عشق پنجابی ـ10

عشق پنجابی
از قلم :مرافع منظور
قسط نمبر :10
“دعا یہ کیا کررہے ہیں “اسنے دربار پے پہنچ کے لوگوں کو سجدہ ریز ہوتے دیکھا توبول اٹھی “کچھ نہیں سلام کر رہے ہیں “دعا نے عام سا جواب دیا “ہاں پر ہم بھی تو سلام کر رہ ہیں نا سلام کرنا ایسے تو نہیں ہوتا “اسنے بحث جاری رکھی “یاں ایسے ہی کرتے ہیں “دعا اب کیا سجھاتی اسے “پر یہ تو غلط ہے ہاں یہ بزرگ اچھے ہیں انہیں اللہ نے معجزوں سے نوازا اور ہم آتے ہیں انکی عقیدت کے لیے اسکا مطلب یہ تو نہیں کہ ہم سجدہ ریز ہو جائیں “سب اسکی طرف متوجہ ہوئے تھے “ہاں پر اب ہم یہاں ہم ہر ایک کو بتا تو نہں نا سکتے کچھ ان پڑھ لوگ ہیں جو نہیں جانتے “سبحان نے اسک طویل بحث کا جواب دیا تھا “کیوں نہیں بتا سکتے بتا سکتے ہیں “اسکے دماغ میں فورآ کچھ کلک ہوا “نو پلیز شفے آل رڈی میں بہت اکتا گیا ہو اس سب سے اب مزید نہیں “واصی کو جیسے بہن کی سوچ کا اندازہ ہو چکا تھا “واصی چپ چاپ میرے ساتھ چلو تم اللہ کے لیے دین کے لیے اتنا نہیں کر سکتے جبکہ اللہ نے تمہیں اتنی نعمتوں سے نوازاہے “ایک بات اور واصی وہی پگھل جاتاتھا اچھچلو “وہ بہن بھائی چل پڑے تھے”ایک منٹ ہم ذی روح بلکہ تین تین ذی روح یہاں کھڑے آپکو نظر نہیں آرہے “سبحان کو وہ دونوں بہن بھائی انتہائی عجیب لگے “تو تم لوگ بھی آؤ اب اٹھا کے لے کے جانا میرے بس کی بات نہں “واصی نے بے تکا جواب دیا تھا “ہاں پر تم لوگ کرنے کیا جارہے ہو “دعاکو اچنبا ہوا “ہو لینے دو پتہ چل جائے گا ” وہ سب اب شفے کے پیچھے تھے وہ اب اونچی لگی سرکس کے دروازے کے سامنے اونچے بیٹھے آدمی کو اشارے کے ذریعہ نیچے بلا رہی تھی “یہ لڑکی خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ پاگل بھی ہے “سبحان کو وہ بہت عجیب لگی اور ڈھکی چپھی اس پودے کی طرح کہ جسے جب اپنا شکار کرنا ہو منہ کھولتا اور دوبارہ اپنی اسی شکلمیں واپس چلا جاتا کہ کسی کو گماں تک نہ ہو کہ یہ کبھی کھلا بھی تھا “جی باجی “وہ آدمی اب نیچے آچکا تھا اسکی اپنی آنکھیں شفے کو دیکھ کے پھیل گئی تھی کیونکہ وہ اس سے بھی لمبی تھی “باجی آپ اگر ہماری سرکس میں کام کریں نہ تو ماں قسم لاکھوں کمائے “اے شفے کو اپنے ساتھ ملانا اچھا اور کام کے لیے اچھا لگا “وہ تومیں بعد میں دیکھتی آئیڈیا اچھا ہے تمہارا فری کی دنیا بھی گھوم لوں گی”دعا,سبحان اور بھولے کا تو منہ کھل گیاتھا جبکہ واصی اسی حالت میں تھا اسے بہن کے ارادوں کا اچھے سے پتہ تھا “

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *