ناول:کلامِ عشق-2

ناول:کلامِ عشق
رائٹر:سیدہ حمنٰہ شاہ
Ep:-2nd
#Do not copy paste without my permission ❌❌❌❌❌❌❌

وہ ڈریسنگ کے مرر کے سامنے کھڑا ماضی کی بھیانک یادوں کو یاد کرہا تھا. وہ کونسا لمحہ تھا کہ وہ شخص اک کالی گھٹا کی طرح اسکی زندگی پر چھایا تھا.,جس کے اثرات اب تک اسکے وجود پر نمایا تھے.
گردن پر بنے نشان پر انگلیاں پھیرتے ہوۓ اسکی آنکھیں نیلی سے سرخ ہوئ تھی. اک چھٹاک کی آواز سے ڈریسنگ کا مرر ٹوٹا تھا. اسکے ہاتھ سے اب خون کی بوندیں نیچے فلور پر بچھے کارپٹ میں جذب ہونے لگی تھی.
“will u love me like u say….. ”
فون کی رنگ ٹون نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا تھا.
“ہاں بولو؟”
“گڈ… ویری گڈ.. ” اک مسکراہٹ تھی جو اسکے چہرے پر بہار بن کر آئ تھی.
” بس انتظار کرو میں آرہا ہو کچھ دیر تک میٹنگ سٹارٹ کرتے ہیں”شیرازی میری طرف سے یہ پہلا تحفہ قبول کرو…. فون کو بیڈ پر اچھالتے وہ واش روم کی طرف بڑھ گیا تھا.
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤
“حبان…. بیٹا.. ” کچن کی طرف بڑھتی خالہ ہاتھ میں تسبیح پکڑے اپنی پری کو مخاطب کرہی تھی.
“حبان……. ”
” امی حبان کچن میں نہیں ہے! ”
“زرش کدھر گئ ہے؟”
“امی آج اسکی کالج میں اسائنمنٹ تھی نہ وہی جمع کروانے گئ ہے” زرش نے فروٹس کٹ کرتے ہوۓ ماں کو انکی پیاری پری کے بارے میں بتایا تھا
“مجھے بتایا نہیں… چلو کوئ بات نہیں اللہ خوشیاں دے کامیاب کرے…. ہاں جی ہاں میری پیاری پری کو”زرش نے ماں کو آدھا جملہ مکمل کیا تھا.
“زرششش…. ”
“ہاں تو امی صحیح کہہ رہی ہو, اپنے بچوں سے تو زیادہ آپ حبان کا کرتی ہے”زرش نے خفا ہوتے ہوۓکہا تھا.
“ہاں تو اسکو دیکھا بھی ہے کتنی فرمانبردار ہے اور خود کو دیکھا گھنٹے سے اک کام کہہ دو تو اگلے دو گھنٹے بعد وہ کام ہوتا ہے”ہانیہ ہاتھ ہوا میں ہلاتی باہر بڑھی تھی.
“ہاں مجھے آپ سب نے ایسے کہنا ہوتا ہے” اپنی پیچھے اونچی آواز میں بولتے وہ برتن سیٹ کرنے لگی.

“اللہ ہو اللہ ہو اللہ ہو…. ” ہانیہ تخت پوش پر بیٹھی تسبیح کرنے میں مصروف تھی تبہی تیز پرفیوم کی بو نے پورا لاوئنج مہکا دیا تھا .
“ارے زرش پھر انڈیل لی خوشبو اپنے پر’ اپنے منہ پر ہاتھ رکھتی وہ زرش کے کمرے کی طرف جانے لگی. ہانیہ سڑھیاں چڑھنے لگی تھی کہ رویال بلیو سوٹ میں ملبوس وہ نیچے اترا تھا.
“اسلام علیکم ” اسکی سماعت ہانیہ کے کانوں سے ٹکرائ تھی.
‘وعلیکم سلام! بیٹا کہاں جارہے ہو ”
“بس اک میٹنگ تھی اسکے لیے نکل رہا تھا’ گرے واچ کو کلائ پر باندھتے ہوۓ وہ نیچے کھڑی زرش کی طرف دیکھتے ہوۓ بولا تھا.
“اچھا بیٹا اللہ کامیاب کرے تمہیں! ” ہانیہ دعا دیتی آگے بڑھنے لگی.
” ہاں بیٹا خوشبو کم لگایا کرو اسلام میں اجازت نہیں مرد کو اتنی خوشبو لگانے کا”
وہ ہانیہ کی بات سنی ان سنی کرتا آگے بڑھ گیا.
“کتنا بتمیز ہے ذرا خیال نہیں ہے” زرش زیر لب بڑبڑائ تھی.
“اللہ ہدایت دے اسے ! ارے تو یہاں کھڑی ہے میں تجھے دیکھنے تیرے کمرے کی طرف جا رہی تھی”ہانیہ بیگم سیژھیوں کے پاس کھڑی زرش کو دیکھتے ہوۓ بولی تھی.
“اماں وہ بانو نہیں نا آئ آج تو برتن سمیٹ رہی تھی برے لگ رہے تھے کچن میں تو زرش نے جانا تھا تو وہ مجھے کہہ گئ”
“ماشاءاللہ کتنی پیاری بچی ہے خدا کرے اسکا نصیب اس سے بھی پیارا ہو” ہاتھوں کو ہوا میں اٹھاتے ہوۓ وہ حبان کو دوعاؤں سے نوازنے لگی.

❤🌙❤🌙❤🌙❤🌙❤🌙❤🌙

“کہاں رہ گئ یہ اب ” بار بار گھڑی کو دیکھتی سمیرا بولی تھی!
“پتہ نہیں یار اب دیکھنا لیٹ بھی خود ہے اور اب خفا بھی ہم سے ہوگی” بالوں میں ہاتھ پھیرتی امائمہ نے بھی اب کی بار گفتگو میں حصہ لیا تھا.
“دیکھنا آج اسکی وجہ سے لیٹ ہوگے ! ویسے یار سہی ہے اسائنمنٹ سے جان چھوٹے گی” اب کی بار بولنے کی باری لائبہ کی تھی.
” یار لیٹ ہوجاۓ گے دیکھنا اور چیئر بھی نہیں ملنی پھر بیٹھنے کے لیے” پڑھائ کی فکر سے نڈھال سمیرا بے ہوش ہونے کو تھی.
” وہ دیکھ حبا ہی ہے نہ وہ”
“ہے نہیں ہے”امائمہ کے سر پر تھپڑ لگاتی وہ حبان کی طرف بڑھی تھی.
حبانننننننن…… میری پیاری دوست میری جان!!!! ” لائبہ نے اونچی آواز میں اپنی محبت کا اظہار کیا تھا اپنے پیار سے.
سیاہ برقعے میں ملبوس اپنے ہاتھوں کو گلوز میں قید کیے کوئ گیٹ سے اندر کی طرف داخل ہوا تھا.
ہاتھ ہلاتی وہ ان کی طرف بڑھنے لگی.
“اسلام علیکم کیسے ہو تم سب؟” ہاتھوں کو گلوز کی قید سے آزاد کرتے ہوۓ وہ انسے ہاتھ ملانے لگی.
“وعلیکم سلام کدھر تھی آپ.. ”
” بتمیز انسان کب سے تیرا انتظار کررہے کدھر مری ہوئ تھی …” امائمہ کی بات مکمل ہی نہیں ہوئ تھی کہ لائبہ نے اپنی جان پر تھپڑوں اور مکوں کی بارش کر دی تھی.
“یار وہ میں رستے میں تھوڑی دیر کے لیے بیکری پر مرگئ تھی تو انھوں نے میری میت کو یہاں کالج بھیج دیا تم جلادو کے پاس” اپنے کندھے کو سہلاتی جہاں لائبہ نے تشدد کی بارش کی تھی وہ سٹولر اتارنے لگی اسکی جگہ اسنے بلیو دوپٹے سے سر کو اوڑھا تھا.
“چلو یار جلدی چلو لیکچر سٹارٹ ہوگیا ہوگا اور میرا رولنمبر تو ہے بھی فرسٹ پہ میری اسائنمنٹ اور پریسنٹیشن پہلے ہونی ” پھر سے اب سمیرا فکر مند ہوتی کلاس کی طرف بڑھنے لگی.
“ہاں چلو یار ورنہ وہ جو سی آر ہے نہ ہماری اسنے میم سوبیا کو بتا دینا اور ہم نے پھر سے پھنس جانا”
“یار کیا ہے اس قمر کو بھی اسے ہمارے علاوہ کوئ نظر نہیں آتا؟” گلوز اور عبایا کو بیگ میں ڈالتی اب وہ باقی سب کے ساتھ کلاس کی طرف بڑھی تھی.
یہ سب تھا بی ایس تھرڈ سمیسٹر کا 3 idiots کا گروپ جو ایجوکیشن کا سبجیکٹ نہ چاہتے ہوۓ بھی پڑھ رہی تھی رضامندی تو کسی کی نہیں تھی مگر وقت اور حالات شاید قسمت ہی انکو یہاں لے آئ تھی.
“دیکھا لیکچر سِارٹ ہوگیا ہے”سمیرا جو پہلے دروازے سے جھانک کر آئ تھی سڑھیوں کے پاس کھڑی ان بے فکر لڑکیوں کو بتانے لگی.
“بنکککککککک……. ” لائبہ اک دم. چلائ تھی.
“نہیں آج تو بلکل بھی نہیں آج پریسینٹیشن بھی ہے اور اسائنمنٹ بھی اور تو اور ہمیں سیشنل مارکز بھی انہی پر ملنے ہیں”حبان فکرمند ہوتی ہوئ بولی تھی.
“چلو چلتے ہے پر بیک ڈور سے”
“ہاں یہ سہی ہے! ”
اب سب کلاس کے بیک ڈور والی سائیڈ پر کھڑی اندر جانے کے لیے ہمت جمع کرنے لگی.
“سب اکٹھے چلتے ہے”
“چلو” سب بیک ڈور سے کلاس میں جانے لگی مگر قسمت کہ لائبہ کا پاؤں چیئر سے ٹکرا گیا اور اک ساکن ماحول میں شور پیدا ہوا
“کہاں سے آرہی ہے آپ سب؟” میم مہک نے پریسنٹیشن دیتی اریج کو رکنے کے لیے بولا
“میم وہ ہم…. ”
“میم ہم کینٹین تھے فائلز لے رہے تھے”
“جی میم ” سب باری باری آپنے جھوٹ کو سچ میں بدلنے کی ناکام کوشش کرنے لگ گئ.
” اوکے بیٹھ جاۓ لاسٹ ٹائم ہے یہ مسٹیک آئندہ نہ ہو” میم انکو وارن کرتے ہوۓ دوبارہ اریج کی طرف متوجہ ہوئ تھی.
آدھے گھنٹے بعد وہ ایجوکیشن کی کلاس سے فری ہوئ تھی ان سب کی پریسنٹیشن بہت اچھی رہی تھی.
“کیا کھاؤں گے تم سب” کینٹین فلور سے اٹھتے ہوۓ لائبہ نے سب سے پوچھا تھا.
“کچھ بھی پر سموسے نہیں “آنکھیں موندھے دیوار کے ساتھ ٹیک لگاۓ حبان بولی تھی.
“یار یہاں سے ملتا ہی یہی سب ہے” لائبہ خفا ہوتے بولی تھی.
“یار لے آؤ وہی زیادہ ڈرامہ نہ کرو” بات کو ختم کرتے امائمہ بولی تھی.
“یار آنٹی کیسی ہے حبان” سمیرا حبان کے ماتھے پہ آۓ بالوں کو ہٹاتے ہوۓ بولی تھی
” ِآلحمداللہ “اک سرد آہ بھرتے ہوۓ آنکھیں موندے وہ بولی تھی
“تم اداس لگ رہی ہو! ” امائمہ کو حبان کی اس حالت نے تجسس میں آگھیرا تھا.
” نہیں ارے نہیں تھی” بوکھلاہٹ میں چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ سجاۓ وہ بولی تھی. اسکی اس مسکراہٹ سے بائیں گال کا ڈمپل کھلا تھا.
“لگ نہیں رہی ”
” ٹھیک ہو میں! لو لائبہ بھی آگئ چلو سموسے کھاتے ہیں” لائبہ کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ اسنے گفتگو کا موضوع بدلا تھا اور اس کی اس بات کو لائبہ کے سوا سمیرا اور امائمہ نے فوراً نوٹ کیا تھا.

پری زاد ہو خواہشیں بن کے لاتی ہو
دل کی دھڑکن کو بیچ کر محبت برساتی ہو….

❤🌙❤🌙❤🌙❤🌙❤🌙❤🌙

“سر سعد رضوی کافی دیر سے آپکا میٹنگ روم میں انتظار کرہے ہیں” وہ اپنے روم میں ٹیبل پر ٹانگیں رکھے بار بار گھڑی کو دیکھ رہا تھا
“کیا وہ لڑکی آگئ ہے؟”
“سر بس آتی ہوگ… گی.. ” حسن لڑکھڑاتی ہوئ آواز سے بولا تھا
“کیا مطلب کے آتی ہوگی میں اسکے باپ کا نوکر ہو جو انتظار کروں اس دو ٹکے کی لڑکی کا”وہ غصے سے لال ہوتا حسن کے مقابل کھڑا ہوا تھا.حسن کے پورے وجود پہ اسکی آواز سے کپکپاہٹٹ طاری یوگئ تھی.
“نائس ایسا ہی خوف چاہتا ہو سب کی آنکھوں میں” حسن کے ماتھے پر آۓ پسینے کی بوندوں کو دیکھتی نیلی آنکھیں مسکرائ تھی.
تھری پیس رویال بلیو سوٹ میں ملبوس بالوں کو اک طرف جیل کی مدد سے سیٹ کیے ہوۓ وہ وجود بے مثال لگ رہا تھا. گہری نیلی آنکھیں ونڈو سے باہر بلڈنگ کے نیچے کھڑے نیوز رپورٹز کو دیکھ رہی تھی.روم میں یر طرف اسکے فیورٹ پرفیوم “بلیک کنگ” کی خوشبو پھیلی تھی.
“ٹن ٹن” کمرے میں موجود خاموشی کو حسن کے موبائیل پر آنے والی میسج ٹون نے توڑا تھا.
وہ وجود یک دم پیچھی موڑا تھا. حسن نے موبائل پر فوراً میسج پڑھ کر اسے دیکھا تھا.
“she’s here Sir”
“گریٹ” چہرے پر شیطانی مسکراہٹ سجاتے وہ کمرے سے باہر نکلا تھا.
کوریڈور سے گزرتے ہوۓ ہر فی میل نیوز رپورٹر کی نگاہ اک پل کو اس وجود میں قید سی ہوگئ تھی. وجود سے خوشبوؤں کے ہلے اڑاتے وہ انکو نظر انداز کیے وہ میٹنک روم میں داخل ہوا تھا.
“where the hell are u?”
سعد رضوی اس بے ہرواہ کو دیکھتے ہوۓ غصے سے بولا تھا.
“Sit Down”ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوۓ یہ نیلی آنکھیں گویا ہوئ تھی.
ٹیبل سے پروجیکٹر کا ریموٹ اٹھاتے سعد رضوی اسکرین پر نمودار ہونے والی کچھ پکچرز کو دکھانے لگا.
“سو گائز یہ ہے ہمارا نیو پلین آباؤٹ دا ویلز سوسائٹی”سعد اک خوبصورت عمارت کی نمودار ہونے والی تصویر کے بارے میں تفصیلات دے رہا تھا.
“دروازہ کھولو مجھے اندر جانے دو” میٹنگ روم کے باہر اک شور سابرپا تھا. اک لڑکی جینز میں ملبوس ہائ ہیلز پہنے میٹنگ روم میں داخل ہوئ تھی.گولڈن بالوں کو اک کندھے پر ڈالے وہ کسی کو تلاش کرنے لگی تھی جب اسکی نظر سعد پر ٹھہری وہ قدم اٹھاتی سعد کی طرف بڑھ گئ.
“بلڈی ریپسٹ” سعد کو گریبان سے پکڑے وہ اس پر چلائ تھی.
“واٹ! واٹ دا ہیل آر یو ٹاکنگ آباؤٹ؟” سعد اس سب سے بے خبر بوکھلا سا گیا تھا.
اس لڑکی کے پیچھے پیچھے تمام پریس کے لوگ اب میٹنگ روم کے اندر تھے اور سعد پر سوالات کی بارش کرہے تھے.
“یہ ہے وہ انسان جس نے میری زندگی برباد کردی” آنسو بہاتی وہ سعد کو مکمل گرفت میں لے چکی تھی.
“کیا کہہ رہی ہولڑکی کچھ اندازہ بھی ہے تمہیں ”
“ہاں ہے اور میں سچ کہہ رہی ہو”اب وہ ہاس کھڑی اک نیوز رپورٹر کو بتانے لگی.
“میم کیا آپکے پاس اپنی بات کا کوئ ہروف ہے؟”
“ہاں بلکل ہے اس مکار شخص کی وجہ سے میں ذلیل ہوگئ ہو”بیک کو گھنگالتی اسکے ہاتھ کچھ تصویریں آئ جو وہ سامنے پڑے ٹیبل پر اچھال چکی تھی. اب سب کیمروں کا فوکس ان ناذیباں تصویروں پر تھا جو سعد کی اس لڑکی کے ساتھ تھی.
“جھوٹ ہے یہ یہ سب جھوٹ ہے”بوکھلاہٹ کا شکار وہ اپنی گواہی دینے لگا تھا.
سعد کیمروں کی نظر سے بچتا میٹنک روم سے باہر جانے لگا تھا. جب کسی کی آواز نے اسکے قدم جماۓ تھے.
وہ چلتا ہوا اسکے قریب آکھڑا تھا. نیلی آنکھوں میں سرشاری واضح تھی.
” یو بلڈی چیٹر چھوڑو گا نہیں تجھے” سعد اسکو پکڑنے کے لیے آگے بڑھا تھا کہ اسکے بوڈی گارڈ دیوار کی طرح اسکے سامنے آن کھڑے ہوۓ تھے. ہاتھ کے اشارے سے انہیں پیچھے ہٹاتے ہوۓ وہ اسکے قریب آیا تھا.
“I WIN”اسنے سعد کے کان میں سرگوشی کی تھی جو سعد کو کسی بگھلے لوہے کی طرح محسوس ہوئ
“تم… آئ ول سی یو غوث ” میٹنگ روم سے باہر نکلتا سعد اسے دھمکی دے کر گیا تھا.
“ہاہاہاہاہاہاہاہاہا…… No when can question GHOUS” ہاتھوں کو پینٹ کی پاکٹوں میں قید کرتا وہ آج کامیابی سے مسکرا رہا تھا.
“اس لڑکی کو پیمنٹ کر دینا”حسن سے کہتا وہ باہر کی طرف بڑھ گیا تھا.
سید غوث پاکستان کے نامور بسنز مینز میں سے اک بزنس ٹائکون تھا, جو آج تک ہارنا نہیں جانتا تھا اور آج پھر سے جیت اسکا مقدر بن چکی تھی یا شاید اس لیے کے وہ اپنا مقدر خود بناتا تھا.سعد رضوی بھی انہی لوگوں میں سے تھا جو ماضی کا قصہ بن چکے تھی مگر سید غوث وہ گزرنے والا ماضی, چلنے والا حال, اور آنے والا مستقبل تھا.
بلیک کار میں سوار ہوتا وہ اسکو اک لمبی سڑک پر ڈال چکا تھا اب وہ اپنی جیت کا جشن منانا چاہتا تھا. مگر تنہا رہ کر……
🌙❤🌙❤🌙❤🌙❤🌙❤🌙❤🌙

کوٹ کو اتار کر اک کاندھے پر ڈالے وہ کنان پارک کے واکنگ ٹریک پر ٹہل رہا تھا. سیاہ بال تیز ہوا کے سبب اڑے جارہے تھے. یہ فروری کا آخری ہفتہ چل رہا تھا اور بہار کی آمد آمد تھی. وہ چلتے چلتے اک بینچ پر دراز ہوگیا تھا. دائیں ہاتھ میں پکڑی سیاہ ڈائری کو اسنے اپنے بائیں جانب بڑی احتیاط سے بینچ پر رکھا تھا. وہ سر کو بینچ کی پشت سے ٹکاۓ آنکھیں موند گیا تھا.
“سکون حاصل کرنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ انسان سکون کو حاصل کرنے کی تمنا چھوڑ کر دوسروں کو سکون پہنچانے کی کوشش کرے .سکون دینے والے کو ہی سکون ملتا ہے. دوسروں کا سکون چھیننے والا خود بھی سکون سے محروم یوجاتا ہے. اور اگر فرض اور شوق یکجا ہوجاۓ تو ‘ زندگی پرسکون ہوجاتی یے”
سوچ کے پردے پر کسی من جانم کی آواز سنائ دی تھی.
“سکون” وہ آنکھیں موندے مسکرا رہا تھا. آس پاس سے گزرنے والے اسکو غور سے دیکھ رہے تھے. اور اندازہ لگا رہے تھے کہ کسی خاص کے خیال سے یہ مسکرا رہا ہے.
وہ اک دم وہاں سے اٹھا اور اپنی گاڑی کی طرف بڑھنے لگا. سیاہ کار اس وقت یونیورسٹی روڈ پر دوڑ رہی تھی.
“یہ کیا؟” تھوڑی دور ساہیوال یونیورسٹی کے آگے لوگوں کا ہجوم دیکھ کر ٹھٹکا تھا. یونیورسٹی سےتھوڑی پیچھے اسے اپنی گاڑی روکنی پڑی.
“عاشق رسول ہے جان پر بھی کھیل جاۓ گے” کسی لڑکے کی آواز اسکے سماعتوں سے ٹکرائ تھی.
وہ گاڑی سے باہر نکلا تو یونیورسٹی کے لڑکوں کی اک جماعت ہاتھوں میں ناموس رسالت کے پوسٹرز پکڑے آنے والی گاڑیوں کو زخمی کر رہے تھے. وہ تھوڑا آگے بڑھا تو کسی بھاری چیز سے اسکے سر پر وار کیا گیا.
“آہ ہہہہہہیہ….. ” سر میں درد کی اک لہر اٹھی تھی اور وہ لڑکھڑا کر روڈ پر گرا تھا. وہ اس اچانک حملے کے لیے تیار نہیں تھا.
سڑک پر اسکے سر سے بہنے والے خون نے کئ سرخ لائنیں کھینچی تھی.
سید غوث بے ہوش زمین پر پڑا تھا. …

🌙❤🌙❤🌙❤🌙❤🌙❤🌙❤🌙

باہر سے اٹھنے والے ہنگامے کا شور سن کر علیحا گیٹ کی طرف بڑھی تھی
سارہ نے اسے بتایا تھا کہ اسلامک یونین کے لڑکے باہر پارکنگ میں کھڑی گاڑیاں تباہ کر رہے ہیں.
“یہ کیا کررہے ہو دور ہٹو میری کار سے”اک لڑکا علیحا کی کار کے شیشے توڑ رہا. تھا.
“ہٹ جاؤ لڑکی میں تمہیں نقصان نہیں پہنچانا چاہتا”یہ بزنس ڈیپارٹمنٹ کا سی آر معیز تھا جو اپنے دوست جنید کے ساتھ باخوشی ناموس رسالت کی ریلی میں شامل ہوا تھا.
” ہاں تو اور کیا کررہے ہو ہمارے پیارے نبی نے یہ تو نہیں فرمایا نہ کہ دوسروں کو تکلیف پہنچا کے مجھے خوش کرو سب کچھ برباد کر کے تمہیں کیا لگتا ہے تم انکی محبت پا لو گے؟” علیحا اک پہاڑ کی طرح معیز کے سامنے کھڑی بول رہی تھی.
“تو تم کیا چاہتی ہو خاموش رہے اور کوئ کچھ بھی آکر بول دے”معیز اس پر چیخا تھا
“نہیں ہم یہ حق بھی نہیں دے گے کہ کوئ بولے ہم اپنے پیارے نبی کو فولو کرے گے انکے حسن اخلاق کو فولو کرے گے جیسے انہوں نے بات کرکے حسن اخلاق سے دنیا کو امپریس کیا کیا ہم نہیں کرسکتے؟”
علیحا اپنی جگہ ٹھیک تھی معیز کچھ پل کے لیے سوچنے پر مجبور ہوا تھا.
ہم اپنے نبی صلی علیہ والہ وسلم کے آخری نبی ہونے پر ایمان رکھتے ہے اگر کوئ گستاخی کرے تو اپنی جان کی پرواہ نہیں کرتے .مگر جب ہم انکی عزت اور اانکی شان پر کوئ گستاخی برداشت نہیں کرسکتے تو کیا ہم یہ برداشت کرسکتے ہے کہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کو نقصان پہنچاۓ. جب ہمارے نبی نے کافروں سے بھی حسن سلوک کیا تو ہم پہ واجب نہیں ہے کہ اپنے حسن سلوک سے اپنے نبی کی شان سے انکے واقعات سنا کر لوگوں کو اسلام کی طرف لاۓ.
معیز علیحا کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا. جہاں اطمینان تھا.
براؤن آنکھوں میں آنے والا پانی معیز کو روک گیا تھا. جو وہ کررہا تھا وہ رکنے پر مجبور ہوگیا تھا.
“ٹھیک کہہ رہی ہو یہ سب روکنا ہوگا”معیز اسکے پاس سے گزرتا آگے بڑھنے لگا تھا کہ کسی نے ہوا میں بڑے بڑے پتھر اچھالے تھے جو معیز اور علیحا کو آکے لگے تھے. علیحا کے سر پر اک بڑا پتھر لگا تھا. وہ سنبھل نہ پائ تھی.جبکہ معیز اپنے آپکو بچاتا وہاں سے تیزی سے نکلا تھا. جبکہ علیحا وہی زمین بوس ہوچکی تھی.
❤🌙❤🌙❤🌙❤🌙❤🌙❤🌙

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *