black love -5

ناول بلیک لو

قسط پانچ

از قلم نویدہ شاہد

کس نے تمہیں کہا اس انسان کواندھیر نگری میں لے جانے کو ۔۔۔” وہ سمجھ گئی بات تاشفہ کے بارے میں ہی ہورہی ہے

“میں کچھ نہیں جانتی” درد سے کراہی آواز ابھری اور ساتھ ہی اسکی چیخیں نکلنے لگیں

یقیننا وہ مرینہ تھی وہ ہمیشہ سے اک دردمند لڑکی رہی تھی اسکا یوں اپنی وجہ سے کسی کو تکلیف میں دیکھنا کسی طور گوارا نہیں تھا لیکن اندر جانے کی ہمت بھی نہ تھی کون جانے کنگ بھی ہو کنگ کا سامنا کرنے سے ہی اسکی جان جاتی تھی اسکی آنکھیں جسم کے آر پار محسوس ہوتی تھیں

“اسکا سر کاٹ دو” حکم دیا گیا تھا یہ کنگ کی بارعب ٹھہری آواز تھی گویا سانپ سونگھ گیا اک معمولی غلطی کی سزا اتنی بھیانک کوئی اتنا ظالم کیسے ہوسکتا ہے

تبھی اک زوردار چیخ اندر سے برآمد ہوئی اسکے ہاتھ سے گلاس چھوٹ کر زمین پر جاگرا کھناکے کی آواز اندر بھی محسوس کی گئی

“کنگ کوئی دروازے پر ہے ”

اسکی موجودگی کا نوٹس لے لیا گیا تھا اسنے جیسے ہی بھاگنے کے لیے قدم اٹھائے اندرسے آتی آوازنے اسے جکڑ لیا تھا وہ ہل بھی نہیں پارہی تھی اک ان دیکھی طاقت اسے جکڑے کھڑی تھی وہ روہانسی ہوگئی

“اندر آؤ” یہ حکم براہ راست اسے دیا گیا تھا جس کی تعمیل کرنا اسے کسی صورت منظور نہ تھا وہ اب بھی بھاگنے کے لیے مزاحمت کررہی تھی

“اندر آؤ “اب کی بار دھاڑ کر کہا گیا تھا اسکا دل اچھل کر حلق میں آگیا

اسکے سامنے دروازہ کھل گیا سامنے دو موٹے سانڈ نما گارڈ کھڑے تھے ایک نے اسے بازو سے پکڑ اندر کی طرف دھکیلا ان کی جانب سے نرمی برتی گئی تھی لیکن اسکے لیے یہ اک زبردست دھکا تھا وہ اوندھے منہ اندر آگری ۔۔۔ ناک پر زبردست چوٹ آئی تھی وہ درد سے کراہتی اٹھ بیٹھی نظر سامنے اٹھی تو دھک سے رہ گئی مرینہ کا بے جان وجود اسکے سامنے پڑا تھا ہاتھ ٹوٹے تھے گردن بھی کٹی پڑی تھی ۔۔ البتہ خون کا نشان تک نہ تھا اسے ہرگز اندازہ نہ تھا کہ اتنی سی غلطی کی اتنی بھیانک سزا ملے گی

“جھوٹ بہت بری شے ہے لیکن غداری اس سے بھی زیادہ بری ہے ہم کبھی غدار کو معاف نہیں کرتے ”

یہ کنگ کی آواز تھی اس نے سر اٹھا کر آواز کے تعاقب میں دیکھا تو وہ اک عالیشان کرسی پر بڑی شان سے بیٹھا تھا برابر کے قدرے چھوٹے تخت پر آریانہ موجود تھیں اردگرد غلاموں کی اک بڑی تعداد سر جھکائے کھڑی تھی یہ اک عالیشان جگہ تھی بے حد بہترین ۔۔۔ قیمتی فانوس جگمگاتے پردے آنکھوں کو خیرہ کرتا شیشے کا فرش ۔۔۔ یہ اک الگ دنیا تھی ۔۔ کنگ کی آنکھوں کا رنگ سرخ تھا وہ کالے شہنشائی لباس میں ملبوس تھا اسکے برابر میں اک شہزادی کھڑی تھی جس کے سر پر تاج تھا وہ سخت تاثرات لیے تاشفہ کو ہی دیکھ رہی تھی

اسے عجیب سے احساسات نے گھیرے میں لے لیا شاید آج سے اسکی سزا بھی شروع ہوجاتی ۔۔۔وہ پتھر کی مورت بنی فرش پر بیٹھی تھی

“کھڑی ہو جاؤ” کنگ نے اسے حکم دیا تھا وہ وہیں بیٹھی رہی وہ کھڑی ہونا چاہتی تھی لیکن آنے والے وقت کا خوف اور کنگ کی نظریں اسے سہما رہی تھیں

“یہ اتنی ضدی کیوں ہے “کنگ نے بے بسی سے سوچا وہ اسے تکلیف نہیں پہنچانا چاہتا تھا لیکن اسکی حرکتیں مجبور کررہی تھیں وہ اسکے صبر کو آزما رہی تھی اسنے اپنے مخصوص گارڈ (زمی) کو اشارہ کیا وہ آگے بڑھا اور نرمی سے اسے اٹھا کر کھڑا کردیا

” تم نے ابھی دروازے کے پار کیا سنا ” کنگ کی آواز گونجی تھی اس نے آریانہ کی جانب دیکھا وہ نرمی سے مسکراتیں اسے بولنے کا اشارہ کررہی تھیں

“وہ م ۔ ۔ ۔ میں نے کچھ نہیں۔۔۔۔۔” اس نے خود کو کہتے سنا وہ بمشکل بول پائی تھی کنگ کو غصہ آیا تھا وہ اسکے سامنے کھڑی جھوٹ بول رہی تھی اسکی تنبیہہ کے باوجود۔۔۔ وہ غصے سے کھڑا ہوا تو آریانہ بھی اٹھ گئیں

” ہم اگلوانا بہت اچھے سے جانتے ییں “وہ ہوا کی سی تیزی سے اک دم اسکے سامنے آگیا تھا اسے سمجھ نہیں آئی ۔۔۔ کوئی اتنی سپیڈ میں کیسے چل سکتا تھا کہ پلک جھپکنے میں فاصلہ طے کرلے ۔۔۔ وہ اسکا چہرہ جکڑ کر اسکا رخ اپنی طرف کرتا اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑا تھا اسکی آنکھوں کا رنگ مزید گہرا ہوتا گیا اور چہرے کے تاثرات سخت وہ اپنی نظریں اس سے ہٹا نہیں پا ہی تھی وہ ذہنی طور پر اسے جکڑ چکا تھا اس نے سرہلانے کی کوشش کی لیکن کنگ کی گرفت سخت تھی

“سچ بولو تم نے کیا سنا” وہ خطرناک انداز میں اس سے پوچھ رہا تھا وہ اپنی طاقت کا استعمال اس لڑکی پر نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن یہ اسکی مجبوری تھی وہ اپنے راز کی حفاظت ہر قیمت پر کرے گا تبھی اس کے ذہن کو جکڑ کر اس نے سچ جاننے کی کوشش کی تھی لیکن اسے کچھ بھی نظر نہیں آیا تھا سوائے اسکے ماضی کے۔۔۔۔ اسکے حال کے کسی واقع تک اسکی رسائی نہیں تھی
اسنے بار بار کوشش کی لیکن اسے رسائی نہیں مل سکی تھی جس پر اسے طیش آیا تھا وہ دباؤ بڑھاتا درشتی سے پوچھ رہا تھا اور اسکے انکار نے اسے خطرناک انداز اختیار کرنے پر مجبور کردیا تھا تاشفہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے اور یہ آنسو اسے مقناطیسی طور پر ہمیشہ بے بس کردیتے تھے اب بھی ایسا ہی ہوا تھا وہ خود پر ضبط کرتا اسے چھوڑتا اک دم پیچھے ہٹا

“اسے کمرے میں لے جاؤ۔ “وہ غلاموں کو حکم دیتا ہٹ گیا تھا تاشفہ نے اک آنسو بھری نگاہ سے اسے دیکھا اور کنگ کا دل اتھل پتھل گیا کیسی مقناطیسیت تھی کہ دل کھنچتا چلا جائے اسنے بمشکل نظروں کا رخ موڑا کہ اپنی دل کی ڈور وہ کسی کے ہاتھ میں نہیں تھما سکتا تھا

ہالہ نے حیرانی سے یہ منظر دیکھا جاسوسی کرنا اک سنگین جرم تھا اور یہاں کی دنیا میں سنگین جرائم کی سزا سنگین ہوتی تھی لیکن یہ پہلا موقع تھا کہ کوئی مجرم اس کمرے سے بغیر سزا کے بغیر نقصان اٹھائے واپس بھجوا دیا گیا تھا وہ حق دق کھڑی تھی وہاں موجود سب کے دل میں ڈھیروں سوال تھے لیکن پوچھنے کی ہمت کسی میں نہیں تھی

⚫⚫⚫⚫⚫⚫

دل کی بے اختیاری اسے تاؤ دلارہی تھی وہ کنگ تھا اپنی دنیا کا بادشاہ اصول پسند شہنشاہ ۔۔۔ اصولوں سے انحراف کرنا سخت توہین لگتا تھا لیکن آج اس نے خود اپنے ہاتھوں سے وہ اصول توڑ ڈالا تھا پہلی بار اسکے ہاتھ کسی سزاوار کو سزا نہیں دے سکے تھے وہ خود سے نالاں ہوا تھا خود کو دوش دیتا وہ باغ کی جانب چلا آیا غلام پیچھے پیچھے چل رہے تھے وہ اپنے خیالوں میں گم تھا جب اک نسوانی آواز نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا

“شہنشاہ آپ کچھ پریشان لگ رہے ہیں “ہالے نے سرجھکا کر تعظیم پیش کی اور آگے آکر سوال داغ دیا کنگ نے اک نظر اسے دیکھ کر واپس سامنے جمادیں

“کہیں اس پریشانی کی وجہ وہ لڑکی تو نہیں ”

اسکی خاموشی محسوس کرکے وہ مزید کرید رہی تھی اسے کنگ کی خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ لگ رہی تھی

“آپ کے لیے بہتر ہے آپ ان معاملات سے دور رہیں اور ریہا کی تربیت پر دھیان دیجیے ۔۔۔ موسم خراب ہے کہیں اسکی طبعیت خراب نہ ہوجائے” بےزاری اسکے چہرے کے ساتھ ساتھ آواز میں بھی نمایاں تھی

“لیکن میں توــــ”

“شہزادی کو انکے کمرے میں لے جائیں” وہ اسکی بات مزید سننا نہیں چاہتا تھاوہ اکیلا رہنا چاہتا تھا کسی کی بھی موجودگی اسے درکار نہیں تھی تبھی بددلی سے حکم دے کر وہ آگے بڑھ گیا شہزادی ہالہ کا دل بری طرح خراب ہوا آج تک کنگ نے اس سے ایسے بات نہیں کی تھی ملازمائیں اسے واپس لے جانے کے لیے آگے آئیں جنہیں اشارے سے منع کرتی وہ آنسو پیتی واپس مڑ گئی

جاری ہے

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *