Psyco Love -1

ناول Psyco Love

قسط اول

از قلم انیس علی

آج میری شادی تھی تبھی خوشی دیدنی تھی مسکراہٹ مسلسل میرے ہونٹوں پر جمی تھی شہر کا مشہور بزنس ٹائیکون زاویار حشمت میرا ہونے والا تھا صرف اور صرف میرا ۔۔۔ زاویار حشمت وہ واحد انسان تھا جس کے خواب میں نے بچپن سے دیکھے تھے اور اسوقت میری خوشی کی انتہا نہیں رہی تھی جب اس نے خود مجھ سے محبت کا اظہار کیا تھا اسے اپنا بنانے کا وعدہ کیا تھا اور یہ وعدہ تو اس نے نبھا دیاتھا میں خود کو خوش قسمت لڑکی تصور کررہی تھی

“میڈم آپ بہت خوبصورت لگ رہی ہیں ”، ایک سٹائلسٹ نے میری تعریف کی تومیں اس تبصرے پر شرما گئی۔

میں نے اپنے آپ پر ایک آخری نظر ڈالی اور کمرے سے باہر نکلنے ہی والی تھی جب اچانک فون کی گھنٹی بجی۔

کال کرنے والا میرا بہترین بچپن کا دوست نومی تھا جوکہ خفیہ ایجنسی کے لیے کام کرنے والا دیانتدار شخص تھا “تم سب جاؤ۔ مجھے اکیلا چھوڑ دو”،میں نے کمرے میں موجود لڑکیوں سے کہاتو وہ سر ہلاتیں باری باری باہر نکل گئں میں نے فورا کال اٹھا لی۔

“ہیلو ۔۔۔ تم ”

” کھڑکی کھولو ، روزی” وہ میری بات سنے بغیر سخت لہجہ میں بولا تو میں فورا کھڑکی کی طرف بڑھی وہ تیزی سے کمرے میں کود گیا۔

“ارے واہ کیا سرپرائز دیا ہے ” میں شوخی سے بولی تھی ہمارا ساتھ بہت پرانا تھا

اس مذاق کے لیے وقت نہیں ہے ذرا یہ دیکھو ”، اس نے بیزاری سے کہتے ایک فائل مجھے تھما دی۔

“یہ کیا ہے؟” ، میں نے اس سے پوچھا میں اس کے رویے سے مکمل طور پر حیران رہ گئی تھی

“کھول کر دیکھو” ، وہ سخت لہجے میں بولا۔

مجھے انہونی کا احساس ہوا اچانک میرا دل تیزی سے دھڑکنے لگا میں نے دھڑکتے دل کے ساتھ فائل کا پہلا صفحہ کھولا۔اور یہ کیا ۔ ۔ ۔ میں ساکت ہوگئی تھی چہرہ یوں لٹھے کی مانند سفید پڑا گویا سارا خون چہرے سے بہہ گیا ہو میرے ہاتھ خوف سے کانپنے لگے۔ “یہ زاویار کی تصویر تھی جس کے نیچے بڑے حروف میں لکھا ہوا تھا”

Wanted

Wanted

“یہ کیا ہے؟” ، میں نےلرزتی ہوئی آواز میں پوچھا۔دل کسی صورت یقین کرنے کو تیارنہیں تھا نومی نے میرے کندھوں کو مضبوطی سے تھام کر میری آنکھوں میں بغور دیکھا

“میں جانتا ہوں کہ مجھے یہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔ لیکن اب تمہیں بچانے کے لیےاس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا”۔ میں نے اسے الجھن سے دیکھا حالانکہ میرا دل ڈوب رہا تھا

“کیا بات کر رہے ہو؟” ، مجھے گھبراہٹ ہونے لگی۔ شادی کی شام یہ انکشاف دل دہلانے والا تھا نومی نے ایک بھاری سانس لی اور آخر کار وہ راز فاش کردیا جس نے میرا دل چھلنی چھلنی کردیا۔

“روزی ، زاویار ایک مافیا ہے وہ کرمنل ہے،” میں اس کے جواب پر دنگ رہ گئی

“وہ کوئی بدمعاش تاجر نہیں ہے ، روزی۔ وہ دنیا کے سب سے خطرناک اور خوفناک گروہ “دی بلیک سوان” کا باس ہے۔ اس نے تم سے جھوٹ بولا۔ ، روزی وہ ایک خطرناک پاگل ہے وہ تمہیں پانے کے لیے کچھ بھی کرے گا۔ تمہارے ساتھ ساتھ تمہارے والدین بھی بڑے خطرے میں ہیں۔ تمہیں اب یہاں سے بھاگنے کی ضرورت ہے “، نومی نے میری حالت کے پیش نظر نرمی سے وضاحت کی جبکہ میری آنکھیں مسلسل بہہ رہی تھیں

میں نے نفی میں سر ہلای میں اس تلخ سچائی پر کسی صورت یقین نہیں کر پا رہی تھی یہ میرے لیے بہت مشکل تھا

“نہیں … وہ ایسا کچھ نہیں کرے گا زاویار ۔۔۔۔۔” ، میں اپنا جملہ مکمل نہیں کر سکی تھی جب اچانک نومی نے اپنی ہتھیلی میرے منہ پر جما دی

” روزی چیخنا مت میں صرف تمہاری حفاظت کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اگر تمہاری آواز باہر گئی تو وہ مجھے بھی مار ڈالیں گے “، نومی نے منت بھرے لہجے میں کہا۔ میری آنکھیں پھیل گئیں۔

یہ سب کیا چل رہا ہے؟ “لیکن کیوں؟ اور مجھے اب مکمل تفصیل سے بتاؤ؟” ، میں نے سرگوشی کی تھی اس نے آہ بھری اور اپنی ہتھیلی میرے منہ سے ہٹا دی۔

” روزی ، میں تمہیں یہ سب بتانے کے لیے بہت سالوں سے کوشش کررہا ہوں لیکن زاویار نے ہمیشہ مجھ پر نظر رکھی اور مجھے تم سے ملنے سے بھی منع کیا۔ تم نہیں جانتی ، اس نے کئی بار مجھے مارنے کی کوشش بھی کی تھی لیکن کسی طرح میں اس درندے کے پنجوں سے بچنے میں کامیاب رہا۔ اور اب تمہیں جلدی یہاں سے جانے کی ضرورت ہے ، روزی۔ ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ ” اس نے میرا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی لیکن میں نے جھٹک دیا

“نہیں نومی !! میں اس سے پیار کرتی ہوں اور وہ بھی مجھ سے پیار کرتا ہے۔ وہ کبھی بھی ایسا نہیں کرسکتا تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے- ” میں کسی صورت ماننے کو تیار نہ تھی ایسا بھی بھلا ممکن تھا بھلا

“کیا تم اپنے والدین کو مروانا چاہتی ہو؟” ، نومی نے سرگوشی کی اور مجھے جھٹکا لگا

” روزی ، میں ابھی تمہیں تفصیل نہیں بتا سکتا۔ تمہیں میرے ساتھ جانے کی ضرورت ہے اور انکل اور آنٹی کی فکر نہ کرو ، میں ان کو خفیہ طور پر لے جاؤں گا۔ اس کے بعد آپ سب کو یہاں سے بحفاظت بیرون ملک پہنچانا میری ذمہ داری ہے۔ اس نے پہلے سے سے طے کر لیا ہے۔ تم فکر مت کرو”
نک نے نرمی سے سمجھا کر ایک بار پھر سے میرا ہاتھ تھامنے کی کوشش کی لیکن میں نے پھر سے جھٹک دیا

میرا دماغ کام نہیں کررہا تھا اس نے میرے پیچھے دیکھا۔ “پلیز روزی ، میں تم سے التجا کرتا ہوں” ، اس نے آنسو بھری آنکھوں سے التجا کی تو میرا دماغ سن ہوگیا۔ میں کچھ نہیں سمجھ سکی نومی نے میرا ہاتھ تھاما اور مجھے زبردستی کھڑکی کی طرف گھسیٹ لیا لیکن اس سے پہلے کہ ہم دونوں وہاں سے نکلتے اچانک کمرے میں ایک گولی کی گونج سنائی دی اور دیکھتے ہی دیکھتے نومی فرش پر گر گیا

۔ مجھےسمجھ نہیں آئی کہ ابھی کیا ہوا ہے؟ اس کے سر سے خون بہنے لگا۔ تھا

نومی! “، میں چیخی دیکھتے ہی دیکھتے اس کے جسم کے پاس خون کا تالاب بن گیا تھا میں فورا نیچے جھکی تھی تبھی میرے دائیں ہاتھ پر ایک مضبوط گرفت نے مجھے سختی سے واپس کھینچ لیا۔

میرے پیچھے زاویار تھا اور اسکے ہاتھ میں گن ۔۔۔ میری آنکھیں پھٹنے لگی تھی اسکے ہاتھ میں گن تھی جس سے اس نے ابھی ابھی نومی کا قتل ۔۔۔۔ میرا دماغ بری طرح چکرایا یہ حقیقت جان لیوا تھی نومی بلکل ٹھیک کہہ رہا تھا زاویار واقعی ایک مافیا ہے … میرا دماغ بھنا اٹھا اس نے میری آنکھوں کے سامنے میرے عزیز دوست کی جان لی تھی

“تم نے کیا کیا؟” ، میں غصے سے چیخی اور پوری قوت لگا کر اپنے آپ کو اس کی گرفت سے آزاد کرایا

مجھے اس سے کراہیت محسوس ہوئ تھی زاویار کا چہرہ غصے سے سیاہ ہو گیا۔ “کیا؟ میں نے کیا کیا ہے ” وہ دھمکی بھرے لہجے میں بولتا میرے قریب آیا ،

آج سے پہلے میں نے اسکا یہ روپ نہیں دیکھا تھا میرا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ تو یہ سب جھوٹ تھا۔ اس نے مجھے برسوں اندھیرے میں رکھا۔ ہماری محبت کا قلعہ ایک سیاہ جھوٹ پر بنایا گیا تھا۔ میں نے اس سے پیار کیا ، میں نے اس پر بھروسہ کیا اور بدلے میں مجھے کیا ملا۔ جھوٹ دھوکہ.۔۔۔۔ فراڈ ۔۔۔ قہر میری رگوں کے اندر دوڑ گیا۔ اچانک میرا خوف غصے میں بدل گیا۔

“تو تم مافیا کے بے تاج بادشاہ ہو ۔ تم جھوٹے ہو ، تم نے مجھے دھوکہ دیا تم یہ میرے ساتھ کیسے کر سکتے ہو بولو” ، میں نے پوری قوت سے چیخ کر کہا تھا

“شٹ اپ !!” ، اس نے گرجدار آواز میں بات کاٹی اسکی دہشت نے مجھے منجمد کردیا۔ میں نے خوف سے اسے دیکھا

تبھی اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور میرے بائیں گال کو بندوق کی نال سے سہلایا

“میری جان ، میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں اور میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ تمہیں کرمنلز پسند نہیں ہیں تو میں تمہیں بتا کر اپنی محبت کو کیسے خطرے میں ڈال سکتا تھا؟ لیکن اس BASTARD نے سب کچھ برباد کر دیا … پر تم فکر نہ کرو ہم اب بھی شادی کریں گے چاہے کچھ بھی ہو جائے …” وہ بلکل ریلیکس تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہوا اس نے ابھی چند منٹ پہلے اک معصوم کو قتل کیا تھا لیکن اسے ذرا برابر پرواہ نہیں تھی

“میں اپنی زندگی میں کبھی بھی تم جیسے قاتل ، مجرم ، مافیا سے شادی نہیں کروں گی … ہزاروں سال میں کبھی نہیں .مجھے تم سے نفرت محسوس ہورہی ہے … دفع ہوجاؤ یہاں سے ۔۔۔ آؤٹ “، میری آنکھوں سے آنسو آبشار کی مانند بہہ رہے تھے

میری بات سن کر زاویار نے میری طرف دیکھا۔ اس کی خون سے سرخ آنکھیں دیکھتے ہی میری آنکھیں خوف سے پھیل گئیں۔ اس کی آنکھیں خون جیسی سرخ تھیں ، جبڑا بھنچا ہوا تھا اور مٹھی سختی سے بد تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس کا چہرہ سیاہ ہو گیا اور اس نے بندوق کو اس قدر مضبوطی سے تھام لی کہ اس کے ہاتھ سے خون ٹپکنے لگا۔ میں وحشت زدہ ہو اٹھی میرا ارادہ بھاگنے کا تھا

وہ شکاری قدموں کے ساتھ میری طرف بڑھا اور میرے بازو کو مضبوطی سے پکڑ کر مجھے اپنی جانب کھینچ لیا مجھے سختی سے بھنچے اس نے اپنے دوسرے ہاتھ سے باقی بچی گولیاںبھی نومی کے سینے میں اتار دیں میرا دل کرچی کرچی ہوکر بکھر گیا میں خود پر اختیار کھو بیٹھی اور بری طرح چلانے لگی تھی

زاویار نے میرا جبڑا اپنے ہاتھوں میں جکڑ لیا “خاموش اگر تم نہیں چاہتی کہ تمہارے والدین کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو تو جو میں کہتا ہوں ، وہی کرو سمجھیں؟” ، ممجھے اسکے لفظوں نے ساکت کردیا تھا میں نے پھٹی آنکھوں کے ساتھ اس کی جانب دیکھا۔

اس نے بندوق کو نیچے پھینک دیا اور مجھے بازو سے جکڑ کر دیوار کے ساتھ لگا دیا

زاویار اس وقت کہیں سے بھی وہ محبت نچھاور کرنے والا شخص نہیں لگ رہا تھا اسکی نظروں میں اک جنون تھا چہرہ سرخ اور تیور خطرناک میں اس کی گرفت میں کانپنے لگی۔

“سمجھ نہیں آئی کیا ؟؟ ” وہ میری آنکھوں میں دیکھ کر دھمکا رہا تھا میرا سر میکانکی انداز میں ہلنے لگا میرے حواس گویا جواب دیتے جارہے تھے

“گڈ بے بی.. اور ہاں … فورا نیچے آجاؤ … ہماری شادی ہونے والی ہے زیادہ انتظار مت کروانا ” وہ مجھے بلیک میل کررہا تھا میرا چہرہ آنسوؤں سے تر ہونے لگا۔ اس نے اپنے انگوٹھے کی مددسے سختی سے میرے آنسو پونچھے اور میرے گالوں کو سہلانے لگا

“مت رو۔ اگر اب مجھے تمہاری آنکھ میں آنسو کا ایک قطرہ بھی نظر آیا تو آج کے بعد. تمہارے والدین کبھی سانس نہیں لے سکیں گے .. کچھ گڑبڑ کرنے کی جرت نہ کرنا ورنہ اپنی ماں اور پاپا کو ٹا ٹا کہنے کےلیے تیار ہوجانا سمجھیں ” دھمکی بھرے انداز میں کہہ کر اسنے میرے کندھوں پر سے اپنی گرفت ڈھیلی کردی اب وہ اپنے محافظوں سے مخاطب تھا”اس گندگی کو صاف کرو اور تم سب” ، اس نے سٹائلسٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا “اس کا گاؤن تبدیل کرو اور اس کا میک اپ ٹھیک کرو” ، زاویار نے اک گہری نظر مجھ پر ڈال کر کہا اور دروازہ بند کرتا کمرے سے نکل گیا۔

میں وہیں زمین پر گرگئی تمام لڑکیاں میری طرف بڑھی اور مجھے تسلی دینے کی کوشش کی۔ انہیں یقیننا مجھ پر ترس آیا ہوگا لیکن کسی میں بھی اس کے خلاف جانے کی ہمت نہیں تھی میں اپنے بال جکڑ کر چلانے لگی تھی میرے بچپن کے دوست کی لاش میرے سامنے پڑی تھی وہ میری وجہ سے مارا گیا تھا اور اذیت کی حد تھی کہ عزیز از جان دوست کے قاتل کے ساتھ اسکا نکاح ہونے والا تھا ۔۔۔۔ کیسی اذیت تھی کیسی بے بسی تیھی کیسا درد تھا

جاری ہے

You may also like...

2 Responses

  1. Arooj bhutta says:

    Episode was outstanding I really like your work

  2. Nazi butt says:

    Fabulous

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *