Psyco love novel -5

سائیکو لو

قسط پانچ

از قلم انیس علی

میری آنکھ کھلی تو میرے سر میں شدید درد تھا میں نے اپنی آنکھوں کو روشنی میں ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کی

اچانک مجھے محسوس ہوا کہ کوئی میرے بالوں کو نرمی سے چھو رہا ہے۔ میں نے گردن گھما کر دیکھا تو نظر دو سیاہ آنکھوں سے جا ملیں وہ مجھے پریشانی سے گھور رہا تھا میرے متوجہ ہوتے ہی وہ ہلکا سا مسکرایا وہ نرمی سے میرے بالوں میں انگلیاں چلا رہا تھا روزبڈ کیسی ہو اب ؟” اس نے نرمی سے پوچھا تبھی اچانک کل کے خوفناک واقعات میرے ذہن میں جگمگا اٹھے اور میں خوف سے چیخ اٹھی۔ میں نے جھٹکا دیا اور زاویار کو فرش پر دھکیل دیا۔

میں بستر سے اٹھ کر فورا دروازے کی طرف بڑھی لیکن زیادہ آگے نہیں جاسکی تھی کیونکہ میرے ارد گرد کی دنیا گھومنے لگی تھی۔ میں نے آنکھیں بند کیں اور سر پکڑ لیا لیکن اس سے پہلے کہ میں کچھ سمجھتی میں اندھیرے میں ڈوبتی چلی گئی

⚫⚫⚫⚫⚫⚫
اسکی آنکھ کھلی تو میں اسکے سرہانے بیٹھا تھا۔میں اسکی جانب جھک گیا اس نے مجھے دیکھتے ہی اچانک سے چیخنا شروع کر دیاایکدم اس نے مجھے دھکا دیا اور دروازے کی طرف بھاگی لیکن اچانک ہی وہ اپنی جگہ پر رک گئی اور اپنا سر دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا۔ میرا دل رک گیا۔

“روز!!!” وہ فرش پر گرنے والی تھی لیکن میں جلدی سے اس کی طرف بھاگا اور اسے اپنی بانہوں میں بھرلیا۔ اس کی آنکھیں بند تھیں۔ وہ بیہوش ہو چکی تھی۔ میں نے اسے گود میں اٹھایا اور آہستہ سے اسے بستر پر لٹا دیا ۔ میں نے جلدی سے اپنے فیملی ڈاکٹر کو فون کیا۔ جین میرے بھائی کی طرح تھا

“روزی کو کیا ہوا ہے؟” ، میں نے جین سے پوچھا۔ اس نے جواب نہیں دیا غصے سے مجھے گھورتا رہا

“اس کے دونوں گال بری طرح سوج چکے ہیں اس کے ہونٹوں پر گہرے کٹ ہیں اور اس کی دونوں کلائیاں نیلی ہو چکی ہیں ” جین میری طرف بڑھا “مجھے لگتا تھا کہ تم اس سے پیار کرتے ہو؟” ، میں اس کے سوال پر حیران رہ گیا۔ “تم ایسےکیسے کہہ سکتے ہو؟ مجھے اس سے پیار ہے وہ میری زندگی ہے۔ میں اس سے بہت پیار کرتا ہوں” ، میں نے سختی سے جواب دیا۔

“یہ پیار ہے اسے تم پیار کہتے ہو حد ہے” وہ غصے سے مجھے دیکھتا باہر نکل گیا تھا اور میں اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا میں اس سے بہت پیار کرتا تھا میں اسے خود سے دور جانے کی اجازت نہیں دے سکتا میں اس کے بغیر مر جاؤں گا میں یہ سب نہیں کرنا چاہتا تھا اور اب پچھتاوا منڈلانے لگا تھا

⚫⚫⚫⚫⚫⚫

زاویار روزی کا ہاتھ تھامے گہری نیند میں تھا جب اچانک اسے اپنے پاس ہلچل محسوس ہوئی اس نے آنکھیں کھولیں اور روزی کو اٹھتے دیکھ کر خود بھی فورا اٹھ بیٹھا ساتھ ہی اس کے ہاتھ مضبوطی سے تھام لیے۔ “روز ،اب کیسی طبعیت ہے؟” ، وہ آہستہ سے بولا ، اس کی آنکھیں خوشی سے چمک رہی تھیں۔

لیکن روز کی آنکھوں میں خوف صاف واضح تھا جسے بھانپتے ہی زاویار کو تکلیف ہوئی تھی اس نے بے خود ہوکر اس کے گالوں کو سہلانے کی کوشش کی لیکن روزی نے اپنا رخ موڑ لیا وہ رخ موڑے سسک رہی تھی

“روز-” وہ جیسے ہی اسکے مزید قریب ہواوہ تڑپ کر پیچھے ہٹی لیکن زاویار نے فورا اسے پکڑ کر گلے سے لگا لیا۔ وہ چیخنے لگی اور زور زور سے رونے لگی لیکن زاویار نے اسے نہیں چھوڑا وہ بہت کمزور اور تھک چکی تھی۔ رو رو کر تھوڑی دیر کے بعد وہ بالآخر پرسکون ہوگئی تھی ۔ زاویار نے اسے آہستہ سے الگ گیا اور اس کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھیں لال اور سرخ ہو چکی تھیں۔ اس نے بے حد نرمی سے اپنے انگوٹھے کی مدد سے اس کے آنسو صاف کیے۔ وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا ویران اجڑی حالت دل کو کاٹ رہی تھی

زاویار آہستہ سے جھکا اور اسکی تھوڑی کو چوم لیا “مجھے معاف کردو روز آئم سوری ۔ مجھے تمہارے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا” وہ نم لہجے میں کہہ رہا تھا روزی نے نظر اٹھا کر اسکی جانب دیکھا اور اسکے ہاتھ جھٹکتی بستر پر لیٹ گئی اسکی آنکھیں بند تھیں اور کچھ ہی دیر میں وہ گہری نیند میں جاچکی تھی ۔زاویار پچھتاوے میں گھرنے لگا وہ اٹھا اور خاموشی سے کمرے سے نکل گیا۔

اس واقعے کو دو دن ہو چکے ہیں۔ روز نے اس دوران ایک لفظ بھی نہیں کہا تھا وہ کھوئی کھوئی سی تھی رنگ بے حد پیلا ہورہا تھا جین بلاناغہ اسکے چیک اپ کے لیے آتا تھا ہوئی لگتی تھی اور جذباتی طور پر خلا میں گھورتی رہتی تھی۔ وہ بہت کمزور اور پیلا ہو رہا تھا۔ جیمز اس کا معائنہ کرنے آتا تھا۔ اس نے زاویار کو تسلی دی کہ وہ عارضی صدمے میں ہے لیکن پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں ہے اس سب کے باوجود زاویار بے چین ہو رہا تھا۔ وہ اس دوران ہر وقت اسکے ساتھ رہا تھا گھر سے باہر نکلنا بھی ترک کردیا تھا وہ اس سے ہر ممکن طرح بات کرنے کی کوشش کرتا رہا تھا لیکن کوئی جواب نہ مل سکا تھا

زاویار کھانے کی ٹرے لے کر کمرے میں داخل ہوا۔ اس نے روزی کی طرف دیکھا وہکھڑکی کے ساتھ والے صوفے پر بیٹھی تھی اس کے دل میں کسک اٹھی اس کی آنکھیں خالی تھیں اورچہرہ ویران زاویار نے آہستہ سے ٹرے میز پر رکھی اور اس کی طرف آگیا

اس نے نرمی سے اس کے بالوں کو سہلاتے اپنی موجودگی کا احساس دلایا لیکن وہ یونہی بیٹھی رہی زاویار ہاتھ تھام کر اسکے قریب آ بیٹھا “روز “وہ آہستہ سے بولا لیکن دوسری جانب سے کوئی ردعمل نہیں آیا اس کا دل ندامت سے بھاری ہو گیا۔ زاویار نے نرمی سے اس کا ہاتھ دبایا “مجھے بہت افسوس ہے میرے روزب ، میں جانتا ہوں کہ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ میں جانتا ہوں کہ میں ایک مونسٹر ہوں-لیکن یہ صرف اس لیے ہے کہ میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ میں نے تمہیں برسوں اندھیرے میں رکھا اور اپنی اصلیت چھپائی لیکن صرف اس لیے کہ میں ڈر گیا تھا … ڈرتا تھا کہ تم مجھے چھوڑ دو گی۔ تم یہ جان کر خوفزدہ ہو جاؤ گی کہ میں وہ زاویار نہیں ہوں جیسا نظر آتا ہوں بلکہ ایک خطرناک مافیا کا مالک ہے انڈر ورلڈ کا طاقتور اور ظالمانہ گروہ کا کنگ ہوں تم لازما مجھ سے نفرت کرتیں ” وہ پرنم لہجے میں کہتا جارہا تھا روزی نے اب بھی اس کا جواب نہیں دیا۔

“تم جانتی ہو روز ، میرا ۔۔تمہارے علاوہ اس دنیا میں کوئی نہیں ہے۔ میرے ڈیڈ نےیہ سب میرے سپرد کیا تھا اور پھر ، کچھ دن بعد ہی انکےحریف نے انہیں قتل کردیا ” روزی کو جھٹکا لگا تھا اس نے پہلی بار گردن موڑ کر زاویار کودیکھا “ہاں میں نے تم سے ان کی موت کے بارے میں بھی جھوٹ بولا تھا۔ یہ کوئی حادثہ نہیں تھا” ، اس نے اپنا سر جھکاتے اعتراف کیا تھا روزلین نے اسے غصے سے گھورا۔کتنے جھوٹ مزید بولے تھے اس نے؟ ابھی مزید کتنے باقی تھے ؟ روزی کو اپنا آپ احمق محسوس ہوا۔ اس نے فورا اپنا ہاتھ اسکی گرفت سے کھینچ لیا

“پلیز مجھے معاف کر دو روز میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں میں نے تمہارے دوست نک کو ماردیا مجھے اسکا افسوس ہے میں یہ نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن جب میں نے تمہیں اس کے ساتھ بھاگتے دیکھا تو میں خود پر کنٹرول نہیں کر سکا۔ میں خوفزدہ ہو گیالیکن مجھے پھر بھی ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ “، زاویار بری طرح سسک رہا تھا اسے یوں روتا دیکھنا روز کے لیے بے حد حیران کن تھا یہ زاویار اس وحشی زاویار سے کتنا مختلف تھا

⚫⚫⚫⚫⚫⚫

اسے یوں بچوں کی طرح روتے ہوئے دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آگئے تھے میں اس سے بہت غصے تھی جو بھی اس نے کہیا تھا لیکن اس کایہ رونا دیکھ کرمیرے دل کو کچھ ہوا تھا یہ وہی تھا جس سے مجھے پیار تھا۔ میں پھر سے پھسل گئی تھی میں بھول گئ تھی کہ وہ وہی بے رحم مافیا ہے جس نے میرے دوست کو قتل کیا تھا اور مجھے اپنی درندگی کا نشانہ بنایا تھا میں نے اسکا چہرہ ہاتھوں میں تھام لیا اور اسکے آنسو پونچھتے ہوئے کہا “زاویار ، میں بھی تم سے بہت پیار کرتی ہوں۔ لیکن مجھ سے وعدہ کرو کہ تم کبھی کسی کو تکلیف نہیں دو گے اور نہ ہی کسی کو قتل کرو گے۔ میں تمہیں صرف ایک شرط پر معاف کروں گی” ، میں نے سختی سے کہا۔ وہ بے چین ہوگیا

، “کیا؟ میں سب کچھ کروں گا۔”

“تم مافیا کے لیے کام کرنا چھوڑ دو۔”میں نے شرط رکھ دی تھی زاویار نے چونک کر مجھے دیکھا “روز ، میں یہ نہیں کرسکتا” ، اس نے سرگوشی کی تھی اس کے جواب نے مجھے مایوس کیا تھا جسے محسوس کرتے زاویر نے یرے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیے

“لیکن میں وعدہ کرتا ہوں کہ اب سے کوئی غیر قانونی کام نہیں کروں گا۔ میں صرف معاشرے کی بہتری کے لیے کام کروں گا۔ میں اپنے کاروبار کے ذریعے کوئی غلط کام نہیں کروں گا آئی پرامس” اس کی باتیں سن کر میری آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں۔ میں نے فورا اسے گلے لگا لیا “شکریہ زاویر۔ میں جانتی تھی کہ آپ بدل سکتے ہیں ” ، میں مسکرایئی تھی بے حد خوش دلی سے ۔”پہلے مجھ سے وعدہ کرو کہ تم مجھے معاف کر دو گی” ، وہ اک بچے کی مانند کہہ رہا تھا میں ہنس دی “ٹھیک ہے ” میرا دل اب اسکی طرف سے صاف تھا وہ مسکرایا

اس نے ریلیکس ہوتے مجھے دوائیاں دیں اپنے ہاتھ سے کھانا کھلایا بستر پر لیٹنے میں مدد کی۔لائٹ آف کرتے وہ میرے برابر میں آگیا تھا اس کا ایک ہاتھ میری کمر کے گرد لپٹا ہوا تھا اور دوسرا ہاتھ میرے بالوں کو نرمی سے سہلا رہا تھا۔۔ کچھ دیر بعد میں گہری نیند میں چلی گئی تھی

⚫⚫⚫⚫⚫⚫
زاویار نے روزی کی جانب دیکھا جو اس کی بانہوں میں سورہی تھی ۔ اس نے مسکرا کر اس کا داہنا گال سہلایا اگلے ہی لمحے اس کی آنکھیں گہری سیاہ ہو گئیں۔ وہ مسکراتے ہوئے کہہ رہا تھا … “بلآخر میں نے تمہیں دوبارہ حاصل کرلیا سویٹ ہارٹ ”

جاری ہے

You may also like...

1 Response

  1. Nazi butt says:

    Boht Kamal ka lekhti ho ap

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *