Psyco Love -10

ناول سائیکو لو
قسط دس
از قلم انیس علی

اور جب زاویار نے مجھے گولی ماری ، میرے آدمیوں نے فوری طور پر اس کی تصویریں اتنی تیزی سے لیں تاکہ اسے کوئی شک نہ ہو” ، ونسنٹ نے گہری آواز میں کہا اور تصاویر میز پر پھینک دیں۔ “سر وہ بیوقوف سمجھتا ہے کہ آپ ایجنٹ 001 ہیں؟ “، لیون ہنس دیا ونسنٹ نے مسکرا کر سر ہلایا “تو جناب ہم کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں؟ آئیے شیطان کو پکڑ لیں “، لیون نے کہا ، ونسنٹ نے فورا نفی میں سر ہلا دیا۔ “نہیں ، ابھی نہیں” ، اس کا جواب سن کر لیون کا چہرہ مرجھا گیا ، “لیکن کیوں؟” ونسنٹ نے آہ بھری۔ “ہم روزی کی زندگی کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔ زاویار یقینی طور پر اپنی حفاظت کے لیے اسے تکلیف پہنچانے کی کوشش کرے گا کیونکہ اب وہ جان چکا ہے کہ ہم اسے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

“لیکن زاویار اس سے پیار کرتا ہے ، ہے نا؟ “، اینڈریو تمسخریہ لہجے میں بولا۔ ونسنٹ نے اسے ایک گھوری سے نوازا ۔”ہاں وہ کرتا ہے لیکن وہ بہت چالاک ہے۔ اس کے علاوہ ہمیں اسے آسان نہیں لینا چاہیے کیونکہ وہ کوئی اور نہیں بلکہ انڈر ورلڈ کے خطرناک گینگ کا باس ہے ، کوئی عام ٹھگ نہیں ہے۔ لیون نے مایوسی سے کہا ، “وہ وہاں سے بھاگ کیوں نہیں سکتی؟”

“زاویار ایک مافیا کنگ ہے۔ اس کی حویلی کے ارد گرد ایک خاص سکیورٹی فورس ہے۔ روزی وہاں سے بھاگ نہیں سکتی “، ربیکا نے کہا۔ ونسنٹ نے سر ہلایا۔ “اس کے علاوہ وہ ہمیشہ روزلین پر نظر رکھتا ہے۔ وہ اپنی بند آنکھوں سے بھی اس کی اگلی حرکت کو محسوس کر سکتا ہے۔ وہ آسانی سے پتہ لگاسکتا ہے کہ وہ کچھ کر رہی ہے یا نہیں۔ روزلین اتنی آسانی سے اس سے بچ نہیں سکے گی۔ “لیکن وہ اسے بیوقوف بنا سکتی ہے” ، لیون جلدی سے بولا۔ “وہ ایک گینگسٹر ہے ”

“وہ نہیں کرسکتی کیونکہ وہ صرف ایک سادہ سی معصوم لڑکی ہے “، اس نے بڑبڑاتے ہوئے ونسنٹ کی طرف دیکھا۔

“تو ہم کیا کرنے جا رہے ہیں؟ یا بس اسے اس جہنم میں مرنے دیں ؟”، وہ غصے سے اس لڑکے کی طرف دیکھتے ہوئے بولی جو اسے گھور رہا تھا

“ابھی کے لیے ۔۔۔۔ لیکن فکر مت کرو ، زاویار اسے کبھی نہیں مارے گا” ، اس نے کہا ، اس کا لہجہ سنجیدہ تھا۔

“لیکن روزی کا کیا ہوگا؟ “، لیون نے پریشانی سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ربیکا بے چین ہو کر اپنی سیٹ پر بیٹھی رہی کیونکہ وہ اپنی دوست کے بارے میں بہت پریشان تھی۔ ونسنٹ نے ایک گہری سانس لی۔ “دیکھو ، زاویار پہلے ہی ہمارے دو آدمیوں کو مار چکا ہے جو نہ صرف سی آئی اے کے ٹاپ ایجنٹ تھے بلکہ روزی کے بہترین دوست تھے۔ حالیہ لڑائی کے بعد ، زاویار یقینی طور پر زیادہ چوکس ہو جائے گا۔ اگر ہم پھر سے کوئی سٹنٹ کھینچنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم یقینی طور پر روزی کی جان کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ “ربیکا نے چونک کر دیکھا تو ونسنٹ نے سر ہلایا۔

“میرے خیال میں باس کی بات ٹھیک ہے۔ اس کے علاوہ ہمیں اس کے خلاف مزید شواہد کی ضرورت ہے۔ یہ تصاویر صرف کام نہیں کریں گی۔ اب آپ دونوں کو اس گینگسٹر کے خلاف مزید ثبوت اکٹھے کرنے میں مشغول رہنا چاہیے “، اینڈریو نے کہا تو لیون اور ربیکا نے سر ہلایا۔

“لیکن کیا ہوگا اگر روزلین دوبارہ اسکی محبت کا شکار ہو جائے؟ “، ربیکا نے لیون کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو اس کی باتوں سے پریشان ہو گیا۔

لیکن ونسنٹ نے دونوں کو الجھا دیا”۔ایسا نہیں ہوگا۔ ” ربیکا نے مشکوک نظروں سے اس کی طرف دیکھا، “لیکن کیوں؟” “تجسس کے مارے وہ پوچھنے لگی

ونسنٹ مسکرایا اور دروازہ بند کر کے کمرے سے باہر نکل گیا۔ لیکن جیسے ہی اس نے مڑ کر دیکھا ، اس کی آنکھیں سیاہ ہو گئیں جب وہ شرارت سے مسکرایا ، “کھیل اب زاویار شروع کرے گا”

میں بستر پر بیٹھی کھڑکی کو بے مقصد گھور رہی تھی جب دروازہ کھلا اور وہ اندر داخل ہوگیا وہ کالے سوٹ میں اچھی طرح ملبوس تھا۔ اس کے بال بنے ہوئے تھے اور اس کا تھری پیس سوٹ اسے بہت جچ رہا تھا۔ مجموعی طور پر وہ بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔ لیکن اس بیرونی خوبصورتی کا کیا فائدہ جب آپ کا دل کالا اور روح خود غرض ، انا پرست ہو

زاویار میرے پاس بیٹھ گیا۔ اس نے میرے گالوں کو چھونے کے لیے ہاتھ اٹھائے لیکن میں نے فورا اپنا چہرہ دوسری طرف کر دیا

۔ اس نے گہری سانس لی اور بولا ، “میں تمہیں ناشتے کے لیے لینے آیا ہوں۔ چلو روز ” اس نے میرے ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی لیکن میں فورا پیچھے ہٹ گئی

زاویار پھر آگے بڑھا اور مجھے چھونے کی کوشش کی لیکن میں فورا بستر سے اٹھ گئی اور دروازے کی طرف چلنے لگی وہ خاموشی سے میرے پیچھے پیچھے آیا جب ہم دونوں نیچے کی طرف جا رہے تھے۔ زاویر ڈائننگ روم کی طرف مڑا

لیکن مجھے آگے بڑھتے دیکھ کر رک گیا جب اس نے مجھے باہر نکلتے دیکھا “۔روز ، تم کہاں جا رہی ہو؟ “، اس نے پوچھا لیکن میں نے اس کے الفاظ کو نظرانداز کیا اور چلتی رہی۔ ” رک جاؤ !!”

میں نے اپنی رفتار تیز کی اور مرکزی دروازے کی طرف بھاگی۔

” کھولو” ، میں نے محافظوں سے کہا لیکن انہوں نے ان سنی کردی”۔ واپس آؤ یہاں روز !! “، زاویار نے غصے سے چیخ کر کہا۔ “میں نے کہا کہ اسے کھوو “، میں پھیپھڑوں کے بل چیخی لیکن وہ میرے الفاظ کو نظر انداز کرتے ہوئے نیچے دیکھتے رہے۔ میں نے دروازہ کھینچنا شروع کیا جب اچانک زاویار نے مجھے گھمایا اور مجھے اپنے سینے کی طرف کھینچ لیا۔ وہ پاگل لگ رہا تھا۔

’’ کدھر جاری تھی ‘‘

“میں یہاں نہیں رہنا چاہتی !! مجھے جانے دو!!!”

میں بری طرح چیخ رہی تجی ایک لمحے میں زاویار نے میرے بالوں کو پکڑ لیا اور چہرے اپنے قریب کھینچ لیا “۔تم مجھے نہیں چھوڑ سکتی “، وہ غصے بھرے لہجے میں بولا

“میں تم سے نفرت کرتی ہوں … میں تمہارے ساتھ نہیں رہوں گی … میں تم سے کبھی محبت نہیں کروں گی !! مجھے جانا ہے “، میں نے اسے نفرت سے دیکھا۔ زاویار چونکا

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *