black love-7

ناول black love

قسط سات

از قلم نویدہ شاہد

کنگ اپنے جہازی سائز بیڈ پر نیم دراز تھا جب وہ دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوئی لرزتے قدم دروازے کے پاس ہی جم گئے تھے

“آگے آو “کنگ نے نیم واآنکھوں سے اسے دیکھتے حکم دیا تھا وہ دوقدم آگے آگئی ۔۔۔ اسکی ضد اور ڈھٹائی کا تو وہ معترف ہوگیا تھا یہ لڑکی اسکے ضبط کو آزما چکی تھی

” سنائی نہیں دیا “وہ غصے سے دھاڑا تو وہ نفی میں سر ہلاتی باقاعدہ رونے لگ گئی ۔۔۔

“تو تم بات نہیں مانو گی” وہ اک سیکنڈ میں اس تک پہنچ گیا اس نے پیچھے ہٹنا چاہا تو کنگ نے اسکا بازو جکڑ لیا

“تم اتنی ڈھیٹ کیوں ہو” وہ سر نیچا کیے اسکے جھکی نظروں میں دیکھنا چاہ رہا تھا لیکن اس نے سر نہیں اٹھایا تو کنگ نے اسکے بالوں کو پیچھے سے پکڑ کر کھینچا جس سے اک ہلکی چیخ اسکے لبوں سے نکل گئی اسکا چہرہ اب اٹھ چکا تھا وہ روتے ہوئے اسکی گرفت سے اپنے بال آزاد کروا رہی تھی

“تمہیں مجھ سے ڈر نہیں لگتا” وہ مزید اسکے قریب ہوا تو اسکے لب تاشفہ کے ادھ کھلے لبوں سے مس ہوگئے وہ پیچھے نہیں ہٹا وہیں جما رہا

“بولو”

“ڈر ۔۔۔ لگتا ہے ۔۔” اسنے لرزتی آواز میں کہا تھا

“مجھے تو تمہاری ان بڑی بڑی آنکھوں میں تو سوائے بغاوت کے کچھ نظر نہیں آتا” اسکے تاثرات مزید سخت ہوگئے

“میں تمہاری آنکھوں میں خوف دیکھنا چاہتا ہوں تمیں گڑگڑاتا ہوا دیکھنا چاہتا ہوں” اسکی آنکھوں کا رنگ بدلنے لگا تھا وہ اب گہرے سرخ رنگ میں تبدیل ہوچکی تھیں ۔۔۔ تاشفہ کے لبوں سے چیخیں نکلنے لگیں ۔۔۔

“چیخو مزید چیخو ” وہ محظوظ ہوتا مزید جھکا تھا جب اسنے اپنے ناخن کنگ کے چہرے پر دے مارے ۔۔۔ وہ خود کو اس ظالم درندے کی قید سے بچا رہی تھی ۔۔۔ اور اسی بچاؤ میں اس سے یہ غلطی سرزد ہوئی تھی کنگ کے چہرے کے زاویے بگڑ گئے۔۔۔۔

“آج تک یہ جرت کسی نے نہیں کی ” دیکھتے ہی دیکھتے کھروچ کے نشان بھر گئے تھے لیکن اسکا غصہ آسمان کو چھو گیا اسنے جھٹکے سے اسے چھوڑا وہ لڑکھڑاتی ہوئی دیوار سے جا ٹکرائی ۔۔۔”میں نے تمہارے ساتھ بہت نرمی دکھائی ہے تمہیں اسکی سزا ملے گی ” وہ بری طرح دھاڑا ۔۔اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ عملی قدم کرتا وہ ساکت ہوگیا ۔۔۔ خوشبو ۔۔ خون کی خوشبو اسکے نتھوں سے ٹکرائی اسنے اوندھے منہ گری تاشفہ کو دیکھا اور خود پر ضبط کرتا وہ دور ہوگیا وہ کیوں خود پر ضبط کررہا تھا وہ کیوں خود کو آزما رہا تھا وہ چاہتا تو ایک منٹ میں اسکی جان لے سکتا تھا وہ اسکے خون سے خود کو سیراب کرسکتا ہے لیکن کچھ تھا جو اسے روک رہا تھا

“زمی” وہ دور ہوتا بڑبڑایا فورا زمی حاضر ہوگیا ۔۔۔ وہ سرجھکائے اسکی خدمت میں پیش تھا

“اسے یہاں سے لے جاؤ ۔۔۔ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچنا ۔۔۔۔۔ ” وہ بولتے بولتے رک گیا زمی کا بدلتا رنگ اور سختی سے پیوست ہونٹ اس بات کا اشارہ تھے کہ وہ خود پر بمشکل ضبط کیے ہوئے ہے

“تم جاؤ یہاں سے کسی کو کمرے میں آنے کی اجازت نہیں ہے ” اسکے کمرے سے جاتے ہی وہ تاشفہ کی طرف بڑھا تھا کندھے سے تھام کراسے سیدھا کیا تو خون کا فوارہ ماتھے سے نکلتا نظر آیا وہ اسے بانہو ں میں اٹھا کر بیڈ پر لے آیا

ابھی کچھ دیر قبل وہ اسے سزا دینے والا تھا اور اب وہی اسکی حفاظت کے لیے کوشاں تھا وہ اسے تحفظ دے رہا تھا اسکا پیلا پڑتا رنگ پریشان کررہا تھا وہ کنگ جو پتھر دل مانا جاتا تھا آج اک انسان کی تکلیف پر پریشان ہو اٹھا تھا وہ کنگ جو انسانوں کو مسل دیتا تھا اور ماتھے پر شکن تک نہ آتی تھی وہ کنگ آج اک لڑکے کے زخموں پر مرہم لگا رہا تھا وہ خود پر ضبط کیے اسکے ماتھے پر بینڈیج کررہا تھا ۔۔۔ وہ خود پر خود حیران تھا ۔۔ بے حد حیران

بینڈیج کرکے وہ واشروم میں چلاآیا اسکے ہاتھوں پر خون لگا تھا لیکن وہ چاہ کر بھی اس خون سے خود کو سیراب نہیں کرسکاتھا وہ اپنی بدلتی حالت پر حیران تھا

⚫⚫⚫⚫⚫⚫

ہیری گھنے درخت کے اک تنے ہر بیٹھا گہرے خیال میں گم تھا جنگل میں مکمل خاموشی تھی وہ بار بار کل کے واقعے میں گم ہورہا تھا وہ لڑکی اسکے دماغ سے کھیل رہی تھی ۔۔۔ وہ کون تھی کہاں سے تعلق رکھتی تھی اگر کنگ نے اسے نہیں بھیجا تھا تو بھیجنے والا کون تھا یہ سوالات اسے الجھا رہے تھے وہ اب بھی انہیں جوڑ توڑ میں مصروف تھا جب اسے اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا ۔۔۔ وہ تیزی سے نیچے اترا ۔۔۔ ہوا کا اک جھونکا اسے چھو کر گزرا اور پاگل کرگیا ۔۔۔ انسانی خون کی خوشبو ۔۔۔ انسانی خون اسکی کمزوری تھا اور محل میں یہ روایت کے خلاف تھا اسی لیے وہ محل سے باغی ہوگیا تھا اور اب اسکی اسی کمزوری سے فائدہ اٹھایا جارہا تھا وہ تیزی سے دوسری سمت دوڑا اک فاصلے پر جاکر خوشبو ختم ہوگئی ۔۔۔ وہ محتاط سا اردگرد نظر دوڑائے ہوئے تھا جب وہی جھونکا اسے پھر سے چھو گیا اس نے پھرتی سے کام لیتے ہاتھ کا وار کیا جو نشانہ پر لگ گیا ۔۔۔ وہ اس سے کچھ فاصلے پر اوندھے منہ گر گئی تھی

” مان گئے کہ تم آسان شکار نہیں ہو ” وہ ہاتھ جھاڑ کر اٹھتی لاپرواہی سے کہہ رہی تھی ہیری اسے مسلسل گھور رہا تھا اسکی آنکھیں بے حد چمکتی ہوئی تھیں اتنی روشن اتنی چمکیلی کہ وہ اک بارتو کھو سا گیا

“اتنا دل آگیا ہے مجھ پر کہ میرے پیچھے یہاں تک آگئیں” وہ اسے شکاری نظروں سے دیکھتا طنز کررہا تھا

“میں تمہاری جاسوسی کررہی تھی کہ کہیں تم نے قانون کی خلاف ورزی تو نہیں کی” وہ دوبدو بولی تھی ۔۔۔

“اور یہ کرکے تم نے مجھے غصہ دلایا ہے اسکا انجام بھگتنے کے لیے تیار ہوجاؤ “ایکدم اس نے خطرناک انداز اختیار کرلیا تھا دیکھتے ہی دیکھتے اسکی آنکھوں سے شعائیں نکلنے لگیں وہ اسے جلا کر خاک کردینا چاہتا تھا لیکن سامنے والا شاید اس سے بھی زیادہ ہوشیار تھا اسنے ہاتھ سے کالا دھواں نکالا جو اردگرد پھیل گیا ہیری کی آنکھوں کی بینائی اک دم غائب ہوگئی وہ پلک جھپک کر بار بار دیکھنے کی کوشش کررہا تھا

” یہ تم نے کیا کیا” اسے کچھ نظر نہیں آرہا تھا وہ زور سے چلایا ۔۔۔ اتنا بے بس وہ آج تک نہیں ہوا تھا

“یہ کھیل بہت دلچسپ تھا کاش ہم کچھ دیر اور کھیل سکتے ۔۔ لیکن مجھے ایمرجنسی جانا ہے ۔۔۔ انجوائے کرو” اسکی ہنستی ہوئی اواز آئی تھی اور اسکے ساتھ ہی وہ غائب ہوگئی اسکے غائب ہوتے ہی اسے نظر آنا شروع ہوگیا تھا وہ اسکی جانب بھاگا اسنے دور تک اسے تلاشا لیکن وہ کہیں نہیں تھی

⚫⚫⚫⚫⚫⚫

اسکی آنکھ کھلی تو وہ بیڈ پر تھی کچھ دیر میں ہالہ اسکے کمرے میں داخل ہوئی اسنے اٹھ کر بیٹھنا چاہا لیکن ہالہ نے اشارے سے اسے منع کردیا

“زخم کیسے آیا “ہالہ بے چینی سے پوچھ رہی تھی وہ جاننا چاہتی تھی کمرے میں رات کے پہر ایسا کیا ہواتھا

تاشفہ نے نفی میں سر ہلا کر ٹالنا چاہا ملازمہ غصے سے آگے بڑھی جسے ہالہ نے اشارے سے منع کردیا۔

“پریشان مت ہو میں کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گی تم مجھ پر اعتبار کرسکتی ہو ۔۔۔ شاید میں تمہاری مدد کردوں “وہ بے حد ملائمت سے بولی تو تاشفہ بری طرح سسک پڑی ۔۔۔

“مجھے یہاں سے جانا ہے وہ مجھے ماردیں گے وہ مجھے مارنا چاہتے ہیں پلیز مجھے یہاں سے جانے دیں ”

وہ سسکتے ہوئے بولی تو ہالہ کی آنکھیں چمکنے لگی

“ہاں میں اس معامملے میں تمہاری مدد کروں گی اگر تم چاہو تو ”

“کیا سچ میں” تاشفہ اک دم رونا بھول کراٹھ بیٹھی

“آج کنگ محل سے باہر ہے تم رات ڈھلتے ہی محل کے پرانے دروازے پر چلی آنا وہاں سے نکالنے کی ذمہداری مہری ہے لیکن محل کے باہر میں کچھ نہیں کرسکتی تمہیں وہاں سے خود نکلنا ہوگا منظور ہے ؟”

“جی مجھے منظور ہے ” تاشفہ نے فورا ہامی بھر لی

“ٹھیک ہے اب تم ریسٹ کرو اور شام کا انتظار کرو تمہیں آزادی مل جائے گی” وہ پراسراریت سے مسکراتی پلٹ گئی تھی ۔۔۔

جاری ہے

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *