Psyco love-3

سائیکو لو

قسط تین

از قلم انیس علی

میرے قدم اپنی جگہ جم گئے پلٹ کر دیکھنے کی ہمت بھی نہ رہی ۔ زاویار نے میری گرد اپنا بازو پھیلا دیا اور اپنی ٹھوڑی میرے بائیں کندھے پر رکھ دی۔

’’ کیا ہوا ؟” وہ پوچھ رہا تھا

“زاویار ، روزی کچھ کہہ رہی تھی ،” ، میں نے فورا انکی بات کو درمیان میں کاٹ دیا

“میں صرف کچھ گھبراگئی تھی “،۔ زاویار نے میری طرف دیکھا۔ اس نے مسکراتے ہوئے میرے آنسو پونچھے

امی نے میری ایسی حالت دیکھی تو مضبوطی سے گلے لگا لیا۔”بیٹا ، زاویار ٹھیک ہے تمہیں ہم سے زیادہ پیار کرے گا” ،انہوں نے مجھے بہلات ہوئے میرے کانوں میں سرگوشی کی۔ “نہیں امی مجھے آپ سے زیادہ کوئی پیار نہیں کر سکتا ، کوئی بھی نہیں” ، میں نے سختی سے کہا اور رونا شروع کردیا میرا جی چاہا میں واپس بھاگ جاؤں کبھیاس شخص سے میرا سامنا نہ ہو ۔ میں ہمیشہ اس دن کی آرزو کرتی تھی اور چاہتی تھی کہ یہ میری زندگی کا سب سے یادگار دن بن جائے لیکن قسمت نے اسے میری زندگی کا سب سے خوفناک دن بنا دیا۔

زاویر سے زیادہ دیر صبر نہیں ہوا تھا اس نے پھر سے میرے کندھوں کے گرد اپنی گرفت مضبوط کرلی۔ “روز اب چلو۔ مہمانوں کو انتظار نہیں کروانا چاہیے ، “اس نے میرے سر کو آہستہ سے تھپتھپاتے ہوئے کہا۔ میں سر ہلا کر اسکے ساتھ چل پڑی

⚫⚫⚫⚫⚫⚫

کھانا لگ چکا تھا ہر کوئی کھانے کی میز کے ارد گرد آباد تھا اور کھانے کی وسیع اقسام سے لطف اندوز ہو رہے تھے

روزی بےدلی سے کھانے کو گھور رہی تھی۔ زاویار وقتا فوقتا چور نگاوں سے اسے دیکھتا رہا لیکن اس کا دھیان اسکی جانب نہیں تھا۔ اس نے اس کے پریشان چہرے کو دیکھا وہ خلا میں گھور رہی تھی اور کوئی بھی اس کے اداس چہرے سے کہہ سکتا ہے کہ وہ اس شادی سے بالکل بھی خوش نہیں ہے۔ جلد ہی زاویار کا صبر ختم ہونے لگا۔ وہ اپنا ضبط کھو رہا تھا وہ اسکی خاموشی کو ہلکا لے رہی تھی اچانک اس نے اسکا بازو پکڑا اور اسے قدرے کونے میں لے آیا اس کے گالوں کو سختی سے جکڑ کر غصیلی آنکھوں سے اسے دیکھا۔ ” ، روز۔ بہتر ہوگا کہ تم اب نارمل بی ہیو کرو “، وہ سختی سے بڑبڑایا لیکن روزی نے اسے بات پوری نہیں کرنے دی

ورنہ کیا؟ ہمم ، زاویار حشمت؟ ورنہ کیا کروگے ؟ جان سے ماردوگے جیسے میرے دوست کو ماردیا ” وہ بےخوف ہوکر بولی تو اس کی گرفت مزید سخت ہوگئی لیکن وہ بھی پیچھے نہیں ہٹی۔ “تم نے میری زندگی کو جہنم بنا دیا اور اب تم مجھ پر تشلط جمارہے ہو۔ سنو مسٹر مافیا ، اس طاقت سے اور اپنے گندے ہتھکنڈوں کا استعمال کر کے تم میرا جسم تو حاصل کر لو گے لیکن تم کبھی بھی میرے دل تک نہیں پہنچ پاؤ گے۔ زاویار اسے خونخوار نظروں سے دیکھتا رہا

“تم ایک قاتل ، مجرم ، نفسیاتی مریض ہو تمہارے پاس دل نہیں ہے ، بے رحم شیطان ہو تم۔ اور میں ہمیشہ تم سے نفرت کروں گی میں تمہیں ۔۔۔۔۔” اس سے پہلے کہ وہ مزید زہر اگلتی زاویار نے اس کے چہرے کو سختی سے پکڑ کر اسکے لبوں کو زور سے چومنا شروع کر دیا۔ وہ اس کی گرفت میں جدوجہد کررہی تھی لیکن اس نے دوسرے ہاتھ سے اس کی کمر کو مضبوطی سے پکڑا اور اپنی طرف کھینچ لیا۔روزی اسکی گرفت سے چھٹکارا پانے کی بھرپور کوشش کرتی رہی۔ اچانک وہ اسکے لبوں کو آزاد کرتا پیچھے ہٹا۔” روز ، اب جب تم مجھے جان ہی گئی ہو تو میں تمہیں بتاتا ہوں کہ میں کتنا خطرناک ہوں۔

“تمہیں مجھے کچھ بتامے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں تمہارا گھناؤنا فعل پہلے ہی دیکھ چکی ہوں ، مونسٹر ”، اس نے آنسو بھری آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔

“آہ !! یہ صرف ایک ٹریلر تھا میری جان میں اس سے زیادہ شیطانی ہو سکتا ہوں۔ اب غور سے سنو.اپنے خوبصورت چہرے پر مسکراہٹ لاو. سمجھیں ؟؟ اسکا لہجہ دھمکی زامیز تھ روزی نے خوف سے سر ہلایا۔

“منہ سے بولو” ، وہ بڑبڑایا ’’ اوکے ‘‘ وہ سرگوشی میں بولی۔

زاویار اسکا ہاتھ تھام کر آگے بڑھا تو اسکے والدین انکی جانب چلے آئے “بیٹا ہمیں اب چلے جانا چاہیے” ، روزی کے والدین نے اس کے سر کو آہستہ سے تھپتھپاتے ہوئے کہا۔

” ڈرائیور آپکو چھوڑ دے گا !! “، زاویار نے کہتے ساتھ ڈرائیور کو آواز دی روزی گھبراگئی اس کے ساتھ اکیلے رہنے کے خیال نے اسے بری طرح خوفزدہ کردیا

“پلیز کچھ دیر اور رک جائیں ” ، اس نے ہلکی آواز میں کہا وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کے والدین اسے اس شیطان کے ساتھ تنہا چھوڑ دیں۔

“بیٹا کیا ہوا ” وہ مکمل طور پر حیران ہوئگئے تھے۔ روزی نے ‘نہیں’ میں سر ہلایا اور انکا ہاتھ مضبوطی سے پکڑتے ہوئے رو پڑی۔وہ پریشان ہونے لگے جب دونوں نے اسے بچے کی طرح روتے دیکھا

“۔سویٹی کیا ہوا سب ٹھیک ہے؟” زاویار کا جبڑا بھنچ گیا اب وہ اس ڈرامے کو مزید برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ اس نے روزی کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔ اس نے اپنے انگوٹھے سے اس کے آنسو پونچھے اور اس کے گالوں کو سہلایا ” میں تمہارا خیال رکھوں گا۔ تمہارے پیرنٹس اب تھک چکے ہوں گے ، انہیں آرام کرنے دیں یا … کیا میں انہیں ہمیشہ کے لیے سلا دوں؟ وہ ہلکی آواز میں مسکرا کر اسے دھمکایا تھا روزی نے آنسو بھری آنکھوں سے اس سے التجا کی۔ زاویار ہنس دیا

“آپ کو روز کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ آپ دونوں جانتے ہیں کہ میں اس سے کتنا پیار کرتا ہوں۔” وہ اب ان سے مخاطب تھا “ہاں بالکل بیٹا۔ ہمیں خوشی ہے کہ آپ ہمارے داماد ہیں۔ ہمیں اب چلنا چاہیے ، ”

انہوں نے خوش ہوتے اس کے کندھے پر تھپکی دی۔ زاویار نے مسکرا کر سر ہلایا

انکے جانے کے بعد زاویار اسے لیے کمرے کی طرف بڑھا روزی وہ بہت شکست خوردہ ، ناامید ، اداس اور غصے میں تھی۔ اس کا دماغ سن تھا۔ وہ اب مشیف کچھ سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ وہ جس زاویار کو جانتی تھی یہ وہ نہیں تھا جس کی ایک مسکراہٹ ، ایک نظر اسے مسحور کردیتی تھی اب اس کی موجودگی میں وہ خوف سے کانپنے لگی تھی۔

اس وقت وہ بہت تھک چکی تھی۔ اس کا سر بری طرح درد کر رہا تھا۔ وہ اسے چھوڑ کرواشروم میں چلا گیا وہ وہیں بیٹھے بیٹھے سو گئی

زاویار واپس آیا تو دیکھا کہ وہ گہری نیند میں ہے۔ اس نے مسکراتے ہوئے اسے آہستہ سے بستر پر لٹایا۔ نرم گلابی ہونٹ ، چھوٹی ناک ، صاف دودھ جیسی جلد اور نازک جسم۔ وہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی۔

اس نے نرمی سےزیورات اتارے۔سینڈل اتاری اور اس پر کمبل اوڑھا کر اسکے برابر لیٹ گیا اس کا سر اپنے سینے پر رکھتے اس کے نازک جسم کو اپنے بازوؤں میں مضبوطی سے قیدکرلیا جلد ہی وہ خوابوں کی وادی میں کھوگیا تھا

⚫⚫⚫⚫⚫⚫

دو بجے کا وقت تھا میں نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولیں تو دیکھا کہ زاویار میرے پاس لیٹا ہوا تھا۔ اس کے ہاتھ میری کمر پر تھے جو مجھے مضبوطی سے تھامے ہوئے تھے۔ میں نے اسے ہلانے کی کوشش کی تاکہ پتہ لگے کہ وہ سو رہا ہے یا نہیں۔ وہ ہلا نہیں جس کا مطلب تھا کہ وہ گہری نیند میں تھا۔ خدا کا شکر ہے!!! میں نے آہستہ آہستہ اس کا ہاتھ ہٹایا اور اٹھ کھڑی ہوئی میں نے اس کے ہاتھ کے نیچے تکیہ رکھا تاکہ اسے کوئی شک نہ ہو۔

” میرا فون؟؟” مجھے یکدم خیال آیا میں فورا اس کے کمرے سے بھاگ کر اس کمرے میں گئی جہاں اس نے نومی کو قتل کیا تھا

اس جہنم سے بچنے کے لیے مجھے کچھ تو کوشش کرنی تھی نا ۔۔۔۔ میں کمرے میں داخل ہوئی اور تلاش شروع کی۔ میں نے جلدی سے تمام دراز اور الماریوں کو چیک کیا لیکن مجھے وہ کہیں نہیں ملا۔ ” کہاں گیا؟” میں وہیں کھڑی سوچ رہی تھی جہاں میں نے اسے آخری بار رکھا تھا تبھی اچانک ایک ہاتھ میرے سامنے آیا جس کی ہتھیلی پر میرا فون تھا۔ میری آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں۔ “خدا کا شکر ہے”

لیکن اگلے ہی لمحے میں ساکت ہوگئی ادراک ہوتے ہی میری سانس رک گئی …. میں خوف سے کانپنے لگی۔

یہ زاویار تھا وہ ایکدم آگے جھکا ، اس کی گرم سانسیں میرے کان پر پڑ رہی تھیں وہ ہلکی آواز میں بولا تھا “یہ چاہیے جان من ؟”

جاری ہے

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *