Psyco love novel-4

ناول سائیکو لو

قسط چار

از قلم انیس علی

یہ ڈھونڈ رہی ہو؟ “، زاویار نے سکون سےپوچھا تھا، اس کا لہجہ عجیب تھا۔ میں خوفزدہ ہوتی گھبرا گئی

‘نہیں روزی ہمت مت ہارنا” میرے اندر سے آواز آئی جس نے میری حوصلہ افزائی کی۔ میں نے ایک گہری سانس لی اور مڑ کر اس کی آنکھوں میں دیکھا “تمہارے پاس میرا فون کیسے آیا؟” میرے سختی سے پوچھنے پر زاویار نے ایک ابرو اٹھاکر مجھے گھورا میں اس سے خوفزدہ نہیں ہوں گی چاہے کچھ بھی ہو جائے میں اپنی پوری زندگی ایک قاتل کے ساتھ نہیں گزار سکتی۔ اس نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا تبھی میں نے فورا اپنا فون اس کے ہاتھ سے چھینیا اور تیزی سے کمرے سے باہر بھاگ گئی

میں واپس اپنے مشترکہ بیڈروم میں چلی آئی زاویار خاموشی سے میرے پیچھے آیا تھا میں نے بغیر کوئی تاثر دیے الماری سے اپنا نائٹ گاؤن نکالا فون کو اپنے ہاتھ میں مضبوطی سے پکڑتے ہوئے میں واش روم میں گھس گئی زاویار اس سب کے دوران مجھے عقابی نگاہوں سے دیکھتا رہا۔ ’’یہ اتنا پرسکون کیوں ہے؟ ‘‘ میں نے سر جھٹک کر اسے دیکھا اور فورا دروازہ بند کر کے تلاک کردیا

میں نے فورا اپنے بابا کا نمبر ڈائل کیا۔بیل جارہی تھی “بابا پلیز” ، میں بے چینی سے منتظر تھی لیکن دوسری طرف سے کال نہیں اٹھائی گئ میرا سر پھٹنے کے قریب تھا مجھے فورا نیا خیال سوجھا

” مجھے مارک کو فون کرنا چاہیے ”، میں نے جلدی سے نمبر ڈائل کیا۔

مارک میرا اور نومی کا دوست تھا ہم تینوں نے بچپن لندن کی گلیوں میں کھیلتے گزارا تھا وہ اب انٹیلی جنس ایجنسی میں کام کررہا تھا

“ہیلو” “مارک ، میں ہوں روزی” کال ملتے ہی میں جلدی سے بولی

“اوہ میرے خدا روزا! تم کیسی ہو اور کہاں ہو-” مارک پریشان لہجے میں بولا لیکن میں نے فورا اسکی بات کاٹ دی۔

“مارک ، میری مدد کرو۔ زاویار نے نومی کو مار ڈالا ہے اس نے زبردستی مجھ سے شادی کری میں بہت خوفزدہ ہوں ، پلیز” میں اپنے منہ کے آگے اپنی ہتھیلی رکھے بول رہی تھی تاکہ زاویار سن نہ سکے۔

“تم رو نا بند کرو روز اورمیری بات سنو۔ میرے پاس ایک پلین ہے۔ کل تم زاویار کو اپنے ساتھ لے کر سٹار بکس آجانا۔ میں اور میری پوری ٹیم وہاں ہونگی۔ بس کسی نہ کسی طرح بہانہ بنا لینا اور چند منٹ کے لیے اس کی نگاہوں سے دور ہو جانا۔ میں فورا تمہیں وہاں سے لے جاؤں گا اور پھر تمہیں بحفاظت ائیرپورٹ لے جاؤں گا۔ پھر تم وہاں سے فورا پیرس روانہ ہوجانا یہاں سے دور چلی جاما جہاں وہ تم تک پہنچ نہ سکے ۔ سمجھ گئی ؟ “، اس نے مجھے اپنا پورا منصوبہ سمجھایا۔

“ٹھیک ہے لیکن زاویار کا کیا ہوگا؟” ، میں نے اس سے لرزتی ہوئی آواز میں پوچھا۔

“اس کی فکر مت کرو۔ جیسا میں کہتا ہوں وہی کرو “، اس نے مجھے یقین دلایا۔ٹھیک ہے ، بائے مارک ”

“بائے ڈئیر۔ اپنا خیال رکھنا “وہ نرمی سے بولا میں نے کال کاٹی اور سکون کا سانس لیا۔ آخر میں اس جہنم کو چھوڑنے والی تھی میرے ہونٹوں پر ایک آسودہ مسکراہٹ بکھر گئی۔ میں اپنے آنسو پونچھ کر پلٹی اور ساکت ہوگئ

فون میرے ہاتھ سے گر چکا تھا مجھے بری طرح پسینہ آنے لگا اور میرا دل خوف سے لرزنے لگا۔ میرے سامنے وہ شیطان موجود تھا زاویار دروازے کے فریم کے ساتھ لگ کر کھڑا تھا بازو سینے پر بندھے تھے وہ مجھے اپنی سیاہ آنکھوں سے گھور رہا تھا۔ میرا گلا خشک ہو گیا۔ میں نے کچھ کہنے کے لیے لب کھولے لیکن کچھ کہہ نہیں پائی

“چینج کرلیا؟” ، اس نے عجیب لہجےمیں پوچھا تھا۔ میں نے حیرت اور الجھن سے اس کی طرف دیکھا۔ “تم ۔۔۔ تم اندر کیسے آئے؟” ، میں نے بمشکل پوچھا لفظ ٹوٹ پھوٹ کر نکلے تھے ۔ زاویر نے جواب دینے کی بجائے فرش پر گرے موبائل کو دیکھا اور پھر اسکی نگاہیں مجھ پر آکر جم گئیں وہ چلتا ہوا میرے قریب آرہا تھا میں گھبرا گئی میں نے ادھر ادھردیکھا اور شاور جیل کی شیشی اٹھا کی ۔ میں نے اسے پوری طاقت سے باتھ ٹب پر دے مارا۔وہ ٹکڑوں میں بکھر گئی میں نے جھک کر فورا شیشے کا ایک ٹکڑا پکڑ لیا

“میرے قریب مت آنا “، میں نے شیشے کی نوک اسکی طرف کرتے اسے دھمکی دی تھی۔ میرا دل بے ترتیب دھڑک رہاتھا۔ زاویار وہیں رک گیا لیکن اگلے ہی لمحے میری چیخ بے ساختی تھی اس نے ریوالور نکال کر میرے سر کے بلکل قریب دیوار کا نشانہ لیا تھا

میں نے خوف سے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ لیا میرے ہاتھ سے ٹکڑا چھوٹکر زمین پر گر گیا اگلے ہی لمحے میں اسکی گرفت میں تھی وہ مجھے دیوار سے لگا چکا تھا وہ مجھے سختی سے جکڑے ہوئے تھا میں درد سے چیخنےلگی میں نے آنکھیں کھولیں تو وہ بلکل میرے سامنے تھا اور مجھے غصے سے گھور رہا تھامیں اس کی گرفت میں کانپنے لگی۔ میرے ہاتھوں پر اس کی گرفت اتنی سخت تھی کہ میرے ہاتھ میں درد ہونے لگا۔ “زاویار سٹاپ۔۔۔۔۔ اٹ ہرٹز”

میں اس کی پکڑ میں مچل رہی تھی “۔بکواس بند کرو!!” اس نے گرجدار آواز میں کہا

میرا دل ایکدم رک گیا۔ میری آنکھیں پانی سے بھرگئیں اور آنسو میرے گال بھگونے لگے۔

“تم کس سے بات کر رہی تھیں؟” وہ مجھ سے پوچھ رہا تھا اور میں ایک بار پھر مشتعل ہوگئء یہ وہی تھا جس نے پہلے مجھ سے جھوٹ بولا ، میرا اعتماد توڑا ، اپنی شناخت چھپائی اور یہاں تک کہ میرے بہترین دوست کو میری آنکھوں کے سامنے بے رحمی سے مار ڈالا۔ پھر میرے والدین کے نام پر مجھے بلیک میل کرکے میری مرضی کے خلاف مجھ سے شادی کی اور اب وہ مجھ سے معافی مانگنے کی بجائے میری جاسوسی کررہا تھا مجھ پر چلا رہا تھا

میں بے حد غصے میں تھی میں نے اپنی ساری ہمت جمع کرکے اسکے چہرے پر تھوک دیا۔

“مجھ پر چلاؤ مت ۔۔۔ میں کسی سے بات نہیں کر رہی تھی ”

“جھوٹ نہیں بولو روز !!” ،وہ ضبط کرتا بڑبڑایا اور میری کلائیوں پر اپنی گرفت مضبوط کرلی۔ میں نے خود کو آزاد کرنے کے لیے اس کی پکڑ میں پھرسے مچلنا شروع کر دیا تھا۔ ’’ تم ایک سائیکو ہو ‘‘ ، میں ایکدم چیخی تھی تبھی اسکا ہاتھ مجھ پر اٹھا اور۔ اچانک میرا چہرہ دوسری طرف جالگا

اس نے مجھے تھپڑ مارا ؟؟؟ یہ ناقابل یقین تھا

میں نے جھٹکے سے زاویار کی طرف دیکھا۔ اس کا سینہ اوپر نیچے ہو رہا تھا اور اس کی سانس بھاری ہو رہی تھی۔

میری نم آنکھوں کو دیکھتے ہی اس کا لہجہ اورانداز فوری طور پر نرم ہوگیا۔ اس نے اپنی گرفت ڈھیلی کردی تھی اور بےحد پرسکون لہجے میں پوچھ رہا تھا

“میرے سوال کا جواب دو. تم کس سے بات کر رہی تھی ” میں نے جواب نہیں دیا بس خاموشی سے اسے گھورتی رہی

یہ پہلا موقع تھا جب اس نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا تھا۔ وہ ہمیشہ میرے ساتھ اپنی شہزادی جیسا سلوک کرتا تھا۔ اس نے کبھی مجھ سے اونچی آواز میں بات تک نہہں کی تھی اور نہ ہی مجھ پر غصہ کیا۔ وہ مجھ سے بہت پیار کرتا تھا لیکن آج اس کے عمل نے ثابت کر دیا کہ اس کی ساری محبت اور نرمی محض دکھاوا تھی

زاویار نے میرے گالوں کو سہلانے کی کوشش کی لیکن میں نے اس کے ہاتھ جھٹک دئیے اور مقع کا فائدہ اٹھاتی وہاں سے بھاگ گئی

وہ میرے پیچھے آیا تھا میں کمرے سے باہر نکلنے ہی والی تھی کہ اس نے پھر سے مجھے پکڑ لیا۔ میں نے جدوجہد شروع کر دی۔ اس نے مجھے گھما کر دیوار سے لگادیا۔

“نہیں ۔۔۔ چھوڑو !!” ، میں بے بسی سے رودی تھی “پہلے میرے سوال کا جواب دو” ، وہ چلایا تھا “نہیں میں نہیں بتاؤں گی “، میں بھی دوبدو بولی تھی اس نے میری کلائیوں پر اپنی گرفت مزید سخت کر دی میں درد سے کراہی۔ “چھوڑو مجھے کمینے انسان ” درد برداشت کرنا میرے بس سے باہر تھا تبھی میں ایسے بولی تھی ورنہ یہ انداز میرا کبھی نہ رہا تھا زاویار سے یہ برداشت نہ ہوا اور اوراس نے ایک بار پھر مجھے تھپڑ جڑ دیا اس بار یہ پہلے سے زیادہ تکلیف دہ تھا۔

میں نے اپنے گالوں کو اپنے دونوں ہاتھوں سے تھام لیا اور بری طرح رونے لگی اس نے مجھے گردن سے پکڑ کر اپنے چہرے کے قریب کرلیا اتنا کہ ہمارے لب ایک دوسرے کے بے حد قریب تھے

“دوبارہ مجھ سے بدتمیزی کرنے کی کوشش نہ کرنا اور اب سیدھے طریقے سے میرے سوال کا جواب دو” میں اب بھی ہار ماننے کو تیار نہ تھی میں نے اسکی نرمی کا فائدہ اٹھایا اور اسے زور سے دھکا دے کر پیچھے کی جانب دھکیل دیا اسی لمحے میں باہر کی جانب دوڑی اک ادھ کھلے کمرے میں پہنچ کر اسے لاک کرنے کی کوشش کی جب دوسری جانب سے زوردار دھکا دیا گیا دروازہ پورا کھل گیا اور میں کمر کے بل زمین پر آگری

وہ دروازہ بند کر کے لاک کر رہا تھا۔ میں گھبرا گئی اور اٹھ کر باتھ روم کی طرف دوڑی کیونکہ ابھی کے لیے یہ واحد محفوظ جگہ تھی لیکن اس نے فورا مجھے کمر سے پکڑ کر بستر پر پھینک دیا۔

میں نے ہار اب بی نہیں مانی تھی تیزی سے اٹھنے لگی لیکن ناکام ہوگئی وہ اب دونوں ہاتھ بیڈ پر میرے اردگرد جمائے مجھ پر جھک آیا تھا

اس نے ایک ہاتھ سے میری کلائیاں اور دوسرے ہاتھ سے میرا چہرہ مضبوطی سے پکڑ لیا۔ مہرے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے لیکن اسے بلکل پرواہ نہیں تھی

“تمہیں آسان زبان سمجھ نہیں آتی؟ ”
بولنے کے ساتھ ہی اچانکوہ میرے ہونٹوں پر جھک آیا وہ بے رحمی سے چوم رہا تھا کچھ دیر بعد وہ ہٹا تو میں نے لمبی سانس لی

“۔ تم کس سے بات کر رہی تھیں-” وہ اپنا جملہ مکمل نہیں کر سکا تھا کیونکہ میں نے اس کے چہرے پر دوبارہ سے تھوک دیا۔ اس نے شدید غصے سے آنکھیں بند کر لیں۔ میں نے اسکے نیچے سے نکلنے کی کوشش کی تو اس نے ایک بار پھر مجھے زور سے تھپڑ مارا۔ میرا چہرہ دوسری جانب طرف ہو گیا۔ میرے ہونٹوں سے خون بہنے لگا۔ میرے بال میرے پورے چہرے پر بکھر گئے۔

چند لمحوں کے بعد اس نے میرے چہرے پر بکھرے بالوں کو ہٹایا اس نے ایک ہاتھ سے میری کلائی کو جکڑ لیا اور دوسرے ہاتھ سے میری ٹھوڑی کو مضبوطی سے تھام کر میرا چہرہ اپنے مقابل کرلیا ۔

” تم حد پار کررہی ہو میں آخری بار پوچھ رہا ہوں کس سے بات کررہی تھیں ؟” وہ پوچھ رہا تھا اور میں کسی صورت بتانے کو تیار نہیں تھی میں اچھی طرح جانتی تھی کہ اگر میں نے اسے سچ کہا تو وہ مارک کو ضرور مار ڈالے گا۔ میں پہلے ہی اپنے بہترین دوست کو کھو چکی تھی اب میں کسی دوسرے کو کھونا نہیں چاہتی تھی

وہ مجھسے اگلوانے کے لیے مجھے تکلیف دے رہا تھا میں نے درد سے اپنی آنکھیں بند کر لیں آنسو میرے چہرے پر اب بھی بہہ رہے تھے۔ اچانک اس نے میری کلائیوں کو آزاد کردیا میں نے آنکھیں کھولیں تو اسے خود کی جانبب متوجہ پایا وہ بےحد نرمی اور افسوس سے مجھے دیکھ رہا تھا ۔

” اس سے اتنا پیار کرتی ہو؟” وہ کہہ رہا تھا اور میں الجھ گئی۔اس نے افسردگی سے ہنستے ہوئے اپنے انگوٹھے سے میرے آنسو پونچھے۔

“تمہیں کیا لگتا ہے کہ مارک کے ساتھ تمہاری گفتگو کا مجھے علم نہیں ہوگا ؟؟” وہ بول رہا تھا اور میں دھک سے رہ گئی صدمے سے میری آنکھیں پھیل گئیں۔ وہ شرارت سے مسکرایا۔ اور جھک کر نرمی سے میرے ہونٹوں ک چوم لیا

“تم ۔۔۔ کیسے؟” ، مجھے اس پر یقین نہیں تھا

زاویر نے میرے گالوں کو اپنے انگوٹھے سے سہلانا شروع کردیا “میری جان یہ میرا گھر ہے۔ میں نے مارک کے ساتھ تمہاری پوری گفتگو پہلے ہی سن لی تھی لیکن میں بس تمہاری وفاداری کو چیک کررہا تھا”۔ وہ کہہ رہا تھا مجھے اسکی حرکت پر شدید تاؤ آیا تبھی میں خود پر کنٹرول نہیں رکھ سکی تھی

“آئی ہیٹ یو نفرت کرتی ہوں میں تم سے سنا تم نے ” میں چیخنے لگی تھی اور پھر اسکا کنٹرول کھو گیا تھا وہ وحشی ہوتا مجھ پر جھپٹ پڑا اور بے دریغ یکے بعد دیگرے کئی تھپڑ دے مارے میں زیادہ دیر یہ وحشت برداشت نہیں کرسکی تھی اور بے ہوش ہوگئی تھی

⚫⚫⚫⚫⚫⚫

میں جانتا تھا کہ روز کسی چیز کی منصوبہ بندی کر رہی ہے اسی لیے میں خاموشی سے باتھ روم میں داخل ہوگیا مجھے اپنے گھر کے ہر کونے تک رسائی حاصل تھی میں نے مارک کے ساتھ اس کی پوری گفتگو سنی جس نے مجھے غصہ دلادیا وہ مجھے چھوڑنے کے لیے کتنی بے تاب تھی میں حیران تھا

اس کے بعد جب اس نے مجھے کانچ سے دھمکا کر دور رہنے کا اشارہ کیا تو میں اپنا ضبط کھو بیٹھا۔ میں نے دیوار پر اس کے سر کے قریب گولی چلائی تھی

وہ میری گرفت میں مزاحمت کررہی تھی لڑرہی تھی جس کا مجھے کوئی اعتراض نہیں تھا کیونکہ میں اس کا مکمل طور پر ذمہ دار تھا۔ وہ مجھ پر بار بار لعنت بھیج رہی تھی جو آج سے پہلے کبھی کسی نے جرت نہیں کی تھی۔ لیکن جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ تکلیف پہنچائی وہ یہ تھی کہ وہ یہ سب صرف اس مارک کو مجھ سے بچانے کے لیے کر رہی تھی۔ میں یہ بات برداشت نہیں کر سکتا تھا

میں اس سے پوچھتا رہا بار بار ۔۔۔لیکن وہ انکار کرتی رہی لیکن جب اس نے کہا کہ وہ مجھ سے نفرت کرتی ہے ، اس بات نے مجھے جانور بنادیا میں اس کی نفرت برداشت نہیں کر سکتا تھا میں اس کے ساتھ ایسا کبھی نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن اسے سبق سیکھانے کی ضرورت تھی۔ میں اب اپنے ہوش میں نہیں تھا۔ میں اس کا کسی اور مرد کے ساتھ بات کرنا برداشت نہیں کر سکتا کبھی بھی نہیں ۔۔۔ صرف اسی سوچ نے مجھے پاگل بنا دیا۔ وہ میری ہے اور صرف میری ہے۔

میں اس پر وحشت انڈیل رہا تھا لیکن وہ زیادہ دیر مزاحمت نہیں کرسکی اور بیہوش ہوگئی تب مجھے ہوش آیا۔ میں نے اس کی طرف دیکھا۔ اس کا چہرہ آنسوؤں سے خشک ہو گیا تھا ، اس کی ناک سرخ تھی ، نرم کلائیاں بری طرح زخمی ہو چکی تھیں ، اس کے نازک ہونٹوں سے خون بہہ رہا تھا اور اس کے گلابی گالوں پر سرخ انگلیوں کے نشانات تھے۔اسے بستر پر بے بسی سے لیٹا دیکھ کرمیری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ میں کبھی بھی اس کے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن میرے علاوہ دوسرے لوگوں کے لیے اس کی اس فکر کی وجہ سے میرا دماغ غصے اور حسد سے پاگل ہوگیا لیکن یہ اس کی غلطی بھی نہیں تھی۔ میں نے اس سے جھوٹ بولا۔ میں نے اسے اندھیرے میں رکھا۔ لیکن میں جانتا تھا کہ وہ مجھ سے نفرت کرے گی جیسے ہی میں اپنی اصل شناخت ظاہر کروں گاوہ یہ برداشت نہیں کرسکے گی
⚫⚫⚫⚫⚫⚫⚫

زاویار نے آہستہ آہستہ اس کے گال کو اپنے ہاتھوں سے سہلایا اور ٹوٹی پھوٹی آواز میں بولا ، “مجھے بہت افسوس ہے ۔ میں تمہیں کبھی تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا۔ میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں. میں تمہیں کبھی تکلیف نہیں دوں گا ، میں وعدہ کرتا ہوں۔ اس نے آگے جھک کر اس کے ہونٹوں کو آہستہ سے چوما۔ لیکن اچانک اس کی نظریں سیاہ ہو گئیں۔ اس نے ایک نفسیاتی مریض کی طرح روز کو گھورا اور سخت خوفناک لہجے میں بولا۔ “اور میں اس بات کو یقینی بناؤں گا کہ ہمارے درمیان کوئی نہیں آئے گا۔ نہ اب اور نہ کبھی … ”

جاری ہے

You may also like...

2 Responses

  1. Nazi butt says:

    Boht achi storie hy boht acha lekhti ho ap

  2. Hina says:

    Buht buht zbrdst novel ap buht acha likhti hain…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *