Psyco Love – 7

سائیکو لو

قسط سات

از قلم انیس علی

روز وی کون ہے؟ “، زاویار نے تیز آواز میں پوچھا ، اس کی آواز خطرناک تھی۔ روزی کی زبان گنگ ہوگئی اس کی آنکھوں میں دیکھنے کی ہمت بھی نہیں تھی۔ اس نے اپنی نظریں نیچے جھکالیں اور فرش پر جمادیں

اچانک اسے زاویار کی غراتی ہوئی آواز سنائی دی۔ “ایک اور گیم؟ ہمم؟ “، زاویار سکون سے بولا لیکن وہ اپنے ہر لفظ کے ساتھ اس کی کلائیوں پر اپنی گرفت مضبوط کرتا جارہا تھا

روزی نے درد سے چیختے ہوئے اس کی طرف دیکھا۔ “تم ایک بری سٹوڈنٹ ہو. کیا تم نے اپنی پچھلی غلطی سے کچھ نہیں سیکھا؟ “، وہ طنزیہ لہجے میں بولا۔

روزی کی برداشت جوابدے گئی اس نے زاویار کو اپنی پوری طاقت سے دھکیل دیا۔ جس سے وہ کچھ قدم پیچھے ہوگیا زاویار نے اسے سخت نظروں سے گھورا۔

“کرمنل ہو تم!! جھوٹے ہو !! “، وہ نفرت سے اسے دیکھتے ہوئے چیخی

زاویار کی نگاہیں اس کے زہریلے الفاظ سنتے ہی سیاہ ہو گئیں۔ وہ اس کی طرف بڑھا اور اس کے بالوں سے پکڑ لیا وہ درد سے کراہ اٹھی

“اپنی زبان پر کنٹرول رکھو !!” ، اس نے شدت سے اسکے بالوں کو کھینچتے ہوئے کہا۔روزی نے نفرت سے اس کے چہرے پر تھوک دیا

زاویار ضبط سے کراہ اٹھا۔ اس نے فورا موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے دھکیلا اور بھاگنے لگی۔ “وی ، ہیلپ !!” روزلین پورا زور لگا کر چیخ رہی تھی جب وہ باہر نکلنے کی طرف بڑھی۔ زاویار کے محافظوں نے اسے پکڑنے کی کوشش کی لیکن اچانک کسی نے ان سب کو گولی مار دی۔ وہ خوف سے چیخ اٹھی۔

“روزی !!” روزی نے داخلی دروازے کی طرف دیکھا اور دیکھا کہ وی وہاں تمام گارڈز پر فائرنگ کررہا ہے۔ وہ اس کی طرف بھاگی۔ اس نے اس کا ہاتھ پکڑا اور پھر وہ دونوں عمارت سے باہر نکلنے کو لپکے۔ لیکن اچانک وی کے پیٹ میں پیچھے سے گولی ماری گئی ۔ وہ درد سے کراہا اور زمین پر گر گیا۔

روزی خوف سے چیخ اٹھی۔

“وی !! ” اس نے اسے تھام لیا اور خون کو روکنے کے لیے اس کے زخم کو اپنی ہتھیلی سے ڈھاننپنے کی کوشش کرنے لگی

“رن روزا!” ، وی بڑبڑایاوہ آدھی کھلی پلکوں سے اسے دیکھ رہا تھا

روز نے نفی میں سر ہلایا ، “نہیں ، میں تمہیں نہیں چھوڑ کر نہیں جاؤں گی ۔”وہ بری طرح رو رہی تھی جب اچانک کسی نے اس کے بازو کو پیچھے سے پکڑ کر اسے وی سے دور کر دیا۔

“نہیں!! V !! ” وہ چیخی

“اسے جانے دو ، روز!” ایک گہری گرجدار آواز پیچھے سے آئی تھی۔ روز نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور نظر غصے سے بھرے ہوے زاویار سے جاٹکرائی جو اسے جلتی ہوئی نظروں سے دیکھ رہا تھا

وی نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا اور اسے اپنی طرف کھینچنے لگا۔ زاویار یہ دیکھ کر غصے سے بھڑک اٹھا۔ اس نے فورا وی کے ہاتھ پر گولی چلائی

“نہیں! !! مونسٹر ہو تم مجھے چھوڑ دو !!! “، روزی نے زاویار کے سینے پر سختی سے مکے مارتے ہوئے اپنا آپ آزاد کروانے لگی لیکن اس نے گرفت ڈھیلی نہیں کی وہ اسے اپنی گاڑی کی طرف گھسیٹ کر لے جانے لگا

اس نے روزہ کو گاڑی میں دھکیلا دروازہ بند کر دیا۔ اس نے ڈرائیور سیٹ سے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن وہ جلدی سے گاڑی کے اندر بیٹھ گیا اور دروازہ بند کر دیا پھرتی سے گاڑی سٹارٹ کی اور تیزی سے نکل گیا

زاویار ایک پاگل کی طرح پوری رفتار سے گاڑی چلا رہا تھا۔ روزی خوف سے چیخ رہی تھی اسے ڈر تھا کہ گاڑی حادثے کا شکار ہو سکتی ہے۔

آہستہ چلاؤ . میں مر جاؤں گی “، وہ چیخی لیکن اسے فرق نہیں پڑا اس نے رفتار بڑھادی

⚫⚫⚫⚫⚫⚫

میرے چیخنے کی آواز کے ساتھ گاڑی رک گئی۔ میرا سر ڈیش بورڈ سے ٹکرانے والا تھا لیکن زاویار نے جلدی سے اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھ دیا میں ابھی تک خوف سے کانپ رہی تھی اس کے بعد اس نے دروازہ کھولا اور میرا ہاتھ پکڑ لیا اور مجھے گھسیٹتا ہوا حویلی کے اندر لے گیا۔

جلد ہی میں اپنے ہوش میں واپس آگئی۔ جیسے ہی ہم ہال میں داخل ہوئے میں نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا

“مجھے چھوڑو ، تم سائیکوہو ذہنی بیمار ہو !!” ، میں نے غصے سے چیخ کر کہا۔ زاویار نے مڑ کر میرے منہ پر زور دار تھپڑ رسید کردا۔ میں فرش پر جا گری

وہ میری طرف جھکا اور مجھے گھسیٹ کر میرے بالوں کو سخت گرفت میں پکڑ لیا۔ میں نے خوف سے اسے دیکھا۔ اس کی آنکھیں خون سے سرخ تھیں ، جبڑا بھنچا ہوا تھا ، چہرہ سیاہ تھا

جاری ہے

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *