Black love -6

ناول بلیک لو

قسط چھ

از قلم نویدہ شاہد

وہ شہزادی ہالہ تھی اپنے باپ کی اکلوتی لاڈلی بیٹی ۔۔۔ نازوں پلی بے رحم شہزادی ۔۔۔۔ جو کسی کو جوتے کی نوک پر رکھنا نا جانتی تھی لیکن پھر اسکی زندگی میں بھونچال آگیا اسے کنگ سے محبت ہوگئی اسکی اک جھلک نے اسے پاگل کردیا تھا وہ کسی کام سے انکے محل آیا تھا کچھ دن انکے قیام کیا واپس لوٹا تواسکا دل بھی لے گیا وہ پگلی ہر شے بھلائے سمندر پار اسکے پیچھے چلی آئی تھی کنگ نے اسے مایوس نہیں کیا تھا وہ اسکے مزاج کو سمجھتی تھی تبھی اسے زیادہ تنگ بھی نہیں کرتی تھی اور پھر انکے رشتے کو مضبوط کرنے انکی بیٹی چلی آئی۔۔۔۔۔

وہ سخت اکھڑ مزاج تھا اصولوں کا پکا اور سچا ۔۔۔ لیکن آج کا واقعہ نرالہ تھا اس نے ہالہ کے دل کو بے چین کیا تھا لڑکی کی موجودگی نےاسے ڈرا دیا تھا اور پھر کنگ کا یوں نرمی دکھانا اسے بہت کچھ کھٹکا گیا تھا وہ کنگ سے بات کرنے آئی تو اسکی بیزاریت صاف محسوس کرگئی بہت کچھ بدل گیا تھا وہ اک فیصلہ کرتی اٹھی اور ملازموں کے ہمراہ باہر آگئی اب کے اسکا رخ تاشفہ کے کمرے کی جانب تھا

⚫⚫⚫⚫⚫⚫

“بڑے بھیا کہاں ہیں “وہ ہوا کے دوش پر چلتا محل میں داخل ہوا اور سیدھا شاہی کمرے میں آیا تھا رک کر اک ملازم سے پوچھا اور پتا معلوم کرتا باغ کی جانب چلا آیا

وہ شاہی لباس میں ملبوس رخ موڑے کسی گہرے خیال میں تھے وگرنہ یقیننا اسکی آمد کی خبر پہلے سے ہوتی وہ حیران ہوا بھیا کس خیال میں گم ہوسکتے ہیں اور اس سے پہلے کہ وہ انکے دماغ میں جھانکتا انہوں نے اسے گردن سے دبوچ لیا تھا

“تمہیں کیا لگا ہم اتنے بےخبر ہیں”

“نہیں مجھے لگا آپ مجھے یاد کررہے ہیں اور میری لمبی جدائی نے آپکی یہ حالت کردی ہے ۔۔۔”

وہ اب بھی باز نہ آیا تھا کنگ نے اسکی گردن کو مروڑا اس نے مچل کر آزاد ہونا چاہا لیکن کنگ کے سامنے اسکی طاقت کچھ بھی نہیں تھی وہ ہتھیار ڈال گیا

“محل میں کیا کررہے ہو “وہ اسے تنگ کرنے کا ارادہ ترک کرکے پوچھنے لگا تھا

“آپ کو بتانے آیا تھا کہ آپ کا بھیجا گیا تحفہ مجھے بلکل بھی پسند نہیں آیا ہے ”

وہ اپنی گہری نیلی آنکھیں کنگ کی آنکھوں میں جمائے جتا رہا تھا

“کیسا تحفہ” کنگ حیران ہوا تھا اسکا یہ انداز گستاخانہ تھا لیکن وہ اب اسکا عادی ہوچلا تھا وہ پہلے ہی باغی تھا مزید کیا کہا جاسکتا تھا

“چھپ کر کھیلنا بند کردیں آپ خود کنٹرول نہیں کرسکے تو لڑکی کو میدان میں اتار لیا مانا کہ مجھے لڑکیاں اٹریکٹ کرتی ہیں خصوصا بوڑھی عمر کی عورتیں ۔۔۔ لیکن اسکا مطلب ہرگز نہیں کہ آپ اک لڑکی کی جان خطرے میں ڈال دیتے ۔۔۔”

وہ آنکھ دبا کر مسکراتا بے شرمی سے بول رہا تھا کنگ کے تاثرات سخت ہوتے گئے

” ہم کسی کی مدد نہیں لیتے ۔۔۔ اپنی اس بکواس کے ساتھ یہاں سے دفع ہو جاؤ ورنہ گردن اتارنے میں اک منٹ نہیں لگائیں گے” وہ اک دم غصے میں آگیا تھا اسے برداشت کرنے کے لیے بڑا دل گردہ ہونا چاہیے اور کنگ کے پاس اتنی برداشت ہرگز نہیں تھی وہ مسکرا کر کنگ کا تپا چہرہ دیکھتا واپس پلٹ گیا

⚫⚫⚫⚫⚫

تاشفہ کمرے میں تھی جب ہالہ اندر داخل ہوئی تاشفہ حیرانی سےاس حسین دیوی کو دیکھتی رہی کوئی اتنا خوبصورت کیسے ہوسکتا تھا

“تعظیما جھکو “ملازمہ نے سرگوشی کی وہ ان اصولوں سے ناواقف تھی تبھی پریشانی سے دیکھتی رہی ہالہ نے اشارے سے ملازمہ کو منع کیا وہ دلکشی سے مسکرا رہی تھیں

“آہ تم ہمارے مہمان خانے میں کئی دنوں سے ہو اور ہماری ملاقات آج ہورہی ہے ۔۔۔ کیسی ہو کہاں سے آئی ہو ”

وہ مسکرا کر صوفے پر بیٹھتی اسے بھی بیٹھنے کا اشارہ کررہی تھی ۔۔۔

“میں اپنے گھر سے آئی ہوں مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں یہ جگہ کونسی ہے “تاشفہ کے چہرے پر خوف کے سائے واضح تھے

“ڈرو مت ہم تمہارا اچھے سے خیال رکھیں گے تم کنگ کی میزبانی میں ہو اور کنگ اپنے مہمانوں کی بھرپور حفاظت کرتے ہیں”

وہ اسے تسلی دیتی آگے کو جھکی اور ساکت ہوگئ اسکے لیے یہ احساس ہی سوہان روح تھا کہ وہ لڑکی انسان تھی عام انسان کنگ ایک انسان کو محل میں لاکر اتنا بڑا خطرہ کیسے مول لے سکتا تھا وہ اب تک زندہ کیسے تھی حیرت سی حیرت تھی

اسے اچھے سے یاد تھا کنگ کو کمزور لوگوں سے نفرت تھے خصوصا انسانوں سے جنہیں تحفظ کی ضرورت پڑے اور اب ۔۔۔ ایسا کیسے ممکن تھا اسے لمحے لگے تھے تاثرات چھپانے میں

“تم اندھیر نگری میں گئی تھیں کیا “وہ اہم سوال پر آئی تھی

“ہاں وہ غلطی سے ۔۔۔ سب میری غلطی تھی لیکن میری وجہ سے مرینہ کی جان چلی گئی” تاشفہ کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے تھے

“غم نہ کرو ہم ہیں نا ۔۔ تم بتاؤ کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو بلاجھجھک بتاؤ” وہ اتنی محبت سے کہہ رہی تھی کہ تاشفہ کو نئی امید نظر آنے لگی

“م مجھے گھر جانا ہے” اس نے اپنے دل کی بات کہہ دی تھی شہزادی نے مسکرا کر سر ہلایا

“ضرور کیوں نہیں ہم تمہاری مدد کریں گے “تاشفہ نے حیرت سے شہزادی کو دیکھا

“کیا واقع” اور اس سے پہلے کہ شہزادی اسے مزید حوصلہ دیتی ملازمہ کی آواز پر اسے گھوری سے نوازا

“شہزادی ـــــ کنگ نے لڑکی کو طلب کیا ہے”

بات ایسی تھی کہ شہزادی کچھ بول نہ سکی ۔

“کہاں بلایا ہے” اس نے خود کو کہتے سنا عجیب صورتحال میں پھنس گئی تھی وہ

“اپنے مضصوص کمرے میں ۔۔۔ ”

حسد کی اک لہر اسکے اندر تک اترتی گئی تھی اسنے بمشکل خود کو قابو کیا

“لے جاؤ” شہزادی کا چہرہ خطرناک حد تک سرخ پڑ چکا تھا
جاری ہے

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *