Psyco love – 8

ناول سائیکو لو
قسط آٹھ

از قلم انیس علی

وہ اس وقت ایک وحشی لگ رہا تھا “تم کسی دوسرے آدمی کو چھونے کی ہمت کیسے کرسکتی ہو؟” ، اس نے مجھے گھورتے ہوئے کہا۔ میں نے اسے جواب نہیں دیا۔

“جواب دو !!” ،وہ میرے بالوں کو جھٹک کر چلایا تھا “مجھے تم سے نفرت ہے. تم مجھ سے جھوٹ بولتے ہو!” میں دوبدو چیخی تھی اس نے میرے بالوں پر اپنی گرفت سخت کر دی میرا درد بڑھ گیا بال کھنچ گئے۔ میں چیخ پڑی تھی۔ “تم مجھ سے محبت کرتی ہونا۔ کہو کہ تم کرتی ہو !! “، وہ اس وہ پاگل لگ رہا تھااس نے دھاڑتے ہوئے کہا۔

میں نے نفرت سے اس کے چہرے پر تھپڑ دے مارا۔ اس نے ضبط سے آنکھیں بند کر لیں۔

“نہیں! تم ایک جانور ہو !! تم مجھ سے جھوٹ بولتے ہو تم بے غیرت انسان! تم نے میرے بہترین دوستوں کو قتل کیا میں نے غلط کیا جو تمہیں دوسرا موقع دیا لیکن تم کبھی نہیں بدیل سکتے۔ میں تم سے نفرت کرتی ہوں۔ تم بے رحمانہ جانور ہو ، تم جہنمی ہو” !!! میں اس کی وحشت سے تنگ آچکی تھی۔ میں نے آج اپنا ہوش کھو دیا تھا

اچانک زیویر نے اپنی آنکھیں کھولیں اور میرا سانس رک گیا۔ اس کی آنکھیں سیاہ ہو چکی تھیں اور اس کے چہرہ کا رنگ گہرا سرخ تھا اس کی گردن اور پیشانی سے رگیں پھول رہی تھیں۔پھر اس نے گہری سانسیں لیں۔

اچانک زیویر نے میرا چہرہ پکڑ لیا اورمیرے ہونٹوں پر جھک گیا میں چیخ اٹھی وہ وحشی ہوگیا تھا مجھے گسیٹ کر کمرے میں لے گیا اور بستر پر پھینک دیا۔ میں نے خوف سے اسے دیکھا۔ میں نے پیچھے کی طرف کھسکنا شروع کیا لیکن اس نے میری ٹانگوں کو پکڑ لیا اور مجھے کھینچ کر اپنے پاس کھینچ لیا۔

وہ میرے اوپر آچکا تھا اس نے میرے دونوں ہاتھوں کو اپنے ایک ہاتھ سے مضبوطی سے تھام لیا اور دوسرے ہاتھ سے اس نے میری گردن پکڑ لی۔ میرے چہرے پر آنسو جاری تھے۔ میں سسک رہی تھی۔ “تم میری ہو ، صرف میری۔ اگر تم اپنے چھوٹے سے دماغ میں یہ بات بٹھا لوگی تو یہ تمہارے لیے اچھا ہو گا یا میں زبردستی سمجھاؤں گا کہ تم کس کی ہو!!” سختی سے کہہکر پلک جھپکتے ہی اس نے کپڑے پھاڑ دئیے میں خوف سے چیخ پڑی۔زاویار نے جلدی سے اپنی ٹائی اتاری اور میرے ہاتھ اس کے ساتھ بیڈ پر باندھ دیے۔ میری آہیں بھی وہ نہیں سن رہا تھا آج بہرہ ہوگیا تھا۔

اس کے بعد اس نے اپنی شرٹ کو پھاڑا اور میرے اوپر آگیا

“نہیں !!” ، میں چیخ اٹھی لیکن اس نے میرے ہونٹ کو اپنی قید میں لیتے ہوئے مجھے خاموش کروا دیا۔ زاویار نے سختی سے مجھے چومنا شروع کردیا۔ میں بری طرح رو رہی تھی اچانک وہ ہٹ گیا وہ ایک وحشی درندے ، ایک بے رحم شیطان ، ایک بیمار سائیکو کی طرح لگ رہا تھا

وہ مکمل طور پر ایک گھناؤنے جانور میں بدل گیا تھا جو جلد ہی مجھے کھا جانے والا تھا۔ میرا گلا خشک ہو گیا۔ میرا چہرہ اب تک آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا

لیکن پھر بھی میں نے کچھ ہمت اکٹھی کی اور روتی ہوئی آواز میں بولی ، “زاویار مت کرو … میرے ساتھ ایسا مت کرو … میں تم سے بھیک مانگتی ہوں -مجھے برباد نہ کرو- آہ !! “، میں اپنا جملہ مکمل نہیں کر سکی تھی کیونکہ اس نے میری گردن کو سختی سے کاٹنا شروع کردیا تھا۔ ایک اذیت ناک چیخ میرے گلے سے نکلی

“نہیں!! پلیز “، زاویر نے میرے ہونٹ پر کاٹا۔ میں نے درد سے سرگوشی کی۔ تقریبا 10 منٹ کے جنگلی بوسے کے بعد وہ ہٹا اور میری آنسو بھری آنکھوں میں دیکھتء ہوئے گہرے لہجے میں بولا ،

“میں تمہیں برباد نہیں کروں گا روز۔ میں جانتا ہوں کہ اگر میں نے ایسا کیا تو تم مر جاو گی۔ اور میں تمہیں مارنے کے موڈ میں نہیں ہوں۔ لیکن تمہیں اچھی طرح سبق سکھانے کی ضرورت ہے تاکہ تمہیں یاد رہے تم کس کی ہو۔ اور مجھے اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ تم میرے علاوہ کسی دوسرے آدمی کی طرف کبھی نہیں دیکھو گی۔

میں نے درد سے اپنی آدھی کھلی آنکھوں سے اسے دیکھا۔ زاویار نے پھر میرے گالوں کو اپنے ہاتھ کی پشت سے سہلایا اور کہا

“اب کہو کہ تم مجھ سے محبت کرتی ہو” میں نے خوف سے اس کی طرف دیکھا اور انکار میں سر ہلا دیا۔ اس نے غصے سے میری طرف دیکھا اور میری گردن کو سختی سے دبوچ لیا”آہ !!” ، میں درد سے چیخ پڑی

“کہو!” ، اس نے چلا کر کہا “I-I L-Love Y-You” ، میں روتے ہوئے بولی۔ وہ میرے جواب سے مطمئن ہوکر مسکرادیا

“تم کس کی ہو ؟” ، وہ اپنے انگوٹھے سے میرے گالوں کو پیار کرتے ہوئے بولا۔ ’ میں نے پھر نفی میں سر ہلایا جب میں نے اسے غصے سے دیکھا۔ اس کا چہرہ سیاہ ہو گیا میں ڈر گئی “Y-y-you” ، میں بری طرح روتے ہوئے بمشکل کہہ پارہی تھی

زاویار میرے جسم پر وحشیانہ تشدد کر رہا تھا مجھے چکر آنے لگے درد بہت زیادہ تھا۔ مجھے لگا کہ میں کسی بھی سیکنڈ میں مر جاؤں گی میں نے آنکھیں بند کر لیں کیونکہ میرا سر درد سے گھوم رہا تھا۔

تبھی اچانک زاویار مجھ پر سے اٹھا اور میرے برابر لیٹ گیا۔ اس نے میرے ہاتھ کھولے۔ اور مجھے اپنے بازوؤں میں مضبوطی سے لپیٹ لیا

“میں تمہاری سزا یہاں ختم کرتا ہوں۔ اب سو جاؤ لیکن یاد رکھو کہ اس بار میں تمہیں چھوڑ رہا ہوں لیکن اگلی بار میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا “، وہ بھاری سانس لیتے ہوئے بولا۔ میری آنکھوں سے آنسو بارش کی طرح بہہ رہے تھے۔ میرا سر بری طرح درد کر رہا تھا میرا پورا جسم شدید درد سے جل رہا تھا۔

زاویار نے پھر اپنی گرفت مضبوط کرلی اور میرے سر کو آہستہ سے تھپتھپانے لگا۔ “اب سو جاؤ۔ سب کچھ ٹھیک ہے ، میں یہاں ہوں۔ سوجاؤ. Sshh. “، وہ میرے بالوں کو سہلاتے ہوئے میرے سر کو نرمی سے تھپتھپاتا رہا۔ میں جانے کب تک سسکتی رہی لیکن آخر کار اندھیرے میں ڈوب گئی ❤

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *