Black love -8

بلیک لو

قسط 8

از قلم نویدہ شاہد

یہ اک چوکور کمرہ تھا اندھیرے میں ڈوبا ہوا اس کے اردگرد دور دور تک کوئی آبادی نہیں تھی اونچے لمبے دختوں سے گھرا یہ کمرہ اصل میں اک قید خانہ تھا ۔۔ کنگ ٹانگ پر ٹانگ رکھے سامنے مردہ پڑے شخص کو افسوس سے دیکھ رہا تھا کنگ کے ہاتھ خون سے سرخ تھے ۔۔۔ اس شخص نے کنگ سسے غداری کی تھی اور کنگ اپنے غداروں کو کبھی معاف نہیں کرتا ۔۔۔ وہ اسکے ٹکرے ٹکڑے کرچکا تھا لیکن حیرت کی بات تھی کہ جابجا بکھرا خون بھی اسے متوجہ نہیں کرسکا تھا اور وہ لڑکی ۔۔۔ اسکاخیال آتے ہی وہ ایکدم اٹھ کر باہر آگیا ۔۔۔ وہ اس معمے کو ابھی تک سلجھا نہیں سکا تھا وہ جس دنیا سے تھاوہاں خون انکی خوارک تھی لیکن وہ عام انسانوں کی خوراک پر بھی گزارہ کرسکتے تھے تبھی محل میں یہ خون پر پابندی تھی وہ کسی صورت اس قانون کی خلاف ورزی نہہں کرسکتے تھے اس قانون کو توڑنے والے کی سخت سزا تھی ۔۔۔ اور یہ سزا پانے والا پہلا شخص ہیری تھااسکا اپنا بھائی ۔۔۔

اسے خون کی کشش کبھی محسوس نہیں ہوئی تھی لیکن حیرت کی بات تھی اک نظر میں دل کو چھو لینے والی وہ غزالی آنکھوں والی لڑکی نے اس کے اندر یہ پہاس جگا دی تھی یہ عجیب تھا بے حد عجیب ۔۔۔ اسکا دل ایک دم اس لڑکی کو دیکھنے کی تمنا کرنے لگا اس نے آنکھیں بند کرکے اپنا دھیان تاشفہ کے کمرے کی جانب لگایا تووہ اسے بیڈ پر سکون سے سوتی نظر آئی ۔۔۔ سر پر وہی بینڈیج تھی وہ مطمئن ہوتا واپس پلٹ گیا

⚫⚫⚫⚫⚫

اس نے شہر کا چپا چپا چھان مارا تھا لیکن اس لڑکی کا کوئی اتاپتا نہیں مل سکا تھا وہ تھک ہار کر واپس جنگل میں آگیا محل سے دربدری کے بعد بس یہی اسکا ٹھکانہ تھا

“تمہیں کیا لگا گیمز صرف تم ہی کھیل سکتے ہو ” اسے بازگشت سنائی دی تھی وہ کتنی پراعتماد تھی اس نے آج تک اتنی نڈر لڑکی نہیں دیکھی تھی

“میرا نام نائیسہ ہے اینڈ نائس ٹو میٹ یو مسٹر ہیری”

وہ اسکا نام جانتی تھی ۔۔۔ وہ اسے مکمل جانتی تھی کیسے۔۔۔ کیسے ۔۔ اس نے سر ہاتھوں پرگرالیا

“یہ جاننے کے لیے تمہیں ابھی انتظار کرنا ہے بس اتنا جان لو کہ تم اب سے میری نگرانی میں ہو کسی بھی انسان کو چھونے سے پہلے ہزار بار سوچنا ۔۔۔ ورنہ انجام کے ذمہ دار تم خود ہوگے”

وہ اسکے سامنے بیٹھی مکمل اسے دھمکا رہی تھی اور وہ کچھ نہیں کرسکا تھا اسے اسی وقت قتل کردینا چاہیے تھا قتل ۔۔ ہاں اسے قتل کردینا چاہیے لیکن وہ اسے ڈھونڈے کیسے

“میں تمہاری جاسوسی کررہی تھی کہ کہیں تم نے قانون کی خلاف ورزی تو نہیں کی” اور پھر اسے حل مل گیا تھا “جاسوسی ” وہ اسکی جاسوسی کررہی ہے تو کیوں نہ اسی سے فائدہ اٹھایا جائے وہ پراسرار سا مسکراتا اٹھ کر شہر کی جانب بڑھا

⚫⚫⚫⚫⚫⚫⚫

“کنگ سے ملنا ہے ” ہالہ شاہی دروازے کے باہر منتظر تھی اجازت ملتے وہ اندر چلی آئی ۔۔۔ وہاں آریانہ کو دیکھ کر وہ اک لمحے کو ٹھٹھکی ۔۔

“بیٹھے شہزادی ” آریانہ نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا الائم خاموشی سے متوجہ تھا

وہ آلائم کے سامنے آبیٹھی

” میں انسان لڑکی سے مل کر آرہی ہوں ” اس نے بات کا آغاز کیا

“آپکو اس سے نہیں ملنا چاہیے تھا” کنگ نے عام سے انداز میں کہا لیکن ہالہ کے دل کو چبھ گیا وہ جلے دل سے مسکرائی تھی

“اور آپکو اسے یوں محل میں نہیں لاناچاہیے تھا جبکہ آپ جانتے ہیں کہ وہ اک عام انسان ہے” اس کا لہجہ اپنے آپ سختی سمیٹ لایا کنگ نے ابر اچکا کر دیکھا

“آپ ہمیں بتائیں گی کہ ہمیں کیا کرناچاہیے” چہرے کے تاثرات نارمل تھے لیکن آواز سخت اور اونچی تھی ہالہ نے پہلو بدلا آریانہ حیرت سے دونوں کودیکھ رہی تھیں وہ دونوں تو ہمیشہ لو کپل مشہور رہے تھے پہلی بار دونوں کے لہجوں میں تلخی تھی

ہالہ نے بمشکل خود کو سنبھالا وہ کنگ کا دل خود کی طرف سے خراب کرنے کا رسک نہیں لے سکتی تھی

“آپ جانتے ہیں اگر دوسرے شہنشاؤں کو پتا چلا خصوصا میرے بابا کو تو اسکا انجام کیا ہوگا” اس نے دوسراہتھیار استعمال کیا تھا کنگ نے چند لمحے خاموش سے اسے دیکھا وہ بھی بغیر جھجھکے نڈر بیٹھی تھی

“یہ ہمارا مسئلہ ہے شہزادی بیگم۔۔۔ آپ صرف محل کے معاملات تک محدود رہیں ۔۔ آئندہ سے مجھے سکھانے کی غلطی مت دہرائیے گا ورنہ انجام ۔۔۔۔ اچھا نہیں ہوگا ۔۔”۔ کنگ نے ہلکی آواز میں چبا چبا کر کہا اور اسے جانے کا اشارہ کرتا چہرہ موڑ گیا
وہ بمشکل اٹھی بدقت تعظیم پیش کی اور دروازہ کھول کر باہر نکل آئی رنگ بری طرح سرخ پڑگیا تھا ایسی توہین آج تک نہ ہوئی تھی وہ گہرے گہرے سانس لیتی خود کو ٹھنڈا کرنے لگی

“اس نیچ لڑکی کو تیار کرو اسے ہر صورت آج رات تک اس محل سے نکل جانا چاہیے ” ساتھ چلتی خصوص ملازمہ سے ہلکی آواز میں سرگوشی کی اور آگے بڑھ گئی

⚫⚫⚫⚫⚫⚫

رات ڈھل چکی تھی تاشفہ بے چینی سے منتظر تھی جب ہالہ کی مخصوص ملازمہ داخل ہوئی ۔۔۔ “جلدی سے یہ چادر اوڑھ لو۔۔۔ “وہ خود کو اچھی طرح ڈھانپ کر ملازمہ کے ہمراہ باہر نکلی وہ انجان راستوں سے ہوتے ہوئے ادے لیے محل کے بند دروازے کی طرف آئی تھی یہ دروازہ جنگل کی طرف کھلتا تھا ار یہاں پہرہ نہ ہونے کے برابر تھا تبھی ہالہ نے اس دروازے کا انتخاب کیا تھا

“کچھ بھی ہوجائے شہزادی کا نام نہیں آنا چاہیے ورنہ ۔۔۔۔”
دروازے کے پاس پہنچنے سے پہلے ملازمہ نے اسے ہالہ کا پیغام دیا تھا الٹا دھمکایا تھا تاشفہ نے فورا سر ہلایا ۔۔۔ اور دروازہ پار کر گئی ۔

دور اپنے کمرے کی بالکونی میں کھڑی ہالہ نے چاند کی روشنی میں اسے دروازہ پار کرتے دیکھا تھا اور ایک گہری آسودہ سانس بھر کر خود کو ریلیکس کیا ۔۔۔

“کنگ کو خبر کرو انسان لڑکی بھاگ گئی ہے ” اس نے نئی چال چلی تھی اپنی بے عزتی کا بدلہ لینا وہ اچھے سے جانتی تھی

جاری ہے

You may also like...

1 Response

  1. Xyz says:

    Amazing story 🥰🥰🥰9 Epi kab tk ayegi

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *