی کو دیکھ رہا تھا. وہ بیڈ کے قریب نیچے زمین پر بیٹھا بغور اسے دیکھ رہا تھا. نم گلابی ہونٹ کپکپا رہے تھے اور کچھ بول رہے تھے. وہ کبھی اسکے چہرے کو تو کبھی اسکے بالوں کو دیکھتا. غوث حبان کے چہرے کے قریب ہوا تھا. ماتھے پر آئ سنہری لٹ کو وہ پیچھے ہٹانے لگا تھا کے حبان کے آنسوؤں سے اسکا ہاتھ تر ہوچکا تھا. وہ نیند میں رو رہی تھی مگر کیوں یہ وہ بھی نہیں جانتا تھا. غوث نے کبھی حبان کو اس حالت میں نہیں دیکھا تھا. وہ اسکے چہرے کو اپنے ہاتھوں سے صاف کرنے لگا تھا کہ حبان تھو ڑا کسمسائ اور اپنا سر غوث کے کندھے پر رکھ گئ تھی.
اگر وہ کسی ڈزنی لینڈ کی. پری کا تصور کرتا تو آج حبان کی شکل میں وہ سچ بن کر اسکے سامنے تھی. غوث کا وجود ساکت ہوچکا تھا. مگر اک سینے میں دل تھا جو معمول سے زیادہ تیزی سے دھڑک رہا تھا. غوث ناچاہتے ہوۓ اسے سہارا دینے پر مجبور تھا وہ اسکو جگانا نہیں چاہتا تھا. دونوں کی سانسوں اک دوسرے کے وجود سے ٹکرارہی تھی. مگر غوث کی سانسیں میں تو ہلچل مچ گئ تھی وہ سمجھ نہیں پارہا تھا کہ وہ سانس. لے بھی رہا ہے کہ نہیں. وہ بس اک مورتی کی طرح اس سوئ ہوئ سنڈریلا کے حسن میں کھو گیا تھا وہ بیسٹ جو کبھی کسی پر رحم نہیں کرتا آج اک ڈزنی لینڈ کی پری کی قید میں تھا. رات یوہی ڈھل رہی تھی اور وہ محو سا اس میں کھویا ہوا تھا…………….

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *