Black love -4

ناول black love

قسط چار

از قلم نویدہ شاہد

“میں نے آپ سے کہا تھا کہ اس پر دھیان رکھیں اور آپ نے اتنی لاپرواہی برتی کہ اسے ملازمہ کے ہمراہ رخصت کردیا ”

وہ اپنے مخصوص ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہہ رہا تھا وہ چیختا چلاتا نہیں تھا اسکا سرد انداز ہی سامنے والے کو سہما دیتا تھا

“بیٹا ریلکس ہو جاؤ مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ وہاں بھی جاسکتی ہے ” آریانہ نے اسے ٹھنڈا کرنا چاہا تھا

“وہ میڈ کہاں ہے اسے اپنے کیے کی سزا ضرور ملے گی۔۔۔” اسکا غصہ کسی طور کم نہیں ہوا تھا آریانہ نے بحث کیے بغیر اسے بلاوا بھیجا کہ جانتی تھیں وہ جو ٹھان لے وہی کرتا ہے

“مجھے نہیں معلوم تھا کہ تمہیں اس لڑکی کا اتنا خیال ہے “انہیں حیرت ہوئی تھی

“آپ کو اس معاملے میں زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں ہے ” وہ ماتھے پر بل ڈالے واپس پلٹ گیا تھا اپنے معاملات میں بولنے کی اجازت وہ کسی کو نہیں دیتا تھا اب اسکا رخ مہمان خانے میں ٹھہرے مہمان کی طرف تھا لب سختی سے بھنچے تھے وہ لڑکی اسکا امتحان بن رہی تھی

وہ کمرے میں داخل ہوا تو وہ بیڈ پر بیٹھی تھی اسے دیکھ کر بوکھلا کر کھڑی ہوگئی اشارہ پاتے ہی دونوں ملازمائیں تیزی سے کمرے سے نکلیں ۔۔

وہ دروازہ بند کرتا اسکی طرف بڑھا

“آئم سوری آئ ایم رئیلی سوری م ـ ـ ـ میں اب نہیں جاؤں گی وہاں ” وہ بے حد سہمی ہوئی لگ رہی تھی

“تم نے وہاں کیا دیکھا ۔۔۔ بتاؤ ”

وہ اسکا جبڑہ جکڑ چکا تھا تکلیف کے مارے اسکی آنکھیں پھیل گئیں اسکی گرفت سخت تھی بے انتہا سخت اسے لگا جبڑا ٹوٹ رہا ہو وہ بری طرح مچلنے لگی

“چھوڑیں ٹوٹ جائے گا پلیز” اسکی خوبصرت آنکھوں سےسے جھرنا بہہ رہا تھا وہ حیران ہوا اس کی گرفت معمولی تھی یکدم اسکے ذہن میں جھماکہ ہوا وہ ایک عام انسان تھی اس نے تیزی سے اسکا چہرہ چھوڑا وہ دونوں ہاتھ گالوں پر رکھتی پیچھے ہوتی گئی

“ہاتھ ہٹاؤ” وہ اسے حکم دیتا اسکی طرف بڑھا وہ نفی میں سر ہلاتی پیچھے ہونے لگی اور دیوار سے جالگی

“مجھے اپنی بات دہرانا پسند نہیں ہے “وہ اسکے ہاتھ ہٹاتا اسکے چہرے کو دیکھنے لگا جہاں نشان پڑ چکے تھے اسکا خوبصورت چہرہ سرخ ہورہا تھا آنکھیں بہہ بہہ کر لال انگارہ ہورہی تھیں وہ بن پیے بہکنے لگا اسے چھو لینے کی چاہ اک دم شدت اختیار کر گئی وہ اک دم اسکی طرف جھکا اور اسکے ہونٹوں کو اپنی قید میں لے لیا وہ دم سادھ گئی اسکے لمس میں بھی شدت تھی جو اس جیسی نازک انسان کے بس سے باہر تھی اسکا سانس رکنے لگا وہ پھڑپھڑائی تو وہ اک دم ہوش میں آتا اسے آزاد کرگیا

“تم آج کے بعد اپنے کمرے تک محدود رہو گی سمجھیں “وہ اسکے گرد بازوؤں کا حصار بناتا قید کرچکا تھا

“ج جی” اسکے لب کپکپائے تھے وہ اسکی گردن پر جھکتا گہری سانس بھر کر اسکی خوشبواندر اتارنے لگا اسکی خوشبو دیوانہ بناتی تھی وہ مدہوش ہوگیا یہ اسکے خون کی خوشبو تھی جو منہ زور ہورہی تھی وہ منہ پر ہاتھ رکھتا بمشکل پیچھے ہٹا

“جاؤ یہاں سے”

“جاؤ” وہ بے بسی کے سبب زور سے دھاڑا تھا “میں تمہیں تکلیف نہیں دینا چاہتا پلیز جاؤ” وہ بے بس ہوتا پیچھے ہوتا گیا وہ تیزی سے پلٹی اور لرزتے قدموں سے باہر نکل گئی

وہ منہ پر ہاتھ جمائے خود کو باز رکھ رہا تھا آج سے پہلے یہ خواہش کبھی اتنی منہ زور نہ ہوئی تھی یہ لڑکی خاص تھی بے حد خاص

⚫⚫⚫⚫⚫⚫
رات اندھیری تھی لیکن چاند اپنے جوبن پر تھا جس کے باعث روشنی پھیل رہی تھی ایسے میں اک لڑکی سڑک کنارے کھڑی کسی لفٹ کے انتظار میں تھی تبھی اسے اک گاڑی آتی دکھائی دی اس نے جلدی سے ہاتھ کا شارہ دیا گاڑی اسکے پاس آرکی

“جی فرمائیے “شیشہ نیچے کرتے اک بے حد ہینڈسم لڑکے نے پوچھا جسکی آنکھوں پر گلاسز لگے تھے

“مجھے لفٹ چاہیے” لڑکی بلاجھجھک بولی اور اسکے برابر آبیٹھی لڑکے نے سر تا پیر اس بولڈ لڑکی کو دیکھا جس نے بلیک جینز پر بلو شرٹ پہن رکھی تھی سنہری بال کھلے تھے اور ہاتھ میں ہینڈ بیگ تھا چہرہ چاند کی مانند روشن تھا لیکن لڑکے کو اس کے حسن میں اس وقت کوئی دلچسپی نہیں تھی

“تمہیں ایسے کسی کی گاڑی میں نہیں آنا چاہیے تھا “وہ خطرناک مسکراہٹ کے ساتھ بولا

“اور ایسا کیوں ہے ” وہ لاپرواہی سے پوچھ رہی تھی

“یہ تمہیں ابھی پتا چل جائے گا” یہ کہتے ساتھ ہی وہ اسکی طرف جھکا اور اسکی گردن پر اپنے دانت گاڑھ دئیے لیکن اگلے ہی لمحے وہ جھٹکے سے پیچھے جاگرا تھا ۔۔۔۔ لڑکی اب مسکرا کر اسے دیکھ رہی تھی

“تم تم کون ہو “وہ اسے حیرت سے دیکھ رہا تھا وہ دکھنے میں اک انسان تھی اسکے خون کی خوشبو اسے دور سے محسوس ہوئی تھی لیکن جب اس نے دانت گاڑھے تو اک ان دیکھی طاقت نے اسے واپس دھکیل دیا اسکے جسم میں خون ہی تھا جسکا ذائقہ بے حد مختلف تھا

“تمہیں کیا لگا گیمز صرف تم ہی کھیل سکتے ہو ”

وہ بیگ سے چیونگم نکال کر منہ میں ڈالتی مزے سے بیٹھی پوچھ رہی تھی وہ گنگ تھا

“میرا نام نائیسہ ہے اینڈ نائس ٹو میٹ یو مسٹر ہیری ”

“تم انسان نہیں ہو تو پھر کون ہو” وہ اپنی بات پر اٹکا تھا اسے غرض نہیں تھی کہ وہ اسے کیسے جانتی تھی

“یہ جاننے کے لیے تمہیں ابھی انتظار کرنا ہے بس اتنا جان لو کہ تم اب سے میری نگرانی میں ہو کسی بھی انسان کو چھونے سے پہلے ہزار بار سوچنا ۔۔۔ ورنہ انجام کے ذمہ دار تم خود ہوگے” وہ عام سے انداز میں بولتی گویا اسے دھمکا گئی تھی اسکی آنکھیں پھیل گئیں آج تک ایسا نہیں ہوا تھا اسے دھمکانے کی جرت کسی نے نہیں کی تھی اسکی ماں نے بھی نہیں ۔۔۔ اور یہ لڑکی

اب وہ گاڑی سے اتر کر جارہی تھی وہ اسکے یچھے جانا چاہتا تھا وہ اسے بہت بری سزا دینا چاہتا تھا لیکن وہ یہ سب نہیں کرسکا تھا اسے ان دیکھی طاقت نے جکڑ ڈالا تھا وہ بس اسے دیکھتا رہا خاموشی سے خالی نظروں سے اس وقت تک جب تک وہ اندھیرے میں غائب نہ ہوگئی

⚫⚫⚫⚫⚫

وہ بے حد ڈری ہوئی تھی اسے کنگ سے بے حد خوف آنے لگا تھا کنگ جیسا شخص اس نے پہلی بار دیکھا تھا بلاشبہ وہ شہزادوں جیسا تھا جیسا اس نے کہانیوں میں پڑھا تھا ہوبہو ویسا لیکن اسکی آنکھیں بے حد سرد تھیں جو سامنے والے کی جان نکال لیتی تھیں رات کا کھانا اسے کمرے میں بھجوا دیا گیا تھا وہ کھانا کھا کر سو گئ رات کا جانے کون سا پہر تھا جب اسکی آنکھ کھلی اسے پیاس محسوس ہوئی تھی وہ ڈرتے ڈرتے سیڑھیوں کی طرف بڑھی کمرے کی نسبت باہر روشنی تھی ہر منظر جگمگا رہا تھا معمول کی چہل پہل تھی یہاں اس نے کسی کو سوتے نہیں دیکھا تھا وہ پانی کا گلاس لیے واپس آرہی تھی جب اک کمرے سے آتی چیخوں کی آواز پر اسے رکنا پڑا چیخیں کسی لڑکی کی تھیں وہ بری طرح چیخ رہی تھی جیسے بہت درد میں ہو اسکے ساتھ ہی کسی مرد کی آواز آئی

“کس نے تمہیں کہا اس انسان کواندھیر نگری میں لے جانے کو ۔۔۔” وہ سمجھ گئی بات تاشفہ کے بارے میں ہی ہورہی ہے

“میں کچھ نہیں جانتی” درد سے کراہی آواز ابھری اور ساتھ ہی اسکی چیخیں نکلنے لگیں

یقیننا وہ مرینہ تھی وہ ہمیشہ سے اک دردمند لڑکی رہی تھی اسکا یوں اپنی وجہ سے کسی کو تکلیف میں دیکھنا کسی طور گوارا نہیں تھا لیکن اندر جانے کی ہمت بھی نہ تھی کون جانے کنگ بھی ہو کنگ کا سامنا کرنے سے ہی اسکی جان جاتی تھی اسکی آنکھیں جسم کے آر پار محسوس ہوتی تھیں

“اسکا سر کاٹ دو” حکم دیا گیا تھا یہ کنگ کی بارعب ٹھہری آواز تھی گویا سانپ سونگھ گیا اک معمولی غلطی کی سزا اتنی بھیانک کوئی اتنا ظالم کیسے ہوسکتا ہے

تبھی اک زوردار چیخ اندر سے برآمد ہوئی اسکے ہاتھ سے گلاس چھوٹ کر زمین پر جاگرا کھناکے کی آواز اندر بھی محسوس کی گئی

“کنگ کوئی دروازے پر ہے ”

اسکی موجودگی کا نوٹس لے لیا گیا تھا اسنے جیسے ہی بھاگنے کے لیے قدم اٹھائے اندرسے آتی آوازنے اسے جکڑ لیا تھا وہ ہل بھی نہیں پارہی تھی اک ان دیکھی طاقت اسے جکڑے کھڑی تھی وہ روہانسی ہوگئی

“اندر آؤ” یہ حکم براہ راست اسے دیا گیا تھا جس کی تعمیل کرنا اسے کسی صورت منظور نہ تھا

جاری ہے

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *