Black love Novel -9

ناول بلیک لو

قسط نو

نویدہ شاہد

وہ محل سے نکل تو آئی تھی لیکن یہ گھنے جنگلات تھے سورج کی کرنیں پہنچنا مشکل تھا تبھی اندھیرا تھا بامشکل راستہ بناتی وہ آگے بڑھتی جارہی تھی لیکن اسے ابھی تک باہر نکلنے کا رستہ نہیں مل سکا تھا وہ رو دینےکےقریب تھی چل چل کرٹانگیں شل ہوگئی تھی لیکن ہمت ہارنے کو تیار نہ تھی اگر کنگ کو اسکی غیر موجودگی کی خبر ملتی تو وہ یقیننا اسکے پیچھے آتا اور اس سے آگے کا وہ سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی وہ اسے بے دردی سے قتل کرنے میں منٹ نہیں لگاتا ۔۔۔ یہ خیال آتے ہی وہ پھر سے دوڑنے لگی تھی دوڑتے دوڑتے پیر کسی شے سے ٹکرایا اور وہ منہ کے بل جا گری اسکا ہونٹ پھٹ گیا تھا جس سے خون بہہ رہا تھا وہ وہیں بیٹھ کر رونے لگی تھی

“کیوں رورہی ہو کوئی مسئلہ ہے تو مجھے بتاؤ” آواز سامنے سے آئی تھی اس نے سر اٹھایا تو سامنے درخت پر اک چوبیس پچیس سالہ جوان بیٹھا تھا اسکی آنکھوں کا رنگ سرخ تھا بے حد سرخ اور وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا تاشفہ کا دل پسلیاں توڑ کر باہرآنے لگا اسے انہونی کا احساس ہوگیا تھا وہ بغیر جواب دئیے تیزی سے اٹھی اور بھاگنا شروع ہوگئ اگلے ہی لمحے وہ حرکت میں آیا تھا اور اپنی نظروں کی طاقت سے اسے واپس اسی جگہ لآ پٹخا وہ ساکت ہوگئی یہ کیسی طاقت تھی “دوبارہ کوشش کرو ” وہ محظوظ ہوتا مزے سے بولا ۔۔” اٹھو بھاگو ” اس نے تاشفہ کو اکسایا تھا اور وہ دوبارہ سے اٹھ بھاگی تھی لیکن اب بھی ایسا ہی ہوا تھا وہ بار بار بھاگ رہی تھی رخ بدل بدل کر لیکن وہ ہر بار اسے واپس لاپٹختا بغیر ہلے جلے محض نظر کی طاقت سے ۔۔۔ وہ اسکی حالت سے بے حد محظوظ ہورہا تھا جب اس شو سے تھک گیا تو اتر کر اسکے سامنے آگیا

“محل میں کسی انسان کی موجودگی میرے لیے دھچکہ ہے اگر تمہارے اس خون کی کشش نہ ہوتی تو مجھے کنگ کی اس خلاف ورزی کا کبھی علم نہیں ہوتا تھینکس ٹو یو” وہ ادب بجا لاتا سینے پر ہاتھ رکھ کر جھکا تھا

تاشفہ کا رنگ پیلا پڑرہا تھا اسے اسکی سرخ آنکھوں سے خوف آرہا تھا

” کہاں جارہی تھیں ” وہ اسکے چہرے کے قریب آتا جھکا اور انگلی کی پور پر اسکا خون چن لیا

“م میں اپنے گھر” وہ لڑکھڑائی تھی

” کہاں ”
“وہ تو تم نہیں جاسکو گی یہاں کی دنیا سے واپسی ناممکن ہے تم محل کی قیدی ہو اور ایک قیدی کا محل سے بھاگ جانا موت ہے لیکن اگر وہ بھاگنے میں فرار ہوجائے تو یہاں کے آدم خور اسکی بوٹی بوٹی کرکے کھا جاتے ہیں” اسے اس ڈری سہمی لڑکی کو ڈراکر مزا آرہا تھا

“ن نہیں میں نے کوئی جرم نہیں کیا سچ میں۔۔۔۔ ” اس نے بوکھلا کر صفائی دی تھی

” ہر مجرم یونہی کہتا ہے تم مجرم نہ ہوتیں تو محل میں کیوں پائی جاتیں ہمممممم” وہ اسکے اردگرد چکر لے رہا تھا جیسے شکاری اپنے شکار کو دیکھ کر خوش ہورہا ہو

“پلیز آپ مجھے گھر چھوڑ آئیں پلیز” وہ روتے ہوئے باقاعدہ اسکی منت کررہی تھی

“ہاں ضرور میں انسانیت کی خدمت کے لیے ہی تو بنایا گیا ہوں” وہ ہنسا تھا

“آؤ میں تمہیں گھر چھوڑ آؤں” اسنے اپنا ہاتھ اسکی جانب بڑھایا اسکی سرخ آنکھیں چمک رہی تھیں

“سچ میں” وہ ایکدم ہی رونا بھول گئی اور اسکی یقین دہانی پر اسکے ساتھ چل پڑی تھی وہ اس جنگل میں شکار نہیں کرسکتا تھا تبھی یہاں سے دور جانے میں عافیت تھی

⚫⚫⚫⚫⚫⚫

کنگ اپنے شاہی کمرے میں سلطنت کے معاملات نمٹا رہا تھا جب دروازہ کھلا اور زمی اندر داخل ہوا

” کنگ وہ لڑکی ۔۔۔ انسان لڑکی بھاگ گئی ہے ” زمی نے سر جھکا کر جواب دیا تھا کنگ نے اک جھٹکے سے سراٹھایا “کیا کہہ رہے ہو ” کنگ دھاڑا تھا زمی اچھل گیا کنگ کے تاثرات سخت تھے چہرہ سیاہ ہوگیا تھا رگیں پھول گئی تھیں زمی کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ اتنا شدید ریکشن دے گا اک عام لڑکی کے لیے ۔۔

“کس نے مدد کی اسکی” وہ زمی کے سامنے آگیا تھا

“یہ تو معلوم نہیں کنگ لیکن ”

“تو پتہ لگاؤ زمی ابھی جاؤ اسکے مددگاروں کو ڈھونڈو اور میرے سامنے لاؤ میں دیکھتا ہوں میری پیٹھ پر کون وار کررہا ہے ”

“وہ پچھلے دروازے سے نکلی ہے اور کوئی بھی ذمہداری قبول کرنے پر تیار نہیں میں نے چھان بین کی ہے کنگ” زمی نے خوف سے سفید پڑتے چہرے کے ساتھ جواب دیا تھا

“میرے آنے تک قصوروار میرے سامنےہوناچاہیے زمی ۔۔۔۔” وہ خطرناک انداز آختیارکرتاطرخ موڑ گیا تھا

کنگ نےدماغی طور پر لڑکی سے رابطہ کرنا چاہا اور اسے وہ کسی کے اور کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر چلتی ہوئی دکھائی دی تھی اسنے سختی سے مٹھیاں بھینچ لیں اب وقت آگیا تھا آج یا کل اسے اپنے دل پر پتھر رکھ کر یہ قدم اٹھانا ہی تھا

⚫⚫⚫⚫⚫⚫

وہ اسے لیے جنگل سے باہر آگیا تھا باہر نکلتے ہی اس نے تاشفہ کو زمین پر دھکا دیا دھکا شدید تھا وہ پیٹھ کے بل زمین پر گر گئی کمر میں شدید چوٹ آئی تھی وہ کراہتے ہوئے اسے دیکھ رہی تھی

” آپ نے کہا تھا کہ مجھے واپس ”

“واپسی کا کوئی راستہ نہییں ہے میں تمہیں آج نئی دنیا کی سیر کرواؤں گا موت کی دنیا کی ۔۔۔ تم جیسے لوگوں کی جگہ وہیں ہے “وہ اسکا بازو کھینچتا اس پر دانٹ گارڈ چکا تھا تاشفہ کے لبوں سے اک زوردار چیخ نکلی اور جنگل میں پھیل گئی

“ہممم تمہارا خون بہت پر پراثر اور مزیدار ہے” وہ مست ہوتا بول تھا تاشفہ بری طرح تڑپ رہی تھی اسے لگ رہا تھا اسکا بازو جل رہا ہے ۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ دوبارہ اس پر جھکتا کسی نے اسے زوردار دھکا دیا تھا وہ دوسری جانب کو الٹ گیا

یہ مداخلت اسے ناگوار گزری تھی وہ کھڑا ہوتا چوکنا نظروں سے ادھر ادھر دیکھ رہا تھا کوئی بھی نہیں تھا لڑکی کے بازو سے بہتا خون اسے متوجہ کررہا تھا وہ دوبارہ اسکی جانب لپکا جب وہ درمیان میں آگئی تھی “میں نے تمہیں منع کیا تھا کہ انسانی خون کے قریب مت جانا “نائیسہ اپنے مخصوص لباس میں ملبوس اسکے سامنے کھڑی غرارہی تھی

“تم ۔۔ تمہاری اتنی جرت کہ تم مجھے روک سکو” جانور کا کھانا چھن جائے تو وہ وحشی ہوجاتا ہے یہی حال اسکا تھا اسے ہر صورت اپنی پیاس بجھانی تھی لیکن یہ لڑکی اسکے سامنے تن کر کھڑی تھی اسنے اپنی طاقت کا استعمال کیا اورآنکھوں کے ذریعے شعائیں نکل رہی تھی وہ پھرتی سے غائب ہوئی تھی اور پلک جھپکتے وہ سے گردن سے دبوچ چکی تھی اب وہ دونوں گھتم گھتا ہوچکے تھے وہ بار بار وار کررہا تھا اور نائیسہ پلٹ کر جواب دے رہی تھی اور یوں وہ اسے تاشفہ سے بہت دور لے گئی تھی تاشفہ ہمت کرتی اٹھی اور بازوکو دباتی دوسری جانب بھاگی تھی اسے موت ہر لمحہ قریب نظر آرہی تھی

“تمہیں میرے کام میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے” تھی وہ نائیسہ کو قابو کرچکا تھا اسکی اپنے گھٹنے کے نیچے دبائے وہ اسکی گردن دبوچ دبا رہا تھا نائیسہ کو اپنا سانس بند ہوتا محسوس ہوا وہ حددرجہ جنونی ہورہا تھا تبھی اسنے عجیب حرکت کی وہ اسکے لبوں پر جھک گیا اسکے منہ میں خون کا ذائقہ تھا جس سے وہ نائیسہ کو ٹیز کررہا تھا

نائیسہ بری طرح تڑپی ۔۔۔ چند لمحوں بعد وہ دور ہٹا اور نائیسہ کی جانب دیکھ کر طنزیہ مسکرایا

“اب تو تم بھی میرے جیسی ہو تم نے بھی قانوں کی خلاف ورزی کرلی” وہ ایک آنکھ دباتا اسے آزاد کرتا تاشفہ کی جانب لپکا تھا اسے وہاں نا پاکر اسکے ماتھے پر بل آگئے اسکے قدموں کے نشان صاف تھے وہ تیزی سے بھاگا اور کچھ ہی دوری پر وہ اسے مل گئی تھی وہ تیزی سے اسکی جانب بڑھا

“اسے چھونا مت “گرجدار آواز نے اسکے ساتھ ساتھ تاشفہ کے بھی قدم ساکت کیے تھے سامنے کنگ کھڑا تھا اپنے مخصوص کالے لباس میں سخت تاثرات لیے وہ ہیری کو گھور رہا تھا

“بھیا آپ” ہیری ساکت ہوگیا تھا اک پل میں اسکی آنکھوں کا رنگ بدل کر سنہرا ہوتا اصلی حالت میں واپس آگیا

“اس سے پہلے کے میں تمہارا گلادبادوں یہیں سے پلٹ جاؤ” کنگ دھاڑا تھا تاشفہ کانپ گئی اسے اب اپنی آزادی ناممکن لگ رہی تھی

“لیکن بھیا یہ میرا شکار ہے “وہ منمنایا تھا اتنا لزیذ خون وہ کسی طور کھونا نہیں چاہتا تھا

“اس لڑکی پر دوبارہ نظر مت ڈالنا ہیری” کنگ اسے تنبیہ کررہا تھا ہیری حیران رہ گیا

“آپ اک لڑکی کی خاطر ۔۔۔۔”

“یہاں سے جاؤ” ہیری ورنہ کنگ دھاڑ کر اک قدم آگے آیا تو ہیری نے سر جھکا دیا وہ الٹے قدموں واپس چل رہا تھا اپنے پیچھے کھڑی نائیسہ کو گھورتا وہ چٹکی بجاتا غائب ہوگیا تھا

کنگ تاشفہ کی جانب بڑھا جو بھاگ کر نائیسہ کے ساتھ جا کھڑی ہوئی تھی

“مجھے پلیز بچالو یہ مجھے ماردیں گے پلیز “وہ بری طرح روتے ہوئے اس کا بازو پکڑے التجا کررہی تھی کنگ نے خونخوار نظروں سے اس لڑکی کو دیکھا یہ اسکے ضبط کی حد ختم ہوگئی تھی

وہ پلک جھپکتے اس تک آیا اور اسے اپنی گرفت میں جکڑے آگے بڑھ گیا

“کیا گارنٹی ہے کہ آپ اسے نقصان نہیں پہنچائیں گے” نائیسہ کو اس معصوم لڑکی پر ترس آیا تھا
تبھی مداخلت کر گئی

” ہم کسی کو جواب دہ نہہں جو اس نے کیا ہے اسکی سزا ضرور ملے گی” کنگ نے مڑ کر نہیں دیکھا اگلے لمحے وہ اسے لے کر غائب ہوچکا تھا

جاری ہے

Mere finals ho rye hn is leay ni dy pai me … kindly ap log mje response to dain … Ta k me zada likh skon…Likes r cmnts krk btaen

You may also like...

3 Responses

  1. Xyz says:

    Buhot khoib 🥰🥰🥰loved it

  2. Hafsa says:

    Plz next episode

  3. Hafza says:

    Bohttt khooob itne novels prhe mene but this one is gonna b my fvrt plz jldi jldi upload kr dya krein episodes

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *