Psyco love -6

سائیکو لو

قسط چھ

از قلم انیس علی

میں صوفے پر بیٹھی مووی دیکھ رہی تھی یہ، میری پسندیدہ سیریز تھی میں اب مکمل صحت یاب ہو چکی تھی زاویار نے پچھلے تین ہفتوں میں میرا بہت خیال رکھا۔ اس نے مجھے کوئی کام کرنے نہیں دیا وہ اپنے ہاتھ سے مجھے کھانا کھلاتا تھا

میں بہت خوش تھی مجھے میرا پرانا والا زاویار واپس مل گیا تھا جس سے میں بہت پیار کرتی تھی دروازہ کھلا اور زیویر اندر داخل ہوا۔

“روز! میں نے تمہیں آرام کرنے کے لیے کہا تھا “، اس نے مجھے غصے سے ڈانٹا۔ میں صوفے سے اٹھ کر اسکے قریب چلی آئی

“میں بور ہورہی ہوں. کہیں باہر چلیں ؟ “، میں نے اسکے گلے میں لاڈ سے بانہیں ڈال کر کہا میرا جواب سن کر وہ ہنس دیا اس نے پھر مجھے نرمی سے گلے لگالیا اور پوچھا ، “ضرور ، آپ بتائیں میڈیم آپ کہاں جانا چاہتی ہیں؟” “کہیں بھی” ، میں بس باہر کھلی فضا میں جانا چاہتی تھی اس نے گہرا سانس لیا۔ “ٹھیک ہے پھر ہم دونوں اپنے ہنی مون پر چلتے ہیں ” جیسے ہی اس نے یہ کہا ، میں خوشی سے اچھل پڑی

“واقعی !! ! کہاں؟ “، میں نے جوش سے پوچھا جب کہ وہ میرے بچپنے پر ہنس رہا تھا۔ “یہ سرپرائز ہے” ، اس نے میرے گالوں کو سہلاتے ہوئے بتایا

“ہیں؟ ٹھیک ہے ، لیٹ می گیس “، میں نے سوچنا شروع کردیا۔ اس نے ہنستے ہوئے میرے بالوں کو کھول دیا

“ٹھیک ہے لیکن پہلے شاپنگ پر چلتے ہیں” “اوکے ، میں تیار ہوکر ابھی آئی ” میں جلدی سے الماری سے اپنے کپڑے لے کر باتھ روم کی طرف بھاگی

سینٹرل سٹی مال

جیسے ہی وہ مال میں پہنچے سب نے ان کا استقبال کرنا شروع کیا روزی نے الجھ کر زاویار کی طرف دیکھا۔ وہ مسکرایا ، “یہ میرا مال ہے۔”

“کیا؟” ، اس کی آنکھیں باہر نکل آئیں یہ جگہ بہت خوبصورت تھی !! وہ حیرت میں گم کھڑی تھی
⚫⚫⚫⚫⚫

میں روز کو دیکھتے ہوئے مسکرایا جو مال کودیکھتی ساکت تھی “کیا ہوا پسند نہیں آیا؟” ، میں نے اس کے ہاتھوں کو تھامتے ہوئے آہستہ سے پوچھا ” تم نے مجھ سے بہت سارے راز چھپائے ہیں” ، وہ بڑبڑائی۔ اس کا طنزیہ جواب سن کر میرے چہرے سے مسکراہٹ غائب گئی۔جسے اس نے فورا نوٹ کرلیا۔

روز نے میرے ہاتھوں کو تھام کر میری آنکھوں میں دیکھا۔ “میں مذاق کر رہی تھی”،وہ میری ناراضگی سے خوفزدہ تھی میں مسکرایا۔ “میں اپنی جان پر کیسے ناراض ہو سکتا ہوں؟ چلو آؤ یہ ڈریس ٹرائی کرو ” میں نے اسے اک خوبصورت ڈریس جو کہ فیری گاؤن تھا وہ تھمایا اور اسے ٹرائی روم کی طرف بھیجا

⚫⚫⚫⚫⚫⚫

جیسے ہی میں نے اندر داخل ہوکر دروازہ بند کیا ، کسی نے میرے منہ پر ہتھیلی رکھ دی اور مجھے کمر سے مضبوطی سے جکڑ لیا۔ میں گھبرا گئی اور اس کی گرفت میں جدوجہد کرنے لگی۔

!” “شش میں سی آئی اے (سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی) سے ہوں ، ایک آدمی کی گہری آواز ابھری جسے سنتے ہی میں پرسکون ہو گئی

میں نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولیں لیکن میں اسے دیکھتے ہی چونک گئی سنہرے بالوں والا ایک بے حد خوبصورت لڑکا ، نیلے رنگ کی آنکھیں سنہری رنگ کا سوٹ پہنے میری آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔

آپ روزینہ ہیں ، ایم آئی رائٹ؟ وہ تصدیق چاہ رہا تھا میں نے نرمی سے سر ہلایا اس نے بے حد سکون سے اپنا تعارف کروایا “میں سی آئی اے سے ایجنٹ ونسنٹ ویلنٹینو ہوں۔ آپ مجھے صرف V کہہ سکتی ہیں۔ میں مشہور اور خطرناک بلیک سوان گینگ لیڈر زیویر نائٹس کے خلاف آپکی حفاظت کے لیے مقرر ہوا ہوں۔ جیسے ہی یہ الفاظ اس کے منہ سے نکلے ، میں فریز ہوگئی

اس نے میرا پھیکا پڑتاچہرہ دیکھا۔ “نہیں وی ، اسکی ضرورت نہیں زاویار نے کہا ہے کہ وہ خود کو بدل لے گا اور اب سے صرف اچھے کام کرے گا۔”

میں نے اسے دیکھ کر کہا تو اس نے اک ٹیبلٹ میری جانب بڑھایا جس میں ویڈیو چل رہی تھی میں چونک گئی ۔ میں نے کانپتے ہاتھوں سے اس کا فون پکڑا

مارک !! یہ مارک کی ویڈیو تھی۔ وہ ایک کھنڈر عمارت میں تھا جس میں سب بندھے ہوئے تھے اور اسے بے رحمی سے مارا پیٹا گیا تھا۔ اس کے پورے جسم پر خراشیں اور زخم تھے۔ اس کے سر سے خون ٹپک رہا تھا۔وہ بے ہوشی کی حالت میں اچانک زیویر کمرے میں داخل ہوا ، اس کا چہرہ سیاہ تھا جبکہ اس کی آنکھیں سرخ تھیں۔ وہ بہت غصے میں لگ رہا تھا۔ اس نے کونے میں رکھی ہوئی لوہے کی راڈ کو اٹھایا اور شکاری قدموں کے ساتھ بے ہوش مارک کی طرف چل دیا۔ زاویار نے راڈ کو ہوا میں اٹھایا اور اس کے سر پر زور سے مارا۔ اس کے بعد وہ مارک کو بے دردی سے مارتا چلا گیا۔ چند منٹ کے بعد وہ رک گیا اور راڈ زمین پر پٹخ دی مارک اب سانس نہیں لے رہا تھا وہ بے جان ہوگیا تھا۔ میں ساکت ہوگئی میری آنکھوں سے آنسو ببہنے لگے

اگلے ہی لمحے میری آنکھیں پوری کھل گئیں جب زاویار نے ہولسٹر سے اپنی بندوق نکالی اور اس کی کھوپڑی میں چھ گولیاں اتار دیں ۔ اس کا خون کے چھینٹے زاویار کے چہرے پر پڑے وہ اب شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ اپنے سامنے پڑی لاش کو دیکھ رہا تھا

میں اس کے وحشی پن پر گنگ تھی فون میرے ہاتھ سے گر گیا۔ میں نے وی کی طرف دیکھا۔

” یہ کب ہوا؟میں بمشکل پوچھ پائی

نک کی موت کے دو دن بعد ، “وہ بولا ،

ہرگز نہیں! یہ وہی دن تھا جب زاویار نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ خود کو بدل لے گا۔ میں نے غصے سے مٹھیاں بھینچ لیں ۔ اس نے پھر مجھ سے جھوٹ بولا۔ مجھے دھوکہ دیا “یہ کیسے ہو سکتا ہے”

“روز !!” جیسے ہی ہم نے باہر سے زاویار کی آواز سنی ہم دونوں ساکت گئے۔ میں نے خوف سے وی کی طرف دیکھا۔ “فکر نہ کرو. ابھی جاؤ “، اس نے مجھے یقین دلایا۔ “لیکن؟” ، میں نے خوف سے اس کا ہاتھ تھام لیا ، میں اس سب کے بعد زاویار کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی “مجھ سے ریسٹ روم میں ملنا پہلی منزل پر ۔۔۔ 10 منٹ کے بعد۔۔۔ اب جاؤ اوکے !” اس نے سکون سے کہا میں نے سر ہلایا اور اپنے آنسو صاف کیے۔ وہ دروازے کے پیچھے چھپ گیا تھا میں خاموشی سے کمرے سے باہر نکل گئی۔

زاویار نے مجھے آتے دیکھ کر مسکرایا لیکن اگلے لمحے اس کی مسکراہٹ تھم گئی۔”تم نے ابھی تک چینج نہیں کیا؟ “، اس نے ابرو اچکاتے ہوئے مجھ سے پوچھا۔ اس کے سوال نے مجھے ایکدم پریشان کر دیا۔ میں نے خود کو دیکھا اور اپنے آپ کو اپنے پرانے کپڑوں میں پایا جبکہ گاؤن ابھی تک میرے ہاتھ میں تھا۔

“امم … یہ بہت بھاری ہے “، میرا جواب سن کر زاویار ہنس دیا میں نے اسے ریلیکس دیکھ کر گہرا سانس بھرا

“ٹھیک ہے. لسن “، اس نے کسی کو بلایا تھا لیکن میں نے فورا اس کا ہاتھ پکڑ لیا ،” زاویار چلتے ہیں۔ میں تھک گئی ہوں ” “نہیں روز ، پہلے تم یہ چینج کرو ،” وہ اپنی بات پر مصر تھا “نہیں پلیز ابھی مجھے بھوک لگی ہے “، میں نے نیا بہانہ گھڑا مجھے یاد آیا کہ جب ہم اوپر جارہے تھے تو میں نے میک ڈونلڈز کو پہلی منزل پر دیکھا تھا زاویار نے میری طرف دیکھ کر سر ہلایاٹھیک ہے کے ایف سی؟ ” “نہیں میک ڈونلڈز !!” ، اس نے اثبات میں سر ہلایا۔ زاویر نے پھر دکان کے منیجر کو حکم دیا کہ وہ تمام کپڑے ہمارے گھر پہنچا دے اور بل ادا کر دے۔ *****

“ٹھیک ہے روز بتاؤ کیا کھاؤ گی؟” ، اس نے مجھ سے نرمی سے پوچھا تھا لیکن میں نے جواب نہیں دیا۔ میرے اندر آگ لگ رہی تھی۔ اس نے پھر مجھ سے جھوٹ بولا۔ زاویار کیوں کیا ایسا؟کیوں میرے دل سے بار بار کھیلتے ہیں؟ میں بیوقوفوں کی طرح اس کے تمام جھوٹ پر یقین کرتی چلی جارہی تھی اور اس سے پھر سے وار کیا اس نے میرے دوست کو قتل کر دیا۔وہ واقعی ایک مونسٹر تھا …. میں اپنے خیالوں میں گم تھی جب زاویار نے میری آنکھوں کے آگے چٹکی بجائی میں نے فورا اپنے آپ کو کمپوز کیا۔ “آپ کھانا آرڈر کریں۔ مجھے واش روم جانا ہے ، “میں نے اس سے کہا تو اس نے سر ہلادیا۔ میں مسکرا کر اٹھ گئی جونہی میں واش روم پہنچی ، میں نے فورا دروازہ بند کر کے اسے لاک کر دیا۔ لیکن اندر کوئی نہیں تھا۔ “عجیب بات ہے !!!!”

“وی ، تم کہاں ہو؟” میں نے اسے ہر جگہ تلاش کرتے ہوئے آواز دی تبھی اچانک مجھے پیچھے سے اپنی کلائی پر سخت گرفت محسوس ہوئی۔ میں نے سکون کا سانس لیا “تم کہاں تھے-” میں نے پلٹتے ہوئے پوچھا لیکن جیسے ہی میں نے دیکھا میراسانس رک گیا …” زاویار ” میرا رنگ پیلا پڑ گیا وہ اندر کیسے آیا؟

وہ میرے بالکل سامنے کھڑا تھا۔ اس کی آنکھیں سیاہ تھیں جبکہ اس کا چہرہ سرخ ہوگیا تھا۔ میں نے گلا صاف کرکے بولنا چاہا “زاوی-” اس نے بات کاٹ کر درشتی سے پوچھا “وی کون ہے ، روز۔”

جاری ہے

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *