ناول وحشت _ پہلی قسط

ناول وحشت

از قلم نویدہ شاہد

“جان من آپکا محبوب باہر انتظار کررہا ہے چلیں اب ” میں کپڑے تہہ کرکے الماری میں رکھ رہی تھی جب پیچھے سے آواز آئی تیزی سے پلٹ کر دیکھا تو وہی تھے اونچی ناک والے میرے شوہر نامدار شرجیل رحمانی۔۔۔ مجھے دیکھ کر مزے سے مسکرا رہے تھے

“کون ” میں سمجھ نہیں سکی تو پوچھ لیا جواب میں انکا موڈ یکدم بدل گیا

“سوال جواب کرنے کی بجاۓ خود کیوں نہیں دفع ہوکر دیکھ لیتیں ” وہ فورا ہی موڈ بدل گئے مجھے حیرانی نہیں ہوئی اب تو اس رویے کی عادت ہوتی جارہی تھی

” جی ” میں سر ہلا کر تابعداری سے نیچے کی جانب بڑھی جب انہوں نے یکدم ہی بازو جکڑ کر روک لیا ۔۔۔

“کتنی بے چینی ہورہی ہے نا ملنے کی تم ہی نے بلایا ہے نا ” وہ سرخ انگارہ آنکھوں سے مجھے گھور رہے تھے بازو میں انگلیاں گڑھی جارہی تھیں میری آنکھیں لبالب بھر گئیں

“آپ نے ہی تو کہاہے جانے کو پلیز چھوڑیں مجھے” میں تڑپ گئی تھی وہ مزہ لیتے مسکرانے لگے گرفت مزید سخت کرلی

“جاکراسکے ساتھ مت ٹک جانا ۔۔ سامنے بیٹھنا اور خیال رکھنا میں بھی موجود ہوں اگر میں نے ایسی ویسی بات کی تو وہ حشر کروں گا کہ یاد کرو گی ” وارننگ دے کر وہ مجھ سے پہلے کمرے سے نکل گئے

⚫⚫⚫⚫⚫

جنید میرا چچازاد بھائی جو کہ شرجیل کےساتھ شادی سے پہلے میرا منگتر بھی تھا شرجیل کو اس سے اچھی خاصی چڑ تھی میں نیچے آئی تو جنیدآیا ہوا تھا جانے کیسے وہ یہاں تک پہنچا مجھے حیرت کے ساتھ خوشی ہوئی لیکن شرجیل کی وجہ سے میں دبا گئی

میں ہدایت کے مطابق سامنے بیٹھ گئی اور شرجیل اسکے برابربیٹھے مسلسل مجھے گھور رہے تھے

“تم ٹھیک ہو “جنید نے میری اجڑی حالت دیکھتے پوچھا تھا

“جی میں ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں اور گھر والے” میں ان سے حال احوال پوچھ رہی تھی شرجیل کی مسلسل گھوریوں پر میں زیادہ دیر ٹک نہ پائی اور اٹھ کر کچن میں چلی آئی چولہے پر چاۓ کا پانی چڑھایا تب تک شرجیل بھی پیچھے ہی آگئے

“رہنے دو ان خاطرداریوں کو چلا گیا ہے وہ ”

“چلے بھی گئے” مجھے افسوس ہوا تھا

“برا لگا کیا ؟؟ شوہر سامنے کھڑا ہے اور افسوس اس کے لیے ہورہا ہے چچ چچ” انہوں نے طنز کیا تھا میں پی گئی

“نہیں مجھے کوئی افسوس نہیں ہے ” میں رخ پھیر گئی تھی

“ہونا بھی نہیں چاہیے ورنہ انجام بھی جانتی ہو

⚫⚫⚫⚫⚫

رات ڈھل گئی تھی اور میں زمین پر اکڑوں بیٹھی ابھی تک ماتم کررہی تھی شادی کوایک سال ہوگیا تھا مگر شرجیل کی وحشت ویسی ہی تھی یہ سب میرے ساتھ کیوں ہوا تھا مجھے کبھی سمجھ نہیں آیا تھا جنید کے ہمراہ زندگی کتنی اچھی گزرتی ۔۔۔ پچھلے اک سال سے میں یہاں تھی اس دوکمرے کے بند فلیٹ میں بغیر کسی سے ملے کسی کو دیکھے دل چاہتا تو فون پر بات کرادیتا ورنہ اس کی بھی ضرورت نہ تھی وہ دروازہ ہمیشہ باہر سے لاک کر کے آفس جاتے کل جانے کیسے جنید مجھ تک آ پہنچا تھا اور جنید کی آمد کے بعد جو سخت تاثرات شرجیل کے چہرے پر آۓ تھے وہ کسی طوفان کی پیش گوئی معلوم ہوتے تھے

میری سوچوں میں خلل پڑا فون کی بیل بج رہی تھی میں تیزی سے لپکی شرجیل گھر پر نہ تھے ورنہ یہ جرت تو کبھی نہ کرتی دوسری طرف روشنا تھی شرجیل کی بہن اور میری بہترین دوست عرصے بعد کوئی غم خوار ملا تھا میں خود پر بندھ نہ رکھ پائی اور بہتی چلی گئی

“مجھے واپس آنا ہے روشنا میں یہاں مرجاؤں گی کچھ کرو پلیز ”

“سب ٹھیک ہوجاۓ گا شرجیل بھائی دل کے اچھے ہیں تم سے بہت محبت کرتے ہیں “وہ تسلی دے رہی تھی

“جانوروں جیسا سلوک کرتے ہیں ان میں انسانوں والا دل نہیں ہے وہ ۔۔۔ ”

میری بات ادھوری رہ گئی تھی ادھ کھلے دروازے سے شرجیل اندر داخل ہورہے تھے میرے ہاتھ سے فون چھوٹ گیا انکا چہرہ بتارہا تھا وہ سب سن چکے ہیں

خطرناک تیوروں کے ساتھ وہ میری جانب بڑھے تو میں نے ساختہ پیچھے ہوتی گئی

“کیا کہہ رہی تھی تم میں جانور ہوں ۔۔۔ ہاں ۔۔ کہو ذرا ۔۔ دوبارہ سے کہو “وہ میرے بال مٹھی میں جکڑکر زوردار جھٹکا دیتے ہوۓ کہہ رہے تھے

“نہیں میں کچ ۔۔۔۔کچھ نہیں “۔۔مارے خوف کے میں ہکلا گئی شرجیل کو ترس نہیں آیا

“میں تمہیں دکھاؤں اپنے اندر کا درندہ ۔۔۔ ”
ایک ہاتھ سے بال دبوچے چٹاخ چٹاخ کئی تھپڑ میرے چہرے پر برساۓ تھے میرے حلق سے گھٹی گھٹی چیخیں نکلتی چلی گئیں وہ غیض و غضب کا طوفان بن گیا تھا مجھے گھسیٹ کر واش روم میں لے آیا

“چھوڑ دو خدا کا واسطہ ہے چھوڑ دو مجھے ”

“نہیں میں تمہیں دکھاتا ہے درندگی کیا ہوتی ہے ”
وہ ٹپ میں پانی بھرتے بولا تھا اس سے پہلے کہ میں سمجھتی وہ سختی سے میرا سر پانی میں ڈبو چکا تھا میں بری طرح مچلی تڑپی ہاتھ پاؤں مارتے سانس لینے کی سعی کررہی تھی اور جب مجھے لگا کہ اب دوبارہ سانس نہیں لے سکوں گی تب اس نے باہر کھینچ لیا میں گہرے گہرے سانس بھرنے لگی زندگی پھر سے دوڑنا شروع ہوئی پر ابھی یہ اختتام نہ تھا وہ پھر سے یہ عمل دوہرا رہا تھا اور تب تک دوہراتا رہا جب تک میں بےدم سی ہوکر گر نہ گئی

جاری ہے

To download this episode Click here

Download Link

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *